[blockquote style=”3″]
عبدالسلام العجیلی 1918ء میں شام کے مقام رقّہ میں پیدا ہوے اور وہیں طبیب کے طور پر کام کرتے ہیں۔ لکھنے کے علاوہ انھوں نے سیاست میں بھی حصہ لیا ہے اور کئی وزارتی عہدوں پر فائز رہ چکے ہیں، جن میں وزیر ثقافت کا عہدہ بھی شامل ہے۔
عطا صدیقی (پورا نام عطاء الرحمٰن صدیقی) 13 نومبر 1931 میں لکھنؤ میں پیدا ہوے، تقسیم کے بعد کراچی منتقل ہوے۔ کراچی یونیورسٹی سے تعلیم مکمل کرنے کے بعد بندر روڈ پر واقع ایک سکول میں پڑھانا شروع کیا اور وہیں سے ہیڈماسٹر کے طور پر ریٹائر ہوے۔ ایک پڑھنے والے اور ترجمہ کار کے طور پر ان کی ادب سے عمربھر گہری وابستگی رہی۔ ان کے کیے ہوے بہت سی عالمی کہانیوں کے ترجمے آج کراچی اور دیگر رسالوں میں شائع ہوتے رہے۔ انھوں نے امرتا پریتم کی کتاب ’’ایک تھی سارا‘‘ کا ہندی سے ترجمہ کیا۔ عطا صدیقی کی ترجمہ کی ہوئی کہانیوں کا مجموعہ زیر ترتیب ہے۔ 13 اگست 2018 کو کراچی میں وفات پائی۔
عطا صدیقی کے تراجم لالٹین پر اجمل کمال کے تعاون سے پیش کیے جا رہے ہیں۔ اجمل کمال کراچی پاکستان سے شائع ہونے والے سہ ماہی ادبی جریدے “آج” کے بانی اور مدیر ہیں۔ آج کا پہلا شمارہ 1981 میں شائع ہو تھا۔ آج نے اردو قارئین کو تراجم کے ذریعے دیگر زبانوں کے معیاری ادب سے متعارف کرانے کے ساتھ ساتھ اردو میں لکھنے والے ادیبوں اور شاعروں کے کام سے بھی متعارف کرایا۔ سہ ماہی آج کو سبسکرائب کرنے اور آج میں شائع ہونے والی تخلیقات کو کتابی صورت میں خریدنے کے لیے سٹی پریس بک شاپ یا عامر انصاری سے رابطہ کیا جا سکتا ہے:
عامر انصاری: 03003451649
[/blockquote]
تحریر: عبدالسلام العُجیلی (Abdel Salam al-Ujaili)
انگریزی سے ترجمہ: عطا صدیقی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
محمد ویس نے خواب میں خود کو نماز پڑھتے دیکھا۔ یہ کوئی ایسی انوکھی بات نہیں تھی، کہ وہ تو بیداری کی حالت میں بھی باقاعدگی سے عبادت کرتا تھا اور کوئی فرض نماز اس نے قضا نہیں کی تھی۔ اس نے دیکھا کہ پہلی رکعت میں وہ سورۂ نصر بالجہر پڑھ رہا ہے، جس کے ختم ہوتے ہی دہشت کے عالم میں اس کی آنکھ کھل گئی۔
’’صدق اللہ العلی العظیم،‘‘ اس کے منھ سے نکلا۔ وہ بستر پر اٹھ بیٹھا اور اپنی آنکھیں ملنے لگا۔ محمد ویس کو یاد نہیں تھا کہ پورے خواب میں سے صرف یہی بات کیوں اس کے ذہن میں اٹک گئی۔ صبح ہوتے ہی وہ موضعے کے بزرگ شیخ محمد سعید کی تلاش میں نکل کھڑا ہوا۔ دوپہر ہوتے ہوتے اس نے شیخ کو ڈھونڈ نکالا اور اس کو اپنا خواب سنایا۔ شیخ نے پہلے سر جھکا لیا، اس کی پیشانی پر شکنیں پڑ گئیں اور بہت دیر غوروفکر میں ڈوبے رہنے کے بعد اس نے سوال کیا:
’’تمھیں یقین ہے کہ تم سورۂ نصر پڑھ رہے تھے؟‘‘
’’بالکل،‘‘ محمد ویس نے کہا۔ ’’پوری کی پوری پڑھی تھی۔‘‘
’’بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔ جب اللہ کی مدد اور فتح آئے اور لوگوں کو تم دیکھو کہ اللہ کے دین میں فوج درفوج داخل ہوتے ہیں تو اپنے رب کی ثنا کرتے ہوے اس کی تحمید کرو اور اس سے بخشش طلب کرو۔ بےشک وہ بڑا توبہ قبول کرنے والا ہے۔ صدق اللہ العلی العظیم۔‘‘ شیخ محمد سعید نے کہا: ’’محمد ویس، اپنے رب کی حمد و ثنا کرو اور اس سے استغفار کی درخواست کرو۔ بے شک وہ بڑا توبہ قبول کرنے والا ہے۔‘‘
’’یا شیخ، میرا دل کہتا ہے یہ میرے لیے نیک شگون ہوگا۔ آپ اس خواب کی تعبیر میں کیا کہتے ہیں ؟‘‘
شیخ محمد سعید نے اپنی چوڑی اور گھنی داڑھی کو مٹھی میں تھام لیا اور انگلیوں سے بالوں میں خلال کرنے لگا۔ وہ اپنے تبحّر کو خواب کی تعبیر جیسی معمولی بات کے لیے استعمال کرنے سے ہچکچا رہا تھا۔ آخرِکار وہ بولا:
’’محمد ویس، اللہ سے توبہ استغفار کرو۔ بےشک وہ بڑا توبہ قبول کرنے والا ہے۔ خواب میں خود کو یہ سورت پڑھتے ہوے دیکھنے کا مطلب ہے کہ بس، اب انجام قریب ہے۔‘‘
محمد ویس جو ویسے ہی بَولایا بَولایا سا رہتا تھا، یہ سنتے ہی سر سے پیر تک لرز گیا۔
’’کیا کہہ رہے ہیں شیخ؟‘‘
’’تمھارے روبرو یہ بات کہتے ہوے کلیجہ منھ کو آتا ہے، ‘‘شیخ بولا، ’’مگر حوصلہ رکھو، اللہ کی رحمت جلد ہی تمھارے شامل حال ہو گی۔ اور موت تو سب ہی کو آنی ہے۔ محمد ویس، کوئی شخص یہ خواب دیکھنے کے بعد چالیس دن سے زیادہ نہیں جیا۔‘‘
یہ فیصلہ سنا کر شیخ تو ظہر کی نماز کے لیے وضو کرنے چل دیا اور محمد ویس مارے دہشت کے گم سم بیٹھا کا بیٹھا رہ گیا۔ اس کے پیروں میں کھڑے ہونے کی سکت بھی نہ رہی۔
خشک گلے سے وہ منمنایا، ’’چالیس دن! اللہ ہمت دے۔‘‘
جس بستی میں محمد ویس اور شیخ محمد سعید رہتے تھے، بہت مختصر سی تھی، اس لیے شام ہوتے ہوتے ہر فرد کو محمد ویس کے خواب اور شیخ محمد سعید کی تعبیر کا علم ہو گیا۔ وہ موضع ایسا تھا جہاں خوابوں کی تعبیر پر اعتبار کیا جاتا تھا، اور اگلی شام تک ہر فردوبشر کو یقین ہو چکا تھا کہ محمد ویس چالیس دن میں ختم ہو جائے گا۔ پہلے فرداً فرداً اور پھر ٹولیوں میں لوگ باگ محمد ویس کے پاس آنے لگے، جس کے باعث ان لوگوں کی خاطر جو اس کی عیادت یا پیش از مرگ تعزیت کے لیے آ رہے تھے، اس کو اپنے گھر ہی پر رہنا پڑا۔ محمد ویس کے خاندان کی عورتیں ٹوہ لینے کے لیے آتیں اور آنکھوں ہی آنکھوں میں اس کا جائزہ لیتیں۔ اس کو تندرست اور توانا مگر خیالوں میں گم دیکھ کر وہ بین کرنے لگتیں اور اللہ سے فریاد کرتیں کہ موت کے فرشتے کو روک لے جو اس کو لے جانے پر تلا ہوا تھا حالانکہ وہ ابھی ہٹّاکٹّا تھا۔ گو محمد ویس کو کوئی غم یا تردّد نہیں تھا، لیکن حفظِ ما تقدم کے طور پر جو تدبیریں ہو رہی تھیں اور اس سلسلے میں جو نازک سوالات اس سے کیے جا رہے تھے انھوں نے اس کو اندوہ اور پریشانی میں مبتلا کر رکھا تھا۔ دس دن تو اس نے جیسے تیسے معمول کے مطابق گزار لیے، گھر سے ہاٹ تک روزانہ آتا جاتا رہا، تاہم جلد ہی اس کے اعصاب بول گئے اور قوتِ برداشت جواب دے گئی۔ اب لوگوں نے دن میں بھی اس کے پاس آنا شروع کر دیا تھا، جبکہ پہلے وہ صرف شام ہی کو گھر پر ملتا تھا۔ خواب دِکھنے کے بیس دن بعد محمد ویس کے گھر کی عورتوں نے اس کا بستر جھاڑنا چھوڑ دیا کیونکہ اب وہ صبح شام اسی پر پڑا رہتا تھا۔ جب میعاد کے تیس دن نکل گئے تو تمام کھانے جو اس کو مرغوب تھے اور جو اس کے گھر والے بنا بنا کر پیش کیا کرتے تھے، اب بے چھوئے اس کی چاروں طرف رکھے رہتے۔ اس نے داڑھی چھوڑدی اور ایک سفید سا لبادہ پہنے پہنے ہر وقت عبادات میں مشغول رہنے لگا۔ اس پر ہمہ وقت رقت طاری رہتی، نہ موت کے خوف سے اور نہ زندگی کے ختم ہونے کے غم میں، بلکہ اُن سزاؤں کی ہیبت سے جو قبر سے آگے اس کے انتظار میں تھیں۔ اسے خوف اس بات کا تھا کہ اس نے کاروبار کے دوران اللہ کی بڑی جھوٹی قسمیں کھائی تھیں اور ہاٹ میں آس پاس کے دیہاتیوں کو بڑے دھوکے دیے تھے، کہیں ایسا نہ ہو کہ اللہ ان خطاؤں کو معاف نہ کرے۔ جوں جوں دن گزرتے گئے اور چالیسواں دن قریب آتا گیا، اس کے خالی پیٹ پر جمی ہوئی چربی ان پچھلے گناہوں کی توبہ استغفار میں گھلتی چلی گئی۔ اس کی بستی اور آس پاس کے بستیوں کے لوگ اب اس کے چہرے کے گرد ایک نورانی ہالے کا ذکر کرنے لگے اور ایسے پُراسرار کلمات کا چرچا ہونے لگا جو نماز پڑھتے ہوے اس کی زبان سے ادا ہوتے تھے۔ چالیس میں سے جب اڑتیس دن گزرچکے تو انتالیسویں دن مَیں وہاں پہنچا۔
آپ پوچھیں گے کہ مَیں کون؟
جس موضعے میں محمد ویس مویشیوں کا دلّال تھا اور شیخ محمد سعید ولی اللہ سمجھا جاتا تھا، میں وہاں کے اسکول میں مدرّس تھا۔ میں گرمیوں کی تعطیلات دمشق میں گزارتا تھا جہاں سے میری واپسی محمد ویس کے لیے شیخ محمد سعید کے مقرر کیے ہوے چالیس دنوں میں سے انتالیسویں دن ہوئی۔ میں محمد ویس سے بھی اسی طرح واقف ہوں جیسے بستی کے دوسرے لوگوں سے؛ تو جب اسکول کے بوڑھے چوکیدار عطاء اللہ نے مجھے اس کا قصہ سنایا تو میں یہ فیصلہ نہیں کر پایا کہ اس کی حالت پر اپنا سر پیٹ لوں یا قہقہے لگاؤں۔ اس لیے میں عطاء اللہ کو ساتھ لے کر اس کی عیادت کرنے— یا آنے والی موت پر تعزیت کرنے— گیا۔ وہ احاطہ جو محمد ویس کے خریدے ہوے مویشیوں سے بھرا ہوتا تھا، اس وقت ان تمام لوگوں سے بھرا ہوا تھا جو اس کے قریب آتی ہوئی متوقع موت کے انتظار میں جمع ہو گئے تھے۔ ایک کونے میں مرد جمع تھے تو دوسرے گوشے میں عورتیں، اور تیسری طرف وہ بھیڑ بکریاں بندھی ہوئی تھیں جو محمد ویس کے دوست احباب اس کی زندگی ہی میں اس لیے لے آئے تھے کہ اس کی الوداعی رات کو ذبح کی جائیں۔ جس کمرے میں محمد ویس ملک الموت کا انتظار کر رہا تھا، وہاں داخل ہونے پر میں نے اسے دیکھا— ملک الموت کو نہیں، محمد ویس کو۔ وہ اپنے بستر کے ایک کونے پر ٹکا عبادت میں مشغول تھا، جبکہ دوسرے کونے میں شیخ محمد سعید بیٹھا قرآن پاک کی تلاوت کررہا تھا۔ جس محمد ویس کو میں جانتا تھا اس کی بالکل مختلف صورت دیکھ کر مجھے دھکا لگا۔ اس کا گول، گلگوں چہرہ اب ستواں اور پیلا ہو گیا تھا اور داڑھی نے اسے اور بھی لمبوترا بنا دیا تھا۔ اس کے ڈھیلے ڈھالے سفید لباس نے اس کے چہرے کی زردی کو اَور نمایاں کر دیا تھا۔ نماز پڑھتے ہوے وہ اپنے سجدوں کو اس امید میں طویل کر دیتا کہ موت آئے تو سجدے میں آئے۔ اِس ولی اللہ میں اور اُس محمد ویس میں زمین آسمان کا فرق تھا جس کو میں اپنی کھڑکی میں سے قسمیں کھا کھا کر یہ کہتے سنا کرتا تھا کہ اگر اس نے ابھی ابھی خریدے ہوے جانور پر تین لیرے کا گھاٹا نہ اٹھایا ہو تو سمجھو اپنی بیوی کو طلاق دی۔ میں محمد ویس سے ملنے تو اپنے شوق اور تجسس میں گیا تھا لیکن اس کی حالت میں یہ فرق دیکھ کر بھونچکا رہ گیا اور اس بات کا قائل ہو گیا کہ وہ یقیناً وقت معین پر اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے گا۔ اور جب میں نے شیخ محمد سعید کو کنکھیوں سے اپنی طرف دیکھتے ہوے پایا تو میرے تن بدن میں آگ ہی تو لگ گئی۔
میری اس شیخ سے، جس کی فطرت سادگی، حماقت اور مکاری کا مجموعہ تھی، کافی عرصے سے مخاصمت چلی آ رہی تھی۔ میں اس کی عطائیت اور دغا سے، جن کے زور پر اس نے جاہل دیہاتیوں کے ذہنوں کو اپنے قابو میں کر رکھا تھا، ہمیشہ لڑا کرتا تھا اور وہ بھی ان کو میرے خلاف ورغلانے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتا تھا۔ وہ مجھ پر الزام لگاتا کہ میں بچوں کے ذہنوں کو ملحدانہ خیالات سے مسموم کرتا ہوں اور انھیں اللہ رسول کا باغی بناتا ہوں۔ میری مخالفت میں اس کا جوش یہ جاننے کے باوجود کم نہیں ہوتا تھا کہ میں رسول کے پرنواسے حضرت زین العابدین کی اولاد میں سے ہوں، بلکہ وہ اسی کو میری مذمت کا جواز بنا لیتا تھا۔ ’’اس شخص کو دیکھو، حضرت زین العابدین کی اولاد ہو کر کہتا پھرتا ہے کہ زمین گھومتی ہے۔‘‘ پھر وہ لوگوں سے کہتا، ’’بھلا بتاؤ، تم میں سے کسی نے کبھی اپنے گھر کے مشرقی رخ کے دروازے کو اچانک مغرب کی طرف گھومتے دیکھا؟‘‘
جیسا کہ میں نے بتایا، شیخ محمد سعید کو دیکھ کر مجھے غصہ آ گیا تھا اور میں چیخ پڑنے کو تھا کہ وہ قاتل ہے، وہ محمد ویس کے ذہن میں وہ زہر بھررہا ہے جو اس کو چالیس دن میں مار ڈالے گا۔ تاہم میں نے ضبط سے کام لیا۔ اس طرح بگڑ کر میں شیخ کے خلاف کبھی کامیاب نہیں ہو سکتا تھا، کیونکہ وہ ہمیشہ کی طرح اسی زمین کی گردش والی دلیل سے ثابت کر دیتا کہ کس دیہاتی نے اپنا مشرقی رخ والا دروازہ مغرب کی جانب گھومتے دیکھا ہے؛ پس ثابت ہوا کہ زمین نہیں گھومتی۔ میرے خلاف کینہ رکھنے پر اللہ اس پر رحم کرے، اور محمد ویس اگر کل صبح تک شیخ محمد سعید کے زیرِ اثر رہے تو اللہ اس پر بھی رحم کرے۔ غم اور غصے کے مارے دل پر ایک بوجھ لیے میں اسکول لوٹ آیا۔
میرے کہنے کے مطابق چوکیدار عطاء اللہ نے مجھے منھ اندھیرے اٹھا دیا۔ میں اپنے ساتھ دمشق سے تین چتی دار ناشپاتیاں لایا تھا جو میں نے رات کو ہوا کے رخ پر رکھے مٹکے کے نیچے رکھ دی تھیں۔ ان میں سے ایک ناشپاتی اٹھا کر میں لپکتا ہوا محمد ویس کے گھر پہنچا۔ سواے ان بھیڑ بکریوں کے جو اپنے مالک کی موت کے نتیجے میں خود اپنی موت کی منتظر کھڑی تھیں، احاطے میں کوئی نہیں تھا۔ زنان خانہ روشن تھا اور رونے کی دھیمی دھیمی آواز آ رہی تھی۔ محمد ویس کا کمرہ بند تھا۔ میں نے کھڑکی سے جھانکا تو دیکھا کہ وہ موت کے انتظار میں عبادت کرتے کرتے تھک کر سویا پڑا ہے۔ کئی بار میں نے زور زور سے دروازہ کھٹکھٹایا، پھر دھکا دے کر دروازہ کھولتے ہوے چلّا کر کہا:
’’محمد ویس، اللہ کی حمدوثنا کرو!‘‘
وہ نیند سے چونک پڑا اور چیخا، ’’کیا ہوا؟‘‘
’’میں ہوں، استاد نا جی۔ ڈرو نہیں، محمد ویس، اور میری بات سنو۔‘‘
میں نے دیکھا اس کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے تھے اور بہہ بہہ کر اس کے رخساروں سے ٹپک رہے تھے اور وہ سہما ہوا گم سم بیٹھا تھا۔ اس خوف سے کہ کہیں میری بات سننے سے پہلے ہی اس کا دم نہ نکل جائے، میں نے کہا:
’’میں تمھارے پاس اس لیے آیا ہوں کہ میرے جدامجد حضرت زین العابدین نے مجھے بیدار کر کے تمھارے پاس بھیجا ہے۔ آپ پر اللہ کی رحمت ہو، آپ نے مجھے حکم دیا: محمد ویس کے پاس جاؤ اور اس سے کہو کہ اللہ نے اس کو آزمائش میں ڈالا تھا اور جان لیا کہ وہ توبہ کرنے والا بندہ ہے۔ اس کو یہ پھل دینا، یہ بہشت کے میووں میں سے ہے، اور حکم دینا کہ سورج طلوع ہونے سے پہلے دو رکعت نماز تمھارے ساتھ ادا کرے اور پہلی رکعت میں سورۂ نصر پڑھے۔ اللہ اس کی عمر اتنی دراز کرے گا کہ وہ نہ صرف اپنے بچوں کی، بلکہ بچوں کے بچوں کی خوشیاں بھی دیکھے گا۔‘‘
محمد ویس نے تھوک نگلا۔ یوں دکھائی دیا جیسے میری بات پوری طرح اس کی سمجھ میں نہیں آئی۔ وہ بس میرے ہاتھ میں دبی ہوئی ناشپاتی کو گھورتا رہا۔ (مجھے یقین تھا کہ بستی میں کسی نے بھی چتی دار ناشپاتی نہیں دیکھی تھی۔) میں نے ناشپاتی چھیل کر اس کو کھلائی اور بیج سمیت نگل جانے کو کہا۔ پھر میں اسے کھینچ کر کمرے کے کونے میں لے گیا۔
’’محمد ویس، سورج نکلنے سے پہلے نماز کے لیے تیار ہو جاؤ۔‘‘
’’مگر استاد ناجی، میں وضو سے نہیں ہوں۔‘‘
مجھے یاد آیا کہ میں نے بھی وضو نہیں کیا تھا، مگر اس خوف سے کہ کہیں میرے مشورے کا اثر زائل نہ ہو جائے، میں نے سمجھایا:
’’تیمم کرلو محمد ویس، اس کی اجازت ہے۔ مارو ہاتھ زمین پر۔‘‘
محمد ویس کے ساتھ کھڑے ہو کر میں نے بھی نماز پڑھی۔ ہم نے دو رکعت نماز ادا کی اور پہلی رکعت میں اس نے سورۂ نصر پڑھی۔ پھر میں لوٹ کر اسکول آ گیا اور صبح کا انتظار کرنے لگا۔
ایک گھنٹے کے اندر اندر پوری بستی کو محمد ویس کی نئی بشارت کا علم ہو گیا۔ وہ تمام لوگ جو کل محمد ویس کے احاطے میں جمع تھے، آج اسکول کے احاطے میں جمع ہو گئے۔ اس بات کی تصدیق کرنے کے لیے کہ آیا واقعی میرے جدامجد حضرت زین العابدین خود میرے پاس محمد ویس کی بریّت لے کر آئے تھے، وہ سب ایک دوسرے پر گرے پڑ رہے تھے۔ اس وقت مجھے لگا کہ آج میں نے شیخ محمد سعید پر واضح فتح حاصل کر لی، کیونکہ نہ تو محمد ویس مرا اور نہ اس کی بھیڑ بکریاں ذبح ہوئیں، بلکہ وہ سب حضرت زین العابدین کی اولاد، ولی اللہ استاد ناجی کی، یعنی میری نذر کر دی گئیں۔
مگر کیا یہ واقعی میری فتح تھی؟ سچ بات یہ ہے کہ مجھے اس کا یقین نہیں۔ اس فتح کی حقیقت پر شک کا سبب یہ ہے کہ میں شیخ محمد سعید کے مقتدیوں میں سے ایک بھی کم نہ کر سکا، بلکہ الٹا میں نے ان میں ایک کا اضافہ ہی کر دیا، مدرّس کا، یعنی خود اپنا۔ اپنے جداِمجد کے ناموس کو قائم رکھنے کی خاطر، جن کے نام سے میں نے اپنا خواب گھڑا تھا، اب میں بھی شیخ محمد سعید کے پیچھے نماز پڑھنے پر مجبور ہوں، تیمم کر کے نہیں، باقاعدہ وضو کر کے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آج اور اجمل کمال کے تعاون سے شائع کی جانے والی مزید تحاریر اور تراجم پڑھنے کے لیے کلک کریں۔
[blockquote style=”3″]
محمد برّادا1938ء میں رباط، مراکش، میں پیدا ہوے۔ انھوں نے قاہرہ یونیورسٹی سے عربی کے مضمون میں ڈگری حاصل کی اور پیرس یونیورسٹی سے جدید ادبی تنقید کے موضوع پر ڈاکٹریٹ کیا۔ ان کی بہت سی تنقیدی تحریریں شائع ہوئی ہیں اور انھوں نے فرانسیسی سے ترجمے بھی کیے ہیں۔ ان کی کہانیوں کا مجموعہ 1979ء میں بیروت سے شائع ہوا تھا۔ آج کل وہ رباط یونیورسٹی میں عربی کے پروفیسر ہیں اور مراکشی ادیبوں کی انجمن کے صدر بھی ہیں۔
عطا صدیقی (پورا نام عطاء الرحمٰن صدیقی) 13 نومبر 1931 میں لکھنؤ میں پیدا ہوے، تقسیم کے بعد کراچی منتقل ہوے۔ کراچی یونیورسٹی سے تعلیم مکمل کرنے کے بعد بندر روڈ پر واقع ایک سکول میں پڑھانا شروع کیا اور وہیں سے ہیڈماسٹر کے طور پر ریٹائر ہوے۔ ایک پڑھنے والے اور ترجمہ کار کے طور پر ان کی ادب سے عمربھر گہری وابستگی رہی۔ ان کے کیے ہوے بہت سی عالمی کہانیوں کے ترجمے آج کراچی اور دیگر رسالوں میں شائع ہوتے رہے۔ انھوں نے امرتا پریتم کی کتاب ’’ایک تھی سارا‘‘ کا ہندی سے ترجمہ کیا۔ عطا صدیقی کی ترجمہ کی ہوئی کہانیوں کا مجموعہ زیر ترتیب ہے۔ 13 اگست 2018 کو کراچی میں وفات پائی۔
عطا صدیقی کے تراجم لالٹین پر اجمل کمال کے تعاون سے پیش کیے جا رہے ہیں۔ اجمل کمال کراچی پاکستان سے شائع ہونے والے سہ ماہی ادبی جریدے “آج” کے بانی اور مدیر ہیں۔ آج کا پہلا شمارہ 1981 میں شائع ہو تھا۔ آج نے اردو قارئین کو تراجم کے ذریعے دیگر زبانوں کے معیاری ادب سے متعارف کرانے کے ساتھ ساتھ اردو میں لکھنے والے ادیبوں اور شاعروں کے کام سے بھی متعارف کرایا۔ سہ ماہی آج کو سبسکرائب کرنے اور آج میں شائع ہونے والی تخلیقات کو کتابی صورت میں خریدنے کے لیے سٹی پریس بک شاپ یا عامر انصاری سے رابطہ کیا جا سکتا ہے:
عامر انصاری: 03003451649
[/blockquote]
تحریر: محمد برّادا (Mohammed Barrada)
انگریزی سے ترجمہ: عطا صدیقی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہم دیر سے جاگے اور بستر میں پڑے پڑے جماہیاں لیتے رہے۔ یوں لگتا تھا جیسے ہڈیوں کا جوڑ جوڑ الگ ہو جائے گا۔ یہ نظر آ رہا تھا کہ آج کا دن بھی پچھلے گزرے ہوے دنوں ہی کی طرح گزرے گا۔ ہم نے اپنا سر چوبی سرھانے پر ٹکا دیا۔ ہماری نظر دھندلی دھندلی ہورہی تھی اور بلاشبہ ہمارا چہرہ بھی پیلا پڑا ہوا تھا۔ ہم ڈاکٹر سے اس سلسلے میں رجوع کر چکے تھے۔ اس سے اپنی شکایت کہی تھی جس پر اس نے سیانوں کی طرح سر ہلا کر کہا تھا:
’’تم اکیلے نہیں ہو۔ تمھاری طرح کے وہ تمام افراد جو غوروفکر میں مبتلا رہتے ہیں اور خواب دیکھتے رہتے ہیں اور حال سے مطمئن نہیں ہوتے، اسی مرض کا شکار ہوتے ہیں۔‘‘
ہمیں یاد آیا، ایسا ہی جواب کسی ڈاکٹر نے— غالباً ہمارے ہی ڈاکٹر نے— ہمارے ایک دوست کو بھی دیا تھا جو اس کے پاس بدہضمی اور سینے کی جلن کی شکایت لے کر گیا تھا۔
’’کوئی علاج بھی ہے ڈاکٹر؟‘‘
’’میں تم کو چند گولیاں دے دیتا ہوں جن سے تمھیں افاقہ ہو گا۔ لیکن زیادہ خوش فہمی میں مت پڑنا۔ ہر صبح جیسے ہی آنکھ کھلے، ذہن پر زور دے کر کوئی ایسا دلچسپ قصہ یاد کرنا جس سے تم باچھیں پھاڑ کر مسکرا سکو، اور پھر بستر سے کودنا اور بلند آواز سے گانا۔ ایسے موقعے پر بےسُری آواز بھی چلے گی۔‘‘
ہم نے ڈاکٹر کے مشورے پر عمل کرنے کے ارادے سے اپنی یادداشت کے کونے کھدروں میں کسی ایسے قصے کو تلاش کیا جو ہمیں ایک دم لوٹ پوٹ ہو جانے پر مجبور کردے۔ ہماری ایک ولایتی پڑوسن اکثروبیشتر خوش وقتی کے لیے ٹیکسی پکڑ لیتی تھی، حالانکہ خود اس کے پاس کار تھی۔ سیر سپاٹے کے بعد جب ٹیکسی بلڈنگ کے دروازے پر رکتی تو وہ یہ ظاہر کرتی کہ پیسے تو گھر ہی پر رہ گئے۔ پھر وہ اتر کر پیسے لینے بلڈنگ میں چلی جاتی اور اوپر جا کر غائب ہو جاتی، اور وہ بےچارہ ٹیکسی والا ہارن بجاتا رہتا۔ بلڈنگ والے جھانک جھانک کر دیکھتے کہ اسے کیا ہو گیا۔ عورت کا گھر معلوم نہ ہونے کی وجہ سے وہ ٹاپتا رہ جاتا اور بک جھک کر چل دیتا۔ اور وہ عورت اپنے کمرے میں ہنس ہنس کر دوہری ہو جاتی۔ ہی ہی ہی ہی! ہا ہا ہا ہا! اس قصے کا یاد آنا تھا کہ ہم خوب ہی ہنسے اور دل ہی دل میں اپنی اس ہوشیار پڑوسن کے ممنون ہوے۔ پھر ہم اپنے بستر سے کودے اور گاتے ہوے اپنی طویل تعطیل کا ایک نیا دن شروع کیا۔
اپنے بھرے پُرے کتب خانے میں ہم دیر تک بےمقصد ٹہلتے رہے۔ ہم نے دیکھا کہ اس میں بیشتر کتابیں وہ ہیں جنھیں ہم نے بعد کے لیے اٹھا رکھا تھا کہ جب فرصت ملے گی تو ان کا مطالعہ کیا جائے گا۔ ہمارا ہاتھ ایک سرخ جلد کی طرف بڑھ گیا جس کا مصنف چالیس برس قبل مراکش کے مدینۃ الاحمر میں رہتا تھا۔ وہ کتاب محمد ابن عبداللہ المعقط کی ’’سفرنامۂ مراکش عرف افعالِ شنیعہ کا عصری عکس، المعروف بہ تارکِ سنت کے خلاف تیغِ بے نیام‘‘ تھی۔
— پھر شیخ عبدالہادی نے ارشاد کیا، ’’جس نے سوال کیا اور جس سے سوال کیا گیا، ہر دو فرد دسویں صدی کے لوگوں میں سے تھے۔ اب ذرا ہمارے اس زمانے کو قیاس کرو، جو مثل ایک طویل شبِ مظلمہ کے ہے، کہ بات کتنی نہ بڑھ چکی ہو گی! سردارانِ قوم کو لو تو انھوں نے رعیت کو ظلم کے سوا کیا دیا؟ گوشت انھوں نے نوچ لیا اور خون پی گئے۔ ہڈیوں کا گودا تک وہ چوس گئے اور دماغ چٹ کر گئے اور رعیت کے لیے نہ دنیا چھوڑی نہ دین۔ متاعِ دنیا کو لو تو انھوں نے سب کچھ سمیٹ لیا، کچھ نہ چھوڑا، اور دین کی پوچھو تو ان کا منھ اس سے موڑا۔ یہ سب ہمارے مشاہدے کی باتیں ہیں، فقط باتیں ہی باتیں نہیں۔۔۔۔‘‘
ابوزید نے سوال کیا، ’’اللہ آپ کو توفیق دے، کیا ایسے دیار میں قیام کرنا جائز ہے جہاں کوئی منکرات کی نہی کرنے پر قادر نہ ہو؟‘‘
ذہن کو مطالعے سے کوئی سکون نہیں ملتا۔ قدیم جدید نظر آتا ہے اور جدید قدیم، مگر دماغ اس کے ناممکن ہونے پر احتجاج کرتا ہے؛ وہ یہ مان کر ہی نہیں دیتا کہ ’’سورج نور سے عاری ہے۔‘‘ ہم نے خود سے کہا کہ شاید اس کا سبب بےزاری، تعلقات کی طوالت، گہرے رموز کا افشا، التباسات کی اصلیت کا کھل جانا، خوابوں کا بکھر جانا، آئندہ سے لگاؤ اور حال سے بےنیازی ہو۔ ہم کو چاہیے کہ نفس کو صبر کا خوگر بنائیں اور بار بار دُہرائے جانے والے معمولات کے ساتھ لمحۂ موجود کو بالتفصیل گزاریں۔
کھانے پر ہمارے مہمان ہمارے ایک عزیز تھے جو ساٹھ کے پیٹے میں تھے۔ انھوں نے اوائلِ عمر ہی میں قرآن حفظ کر لیا تھا، اس کے ایک ایک لفظ سے واقف تھے اور آخر کو موذن ہو گئے تھے۔ ایک برس قبل جب ان کی اہلیہ نے وفات پائی تو انھوں نے اپنی ایک اَور عزیزہ کو عقد کے لیے منتخب کر لیا، کہ موذن کو مجرّد رہنے کی اجازت نہیں، مگر انھوں نے یہ بہتر سمجھا کہ یہ فریضہ وہ حج سے واپسی کے بعد ادا کریں۔ ان کی غیرموجودگی میں خدائی فوجداروں نے مداخلت کی اور اس خاتون کا نکاح کسی اور سے کروا دیا۔ چنانچہ وہ اب بھی رشتے کی تلاش میں تھے۔
’’الحمداللہ کہ تم خیر سے ہو۔ بندے کو ہر حال میں خدا کا شکر ادا کرنا چاہیے۔ اور کیا حال ہیں؟ کاروبار کیسا چل رہا ہے؟ ٹھیک ٹھاک۔ ہمیں بھی اپنی دعاؤں میں یاد رکھنا۔ اور صاحبزادے کس حال میں ہیں ؟ کام میں دل لگاتے ہیں؟‘‘
’’انھی سے پوچھیے، خود بتائیں گے۔ ہمیں تو کام چور دکھائی پڑتے ہیں۔‘‘
’’بڑے شرم کی بات ہے بیٹا! کاش تم اپنے چچا عبدالرحمٰن کے نقش قدم پر چلتے۔‘‘
ان کے الفاظ نے گویا ہمارے ذہن میں کسی بھولی بسری یاد کو بیدار کردیا۔ ہم نے پوچھا:
’’وہی جو غرق ہوکر مرے تھے؟‘‘
’’ہاں، اور شہید بھی کہلائے تھے۔ جان لو کہ حدیث شریف کی رو سے تین قسم کے مُردے شہید کا درجہ رکھتے ہیں : وہ جو آگ میں جل کر مرے، وہ جو پانی میں غرق ہوے، اور وہ جو کسی دیوار کے نیچے دب گئے۔‘‘
اب ان کا روے سخن صاحبزادے کی طرف ہوگیا۔ وہ ہر نوع اور ہر قسم کی ہدایتیں اور نصیحتیں سننے کا عادی تھا، اس لیے اس نے ذرا بھی ناگواری ظاہر نہیں کی۔
’’تمھارا چچا عبدالرحمٰن ابھی اٹھارہ برس کا تھا کہ جملہ علوم میں طاق ہوچکا تھا۔۔۔۔‘‘
مسکراتے ہوے صاحبزادے نے قطع کلام کیا:
’’میں تو ابھی سترہ برس کا بھی نہیں ہوا۔‘‘
ہم نے مناسب طور پر اسے سرزنش کی:
’’تمھارا کھوپڑا گدھے کے سر سے بھی زیادہ خالی ہے۔ جو ہم کہیں اسے گرہ میں باندھ رکھو۔ مستقبل تمھارا ہے۔ ہماری نصیحتوں پر عمل نہیں کرو گے تو آپ بھگتو گے۔ تمھارا کیا خیال ہے، روزی کمانا کچھ آسان کام ہے؟ کچھ کے سروں پر ٹیکا ہوتا ہے تو دوسروں کے سروں پر کام کا سربند۔‘‘
حاجی صاحب نے اپنی بات جاری رکھی:
’’عبدالرحمٰن— اللہ اسے اپنے جوارِ رحمت میں جگہ دے— جملہ علوم میں طاق تھا۔ اس کی خطاطی ازحد دیدہ زیب تھی۔ محکمۂ مالیات میں ملازم تھا اور کم عمری ہی سے جبہ اور عمامہ پہنتا تھا۔ مشاق پیراک اور ماہر شہسوار تھا۔ ایک مرتبہ ایک فقیہ، جو سُوس سے ہماری ملاقات کو آئے تھے، اس سے مل کر اس کی علمیت اور ذہانت سے بہت متاثر ہوے۔ انھوں نے اس خوف سے کہ کہیں اس کو جن وانس کی نظرِ بد نہ لگ جائے، ایک تعویذ، جو حرزالبحر اور دافعِ بلیات کہلاتا ہے، لکھ کر دیا کہ اپنے جبے پر پہنے رہے تاکہ بلیات سے محفوظ رہے۔‘‘
گفتگو میں اپنی دلچسپی ظاہر کرنے کے لیے، گو اوپری ہی سہی، ہم نے کہا:
’’اور اس تعویذ کے ہوتے ہوے وہ غرق ہو گئے؟‘‘
’’مشیت الہٰی! وہ رباط سے سالے آ رہا تھا۔ وادیِ ابو رقرق اس نے کشتی سے عبور کی تھی۔ پھر اس نے عمامہ اتار کر وضو کیا، ظہر کی نماز ادا کی۔ پھر وہاں سے روانہ ہو کر ابھی بیس قدم گیا ہو گا کہ اس کا پیرنے کو جی چاہا۔ بس وہ اسی مقام کو لوٹا، اپنا لباس اتارا اور پیرنے لگا…‘‘
حسب معمول مسکراتے ہوے صاحبزادے نے قطع کلام کیا:
’’کیا اس زمانے میں لوگ ننگے ہی پیرتے تھے؟‘‘
گو ہم کو یہ سوال معقول معلوم ہوا مگر یہ محل کسی اَور ردعمل کا متقاضی تھا۔ چنانچہ ہم نے صاحبزادے کو کھا جانے والی نظروں سے گھورا اور بے بسی کے اظہار میں کف افسوس ملا اور پورا زور لگا دیا کہ کہیں ہماری ہنسی نہ چھوٹ جائے۔
’’نہیں، وہ لنگر باندھتے تھے۔ اُس دن اتفاق سے تعویذ دوسرے جبے میں رہ گیا تھا اور پانی میں اس کی مشاقی ذرا کام نہ آئی اور سمندر اب تک اس کو دبائے بیٹھا ہے۔‘‘
یوں عبدالرحمٰن تو اپنی جان سے گیا، رہ گئے دونوں جہان کے علم، تو اس میں سراسر نقصان میں ہم رہے۔
ابھی کھانا ختم نہیں ہوا تھا مگر باتیں ختم ہوگئی تھیں۔ ہم اپنے مہمان کو آرام سے نوالہ چباتے دیکھتے رہے۔ سوچتے رہے کہ اب کس موضوع گفتگو میں ان کو لگائیں۔ ہم کو چند واقعات اور اِدھر اُدھر کی باتیں یاد آئیں جو وہ اس سے پہلے ہمیں کئی مواقع پر سنا چکے تھے۔ بس یاد دلانے کی دیر تھی کہ وہ شروع ہو جاتے۔ مثلاً ہم کہہ سکتے تھے کہ: اگلے وقتوں کے لوگ جب یہ نعرہ لگاتے تھے کہ ’’عزت اور دولت سب مولاے عبدالعزیز کی‘‘ تو واللہ دل سے لگاتے تھے۔ ان کے لیے اتنا اشارہ کافی تھا؛ وہ سلطان مولاے عبدالعزیز اور آس پاس کے قبائل کی جنگ وجدال کے واقعات سلسلہ وار سنانا شروع کر دیتے یہاں تک کہ فرانسیسیوں کے ورود تک پہنچ جاتے۔ تاہم یہ سوچتے ہوے کہ یہ گفتگو اکتا دے گی، ہم نے مناسب سمجھا کہ خود انھی کے بارے میں بات چھیڑی جائے۔ اذان دینے اور نماز پڑھنے کے علاوہ باقی وقت کیونکر گزرتا ہے؟ حرمینِ شریفین سے واپسی کے بعد حشیش انھوں نے ترک کر دی تھی اور نئی اہلیہ کا بھی دور دور پتا نہیں تھا۔ آخر پھر وقت کس طرح کٹتا ہے؟ کیا وہ خود کو چلتی پھرتی لاش تصور کرتے ہیں؟ بظاہر اپنے اردگرد کی دنیا سے ان کا تعلق بہت محدود تھا۔ وہ بس ادھر ادھر کی باتیں سن سنا کر اپنی حاشیہ آرائی کے ساتھ سنا دیا کرتے تھے، اور بات ختم یوں کرتے تھے کہ اللہ نے اختیار یوں تو سب کو دے رکھا ہے مگر اصل اختیار اُسی کا ہے۔
صاحبزادہ کھانے پر ندیدوں کی طرح گرتا ہے۔ ممکن ہے اس وقت خالی الذہن ہو، مگر وہ آس پاس ہونے والی باتوں پر توجہ دیتا ہے، میکانیکی انداز ہی میں سہی۔ وہ سگریٹ کا مزہ، پڑوس کی لڑکیوں کا تعاقب اور فٹ بال کا چسکا بھی دریافت کر چکا ہے۔ تھوڑے سے استغراق کے بعد وہ گرما کی تعطیلات میں یوروپ کے سفر کی خواہش کا اظہار بھی کرتا ہے، چاہے اس کو وہاں پاپیادہ ہی کیوں نہ جانا پڑے، (جس سے اس کے سفر کے اخراجات میں اضافہ ہی ہو گا)۔
اور ہم؟ ہم بزرگوار اور صاحبزادے کے بارے میں سوچ رہے ہیں۔ ہم ان کے دل میں آنے والے خیالات کا اندازہ لگا رہے ہیں، ارد گرد کی دنیا سے ان کے رشتے کو سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس کے بعد؟ قیلولہ۔ اور پھر؟ گھومیں پھریں گے، تازہ ہوا کھائیں گے۔ اور پھر؟ ہم اپنی رفیقہ کو ٹیلیفون کریں گے۔ کہیں ملیں گے، گپ لگائیں گے۔ ہماری حرارت بڑھے گی، جبلتیں کھل کھیلیں گی۔ پھر وہی بےزاری کا دور دورہ ہو گا۔ دونوں اپنی اپنی راہ لیں گے۔ پھر ہم اپنے دوستوں کے پاس جائیں گے۔ دنیا جہان کی باتیں کریں گے۔ کبھی مدح کریں گے کبھی ذم، اور یوں اپنے دل کا غبار نکالیں گے۔ مگر جب اپنی بےبسی کی انتہا کا اندازہ ہو گا تو سارا جوش بیٹھ جائے گا۔ ہم پھر سڑکوں پر نکل جائیں گے۔ عورتوں کے مدوّر اور بھرے بھرے جسموں کی جنبشیں دیکھ کر ہوس پھر سر اٹھائے گی۔ ہم اکثر اپنے متاہل احباب سے پوچھا کرتے ہیں، ’’تو گویا تمھاری اہلیہ اپنی صنف کی قائم مقام ہوتی ہے؟‘‘ ہم کو جواب یہ ملتا ہے، ’’ہرگز نہیں، بیوی سے محبت رکھنے کے باوجود بیوی والوں سے زیادہ کوئی دوسری عورت کا خواہاں نہیں ہوتا۔‘‘ ہم اس عقدے کو حل کرنے کی کوشش کرتے ہیں، عقل کے مطابق توجیہہ کرتے ہیں۔ سبب اس کا سراسر اختلاطِ مردوزن، پُرکشش اشتہارات، میک اپ، اونچی ایڑی کی جوتی اور۔۔۔۔۔۔ اَور کیا ہے؟
ہم نے اس کو یہ بتایا تو اس نے سختی سے ٹوکا:
’’سب بکواس۔ محبت کی مدد سے ہم ہوس کو زیر کرسکتے ہیں۔‘‘
’’اور محبت ہے کہاں ؟‘‘
’’اچھا، تو تم بھی از قسمِ قنوطی ہو۔ مجھی کو لو۔‘‘ اس کی کہانی بھی عام قسم کی نکلی۔ وہ اسے کسی بوڑھے سے بیاہنا چاہتے تھے تو اس نے خودکشی کی دھمکی دی، اور ان دونوں نے تامرگ ایک دوسرے کا ساتھ نبھانے کے وعدے وعید کیے وغیرہ وغیرہ۔
وہ ہماری بات سمجھا ہی نہیں؛ اس کے سامنے فرائڈ کا قول دہرانے کا کیا فائدہ: ’’میں خود کو اس خیال کا خوگر بنانے کی کوشش کررہا ہوں کہ ہر وصل میں چار افراد شریک ہوتے ہیں۔‘‘
ہم غلو سے کام لیتے ہیں اور وہ لمحہ ہم کو اپنی گرفت میں لے لیتا ہے۔ صرف بوالہوسی نہیں جو دہلاتی اور اکساتی ہے۔ ترغیب تو جرم میں، خودکشی میں، شراب میں اور انقلاب میں بھی ہوتی ہے، مگر یہ دوسری قسمیں ہمیں اتنا نہیں اکساتیں، کیونکہ ان سے مانوسیت کو کوئی ٹھیس نہیں لگتی۔ اور لکھنا؟
میں چپ تھا اور وہ جواب دینے پر مائل نہ تھے؛ بس تسبیح کے دانے گن رہے تھے۔ عبدالباسط نے عرض کیا: ’’میں ہمیشہ سے جانتا آیا ہوں کہ جناب کے مقال میں وہ تاثیر ہے کہ آپ کے روبرو بڑے بڑے لسان گنگ رہ جاتے ہیں اور ان کے دماغ لاجواب۔۔۔۔۔۔ آپ اپنے دلآویز ارشادات سے صبح شام ہمارے حوصلے کچھ یوں بلند کرتے ہیں کہ ان ارشادات کے خوش آئند نقوش ہمارے نفوس پر ثبت ہوجاتے ہیں۔ ہم نے تو جناب کو مُدام اسی حالت میں پایا۔ پھر اب کیا ہوا؟‘‘
شام کو ہمیں پھر وہی احساس ہوا کہ ہڈیاں بکھری جا رہی ہیں، اور ایک دلگیر اداسی بھی طاری ہو گئی۔ اس سے جان چھڑانے کے لیے ہم نے سوچا کہ ڈاکٹر کا وہی معروف نسخہ آزمایا جائے، مگر ہم کو تذبذب ہوا کہ ڈاکٹر نے وقت کا تعین کر دیا تھا: شام نہیں، صبح۔ تو کوچہ کوچہ آوارہ گردی کریں گے اور عوام الناس کے چہروں کو تاڑیں گے، شاید کوئی علاج سوجھ جائے۔ ہم کافی دیر گردش میں رہے۔ کیفے کھچاکھچ بھرے ہوے ہیں۔ بیئر کی بوتلیں چشم زدن میں خالی ہو رہی ہیں۔ قہقہے گونج رہے ہیں۔ ہر دم چلتی ہوئی رس نکالنے کی مشینیں کھڑکھڑا رہی ہیں۔ اس کے باوجود ہماری اداسی ہے کہ اَڑی کھڑی ہے، جانے کا نام ہی نہیں لیتی۔ کاریں تیزرفتاری سے گزرتی ہیں۔ بسیں سست اور ٹھساٹھس بھری ہوئی ہیں۔ سنیماؤں پر قدآور ہیرو اشتہار بنے کھڑے ہیں۔ یوں نظر آتا ہے کہ ہمارے چاروں طرف ہر شخص بھاگا چلا جا رہا ہے۔ جی چاہا ان کو روکنے کے لیے چلّائیں، ’’تم بھاگے جا رہے ہو!‘‘ مگر یہ خیال احمقانہ اور بےجواز سا لگا۔ ہم نے دل سے پوچھا، ’’کسی شے کو ثبات بھی ہے؟‘‘ پھر ہم اس حیات کی کہانی قلمبند کرنے کے لیے جو ہم قسطوں میں جیتے ہیں، گھر لوٹ آئے۔
[blockquote style=”3″]
محمود دیاب ۱۹۳۶ء میں اسمعٰیلیہ، مصر، میں پیدا ہوے اور قانون کے مضمون میں تعلیم حاصل کی۔ انھیں بنیادی طور پر ان کے ڈراموں کی وجہ سے شہرت حاصل ہے، لیکن انھوں نے کہانیاں بھی لکھی ہیں۔
عطا صدیقی (پورا نام عطاء الرحمٰن صدیقی) 13 نومبر 1931 میں لکھنؤ میں پیدا ہوے، تقسیم کے بعد کراچی منتقل ہوے۔ کراچی یونیورسٹی سے تعلیم مکمل کرنے کے بعد بندر روڈ پر واقع ایک سکول میں پڑھانا شروع کیا اور وہیں سے ہیڈماسٹر کے طور پر ریٹائر ہوے۔ ایک پڑھنے والے اور ترجمہ کار کے طور پر ان کی ادب سے عمربھر گہری وابستگی رہی۔ ان کے کیے ہوے بہت سی عالمی کہانیوں کے ترجمے آج کراچی اور دیگر رسالوں میں شائع ہوتے رہے۔ انھوں نے امرتا پریتم کی کتاب ’’ایک تھی سارا‘‘ کا ہندی سے ترجمہ کیا۔ عطا صدیقی کی ترجمہ کی ہوئی کہانیوں کا مجموعہ زیر ترتیب ہے۔ 13 اگست 2018 کو کراچی میں وفات پائی۔
عطا صدیقی کے تراجم لالٹین پر اجمل کمال کے تعاون سے پیش کیے جا رہے ہیں۔ اجمل کمال کراچی پاکستان سے شائع ہونے والے سہ ماہی ادبی جریدے “آج” کے بانی اور مدیر ہیں۔ آج کا پہلا شمارہ 1981 میں شائع ہو تھا۔ آج نے اردو قارئین کو تراجم کے ذریعے دیگر زبانوں کے معیاری ادب سے متعارف کرانے کے ساتھ ساتھ اردو میں لکھنے والے ادیبوں اور شاعروں کے کام سے بھی متعارف کرایا۔ سہ ماہی آج کو سبسکرائب کرنے اور آج میں شائع ہونے والی تخلیقات کو کتابی صورت میں خریدنے کے لیے سٹی پریس بک شاپ یا عامر انصاری سے رابطہ کیا جا سکتا ہے:
عامر انصاری: 03003451649
[/blockquote]
تحریر: محمود دیاب (Mahmoud Diab)
انگریزی سے ترجمہ: عطا صدیقی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ تو خیر ممکن ہی نہیں کہ یہ خیال مجھے وقت کے وقت سوجھ گیا ہو، کہ میں تو سدا سے ایک ذاتی مکان کا خواب دیکھا کرتا تھا۔ گو خوابوں میں اس کے خدوخال کچھ اتنے زیادہ صاف نظر نہیں آتے تھے، مگر اس کا ایک امتیازی وصف یہ تھا کہ اس پر حرارت اور راحت کی ایک فضا سی محیط رہتی۔ چنانچہ جیسے ہی مجھے موقع میسر آیا، میں نے اس کو فی الفور ایسے جھپٹ لیا جیسے میرا جینا اسی پرمنحصر ہو۔
خود میرے لیے یہ سودا کوئی اتفاقی امر نہیں تھا مگر میری بیوی کے لیے یہ کچھ اتنا حیران کن تھا کہ وہ مارے خوشی کے اپنے آنسو ضبط نہ کر سکی۔ دراصل میں نے خالی خولی ہوائی قلعے کے بجاے شہر کے مشرقی علاقے میں قائم کی گئی ایک نئی رہائشی بستی کے ایک خالی پلاٹ کے حقیقی بیع نامے کی شکل میں اپنی بیوی کی حیرت کا سامان کیا تھا، ورنہ پھر اس میں گرم جوشی پیدا نہ ہوتی۔
یہ اس دن کی بات ہے جس دن ہمارے بچوں، ہالہ اور ہشام، کی سالگرہ تھی۔ ہماری بیٹی کی عمر چار سال اور بیٹے کی تین سال تھی۔ دونوں کی پیدائش ایک ہی ماہ کی تھی، گو تاریخیں جدا جدا تھیں، اس لیے ہم دونوں کی سالگرہ ایک ہی دن منایا کرتے تھے۔
اس دن گھر پہنچنے پر بیوی نے پوچھا، ’’کیا بھول گئے تھے کہ بچوں کی سالگرہ ہے؟‘‘
’’نہیں تو، بھولا تو نہیں،‘‘ میں نے بےچینی کو چھپاتے ہوے آہستہ سے کہا۔
’’اب مجھ سے یہ نہ کہنا کہ تمھارے پلے کچھ بھی نہیں،‘‘ اس نے چھینٹا کسا۔
’’نہیں نہیں، میں قلاش نہیں ہوں۔‘‘
’’ایک وہ ہیں کہ کب سے تمھارا انتظار کر رہے ہیں اور ایک تم ہو کہ تم نے ان کے واسطے ایک پیاستر کی مٹھائی بھی لانا گوارا نہیں کیا،’’ اس نے میرے خالی ہاتھوں کی طرف اشارہ کرتے ہوے کہا۔
’’ان کو خالی خولی مٹھائیاں اور کھلونے دلانے سے اب میں بیزار آ گیا ہوں،‘‘ حیرت پیدا کرنے کی خاطر اس سے بہتر تمہید باندھنے میں ناکام ہو کر میں نے اپنی بغل میں دبا بڑا سا لفافہ نکالا اور بیوی کے حوالے کر دیا۔
’’میرا تحفہ اس لفافے میں ہے،‘‘ میں نے اسے بتایا۔ اس نے کاغذات نکالے اور ان پر نظر دوڑانے لگی، اور میں اپنی اس توفیق پر اتراتے ہوے اس پر نظریں گاڑے رہا۔ بیک نظر ان دستاویزات کی اصلیت کو پانے میں ناکام ہو کر اس نے سوالیہ انداز میں اپنا حسین چہرہ اٹھایا اور چیخی، ’’یہ کیا ہے؟‘‘
’’ان کے لیے ایک گھر،‘‘ میں نے مسکراتے ہوے کہا۔
ہشام پیچھے سے آیا اور میری ٹانگوں میں اپنا منھ دے کر دھیمے دھیمے ہنسنے لگا۔ میں نے جھک کر اس کو اٹھا لیا اور اپنی بیوی پر ہونے والے غیرمتوقع ردعمل سے بالکل بےخبر، اپنے بیٹے کو پیار کرنے لگا۔
اس پل کے بعد بیوی کا تو رنگ ہی بدل گیا۔ حد یہ ہے کہ اس نے میری محبت کا وہ پرانا قصہ چھیڑا ہی نہیں جس سے وہ چند دن پہلے واقف ہوچکی تھی۔ پتا نہیں اس نے اسے بھلا دیا تھا یا جان بوجھ کر نظرانداز کر دیا تھا۔ بلکہ وہ تو نہایت نرم خو اور بشاش ہو گئی اور شاید ہی ہمارا کوئی عزیز یا جاننے والا بچا ہو جس کو اس نے یہ نہ بتایا ہو کہ ہم اپنا مکان بنانے جا رہے ہیں۔ اصل میں اس کو تو اب مکان کے سوا کوئی اَور بات کرنے میں لطف ہی نہیں آتا تھا۔
ایک دن ہم چاروں اپنا پلاٹ دیکھنے گئے، یعنی بقول اس کے ’’موقعے کا معائنہ کرنے۔‘‘ ہم پلاٹ کے ایک کونے میں جا کر کھڑے ہوے۔ وہ میرے پاس کھڑی مارے خوشی کے پھولی نہ سمارہی تھی۔ دونوں بچے قریب ہی خوش خوش دوڑیں لگا رہے تھے، شور مچا رہے تھے اور گردوغبار کے چھوٹے چھوٹے مرغولے اڑا رہے تھے۔
میری بیوی بتائے جا رہی تھی کہ مکان کس طرح کا ہو گا۔ وہ بغیر سوچے سمجھے باربار دہرا رہی تھی: ’’ایک منزلہ ہو گا، ہے نا؟ جب بچے بڑے ہو جائیں گے تو ہم ایک منزل اور چڑھا لیں گے۔ ہم اس کو بڑے باغ سے گھیر دیں گے۔ اس کی دیکھ بھال میں خود کروں گی۔ میں اس کو پھولوں سے پاٹ دوں گی۔ تمھیں کس طرح کے پھول پسند ہیں جی؟ ہے نا ہنسی کی بات کہ پانچ برسوں میں میں یہ بھی نہ جان پائی کہ تمھیں کون سا پھول پسند ہے۔‘‘
’’مجھے چنبیلی پسند ہے۔‘‘
’’ہم باغ کو چنبیلی سے پاٹ دیں گے،‘‘ وہ چلّائی۔ پھر بولنے لگی، ’’شہر کے شور اور دھویں سے دور، اس قسم کے مکان کی رہائش بچوں کی صحت کے لیے بہت اچھی رہے گی۔ میرے دادا کا منصورہ میں بہت پیارا سا گھر تھا۔ ایک ایکڑ کا تو باغ ہی تھا اس میں۔ ذرا سوچو! اور ہاں، اوپر کپڑے دھونے کے لیے کوئی جگہ ضرور نکالنا، اور ایک کمرہ ملازموں کے لیے بھی۔۔۔‘‘
’’ملازموں کے کمرے سے کیا مطلب ہے تمھارا؟‘‘ میں نے اسے ٹوکا۔ ’’میں نے تو اپنی زندگی کے قیمتی سال اس خواب کو حقیقت بنانے میں لگا دیے، اب میں تم سے درخواست کروں گا کہ اس کو فضولیات میں تو نہ بدلو۔‘‘
’’اچھا اچھا، اور گیراج؟ بنگلے میں گیراج تو ہونا ہی چاہیے۔‘‘
’’مگر میرے پاس کار کہاں؟‘‘
’’کبھی تو کار ہو گی۔ جو گیراج نہ ہو گا تو کہاں رکھو گے بھلا؟‘‘ اس نے پکار کر بیٹی سے کہا کہ اپنے بھائی کو لے کر آ جائے، اور پھر وہ خود تیکھا سا قہقہہ لگاتی بچوں کے پیچھے کسی کمسن لڑکی کی طرح دوڑیں لگانے لگی۔
ان تینوں کو پلاٹ کے بیچوں بیچ اس حالت میں دیکھتے دیکھتے میرا دھیان بھٹک کر بہت دور نکل گیا اور پھر اسی وقت پلٹا جب میری بیوی پلٹ کر میرے پاس آ کھڑی ہوئی اور دوبارہ اپنی باتیں کلی پھندنے لگا کر دہرانے لگی، اور میں اپنے دھیان میں کھویا ہوا تھا— نہیں، میں اس کی باتوں کا جواب دیتا رہا تھا۔
زمان و مقام سے بہت دور مجھ کو ایک پرانا گھر یاد آ گیا۔ مقام تو تھا اسمٰعیلیہ؛ رہ گیا زمانہ تو اس کا اندازہ میں اپنی عمر سے لگا سکتا ہوں۔ میں اُس وقت آٹھ نو برس کا تھا۔ اس بستی میں ہمارا مکان تھا، معمولی سا ایک منزلہ مکان جس کے چہار اطراف ایک مختصر مگر خوبصورت سا باغیچہ تھا۔ بہرحال، اس میں ملازموں کے لیے کوئی کمرہ نہیں تھا کیونکہ ہمارے پاس ملازم ہی نہیں تھے۔ نہ ہی اس میں کوئی گیراج تھا کیونکہ میرے ابا نے اپنی زندگی میں کبھی کسی ذاتی کار میں قدم ہی نہیں رکھا تھا۔ مجھے یاد آیا کہ ہمارے باغیچے میں انگوروں کی ایک ٹٹی تھی، آم کے دو پیڑ تھے، لیموں کا ایک جھاڑ تھا، اور مرغیوں کے لیے ایک بڑا سا دڑبہ تھا۔ مجھ کو یہ بھی یاد آیا کہ ابا کو گھر میں آئے ایک منٹ نہیں ہوتا تھا کہ وہ کھرپی اٹھا کر باغیچے میں کام سے لگ جاتے تھے جس کی باڑھ چنبیلی کی جھاڑیوں سے ڈھکی ہوئی تھی۔ مجھ کو یہ یاد نہیں کہ ہم اس مکان کے مالک کب بنے تھے یا کب اس میں بودوباش اختیار کی تھی؛ پر اتنا یاد ہے کہ ابا کو اس پر بےانتہا ناز تھا اور میری امی اس کے ملکیت میں آنے کو ایک عظیم الشان تاریخی واقعہ سمجھتی تھیں، چنانچہ انھوں نے اس کو خود اپنی اور اپنے کنبے کی زندگی کے دیگر واقعات کا صحیح وقت متعین کرنے کا پیمانہ بنا لیا تھا۔ کئی بار میں نے ان کو کہتے سنا، ’’جب ہم اس مکان میں اترے اس وقت فلاں پیٹ میں تھا‘‘، یا ’’جب ہم نے یہ مکان خریدا تو میرے میاں کی تنخواہ اتنی تھی‘‘، اور اسی طرح کی اَور باتیں جن کو یاد کر کے میں اب بھی مسکرا اٹھتا ہوں۔
مجھ کو اُس زمانے کے کوئی خاص واقعات تو اب یاد نہیں رہے، سواے اپنے ایک بھائی کی ولادت کے جو ہم سب میں پانچواں اور نرینہ اولاد میں تیسرا تھا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ دیگر واقعات اتنے غیراہم تھے کہ انھوں نے میرے دماغ پر کوئی نقش نہیں چھوڑا، لیکن مجھ کو یہ یاد رہا کہ جب شام ہو جاتی تھی تو ہمسایوں کی ٹولی میرے ابا سے ملنے آ جاتی تھی اور وہ سب باغیچے میں بیٹھ کر مختلف موضوعات پر خوش گپیاں کیا کرتے تھے، جب کہ ہم بچے ان کے آس پاس کھیلتے رہتے اور بادِ بہاری چنبیلی کی مہک سے بوجھل ہو کر نشے میں جھومتی پھرتی۔ ممکن ہے اس وقت ہمارے گھر میں سدا بہار ہی رہا کرتی ہو کیونکہ میں اب اس زمانے کو بغیر باغیچے کے ان کھیلوں اور چنبیلی کی خوشبو کے یاد ہی نہیں کر پاتا۔
پھر کچھ ایسے واقعات رونما ہونے لگے جنھوں نے گو ہماری زندگی کی یکسانیت کو یک دم درہم برہم نہیں کیا، اس وجہ سے وہ مجھ کو پوری تفصیل کے ساتھ تو مشکل ہی سے یاد آتے ہیں، ہاں ان کی مبہم سی بازیافت ہو جاتی ہے۔ مثلاً یہ کہ لفظ ’’جنگ‘‘ انھی دنوں کان میں پڑنا شروع ہوا تھا جو میرے لیے ایک نیا لفظ تھا اور اس وقت گھر میں لفظ ’’روٹی‘‘ کی بہ نسبت کہیں زیادہ استعمال کیا جانے لگا تھا۔ ہماری گلی کے بڑے بوڑھے بھی اب اس کو مستقل بولنے لگے تھے جب کہ میں اس کے معنی ہی نہیں جانتا تھا۔ اسی طرح کے اَور بھی کئی الفاظ تھے جو اجنبی اور مشکل ہونے کے باوجود، صرف تواتر سے بولے جانے کی بنا پر، مجھے ازبر ہو گئے— اتحادی، محوری، جرمن، ماژی نولائین اور نہ جانے کتنے، جو سب کے سب میرے لیے محض ایسے الفاظ تھے جو میرے کان میں پڑتے رہتے تھے۔
ابا اور ہمارے ہمسائے باغیچے میں بیٹھ کر انھی سب پر باتیں کیا کرتے اور باتوں ہی باتوں میں دو گروہوں میں بٹ جاتے۔ ایک انگریزوں کی فتح کا خواہاں ہوتا تو دوسرا جرمنوں کی کامیابی کا دعاگو۔ میرے ابا کا تعلق آخرالذکر گروہ سے تھا، اس لیے میں بھی جرمنوں کی کامیابی کی دعا مانگا کرتا۔ اکثر میں ابا کو کہتے سنتا: ’’جرمنوں کی فتح کا مطلب ہے انگریزوں کا مصر سے انخلا،‘‘ اگرچہ ہمارے ساتھ والے ہمسائے چچا حسن کو یقین تھا کہ ’’اگر انگریزوں نے مصر خالی کیا تو اس کا مطلب ہو گا کہ جرمن اس میں گھس پڑیں گے۔‘‘ بزرگ اسی طرح دیر تک اپنی زوردار بحثابحثی جاری رکھتے جو ایک رات کو جہاں ختم ہوتی دوسری رات کو وہیں سے پھر شروع ہو جاتی۔ اِدھر ہم بچے کھیل کھیل میں دو ٹولیوں میں بٹ جایا کرتے، ایک انگریز تو دوسری جرمن۔ ظاہر ہے میں دوسری ٹولی سے تعلق رکھتا تھا۔ پھر ہم اپنی بچکانہ جنگوں میں جٹ جاتے جس کی وجہ سے آخرکار ہم سب ہانپتے کانپتے تھک تھکا کر چُور ہو جاتے تھے۔
جب سونے کا وقت ہو جاتا تو میں اپنے بستر میں جا گھستا اور کچھ دیر تک باغیچے سے آتی بزرگوں کی آوازیں سنا کرتا جن میں مَیں ابا کی آواز کو الگ سے پہچان لیتا۔ پھر لیٹے لیٹے اپنے ذہن میں جرمنوں کی صورت گری میں لگ جاتا۔ میرے تصور میں جرمن نہ تو انگریزوں کے سے ڈیل ڈول کے ہوتے اور نہ ان کی سی شکل صورت کے، بلکہ وہ مجھ کو ان سے کہیں زیادہ لمبے تڑنگے اور شان دار نظر آتے۔
ایک رات ہوائی حملے کا سائرن بج اٹھا۔ یہ بھی اس زمانے کی ایک نئی اور دلچسپ چیز تھی۔ گلی کوچوں اور گھروں کی بتیاں بجھ گئی تھیں اور ہر سو گہری خاموشی سے بوجھل اندھیرے کی عملداری ہو گئی تھی۔ دروازوں پر آسیبی ہیولے سے جمع ہو گئے تھے اور چنبیلی کی تیز مہک گزری ہوئی راتوں کی نسبت کچھ زیادہ ہی پھیلی ہوئی تھی۔
’’جرمن ہوائی جہاز!‘‘ ابا چلّائے۔ آسمان پر نظریں جمائے اور پوری توجہ سے کان لگائے میں اس بےہنگم بھنبھناہٹ کا اندازہ لگا سکتا تھا جو افق کے اس پار سے گھٹا ٹوپ اندھیرے کو چیرتی ہوئی قریب آ رہی تھی۔
’’کیا وہ بستی پر بمباری کریں گے؟‘‘ میں نے دہشت زدہ ہو کر امی سے پوچھا۔
’’نہیں،‘‘ ابا نے ایک ایسے شخص کی طرح مطلع کیا جو اس قسم کے معاملات سے اچھی طرح واقف ہو۔ ’’ہٹلر ایسا نہیں کرے گا۔ وہ تو بس انگریزوں کی چھاؤنی کی طرف جا رہے ہیں۔‘‘
انگریزوں کی چھاؤنی ہمارے چھوٹے سے شہر کو ہر طرف سے گھیرے ہوے تھی، بلکہ تقریباً آ ملی تھی۔ ہم نے ہیبت ناک دھماکے سنے جنھوں نے مجھے نہیں یاد کہ ختم ہونے کا نام بھی لیا ہو۔ ایک ہوائی جہاز آسمان ہی میں پھٹ کر شعلۂ جوالہ بن گیا۔ پھر آسیبی ہیولے اپنی بھاری بھاری چاپ کے ساتھ ہجوم کرتے لوگوں کو یہ بتاتے ہوے گزرے کہ جہاز بستی کو برباد کیے دے رہے ہیں اور مشورہ دینے لگے کہ لوگ اپنے گھروں سے دور دور رہیں۔
آسیبی ہیولوں کے پرے کے پرے گرتے پڑتے گلی کوچوں میں نکل بھاگے۔ ہمارے والدین بھی اٹھ کھڑے ہوے اور ہم سب کو جلدی جلدی سمیٹ کر خوفزدہ ازدحام کے ساتھ اس صحرا کی جانب نکال لے گئے جو بستی کے شمال مشرق میں پھیلا ہوا تھا۔ آس پاس پناہ کے لیے کوئی اور جگہ ہی نہیں تھی۔
وہ رات قیامت سے کم نہ لگتی تھی۔ ابا اس کو اسی طرح بیان کرتے تھے اور بعد میں امی بھی ان کے یہی الفاظ دہرایا کرتیں۔ لوگ وحشیوں کی طرح آپس میں دھکاپیل کر رہے تھے اور ننگے پاؤں اپنے گھر کے لباسوں میں اس گھپ اندھیرے میں ایک دوسرے کو آوازیں دیتے بھاگے چلے جا رہے تھے۔ ’’محسن، تم کہاں ہو؟‘‘، ’’بچے کہاں ہیں؟‘‘، ’’دروازہ لگا دیا تھا؟‘‘، ’’گھر کو جھونکو جہنم میں، جلدی کرو‘‘، ’’ابا، ذرا رکو تو!‘‘، اور کتے تھے کہ چہار جانب سے بھونکے چلے جا رہے تھے۔ میں اپنے تین بھائی بہنوں کے ساتھ بھاگتے ہوے روتا بھی جا رہا تھا۔ اس گھنے اندھیرے میں آہ و بکا کرنے والوں میں بچوں کی اکثریت تھی۔
یہ تو میں نہیں بتا سکتا کہ اس ابتری کی رات میں کتنی ساری خلقت نے اس صحرا میں پناہ لے رکھی تھی؛ بس اتنا جانتا ہوں کہ وہ تاریک راہگزار لوگوں سے اس طرح پَٹا پڑا تھا جیسے ہم سب کسی بزرگ کے عرس میں آئے ہوے ہوں، جیسا کہ چچا حسن نے زہرخند کے ساتھ کہا تھا: ’’شیخ ہٹلر کے عرس میں۔‘‘
’’زمین کھودنے میں میرا ہاتھ بٹاؤ!‘‘ ابا نے امی سے اس قسم کے امور کے کسی ماہر کے لہجے میں کہا تھا۔ ’’چلو بچّو، کھودو۔ حسن آفندی، اپنے بچوں کے لیے ایک خندق بنا لو تاکہ گولوں کے اڑتے ہوے ٹکڑوں کی زد سے محفوظ رہیں۔‘‘
ہم نے مل کر ایک بڑی سی خندق کھودی جس میں ابا نے ہم سب کو ٹھساٹھس بھردیا۔ اس دوران بستی پر پے در پے دھماکوں پر دھماکے ہوتے رہے اور آسمان پر بے ہنگم گھن گرج چھائی رہی۔ اوپر آسمان بجلی کی طرح وقفے وقفے سے روشنی کے جھما کے ہوتے رہے اور پھر ہوائی جہاز ہمارے اوپر منڈلانے لگے۔
’’بالکل ہمارے سروں پر آ گئے ہیں،‘‘ ابا چلّائے۔ امی نے ایک دلدوز چیخ ماری اور ہم سب کو چھپا لینے کے لیے ہمارے اوپر اوندھ گئیں۔ ابا نے بھی یہی کیا۔ پورے صحرا میں لوگوں کو خاموش کرنے کے لیے آوازیں گونجنے لگیں۔ جواب میں ان کو چپ کرانے کے لیے کچھ دوسری آوازیں بلند ہو گئیں۔
میں نے اپنی گردن اچکا کر سر اوپر کو اٹھایا اور ابا کی بغل میں سے آسمان کی طرف دیکھا کہ شاید کسی ہوائی جہاز میں کوئی جرمن دکھائی دے جائے اور میں اپنے تصور میں بنائی ہوئی جرمنوں کی شکل کی تصدیق کر سکوں۔ مگر ابا نے زور سے دبا کر میرا سر ریت میں دے مارا۔
’’اگر ان کی لڑائی انگریزوں سے ہے تو آخر ہم پر بمباری کیوں کر رہے ہیں؟‘‘ امی نے سرگوشی کی۔ ابا نے کوئی جواب نہیں دیا۔
’’کیا ہم ان کے رفیق نہیں ہیں؟‘‘ میں نے سوال کیا۔
’’دونوں پر اللہ کی لعنت!‘‘ ابا زور سے چیخے۔
ہوائی جہاز زمین کے اتنے قریب آ گئے تھے کہ ان کی تھرتھراہٹوں نے مجھ کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔ پھر یکایک خوفناک روشنی کے جھماکوں نے سیٹیاں سی بجاتے ہوے تاریک صحرا کو بے لباس کر دیا اور پھر تو، جیسا کہ چچا حسن کی بیوی نے، جو اس رات دو برس کے بعد ہم کو ملی تھیں، بیان کیا تھا، ’’لوگوں پر بارش کی طرح گولیوں کی بوچھاڑ پڑنے لگی۔‘‘
زمین سے بلند ہوتی ہوئی چیخوں نے آسمان سے آتے ہوے دھماکوں کے ساتھ مل کر شور اور واویلا کا اس قدر ہنگامہ گرم کیا کہ اتنا وقت گزر جانے کے بعد بھی وہ اب تک میرے کانوں میں گونجتا ہے۔ جب پو پھٹی تو امی نے آس پاس کی دوسری عورتوں کی طرح خود کو جنونی دوروں کے حوالے کر دیا اور ان کو آپے میں لانے کی ابا کی ہر کوشش بیکار گئی۔
آخرکار یہ قتل عام بند ہوا۔ آسمان سے ہوائی جہاز معدوم ہو گئے اور اوپر سے آتی ہوئی تمام آوازوں اور دھماکوں نے بند ہوکر زمین کے وحشیانہ شوروغوغا کے لیے جگہ خالی چھوڑ دی جو اس وقت تک جاری رہا جب تک دن کی روشنی کا اولیں ڈورا نمودار نہ ہو گیا۔
تکان سے چُور چُور ہم سب اپنی خندق سے نکلے تھے اور اپنے والدین کے پیچھے پیچھے چل دیے تھے۔ ان کے حکم پر ہم نے اپنی آنکھیں کس کر میچ رکھی تھیں تاکہ ہماری نظر گردوپیش کے خون خرابے پر نہ پڑ جائے۔ ہم نے سیدھے اپنے گھر کی راہ لی، مگر وہ وہاں موجود نہ تھا۔ ہماری گلی میں نہ چچا حسن کا گھر سلامت تھا نہ تیسرا والا مکان اور نہ چوتھے کا آدھا حصہ؛ سب کے سب ملبے کا ڈھیر بن چکے تھے۔ ملبے کے اس ڈھیر پر جو ہمارا مکان تھا، ہماری ایک بط چکراتی پھر رہی تھی۔ پیچھے پیچھے اس کا ایک بچہ بھی تھا، جبکہ پہلے وہ پانچ تھے۔ ہوا میں چنبیلی کی مہک کا دور دور تک پتا نہیں تھا۔
ابا کسی سراسیمہ شخص کی طرح پہلے تو کھڑے کھڑے اس ملبے کو تکتے رہے اور پھر امی کو ٹکرٹکر دیکھنے لگے جن کو اس ناگہانی نے دم بخود کر دیا تھا۔
اس دن کا آخری اور اندوہ ناک منظر ابا کو روتے ہوے دیکھنا تھا — ایسا منظر جو میں نے اپنی زندگی میں کبھی نہیں دیکھا تھا۔
’’زندگی بھر کی محنت پل بھر میں اکارت ہو گئی،‘‘ امی آنسوؤں کی جھڑی میں منمنائیں۔
’’شکر الحمدللہ،‘‘ ابا آنسو پونچھتے ہوے بڑبڑائے۔ ’’شکر ہے کہ ہم اندر نہیں تھے۔‘‘ کچھ دیر کے لیے خاموشی ہم پر مسلّط رہی۔ پھر وہ بولے، ’’ اب تم لوگوں کو اندرونِ ملک ترکِ وطن کر جانا ہو گا،‘‘ اور اس طرح میں نے ایک نئی ترکیب ’’ترکِ وطن‘‘ سیکھی۔
’’چلو، جب تک کوئی اور بندوبست نہ ہو، تمھاری پھوپھی کے گھر چلتے ہیں،‘‘ ابا نے بات جاری رکھی، ’’بشرطےکہ وہ بھی ڈھے نہ گیا ہو۔‘‘
غمزدہ جلوس پھر سے مرتب ہوا اور ہم سب مریل چال سے چلتے ہوے روانہ ہو گئے، ’’جیسے کسی میت کے ساتھ ساتھ‘‘ جیسا کہ میں سیانا ہوجانے پر اپنے احباب کو یہ واقعہ سناتے وقت کہا کرتا تھا۔ اپنے مکان کے ملبے کے پاس سے ہٹتے وقت میں نے دیکھا کہ ابا نے باہر کو نکلے ہوے ایک پتھر کو گھسیٹا اور دوبارہ ملبے کے بڑے سے ڈھیر کی طرف اچھال دیا۔
’’جب جنگ ختم ہو جائے گی،‘‘ میں نے ان کو کہتے سنا، ’’تو ہم اس کو پھر سے بنائیں گے۔‘‘
پھر جنگ ختم ہو گئی۔۔۔
کندھے پر ٹہوکا لگا تو میرے خیالات کا سلسلہ ٹوٹ گیا۔ میری بیوی کہہ رہی تھی، ’’تم کو کیا ہوگیا ہے؟ سن رہے ہو؟ ہم کب بنانا شروع کریں گے؟‘‘
اس مکان کا آسیب ابھی میرے سر میں موجود تھا۔
’’جن لوگوں نے تباہی کے یہ سب خوفناک ہتھیار ایجاد کیے ہیں،‘‘ میں بولنے لگا، ’’آخر وہ کوئی ایسی چیز بنانے کی کیوں نہیں سوچتے جو مکانات کو ان کی تباہ کاریوں سے بچا سکے؟‘‘
میری بیوی کے چہرے پر حیرت نمودار ہوئی۔ اس نے مجھ کو یوں دیکھا جیسے بڑے دُلار سے سوال کر رہی ہو۔ میں مسکرا دیا اور اپنے ہاتھوں کو اس طرح گھمانے لگا جیسے اپنے خیالات کو اڑا رہا ہوں، اور بولا، ’’فکر کی کوئی بات نہیں؛ میرا اس پر یقین ہے کہ اب جنگ کبھی نہیں ہو گی۔‘‘
اس بات نے میری بیوی کے چہرے کی حیرانی کو اور بھی بڑھا دیا۔
Image: Muhammad Hafez
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آج اور اجمل کمال کے تعاون سے شائع کی جانے والی مزید تحاریر اور تراجم پڑھنے کے لیے کلک کریں۔
div class=”urdutext”>لیوس نکوسی (Lewis Nkosi) کا تعلق جنوبی افریقہ سے تھا۔ تحریر و تقریر پر عائد پابندیوں کے باعث آپ نے 30 سال جلاوطنی میں کاٹے۔ ادبی تنقید، شاعری، ناول نگاری، مضمون نویسی اور افسانہ نویسی سمیت ادب کی تمام اصناف میں طبع آزمائی کی۔ آپ صحافت کے پیشے سے بھی وابستہ رہے۔ ان کی اس کہانی کا کا ترجمہ عطا صدیقی نے کیا ہے جو آج کے شمارہ نمبر 9 میں شامل ہے۔
عطا صدیقی (پورا نام عطاء الرحمٰن صدیقی) 13 نومبر 1931 میں لکھنؤ میں پیدا ہوے، تقسیم کے بعد کراچی منتقل ہوے۔ کراچی یونیورسٹی سے تعلیم مکمل کرنے کے بعد بندر روڈ پر واقع ایک سکول میں پڑھانا شروع کیا اور وہیں سے ہیڈماسٹر کے طور پر ریٹائر ہوے۔ ایک پڑھنے والے اور ترجمہ کار کے طور پر ان کی ادب سے عمربھر گہری وابستگی رہی۔ ان کے کیے ہوے بہت سی عالمی کہانیوں کے ترجمے آج کراچی اور دیگر رسالوں میں شائع ہوتے رہے۔ انھوں نے امرتا پریتم کی کتاب ’’ایک تھی سارا‘‘ کا ہندی سے ترجمہ کیا۔ عطا صدیقی کی ترجمہ کی ہوئی کہانیوں کا مجموعہ زیر ترتیب ہے۔ 13 اگست 2018 کو کراچی میں وفات پائی۔
عطا صدیقی کے تراجم لالٹین پر اجمل کمال کے تعاون سے پیش کیے جا رہے ہیں۔ اجمل کمال کراچی پاکستان سے شائع ہونے والے سہ ماہی ادبی جریدے “آج” کے بانی اور مدیر ہیں۔ آج کا پہلا شمارہ 1981 میں شائع ہو تھا۔ آج نے اردو قارئین کو تراجم کے ذریعے دیگر زبانوں کے معیاری ادب سے متعارف کرانے کے ساتھ ساتھ اردو میں لکھنے والے ادیبوں اور شاعروں کے کام سے بھی متعارف کرایا۔ سہ ماہی آج کو سبسکرائب کرنے اور آج میں شائع ہونے والی تخلیقات کو کتابی صورت میں خریدنے کے لیے سٹی پریس بک شاپ یا عامر انصاری سے رابطہ کیا جا سکتا ہے:
عامر انصاری: 03003451649
احمد مبارک کی آواز میں یہ کہانی اب آج کے یوٹیوب چینل پر بھی اپ لوڈ کر دی گئی ہے۔ آج کا یوٹیوب چینل سبسکرائب کیجیے اور گھنٹی کے نشان پر کلک کیجیے تاکہ نئی ویڈیوز اپ لوڈ ہونے کا نوٹیفیکیشن بروقت مل سکے۔
تحریر: لیوس نکوسی (5 دسمبر 1936 تا 5 ستمبر 2010)
انگریزی سے ترجمہ: عطا صدیقی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 1
قیدی سب کے سب بنیادی طور پر ایک ہی جیسے ہوتے ہیں، اپنے جیلروں کی طرح۔ اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ ان کی جلد کی رنگت کیا ہے، جب ان سے گفتگو کی جاتی ہے تو وہ بےغیرتی سے روتے جھینکتے ہیں۔ ان کے بولنے کے ڈھنگ میں کوئی بات ایسی ہوتی ہے جو مجھے شدت سے بےچین کر دیتی ہے۔ اس کی نشان دہی کرنا اتنا آسان نہیں۔ اگر میں جواب دینے پر مجبور ہی کر دیا جاؤں تو میں کہوں گا کہ وہ ناگواری اور حیرانی کا آمیزہ ہوتا ہے، احتجاج اور خوشامد کا ملغوبہ جو کہ پرلے درجے کی نامردی ہے۔ یوں لگتا ہے جیسے قیدی کو اپنے رول سے محبت بھی ہو اور نفرت بھی۔ جیسے وہ اپنے جیلر کو ناپسند بھی کرتا ہو اور اس کا احترام بھی کرتا ہو۔ سوچتا ہوں تو یکسر حیران ہو جاتا ہوں کہ تقدیر انسان کو اس نوعیت کے رول میں بھی دھکیل سکتی ہے۔
میں اِدھر جارج کو دیکھتا ہوں۔ پھٹے حالوں، میلا چِیکٹ، بھوک کا مارا، اور دھوپ کی کمی کے باعث جلد بھی تھوڑی بہت پھیکی پھیکی۔ تو میرے آنسو نکل آتے ہیں۔ آخر کو جارج کبھی میرا آقا اور جیلر تھا، حالانکہ آپ اب اس بات کو جان نہیں پائیں گے۔ اس گورے آدمی کے ہاتھ میں بارہ ملین کالوں کی قسمت تھی اور بدنصیبی دیکھیے کہ اس تعداد میں سے بندہ خاص قیدی کی حیثیت سے جارج کے پلّے پڑ گیا۔ جس طرح جارج اپنے پاس آنے والے مہمان سیاستدانوں سے کہا کرتا تھا، یہ اس کے لیے ’’سب سے سخت بےرحمانہ چرکا‘‘ تھا۔ مگر جس وقت وہ یہ شکایت کرتا تو میں اس کے لہجے سے جھانکتے فخر کو تاڑ جاتا۔ وہ مجھ جیسے قیدی کو پا کر خوش تھا۔ میں سمجھتا ہوں کہ اگر اس کو کوئی مجھ جیسا قیدی نہ ملتا، جس پر وہ اپنی مخصوص چھاپ کی عنایات کر سکے، تو وہ کسی حد تک خود کو گھٹا گھٹا محسوس کرتا، اس لیے جب بھی وہ اپنی قسمت کو اس بات پر کوستا کہ ا س کو مجھ ایسے کا آقا بنا دیا گیا تو میں جان جاتا کہ اس کا کیا مطلب نکالوں۔
ان دنوں تمام ’وارے‘ جنوبی افریقیوں کی طرح وہ بھی لمباچوڑا اور دھوپ کھایا ہوا تھا۔ ان دنوں میں سوچا کرتا تھا کہ جارج کے اندر سے ایک نرالی قوت پھوٹتی ہے۔ مختصراً یہ کہا جا سکتا ہے کہ اس کے تیور کسی ایسے شخص کے سے تھے جو حکم چلانے کے لیے پیدا ہوا ہو۔ اس کے اشارے سادہ ہوتے، اس کی آواز حقارت سے پُر ہوتی اور اس کی آنکھوں میں استہزا کی ایک ایسی چمک ہوتی جو بےحد کشش انگیز تھی۔ میں دبے پاؤں باورچی خانے میں گھوم پھر کر جارج کے لیے طرح طرح کے عمدہ کھانے اور لذیذ مٹھائیاں تیار کرنے کے انتظامات میں مشغول رہتا۔ اس کی شخصیت اتنی بات منوا لینے والی تھی۔ اب تو آپ کو اس شخص کا خالی پھوک نظر آتا ہے جس میں کبھی حکم چلانے کا سخت گیر جذبہ جاری و ساری تھا۔ وہ نیلی آنکھیں اب مٹیالی ہو چکی ہیں اور ہاتھ پاؤں ناقابل شناخت حد تک جھَر چکے ہیں۔ خیر، قسمت کے دھنی لوگوں کا تقدیر یہی حشر کرتی ہے۔ جارج کو میں اس وقت اسی قسم کے آدمیوں میں شمار کرتا تھا۔
میں دیکھتا ہوں کہ آپ منھ بنا رہے ہیں۔ میرا خیال ہے آپ اس بات پر یقین نہیں رکھتے کہ اس میں تقدیر کا کچھ دخل ہے۔ شاید آپ تقدیر کو بالکل مانتے ہی نہیں۔ آپ کی مرضی۔ کسی کا کسی بات پر یقین کرنا ضروری نہیں۔ تاہم بعض وقت آپ سوچتے تو ہیں کہ خدا کا کرم شامل حال نہ ہو تو کسی بھی گھڑی کایا پلٹ سکتی ہے، آپ بہ آسانی خود کو زنجیروں میں اس طرح جکڑا ہوا پا سکتے ہیں کہ روٹی، شراب اورحسین عورت کا جسم آپ کے لیے حرام کر دیا گیا ہو۔ بالکل اس اپنے جارج کی طرح۔
جب ان کی نئی نئی شادی ہوئی تھی تب آپ نے جارج کی بیوی کودیکھا ہوتا۔ اب بھی جب وہ یہاں آتی ہے تو اسے دیکھ کر میرے خون کی گردش تیز ہو جاتی ہے۔ خدایا! کیا خوب انعامی گائے ہے۔ چالیس برس کی ہو کر بھی وہ اپنی نتھری گلابی جلد میں خوب گھٹی گھٹائی اور بھری بھری ہے۔ اس کا ننگا پیٹ سونے کا ایک کٹورا ہے۔ یہ نہ پوچھیے کہ میں یہ سب کیسے جانتا ہوں۔ میں کالا ہوا کروں مگر عورتیں تو عورتیں ہوتی ہیں اور وہ صاحبِ اختیار مردوں کو پسند کرتی ہیں۔ انصاف سے، بعض وقت مجھے احساس ہوتا ہے کہ وہ یہاں جارج کے بجاے مجھ سے ملنے آتی ہے۔ اُدھر پیچھے کی جانب ہمارے پاس سفیدی کی ہوئی ننگی دیواروں اور بُنے ہوے پلنگ پوشوں والا ایک کمرہ ہے۔ میں آپ کو ان بہت سی راتوں کے بارے میں بتا سکتا ہوں جب وہاں لیٹ کر میں اور فرانسِسکا دنیا میں جارج کی حیثیت کے متعلق پریشان ہوا کرتے ہیں۔
فرانسسکا، جس کی آواز بانسری کی سی ہے، آخر میں ہمیشہ آنسو بہانے لگتی ہے۔ ’’قسمت اس کے ساتھ اتنی سفاک کیسے ہو سکتی ہے، مولیلا؟‘‘ وہ اور زیادہ قریب لپٹتے ہوے سوال کرتی ہے۔ جارج کی بیوی کے ساتھ سونا، جب کہ وہ، چیتھڑوں سے ڈھکا اورجوؤں سے اَٹا، اپنی کوٹھڑی میں پڑا پچھلے بارہ برس سے ناآسودہ خواہشات کی ٹیسوں سے تڑپ رہا ہو،عجیب سی بات ہے۔ بسااوقات صرف اس کا تصور کرتے ہی میرا دل ٹوٹ جاتا ہے۔ ایسے موقعے آئے ہیں جب میں بھی رو دیا ہوں۔ پرائی پِیڑ…..چاہے گورے، کالے، پیلے کسی کی بھی ہو …. تماشے کے لیے بھلی چیز نہیں، کم سے کم اُس فرد کے لیے جو کبھی اس دُکھیا کا ملازم، غلام اور قیدی رہ چکا ہو۔ فرانسسکا کا شہد کا کٹورا بھی اس احساسِ الم کو کم کرنے کے لیے ناکافی ہے۔ میں آپ کو بتاؤں کہ ترس کے اُمڈتے ہوے ریلے کو روکنے کے لیے وہ واقعی ناکافی ہے (گو مدد ضرور کرتا ہے)۔ پھربھی خود کو برتر گرداننے کی کوئی ضرورت نہیں، اور نہ ہی جارج پر ترس کھانے کی ضرورت ہے! کیوںکہ کون ایسا جیوَٹ ہے جو یہاں کھڑے ہو کر زمانے بھر کے سامنے یہ اعلان کر سکے کہ اس کو کسی کی رحم دلی نہیں چاہیے؟ میں آپ سے پوچھتا ہوں، بتائیے، ہے کوئی؟ ایسا کوئی بھی نہیں۔ ہم سبھی کو رحم درکار ہوتا ہے۔ یہاں تک کہ گرماگرم، متناسب ہاتھ پاؤں والی، اصیل انعامی گائے فرانسِسکا کو بھی۔
کیا آپ یہ جانتے ہیں کہ فی زمانہ ہم خود کو محبوب محسوس کیے بغیر محبت کرتے ہیں؟ ہم خدا کے لطف و کرم کا تجربہ تو کرتے ہیں، مگر نجات کا احساس کیے بغیر۔ کبھی کبھار ہم مسرت کا تجربہ بغیر یہ جانے ہوے کر لیتے ہیں کہ حقیقی سرخوشی ہے کیا۔ جتنے بھی جسم درکار ہوں، وافر مقدار میں دستیاب ہونے کے باوجود ہم ہر وقت نااسودہ رہتے ہیں، اور اَور زیادہ کی طلب کرتے رہتے ہیں۔ اگر بیٹی باپ کے ساتھ اور ماں بیٹے کے ساتھ سو جاتی ہے تو کون سی تعجب کی بات ہے؟ میرے خیال میں حقیقت تو یہ ہے کہ ہم لوگ اس جارج کے زنداں سے زیادہ سنگین قیدخانے میں بند ہیں۔ مقابلتاً جارج کا قیدخانہ تو چھوٹی موٹی جنت ہے۔ ایک ایسے جسم کے ساتھ جو سوکھ چکا ہے، اس کی جنسی خواہش اب اپنے اُتار کی حالت میں ہے۔ بعض اوقات مجھے یہ احساس ہوتا ہے کہ ایک کھلا رسیلا سینہ اس کے لیے اب کوئی مسئلہ نہیں ہے، نہ کسی ران کی دہکتی ہوئی جھلکی اس کی راتوں کی نیند حرام کرتی ہے، نہ شہوت کا وہ سیلاب اپنے نکاس کے لیے اس کے جسم کے بند کو توڑتا ہے جو ہم سب کو ہر وقت تباہی و بربادی سے دہلاتا رہتا ہے۔
آپ کو ایک بات بتاؤں۔ افریقہ کی بابت میں سوچا کرتا تھا کہ رہنے بسنے کے لیے اچھی جگہ ہے۔ میں سوچا کرتا تھا کہ یہاں یہ ممکن ہے کہ ہم بس دھوپ میں بیٹھے رہیں، آم کھائیں، اور جب طلب زور کرے تو کسی عورت کو لے پڑیں۔ ایک قسم کا باغِ عدن۔ آپ سمجھ گئے نا؟ لیکن اب صرف اتنا کچھ ہونے سے تسلی نہیں ہوتی۔ اب ہم جوکچھ مانگتے ہیں وہ جسم سے بڑھ کر کچھ اور ہے۔ ہم کو اب خوشنما بھڑکیلے غلاف درکار ہیں۔ بازارمیں کام کرنے والی عورت کے کھلے تھل تھل کرتے سینے کی بہ نسبت اب ریشم سے ڈھکی، الاسٹک کے تاروں اور جالی سے سہارا دی ہوئی گات زیادہ خواہش انگیز ثابت ہوتی ہے۔ کیپ سے لے کر قاہرہ تک اور مڈگاسکر سے لے کر موزمبیق تک، ہم سب اپاہج ہو چکے ہیں، بےچارگی کی حد تک ہماری عادتیں بگڑ چکی ہیں، اور ہم میں بھرپور حقیقی روحانیت کا فقدان ہے۔ تو میرے دوست، آپ ہی مجھے بتائیے کہ قیدی جارج پر ترس کھانے والے ہم کون؟ گو اب میں جارج کا جیلر ہوں لیکن میں بھی سراسر حالات کا اسیر ہوں! میں اپنے بدن کی کال کوٹھڑی میں پھڑپھڑاتا رہتا ہوں، مگر مجھ کو کون آزاد کرائے گا؟
میں جانتا ہوں آپ اسے قریب جا کر دیکھنے کے لیے بیتاب ہو رہے ہوں گے۔ آپ بہ تمام و کمال تفصیل سے اس کی جسمانی حالت کا معائنہ کرنا چاہتے ہیں، جو کہ اس کا جائز حق ہے۔ میں اس بات کی قدر کرتا ہوں۔ بقول آپ کے، سوشل ویلفیئر ڈپارٹمنٹ کو اس کی حالت کی طرف سے تشویش ہے، ان تمام بےہودہ افواہوں کی وجہ سے جو تشدد اور دیگر ناقابلِ بیان سفاکیوں کے بارے میں اُڑتی ہیں۔ ویسے مجھے حیرت ہوتی ہے کہ آپ کے محکمے والے، آپ جیسے پس منظر اور تربیت رکھنے والے لوگ بھی اخباروں میں چھپنے والی ان جھوٹی اور بےبنیاد رپورٹوں سے بالکل گمراہ ہو جاتے ہیں۔ ہم سب کو معلوم ہے کہ اخبارات کیسے ہوتے ہیں، افواہوں اور رسواکن مواد کے کوڑے دان، جن کو المیوں اور سنسنی خیز باتوں کی نہ مٹنے والی چاٹ ہوتی ہے۔ ان کے کالم پڑھ کر آپ کو یوں لگتا ہے کہ ان میں کام کرنے والے لوگ اخلاق میں اتنے پست ہیں کہ زنانہ پچھائے کا خفیف سا بھپکا ان پر وجد طاری کر دینے کے لیے کافی ہوتا ہے۔
بہرصورت، میرا خیال ہے کہ میں بالکل صاف صاف آپ کو یہ بتا سکتا ہوں کہ بجز کبھی کبھار چابک پھٹکار دینے کے، کہ جیل کے ضابطے میں اس کی اجازت ہے، جارج کو کبھی اذیت نہیں دی گئی۔ یہ درست ہے کہ ایک دو بار مجھے مجبور ہو کر اس وقت اس کا انگوٹھا شکنجے میں دابنا پڑا جب وہ مجھے آداب کے مطابق ’’آقا‘‘ کہنا بھول گیا۔ مگر میں کہتا ہوں یہ کوئی تشویشناک بات نہیں۔ علاوہ ازیں، جدید زمانے میں ہم نے اس طرح کی ناخوشگوار باتوں کو ایک قسم کی ضرورت مان کر ان کے ساتھ گزارہ کرنا سیکھ لیا ہے۔ جارج نے چند ہولناک چیخیں ماری تھیں، مگر جارج تو تھا ہی ہمیشہ کا مار سے ڈرنے والا۔ جن دنوں وہ آقا اور جیلر تھا، اور گوری چمڑی کی حفاظت میں تھا، آپ کو اس بات کی خبر نہیں لگ سکتی تھی۔ میں محسوس کرتا ہوں کہ اس حقیقت کا بیان کر دینا بھی ضروری ہے کہ جب جارج اس جگہ آقا تھا تب اس کو مخاطب کرتے وقت ’’بوانا‘‘ یا ’’باس‘‘ یا اسی قبیل کا کوئی اور بےکیف لقب بھول جانا پرلے درجے کی حماقت ہوتی۔ جارج میں جو کچھ بھی حسِ مزاح تھی، ان القاب کے معاملے میں اس کا ساتھ چھوڑ جاتی تھی۔ وہ ان مجلسی آداب کو بہت سنجیدگی سے اہمیت دیتا تھا۔ اس لیے اب ہم بھی اس کی کسی فروگزاشت پر درگزر نہیں کرتے! ہم کو اصرار کرنا پڑتا ہے کہ وہ بھی انھی سماجی فرائض کو پورا کرے۔ ایسے موقعے بھی آئے ہیں جب میں نے اس کو بجلی کے جھٹکے لگانے کی ضرورت محسوس کی تاکہ اس میں اس چیز کا تدارک کر دیا جائے جو بادداشت کی مہلک بھول نظر آتی ہے۔
بےشک، جیل میں ایسے واقعات ہوتے ہیں، میں اس سے انکار کرنا پسند نہیں کروں گا۔ اگر مجھے صحیح یاد ہے تو دراصل اس قسم کا ایک ناخوشگوار واقعہ پچھلی کرسمس پر ہوا تھا۔ ہم نے جارج کو خوب ساری شراب مہیا کر دی تھی تاکہ وہ اپنے خداوند اور نجات دہندہ کا جشنِ مولود منا سکے۔ مگر یہ دیکھ کر ہم دنگ رہ گئے کہ جارج بےطرح بدمست ہو گیا۔ کچھ وقت نہ گزرا تھا کہ وہ ہذیان زدہ جنونی بن گیا۔ جیسا کہ آپ کہہ سکتے ہیں، وہ اُن بیتے دنوں کی نفرت انگیز ہُڑک میں مبتلا تھا جب وہ اِس جگہ کا مالک اور آقا ہوا کرتا تھا۔ جوش میں آپے سے باہر ہو کر وہ کبھی آگے، کبھی پیچھے مارچ کرنے لگا، چیخنے چلّانے لگا، اور منھ سے کف اڑانے لگا۔ ا س کا پورا چہرہ پسینے سے تربتر تھا، آنکھیں باہر کو اُبل کر ہولناک ہو گئی تھیں، اور اس کے جھانگڑ پاؤں چھڑی کی طرح فرش کے تختوں پر کھٹ کھٹ کر رہے تھے۔ میں نے ایسا تماشا کبھی نہیں دیکھا تھا۔ وہ شخص اپنی اس پست حیثیت کو بالکل فراموش کر چکا تھا جس پر تقدیر نے اسے پچھلے برسوں میں پہنچا دیا تھا۔ اس نے کوڑا پھِٹکارنا شروع کر دیا۔ حکم چلانے لگا (وہ بھی پھٹی آواز میں) اور مجموعی طور پر اس نے خود کو تماشا بنا ڈالا۔
جیسا کہ آپ خود اندازہ کر سکتے ہیں، یہ سب کچھ سخت تکلیف دہ بدمذاقی تھی۔ جارج کو اس کی بدلی ہوئی حیثیت یاد دلانے کے لیے مجھے فی الفور عمل کرنا پڑا۔ اس کی یادداشت بحال کرنے کے لیے بجلی کے چند جھٹکے کافی تھے۔ ان چھوٹے موٹے واقعات کے علاوہ جارج کے ساتھ کبھی بُرا برتاؤ نہیں کیا گیا۔ درحقیقت مجھے ذاتی طور پر فخر ہے کہ میں نے ہمیشہ جارج کے ساتھ بہت شرافت کا برتاؤ کیا۔ خصوصاً اس حقیقت کے پیش نظر کہ کبھی وہ میرا جیلر تھا۔
2
اوہ! یہ میں جانتا تھا۔ مجھے قطعی یقین تھا کہ آپ اس بات پر آئیں گے۔ مجھے معلوم تھا کہ آپ یہ جاننا چاہیں گے کہ آخر جارج نے اور میں نے اپنے رول کس طرح تبدیل کر لیے۔ سوال دلچسپ ہے، بہت دلچسپ۔ میں صرف اس سوال پر دفتر کے دفتر لکھ سکتا ہوں۔ تاہم، میراخیال ہے کہ اس کا کوئی ایک جواب ممکن نہیں۔
کچھ ایسے ہیں جو سمجھتے ہیں کہ بس کایاکلپ کا وقت آ گیا تھا، جو کہ میری نظر میں ہر طرح سے بودی دلیل ہے، کیونکہ حقائق اس قسم کی رائے کی تائید بالکل نہیں کرتے۔ اسی طرح کچھ دوسرے سمجھتے ہیں کہ کامیابی… یعنی دولت، طاقت اور وقار… کا سر آخر نیچا ہو کر رہتا ہے۔ میں اس نوع کی لچر جذباتیت کو بھی قابلِ اعتنا نہیں سجھتا، کہ اس کو تسلیم کر لینا گویا ایک طرح سے یہ اعتراف کر لینا ہے کہ میری نظر میں وہ وقت ہے جب میں خود بھی اپنی اس جیلر کی ڈیوٹی سے سبکدوش کر دیا جاؤں گا۔ یہ ایک ایسی بات ہے جسے میں بےبنیاد خوش فہمی ہی سمجھتا ہوں۔
تاہم، میں سمجھتا ہوں کہ جارج کی بربادی کے بیج خود اس کی اپنی فطرت کے اندر موجود تھے! خود اس کے اس نظام میں موجود تھے جس کو قائم و دائم کرنے کے لیے وہ جان لڑائے ہوے تھا: خود ان مابعد الطبیعاتی مفروضوں میں پوشیدہ تھے جنھیں وہ بڑے استقلال سے تھامے ہوے تھا۔ لازماً پوری عمارت جلد یا بدیر دھڑام سے گرنا بھی تھی۔ دیکھیے نا کہ جارج کی اپنی تہذیب کے باطن میں ایک سوچی سمجھی دیوانگی موجود تھی۔
یہ بات سبھی کے علم میں ہے کہ ہم افریقی لوگوں نے ایسا مابعدالطبیعاتی نظام کبھی نہیں بنایا جس نے مادّے کو روح سے جدا کر دیا ہو۔ اسی لیے ہم نے جسم کو روح سے کبھی گھٹیا نہیں سمجھا۔ اسی لیے ہم نے ناقابلِ قبول چیز جان کر کبھی بھی اس نام نہاد ’ناشائستہ طلب‘ سے نفرت نہیں کی جو کہ میری دانست میں جارج اور اس کے بھائی بندوں کی اپنے آپ سے نفرت بلکہ گھن کا اصل سبب ہے۔ وہ ہمیشہ روح یا عقل کو جسم پر فوقیت دیتے ہیں۔ آپ نے کبھی ان کو رقص کرتے دیکھا ہے؟ ان کے بیشتر رقص علامتی زبان میں جسمانی حرکات کی تجرید ہوتے ہیں۔ واہ! موتسارت، واگنر! میں سمجھتا ہوں اس قسم کی موسیقی کی توصیف میں بس یہ کہا جا سکتا ہے کہ وہ ’بلند پرواز‘ ہے! یہ ایسے افراد کی تخلیق ہے جو اپنے جسم سے بلند ہو چکے ہوں، جو اپنے مساموں سے نکلتی بساند سے گھن کھاتے ہوں۔
مثلاً میں سوچتا ہوں کہ جس وقت جارج نے اپنی افریقی ملازمہ زازا پر پہلی نظرڈالی تھی اسی وقت اس نے خود کو آقا بنائے رکھنے اورحکم چلانے اور حکومت کرنے کے ارادے کو تج دیا تھا۔ وہ مغرور آقا بالکل نہیں رہا تھا، بلکہ تب ہی ایک ایسے معذور کے رتبے کو پہنچ چکا تھا جس کو کچھ ایسی نگہداشت اور گرمجوشی درکار تھی جو صرف وہ سیاہ ہنگامہ خیز جسم ہی مہیا کرتا نظر آتا تھا۔ تب وہ ایک ایسے جعلی غم میں مبتلا ہو گیا جس کوغلط کرنے میں ہر ڈھارس بےاثر تھی۔ اس نے اپنے آپ سے نفرت کرنا شروع کر دی، اور ساتھ ہی ہر اس شے سے جو کبھی اس کو عزیز تھی۔ سب سے زیادہ تو وہ اپنی بیوی فرانسسکا کے لیے ناقابل برداشت اور جابر بن گیا۔ بلانوشی اتنی کرنے لگا کہ سِڑی ہو گیا۔ وہ جھگڑالو اوردھونسیانے والا بن گیا۔ میں سمجھتا ہوں یوں اس نے خود کو لوگوں کی ملامت کا ہدف بنا کر چاہا کہ اپنے گناہوں کا کفارہ ادا کرے اور اس طرح اپنے نفس کو سزا دے جس نے اس کو بھٹکا دیا تھا۔
بس وہ ایک بات بھو ل گیا، جنوبی افریقہ میں نسلی میل جول کے خلاف قوانین بہت سخت ہیں۔ آدمی کو ہرخطا معاف کی جا سکتی ہے سواے اس خون میں ملاوٹ کرنے کے جس کی بابت مقبولِ عام تصور یہ ہے کہ وہ خالص نسلی خصوصیت کا حامل ہوتا ہے۔ اس لیے جارج نے زازا سے کھلے بندوں جس طرح کا ربط جاری رکھا اس سے میں نے تو یہی نتیجہ اخذ کیا کہ یہ سب اس کی اس لاشعوری خواہش کی وجہ سے تھا کہ وہ گرفتار کر لیا جائے اور اسے سزا دی جائے۔ یہ تھا اس کا طریقِ کار اپنے جسم سے بدلہ لینے کا جس کو نہ تو وہ تج سکتا تھا نہ صلیب پر چڑھا سکتا تھا۔ جیسا کہ آپ دیکھ سکتے ہیں، یہ تھا وہ پہلا موقع جو خود اس نے اپنی ذات پر غالب آنے کے لیے مجھ کو فراہم کیا۔
شاید آپ کہیں کہ زازا اور میں نے اس کے لیے جو پھندا تیار کیا وہ خوب سوچاسمجھا بلکہ ذہانت کا شاہکار تھا، مگر مجھے اس پر یقین نہیں۔ یہ تو اتنا ہی آسان تھا جتنا انڈا توڑنا۔ دوسری طرف، میں کہوں گا کہ اس سلسلے میں فقط ایک اور بالادستی جو میں قبول کرنے کو تیار ہوں وہ ان لوگوں کے بارے میں واقفیت حاصل کر لینے کا موقع ہے جو جارج اور اس کی قبیل کے لوگوں نے میرے لیے مہیا کیا۔ پورا نظام تعلیم جو انھوں نے وضع کیا اس کی بناوٹ بھی ایسی تھی کہ اس نے مجھ کو جارج کے بارے میں اتنا کچھ سکھا دیا کہ جارج شاید میرے بارے میں اس کا عشرِعشیر بھی نہ جان سکتا ہو گا۔ اس میں تعجب کی کوئی بات نہیں کہ میں جارج کی شہزوری اور کمزوری دونوں کے ایک ایک نکتے سے واقف ہو گیا۔ چنانچہ میرے لیے جارج کوئی بند کتاب نہیں تھا بلکہ ایک ایسی نشان زدہ کتاب تھا جس کی ورق گردانی کوئی شخص مستقل کرتا رہا ہو۔
بائبل کے مفہوم میں آپ یوں کہہ سکتے ہیں کہ اس وقت ہبوطِ جارج واقع ہوا۔ اس نے ایک سیاہ فام عورت کو دیکھا جس کی اسے چاہ تھی۔ اپنی قوم کے لازمی مگر غلط تصور پر کہ وہ ارفع و اعلیٰ ہے، قائم رہنے کے بجاے وہ قطعی شرمناک طور پر جسم کی کمزوریوں کا شکار ہو گیا۔ یہی اس کا زوال تھا۔
آپ ضرور دریافت کر سکتے ہیں کہ اس قصے میں میں کہاں آتا ہوں۔ میں کس طرح جارج کا قیدی بنا، یہ بالکل عام سی بات ہے۔ اس کی تفصیلات، جیسی کچھ بھی وہ ہیں، درحقیقت بہتوں کو غیراہم نظر آئیں گی۔ پھر بھی آپ جیسے لوگوں کو میں خوب جانتا ہوں، وہ نسل جو حقائق چٹا کر پروان چڑھائی گئی ہے۔ اجازت ہو تو آپ کو آگاہ کر دوں کہ جارج کا شوق بھی یہی تھا، یعنی حقائق۔ بہرحال، میں آپ کو حقائق سے بے کم و کاست آگاہ کرنے کا پابند ہوں۔ جس سال میں جارج کی خدمت پر مامور کیا گیا، مجھ کو’آوارہ گردی‘ جیسے مہمل الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔ اُن دنوں سزا کی مدت قیدخانے میں گزروانے کے بجاے وہ لوگ قیدیوں کو اشراف کے پاس’ارزاں سزا یافتہ مزدور‘ کی حیثیت سے ٹھیکے پر بھیج دیتے تھے۔ یقیناً یہ دوسرے نام سے ایک طرح کی غلامی ہی تھی۔ بہرحال، یوں میں جارج کی تحویل میں آیا اور وہ میرا آقا اور نگراں بن گیا، تاآنکہ تبدیلی کا وہ ناخوشگوار لمحہ آ پہنچا۔
اُس وقت جیسا کہ میں تھا، ذرا تصور کیجیے، زندہ دل، کوچہ گرد، نوجوان، مہذب اور ذہنِ رسا کا مالک تھا۔ اس وقت میں وہ ہوا کرتا تھا جس کو انفلکس کنٹرول ڈپارٹمنٹ کی اصطلاح میں ’بےخانماں مقامی‘ کہتے ہیں۔ کسی حد تک درست اس تعریف کے ساتھ انھوں نے ایک ذرا سی تفصیل اور شامل کر لی کہ بظاہر میرا کوئی روزی کا سہارا بھی نہ تھا۔
واقعتاً اس سرکاری اندراج پر میں تو کسی قدر نازاں تھا، کہ ان الفاظ سے مجموعی طورپر ایک مکمل لااُبالی پن کی زندگی کا اظہار ہوتا تھا، جو کہ جارج کی باسلیقہ زندگی سے قطعاً مختلف تھی، اور نظروں کے سامنے ایک ایسے فرد کی تصویرآ جاتی تھی جس کا کوئی مقرر پتا نہ ہو، جس کے اپنوں میں آگے پیچھے کوئی نہ ہو، جس کے پیر میں ہر آن ایک چکر ہو، ایک موسمی پرندے کی طرح، یا بقول کسے ایک ملاح کی طرح۔ اس تصویر کو مکمل کرنے کے لیے مجھے ہر بندرگاہ میں فقط ایک چھوکری کی ضرورت تھی۔ اگر جارج کے زوال کا سبب اس کے جسم کی کمزوری تھی تو میرے زوال کا سبب غالباً میرا متلوّن تخیل اورایک ناقابل اعتبار حسِ مزاح تھی۔
یوں میں ایک طرح سے خوش قسمت تھا کہ مجھے تھوڑی بہت کام چلاؤ تعلیم میسر آ گئی تھی۔ فورٹ ہیر یونیورسٹی کالج میں جو تھوڑابہت وقت میں نے گزارا وہ میری دانست میں کوئی معمولی کارنامہ نہیں تھا۔ ان دنوں ایک انٹلکچوئل کی حیثیت سے میری بڑی شہرت تھی۔ ایک ایسا مفکر جو دور کی کوڑی لائے۔ میرے ان گورے دوستوں کے لیے جو مجھے ایک کتابی کیڑے اور کتابوں پر بھوکے کی طرح گرنے والے کی حیثیت سے جانتے تھے، جن میں سے بہتیروں نے جوہانسبرگ کی ’وائٹ اونلی‘ لائبریری سے اپنے کارڈوں پر میرے لیے کتابیں نکلوائی تھیں، اس حقیقت کو حلق سے اتارنا مشکل تھا کہ میرا کوئی ظاہری ذریعۂ آمدنی نہیں۔ یہ دیکھ کر ان کا دل بجھ جاتا تھا کہ مجھ کو اکثر انفلکس کنٹرول اسکواڈ سے جان بچانی پڑتی تھی، جو جوہانسبرگ کی سڑکوں پر بےروزگار، آوارہ افریقیوں کی پکڑدھکڑ کیا کرتا تھا۔
عام طور پر میں وان ویلف اسٹریٹ کے بیئر ہال کے باہر اپنے سودمند کاروبار سے لگے دوستوں کے انتظار میں منڈلایا کرتا کہ وہ آئیں اور اپنے داموں مجھے ’مکومبوتھی‘ پلائیں۔ میں انھیں دروازے پر ہی چھاپ لیتا اور اس امید پر کہ ان کو میری قلّاشی پر شرم آ جائے گی، میں اپنے کوٹ کی جیبیں باہر کو نکال دیتا۔ شام ہوتے ہی آن پیگی کے اڈے پر جا نکلتا جہاں مجھے بلانوشوں کی اس سے بہتر قبیل میسر آ جاتی، اونچے داموں والی شو گرلز، استاد، سیاستدان اور بیوپاری۔
3
متعدد بار ہیلن مجھ سے کہتی،’’مولیلا، میں تمھاری منّت کرتی ہوں، بس اتنا بتا دو کہ یہ جو تم کو اتنا عمدہ موقع ملا ہے اپنے لوگوں کی مدد کرنے کا، بھلا اس کو کیوں گنوا رہے ہو؟ تم جیسے ذہین آدمی کو تو یورپین لوگوں کو کاک ٹیل پارٹیوں کے مسخرے سے کچھ بڑھ کر ہونا چاہیے۔ ہاں، ڈھونگ ہی تو ہوتا ہے جو تم رچاتے ہو اور اس طرح پیٹی بورژوا لوگوں کی انا کو گدگدا کر خوش کرتے ہو۔‘‘
یہ تسلیم کرتے ہوے مجھے شرم آتی ہے کہ ایسے موقعوں پر میرے پاس بس یہ دیکھنے کا وقت ہوتا تھا کہ ہیلن کی گردن کتنی عمدہ اور چکنی ہے۔ مجھ کو جتنی بھی عورتوں کو ملاحظہ کرنے کا موقع نصیب ہوا، کیا گوری اور کیا کالی، ان میں ہیلن کی کاٹھی سب سے زیادہ عمدہ تھی۔ کاش اس کا دہانہ اتنا تنگ اور حقارت لیے ہوے نہ ہوتا۔ گو اس کی نیلگوں، گمبھیر، چھوٹی چھوٹی آنکھیں ہر اس مرد کے لیے دلربائی کا سامان تھیں جو اس سے دوچار ہو چکا ہو، مگر مجھ سے باتیں کرتے ہوے وہ ہمیشہ انھیں غیرضروری طور پر سخت کر لیتی تھی۔ میں سوچتا ہوں کہ ہیلن مجھ کو بچانا چاہتی تھی، بس اگر میں بچائے جانے پر رضامند ہو جاتا۔ ہر ضائع شدہ موقعے کے خلاف اس کی دودھیا رانیں سختی سے مستعد رہتی تھیں۔
گوروں کی دعوتوں کو میں مجموعی طور پر ناپسند کرتا تھا۔ کافی رات گزر جانے کے بعد تو کہیں جا کر ان میں جان پڑتی تھی۔ اس وقت تک ہر شخص پی پلا کر اتنا غیں ہو چکا ہوتا تھا کہ کیا لطف اٹھاتا۔ شروع شروع میں یوں لگتا جیسے یہ دعوتیں ٹامک ٹوئیاں مار رہی ہوں، بناوٹی گفتگو کے مرغولوں میں لڑکھڑاتی، ٹھوکریں کھاتی پھر رہی ہوں۔ دیواروں سے پیٹھ لگائے کھڑی لڑکیاں اپنے اپنے جام سختی اور مضبوطی سے اپنے مغرور اور خطرناک حد تک کسے بندھے سینوں پر ٹکائے، یا ان کے درمیان پھنسائے، گیلے کپکپاتے ہونٹوں سے ان نوجوانوں سے محوِ گفتگو ہوتیں جو ان سے رسی تڑانے کے لیے بےچین رہتے کہ کسی طرح جان چھڑا کر کامیابی سے اپنی امّاؤں کی گود میں، اپنے پالنے میں پہنچ جائیں۔ تو یہ تھے وہ لوگ جو، بقول خود ان کے، یہ جاننا چاہتے تھے کہ ان کی شاندار جوان زندگیوں کے ساتھ کیا ماجرا ہوا۔
مجھے لااُبالی، ادھیڑعمر، بےنکاحی عورتیں بھی یاد ہیں، جامعہ والیاں بھی اور سنجیدگی سے پرسش کرنے والی میزبان خواتین بھی جو یہ معلوم کرنا چاہتی تھیں کہ آیا وہ سب کچھ سچ ہے جو انھوں نے ’’جوہانسبرگ کے آس پاس کی کالی بستیوں میں ہونے والی ہیجان خیز کارستانیوں‘‘ کے بارے میں پڑھ رکھا ہے۔ عجیب بات تھی کہ وہ یہ پہلے ہی سے باور کر لیتیں کہ میں یہ سمجھتا ہوں کہ ’’کارستانیوں‘‘ سے ان کی کیا مراد ہے۔ جب بھی میں پلٹ کر پوچھتا کہ بھلا کون سی کارستانیاں؟ تو میرے اس انجانےپن پر وہ بےیقینی سے صرف مسکرا دیتی تھیں۔ آپ شاید یقین نہ کریں کہ ایک مرتبہ لوئر ہاؤٹن کی ایک پارٹی میں ایک بدھو سا نوجوان میرے پیچھے پیچھے غسلخانے تک آیا اور میرے کان میں شرماتے ہوے بدبدایا، ’’ایک بات بتاؤ…‘‘ اس نے کہا، ’’ایک رات میں کتنی بار ممکن ہے؟‘‘ پھر اس کی سانس یا اعصاب۔۔ پتا نہیں کون۔۔ جواب دے گئے۔
میں آپ سے بتاتا ہوں کہ وہ دعوتیں بالکل بور ہوتی تھیں۔ لڑکیاں جب مجھ کو کسی ایسے فرد سے جو واقعی مجھے پسند ہوتا، باتیں کرتے دیکھ لیتیں تو میرے گرد اپنے لجیلے بےڈول جسموں کی بھینٹ پیش کرنے کے انداز میں جمگھٹا لگا دیتیں، حالانکہ یہ صاف ظاہر تھا کہ اتنے جگمگاتے روشن لاؤنج میں کون ان کی اس نوازش سے فائدہ اٹھا سکتا تھا۔ میں ان کی آوازیں خوشگوار دھنکی ہوئی رات میں گھنٹیوں کی جھنکار کی مانند اب بھی سن سکتا ہوں۔
’’چلو آؤ مولیلا،‘‘ وہ اپنے لچکدار پیٹ مجھ سے سٹا کر کہتیں، ’’ہمیں اپنا کویل رقص دکھاؤ۔ اوہ، تمھارارقص کتنا شاندار ہے۔‘‘
یا پھر،’’مولیلا، بس کرو، خدا کے لیے، لوگ کیا کہیں گے مولیلا۔دروازے میں سے وہ یقیناً ہم کو دیکھ سکتے ہیں۔‘‘
یا ’’مولیلا، امید ہے تم اسے ذاتی بات نہیں سمجھو گے، میرا مطلب ہے کہ ایمان سے، جو تمھارے بارے میں ویسی نیت رکھتی تو کہہ دیتی، ٹھیک ہے، چلو ابھی گھر چلیں۔ مگر دراصل تمھارے لیے اس طرح محسوس نہیں کرتی۔ بس تم سے باتیں کرنا چاہتی ہوں۔‘‘
یا ’’مولیلا، تم مجھے انگ لگا لو، ابھی، اسی وقت۔ خراب کر ڈالو مجھے۔ مجھے معلوم ہے کہ تمھاری نیت ہے۔ اوہ، تم کتنے ظالم ہو۔‘‘ یہ عام طور پر رات تین بجے کا وقت ہوتا تھا، جب پارٹی اپنی آخری سانسوں پر ہوتی اور سفید آدمی کی ذمےداری کا بوجھ ان کے ناتواں کاندھوں کے لیے کچھ زیادہ ہی بوجھل ہو جاتا تھا۔
نہیں جی، مجموعی طورپر میں کالوں کی بزم آرائیوں کو ترجیح دیتا تھا۔ بیشتر گھٹیا شراب خانوں کی کاک ٹیلز کو، جن میں روز کا ٹھیا جمانے والے بھانت بھانت کے لوگ، ہائی فائی لونڈے، تنخواہ دار ڈکیت، چمک چاننیاں اور بددیانت سیاستدان شریک ہوتے۔ اُن دنوں جب مجھے بالکل پتا نہ ہوتا تھا کہ اگلا پیسہ کہاں سے ہاتھ آئے گا، افریقی سیاستدان میرے لیے نعمت تھے۔ تھوڑابہت جیب خرچ کمانے کی خاطر، میں ان کے لیے تقریریں لکھا کرتا تھا، جو وہ سٹی ہال کے سامنے چوک میں کھڑے ہو کر کیا کرتے تھے جہاں سینکڑوں ہکابکا گورے بہت تحسین کے انداز میں کھڑے رہ کر ان کو سنتے، حالانکہ میں یہ کہنے کی جسارت کرتا ہوں کہ اگر کہیں انھیں اس نری لفّاظی کے دوران غور کرنے کا موقع ملتا تو وہ ان تقریروں میں بیان کردہ احساسات پر بہت ناخوش ہوتے۔
میں نے خاصا مشاہدہ کر رکھا تھا کہ افریقی سیاستدان پیچیدہ فقروں، لچھےدار جملوں اور مسجّع سُریلے محاوروں کو ترجیح دیتے ہیں تاکہ مجمعے کو اپنے زورِبیاں میں بہا لے جائیں۔ وہ ایسی تقریروں کو شک کی نظر سے دیکھتے تھے جن میں ٹھوس اور عملی باتیں کہی گئی ہوں۔ سب سے بڑھ کر افریقی سیاستدان عمل کے ذکر پر اعتبار نہیں کرتے تھے۔ بس واضح فقروں کو ناپسند کرنے کا سبب بھی یہی تھا۔ پھربھی، انصاف کی خاطر میں یہ واضح کرتا چلوں کہ تقریر کے لچھے باندھنے کی یہ رغبت افریقیوں میں دراصل شاعری کی روایتی پسندیدگی کی وجہ سے پیدا ہوئی ہے۔ افریقہ کے لوگ زبان کے بڑے دلدادہ ہوتے ہیں۔ اس لیے سٹی ہال کے سامنے ہفتے کی شام کو ہونے والے جلسے نسلی امتیاز کے خلاف دل کی بھڑاس نکالنے کے ساتھ ساتھ شاعری کا ہَسکا مٹانے کی ضرورت بھی پوری کر دیتے تھے۔
میں گھنٹوں بیٹھا ایسے الفاظ سوچتا رہتا جن میں کافی پھونک بھری ہو، رنگین زیادہ سے زیادہ ہوں تو کیا کہنے۔ میں تلےاوپر ذیلی فقروں کی تھپّیاں جما دیتا یہاں تک کہ کمرتوڑ اصل فقرے کا نقطۂ عروج آ جاتا، جہاں پہنچ کر مقرّر ایک طمانیت بھری شان سے کچھ دیر کے لیے، عموماً ہجوم کی تالیوں کی خاطر، رک جاتا۔
نتیجتاً میں سیاستدانوں میں مقبول ہو گیا اور اس کام کے سہارے تھوڑی بہت رقم پیدا کرنے لگا۔ میں نے تو تقریرنویسی کا باقاعدہ کاروبار جمانے کے بارے میں بھی سوچا۔ حکومت جتنے زیادہ نسلی امتیاز کے قوانین بناتی اُتنے ہی زیادہ احتجاجی جلسے ہوتے اور اُتنی ہی تقریروں کی مانگ بڑھتی۔ میں خود کو تھوڑابہت فنکار سمجھنے لگا تھا، سچ مچ ایک الفاظ گر، اس قسم کی نثر گڑھنے والا جس میں حقیقی ادبی خوبی کے ساتھ ساتھ ہجوم کے لیے ڈرامائی اپیل بھی ہو۔
بعض اوقات بڑی دلچسپ صورت حال ہوتی کہ خام کار افریقی کمیونسٹوں کے ساتھ ہی سیاستدان بن جانے والے ’قزاق‘ بیوپاریوں کی جانب سے بھی تقریر لکھنے کو کہا جاتا۔ بسااوقات مجھ کو دونوں تقریریں بیک وقت لکھنا پڑتیں۔ ایسے لمحات میں معاملہ گویا دائیں ہاتھ کو بائیں کی خبر نہ ہو والا ہوتا تھا۔ کمیونسٹوں کی تقریروں کے لیے میرے پاس گھڑی گھڑائی گالیاں موجود تھیں، مثلاً ’’استعماری قوتوں کے آلۂ کار‘‘، ’’جنگ پرست سامراجی‘‘، ’’دوسروں کی محنت پر پلنے والے سرمایہ دار‘‘۔ مگھم باتوں والے کالے اعتدال پسندوں کی تقریریں چٹپٹی بنانے کے لیے میں اس قسم کی بےمعنی بےضرر باتیں بُرکتا جیسے، ’’خدا وہ وقت نہ لائے کہ ہمارے بچے ہم سے کہیں…‘‘ یا پھر زیادہ قابلِ اعتماد: ’’تاکہ سب بلا تفریقِ رنگ و نسل و مذہب، امن آشتی سے رہ سکیں۔‘‘ اس پرتو ہمیشہ ہی تعریف کے ڈونگرے برستے۔
فقط ایک بار مجھ سے بھیانک گڑبڑ ہو گئی۔ میں دو تقریروں پر محنت کر رہا تھا۔ ایک تو بَبالالا نامی نوجوان کمیونسٹ کے لیے تھی اور دوسری ایک ایسے میانہ رو افریقی سیاستدان کے لیے جو حکومت سے زیادہ الجھنا پسند نہیں کرتا تھا، کیونکہ اس کا مطلب یہ ہوتا کہ گوروں کے علاقوں میں قیمتی تجارتی رعایتوں کو قربان کر دے۔ آخرالذکر وہ شخص تھا جس کی تقریریں لکھنے میں مجھے مزہ آتا تھا۔ انقلابی صورت حال میں غیرجانبدار رہنا میری نظر میں نہایت خطرناک کام تھا، مگر نئے زمانے کا آدمی ہونے کی وجہ سے مجھے بھی ستم ظریفی اور ابہام کا بہت چاؤ تھا۔ چونکہ ان افریقی سیاستدانوں کو بڑی احتیاط کرنا پڑتی تھی کہ حکومت کو ناراض بھی نہ کریں اور ساتھ ہی عوام میں اتنے مقبول بھی بنے رہیں کہ گوروں کی کونسل میں سودے بازی کی قوت ان کے پاس رہے۔ مجھ کو اکثر ایسی طویل بوجھل تقریریں لکھنا پڑتیں جو وزنی بھی ہوں اور ایک ایسی مبہم انقلابیت کی شان بھی رکھتی ہوں جس میں حقیقی کاٹ بالکل نہ ہو۔
بہرطور، ہوا یہ کہ اس تقریر کےمتن کی تیاری کے دوران کسی مضحک سبب سے میں نے اسے نوجوان کمیونسٹ ببالالا کی تقریر کے ساتھ گڈمڈ کر دیا اور اس میں اس قسم کے مارکسی فقروں سے جان ڈالی جیسے: ’’سرمایہ دارانہ نظام کے اندر چھپے تضادات جو بالآخر منتج ہوں گے اس کی مکمل تباہی پر…‘‘ یہ تقریر اس محترم سیاستدان نے بھونچکا ڈائریکٹروں کے اجلاس میں کر دی، جو غصے سے تلملا کر چیخنے چلّانے لگے اور اس بیچارے کو عملاً جوہانسبرگ سکیورٹی پولیس کے حوالے کر دیا۔
تقریرنویسی کا یہ میرا آخری کام تھا، کیونکہ اس کے بعد جلد ہی میں بھی ’’آوارہ گرد اور مشکوک‘‘ ہونے کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا اور، بحیثیت ایک سزایافتہ مزدور کے، جارج ہالنگ ورتھ ایسکوائر کے حوالے کر دیا گیا۔
تو یہ ہے جارج ہالنگ ورتھ ایسکوائر، ایک ایسا شخص جو اب رسوائی اور پستی کی خاک بن چکا ہے۔ اُس وقت جارج ایک باسلیقہ محنتی آدمی تھا، اور ایک الیکٹرونک فیکٹری میں کام کرتا تھا۔ اگر وہ خوش نہیں بھی تھا تو اس نے اس بات کو خوش اسلوبی سے چھپا رکھا تھا۔ یعنی کہ زازا کے ورود تک۔ جارج جیسے خوش باش شادی شدہ مرد پر، ایک ایسے شخص پر جس کی خواہشات بھی معقول ہوں اور جو کالے جسم سے خاطرخواہ نفرت بھی کرتا ہو، زازا نے کس قسم کا اثر ڈالا، یہ جاننے کے لیے آپ کو زازا کو دیکھنا ہو گا۔ درحقیقت یہ بات کو گھٹا کر بیان کرنا ہے اگر یہ کہا جائے کہ زازا وہاں آئی۔ اس نے تو دھاوا بول دیا۔ چوبیس برس کی، بوٹا سی، سیاہ فام زندہ دل عورت، نفاست سے گھٹی گھٹائی، بانس کی شاخ کی طرح نازک اندام، خوب اچھی طرح پروان چڑھائے تاکستان کی بوباس لیے اور دوسوتی کے سادہ سے اسکرٹ اور سویٹر میں وہ ایک ایسا بدن چھپائے ہوے تھی جو بہت ہی سیاہ، تقریباً نیلاہٹ مائل، اور جنسی ہول سے چھلکتا نظر آتا تھا۔
جی ہاں، مجھے وہ دن اچھی طرح یاد ہے جس دن زازا آئی تھی۔ جارج حسب معمول اپنی پسندیدہ کرسی میں بیٹھا باورچی خانے میں کام کرتی فرانسسکا سے باتیں کرتے ہوے شام کے اخبار پڑھ رہا تھا، جبکہ میں آگے کے پورچ میں پھولوں کی دیکھ بھال میں لگا ہوا تھا۔ جس وقت زازا جارج ہالنگ ورتھ کے دیوان خانے میں داخل ہوئی، وہ کاک ٹیل نوشی کا ایسا ملائم کہربائی وقت تھا جب دنیا بہت ہی دلکش لگتی ہے۔ اس ٹھہری ہوئی نیم استوائی فضا میں اس کاعیّار، بےنیاز جسم آفت ڈھا رہا تھا۔ اس کا غم زدہ تنگ دہانہ، بن کمائی تحقیر کے باعث، تقریباً سِرکے کے رنگ کا ہو رہا تھا۔
جارج کھڑا ہو گیا۔ اس نے خود کو سنبھالا اور پھر بیٹھ گیا۔ وہ چلّایا، ’’اندر آنے سے پہلے تم نے کھٹکھٹایا کیوں نہیں؟ آخر تم ہو کون؟ کیا چاہتی ہو؟‘‘
’’میرا نام زازا ہے،‘‘ ہماری آبنوسی وینس نے جواب دیا اور اس کا منھ زمانے بھر کی الجھی ہوئی فکروں سے پٹ گیا۔ ’’یہ مسٹر ہالنگ ورتھ کا دولت خانہ ہےنا؟‘‘
اس گھڑی یوں لگا کہ وہ جگہ ایسے سوالات سے بہت پُرشور ہو گئی ہے جو تادیر حل نہ کیے جا سکیں گے۔ ’’مجھ کو آپ کی خادمہ بننا ہے،‘‘ زازا نے کہا۔ ’’مجھے بیورو نے بھیجا ہے۔‘‘ اور جیساکہ میں نے عرض کیا، یہ ان تمام مصیبتوں کی ابتدا تھی جو گانے کے بولوں کے بموجب، جارج کے اوپر بارش کی طرح برسنے والی تھیں۔
4
اب ہم اندر چل کر جارج کو دیکھیں گے۔ مجھے امید ہے کہ آپ نازک مزاج نہیں ہوں گے۔ اس کا جسم اب قابلِ دید نہیں رہا۔ اس میں ہولناک تبدیلیاں پیدا ہو چکی ہیں، جو ہم سب کے لیے افسوس کی بات ہے۔
یقیناً آپ اس داستان کا انجام بھی جاننا چاہیں گے۔ میں جانتا تھا کہ آپ اسے سننا چاہیں گے۔ مان لیجیے کہ ہم سب ہی گِدھ ہیں۔ ہم سب غیروں کی بدنصیبیاں سننا پسند کرتے ہیں۔ اور اس میں جاتا بھی کیا ہے! تو قصہ مختصر، اس جارج میں جو غیرمعمولی صاف ستھرا، محنتی آدمی تھا، جو بروقت اپنی فیکٹری میں حاضر ہو جانے کے لیے ہمیشہ علی الصبح اٹھ جاتا تھا، پریشان کن تبدیلیاں نمودار ہونے لگیں۔ علامتیں مانوس تھیں: بھوک مر جانے کی شکایت، گھڑی میں تولہ گھڑی میں ماشہ ہو جانے کا چکر، کھویا کھویا حلیہ اور مکمل ذہنی غفلت۔ اس نے اپنے کام میں دلچسپی لینا چھوڑ دی۔ اکثر وہ اپنے گھر پر ہی پایا جاتا، غالباً طبیعت ناساز ہونے کے بہانے، گو اس کی یہ بیماری باورچی خانے میں کام کرتی زازا کے گرد منڈلاتے رہنے میں رکاوٹ نہ بنتی۔ ہر وقت کسی نہ کسی کام کے لیے اس کو زازا کی ضرورت پڑتی، جس کی وجہ سے وہ لڑکی دن بھر جارج کے کمرے کے اندر آتی جاتی رہتی۔ جیساکہ ہمیں توقع ہو چکی تھی، جارج جلد ہی زازا کو تحفے دینے لگا۔ وہ اس کے لیے لباس خریدتا، ملائم ریشمی زیرجامے، محرم اور نائیلون کی جرابیں۔ وہ اس کے لیے زیورات اور طرح طرح کے گہنے خریدتا۔ مجھ پر تو بات آشکار تھی کہ چند دنوں بعد افریقہ کی عورت ذات کے لیے سب سے بڑا تحفہ خود جارج کی ذات ہو گی، یعنی وہ شاندار یورپین مردانگی جو اس کی قبیل کے لوگوں کی دانست میں دولت، قوت اور وقار کے سحر سے مالامال ہوتی ہے۔ اس وقت تک زازا نے اور میں نے ایک منصوبہ، یعنی بہت چالاکی سے بچھایا ہوا ایک جال، تیار کر لیا تھا۔ وقت آ گیا تھا کہ میں قیدخانے سے باہر آؤں اور اپنے بجاے ایک نئے باسی کو، یعنی جارج ہالنگ ورتھ ایسکوائر کو، اس میں مقیم کروں۔
میں نے اکثر سوچا ہے کہ جارج کے زوال، یعنی اس تیزرو انتشار کی اصل وجہ۔۔ جو اس وقت پیدا ہوتا ہے جس وقت اس کی قبیل کے لوگ کسی شے کی شدید خواہش کرتے ہیں اور حصول میں مزاحمت کا احساس کرتے ہیں۔۔ ان کا وہ خیالِ خام ہے جو وہ دل کے بہلانے کے لیے اپنائے رہتے ہیں: یعنی چاہے کتنا ہی بُرا سلوک اس کے ساتھ کیا جائے، ان کا غلام نہ صرف یہ کہ ان پر جان چھڑکتا ہے بلکہ ان کی حکومت کو قائم و دائم رکھنے میں مدد بھی دیتا رہے گا۔ ننھے بچوں کی مانند وہ چاہتے ہیں کہ ان سے پیار کیا جائے، کیونکہ وہ خود کو ناقابلِ بیان حد تک حسین اور دلکش تصور کرتے ہیں۔ چاہے کتنی بھی بدعنوانیوں کے مرتکب ہوں، مگر وہ ایسے میٹھے خوابوں میں مگن رہتے ہیں کہ اپنی غلام عورتوں کی آغوش میں ہمیشہ ہی بسے رہیں گے، اس ہستی کی آغوش میں جو بیک وقت کلوٹی گنگناتی آیا، داشتہ اور ماں، سبھی کچھ ہے، جو اپنے سدا جوان لاڈلے کے لیے ہمہ وقت لوریاں گاتی رہے گی۔
قبل اس کے کہ زازا اس کو شب بسری کا موقع دیتی، ہم نے پہلے ہی سے ایک بیان تیار کر لیا تھا جو اقرارِ جرم کرنے کے ساتھ ہی ساتھ اس معاہدے پر دستخط ہونے کے لیے پڑا تھا کہ جارج اپنا مکان اور سارا ساز و سامان ہمارے نام کر دے گا۔ یہ انتقالِ جائیداد افریقی وکیلوں کی ایک فرم کے ذریعے ہونا تھا۔ ہم نے پورا اطمینان کر لیا تھا کہ تصویریں بہت ہی صاف آئیں تاکہ باندھ لینے کے لیے ثبوت بالکل پکّا ہو۔ آپ کہیں گے کہ یہ تو صاف بلیک میل کا کیس ہوا۔ تو بھائی، رہنے کے لیے دنیا کوئی اچھی جگہ تو ہے نہیں۔۔ یا ہے؟ یہی تو ہم نے سختیاں جھیل کر سیکھا، جبکہ جارج اس خوش فہمی میں مبتلا رہا کہ دنیا بڑی پیاری جگہ ہے اور اس کو زیر کیا جا سکتا ہے۔
ڈرتا ہوں کہ مجھے اب جارج کو یہیں قید رکھنا پڑے گا۔ مجھے یقین ہے کہ وہ بھی اسے ترجیح دیتا ہے۔ یہاں سے کہیں جانے کے لیے اب اس کے پاس کوئی ٹھکانہ بھی تو نہیں۔ اپنوں کی نگاہ میں اس کے گناہ ناقابلِ معافی ہوں گے، اس کی وراثت بھی جاتی رہی۔ رہی فرانسسکا، تو فرانسسکا کو میں سراہتا ہوں۔ اس نے ایک بار پھر ثابت کر دیا کہ عورتیں کس قدر خود کو حالات کے مطابق ڈھال لینے والی اور باتدبیر ہوتی ہیں۔ مجھے تو یہ نظر آتا ہے کہ عورتیں سلطنتوں کے خاتمے پر بھی ہمیشہ باقی رہیں گی۔ وہ صرف اپنی جبلتوں کے زور پر صاف بچ نکلتی ہیں۔
قبل اس کے کہ آپ جارج کے معائنے کے لیے اندر جائیں، میں آپ سے ایک ایسی بات دریافت کرنا چاہتا ہوں جس نے مجھ کو ہمیشہ الجھن میں ڈالا ہے۔ آپ کے خیال میں مَیں خود کب تک جارج کا جیلر رہ سکوں گا؟ اوہ، جانے دیجیے۔ میں سمجھتا ہوں میری حیثیت نہایت مستحکم ہے۔ جی ہاں، بالکل ناقابلِ تسخیر۔ میں نے ہر طرح سے پیش بندی کر رکھی ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ میں نے ان تمام پوشیدہ خطروں اور پھندوں سے بچنے کا پورا انتظام کر رکھا ہے جو جارج ہالنگ ورتھ کو لے ڈوبے۔
اوہ، وہ دیکھیے، جارج کی زوجہ، فرانسسکا! ان ہرنی جیسی ٹانگوں کو، اس کی رانوں کی قوت کو ذرا ملاحظہ کیجیے۔ کیا خوب انعامی گائے ہے!
Art work:Gabisile Nkosi
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آج اور اجمل کمال کے تعاون سے شائع کی جانے والی مزید تحاریر اور تراجم پڑھنے کے لیے کلک کریں۔
ناول نگار، افسانہ نویس اور شاعر ڈم بڈزو مارے چیرا (Dambudzo Marechera) کا تعلق زمبابوے سے تھا۔ ان کے ادبی ورثے میں افسانوں کا ایک مجموعہ، دو ناول (جن میں سے ایک ان کی وفات کے بعد شائع ہوا)، نظم، نثر اور ڈراموں کا ایک مجموعہ اور شاعری کی ایک کتاب (یہ کتاب بھی ان کی وفات کے بعد شائع ہوئی) شامل ہیں۔ ان کی کہانی The Slow sound of His Feet کا ترجمہ عطا صدیقی نے کیا ہے جو آج کے شمارہ نمبر 9 میں شامل ہے۔
عطا صدیقی (پورا نام عطاء الرحمٰن صدیقی) 13 نومبر 1931 میں لکھنؤ میں پیدا ہوے، تقسیم کے بعد کراچی منتقل ہوے۔ کراچی یونیورسٹی سے تعلیم مکمل کرنے کے بعد بندر روڈ پر واقع ایک سکول میں پڑھانا شروع کیا اور وہیں سے ہیڈماسٹر کے طور پر ریٹائر ہوے۔ ایک پڑھنے والے اور ترجمہ کار کے طور پر ان کی ادب سے عمربھر گہری وابستگی رہی۔ ان کے کیے ہوے بہت سی عالمی کہانیوں کے ترجمے آج کراچی اور دیگر رسالوں میں شائع ہوتے رہے۔ انھوں نے امرتا پریتم کی کتاب ’’ایک تھی سارا‘‘ کا ہندی سے ترجمہ کیا۔ عطا صدیقی کی ترجمہ کی ہوئی کہانیوں کا مجموعہ زیر ترتیب ہے۔ 13 اگست 2018 کو کراچی میں وفات پائی۔
عطا صدیقی کے تراجم لالٹین پر اجمل کمال کے تعاون سے پیش کیے جا رہے ہیں۔ اجمل کمال کراچی پاکستان سے شائع ہونے والے سہ ماہی ادبی جریدے “آج” کے بانی اور مدیر ہیں۔ آج کا پہلا شمارہ 1981 میں شائع ہو تھا۔ آج نے اردو قارئین کو تراجم کے ذریعے دیگر زبانوں کے معیاری ادب سے متعارف کرانے کے ساتھ ساتھ اردو میں لکھنے والے ادیبوں اور شاعروں کے کام سے بھی متعارف کرایا۔ سہ ماہی آج کو سبسکرائب کرنے اور آج میں شائع ہونے والی تخلیقات کو کتابی صورت میں خریدنے کے لیے سٹی پریس بک شاپ یا عامر انصاری سے رابطہ کیا جا سکتا ہے:
عامر انصاری: 03003451649
[/blockquote]
تحریر: ڈم بڈزو مارے چیرا (4 جون 1952 تا 18 اگست 1987)
انگریزی سے ترجمہ: عطا صدیقی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اُس کے قدموں کی مدھم آہٹ
لیکن جو کسی دن میں یکسوئی سے اس گوشے میں بیٹھ کر کان لگاؤں
تو شاید میں اس جانب اُس کے قدموں کی مدّھم آہٹ پاؤں
جے ڈی سی پےلو
گزشتہ شب میں نے خواب دیکھا کہ پروشیا کے سرجن جاہن فریڈرخ ڈائی فن باخ نے تشخیص کر دیا کہ میں بولنے میں اٹکتا اس لیے ہوں کہ میری زبان بہت زیادہ لمبی ہے اور اس نے نوک اور کناروں سے ٹکڑے کاٹ چھانٹ کر اس دراز عضو کو متناسب کر دیا۔ والدہ نے یہ بتانے کے لیے مجھے جگایا کہ والد کو چورنگی پر کسی تیزرفتار کار نے ٹکر مار دی۔ میں ان کی شناخت کے لیے مردہ خانے گیا۔ اُن لوگوں نے ان کی کھوپڑی دوبارہ دھڑسے ملا کر سی رکھی تھی اور ان کی آنکھیں کھلی ہوئی تھیں۔ میں نے ان کو بند کرنے کی کوشش کی مگر وہ کسی جتن بند ہی نہیں ہوئیں۔ اور پھر ہم نے ان کو اسی طرح دفن کر دیا کہ ان کی آنکھیں اوپر کی جانب تک رہی تھیں۔
جس وقت ہم نے ان کو دفنایا، بارش ہو رہی تھی۔
بارش ہو رہی تھی جس وقت میری آنکھ کھلی، اور میری نگاہیں انھیں تلاش کرنے لگیں۔ ان کا پائپ مینٹل پیس پر اسی جگہ موجود تھا جہاں رکھا ہوتا تھا۔ جس وقت میری نظر اس پر پڑی، بارش بہت تیز ہو گئی اور ٹین کی اس چھت پر جسے ان کی یاد کہیے، تڑاتڑ گرنے لگی۔ ان کی چرمی جلد والی کتابیں بک شیلف پر گم سُم اور سیدھی تنی کھڑی تھیں، جن میں سے ایک اولیور بلڈشٹائن کی لکھی ’’رہنمائے لکنت‘‘ تھی۔ وہیں ایک لوح بھی تھی جو اس اصل کی ہوبہو نقل تھی جس پر صدیوں قبلِ مسیح لکنت کی اذیت سے نجات پانے کی دلی دعا خطِ پیکانی میں تحریر تھی۔ انھوں نے مجھے بتایا تھا کہ موسیٰ، ڈیموستھینیز اور ارسطو کو بھی لکنت کی شکایت تھی اور یہ کہ شہزادہ باٹس نے ہاتف کی ہدایت پر شمالی افریقیوں پر فتح حاصل کر کے اپنی لکنت کو زیر کیا تھا، اور یہ بھی کہ ڈیموستھینیز نے کنکر منھ میں لے کر سمندر کے شور سے زیادہ پاٹ دار آوازیں نکال کر خود کو بغیر اٹکے بولنا سکھایا تھا۔
جب میں بستر پر دراز ہوا اور میں نے اپنی آنکھیں موندیں، بارش جاری تھی اور میں ان کو بھیگی قبر میں پاؤں پسارے اور اپنے نچلے جبڑے کو حرکت دینے کی کوشش کرتے دیکھ سکتا تھا۔ جب میری آنکھ کھلی تو میں خود اپنے وجود میں ان کو محسوس کر سکتا تھا۔ وہ کچھ بولنے کی کوشش کر رہے تھے، مگر میں بول نہیں سکتا تھا۔ ارسطو نے میری زبان کے بارے میں زیرلب کچھ کہا کہ غیرمعمولی موٹی اور سخت ہے۔ بقراط نے تب زبردستی میرا منھ کھولا اورآبلے ڈالنے والی اشیا میری زبان پر ڈالیں تاکہ فاسد مادّہ بہہ نکلے۔ کیلس نے سر ہلایا اور بولا، زبان کو بھرپورغرغرہ اور مالش درکار ہے۔ مگر جالینوس نے، وہ پیچھے کیسے رہ جاتا، بتایا کہ میری زبان محض بہت زیادہ سرد اور نم ہے۔ اور فرانسس بیکن نے تندوتیز شراب کا ایک جام تجویز کیا۔
شراب خانے کی طرف جاتے ہوے میں نے ٹاؤن شپ کے پھاٹک پر فوجی گاڑیوں کی ایک لمبی قطار دیکھی۔ وہ سب کے سب گورے سپاہی تھے۔ ان میں سے ایک کودا اور اپنی بندوق میرے جسم میں چبھاتے ہوے میرے شناختی کاغذات دیکھنے کو مانگے۔ میرے پاس فقط یونیورسٹی کا شناختی کارڈ تھا۔ اس کی پڑتال میں اس نے اتنی دیر لگائی کہ میں حیران ہوا کہ نہ جانے اس میں کیا خامی نکل آئی۔
’’پسینے کیوں چھوٹ رہے ہیں تمھیں؟‘‘ اس نے پوچھا۔
میں نے جیب سے کاغذ اور پنسل نکالی، کچھ لکھا اور اسے دکھایا۔
’’گونگے ہو، ایں؟‘‘
میں نے اقرار میں سر ہلایا۔
’’اور سمجھتے ہو میں بھی بس گونگا ہی ہوں، ایں؟‘‘
میں نے انکار میں اپنا سر ہلایا، لیکن اس سے پہلے کہ میں سر کی جنبش کو روکتا، اس نے بڑھ کر میرے جبڑے پر ایک تھپڑ دے مارا۔ بہتے ہوے خون کو پونچھنے کے لیے میں نے اپنا ہاتھ اٹھایا ہی تھا کہ اس کو راہ ہی میں روک کر اس نے مجھے دوبارہ مارا۔ میرے مصنوعی دانت چٹخ گئے اور میں ڈرا کہ کہیں کرچیاں نگل نہ جاؤں، سو اپنا ہاتھ منھ تک لائے بغیر میں نے ان کو تھوک دیا۔
’’دانت بھی نقلی،ایں؟‘‘
میری آنکھیں جل رہی تھیں۔ میں اس کو صاف طور سے دیکھ بھی نہیں سکتا تھا، مگر میں نے اقرار میں سر کو ہلایا۔
’’تو شناخت بھی نقلی؟‘‘
بہت شدت سے جی چاہا کہ اپنے جبڑوں کو حرکت دوں اور اپنی زبان کو مجبور کروں کہ وہ سب کچھ دُہرا دے جو میرا شناختی کارڈ اس گورے پر ظاہر کر چکا تھا، لیکن میں صرف بےمعنی غوں غوں ہی کر پایا۔ میں نے اس کاغذ اور پنسل کی طرف اشارہ کیا جو زمین پر گر چکی تھی۔
اس نے سر ہلا دیا۔
لیکن جوں ہی میں انھیں اٹھانے کے لیے جھکا، اس نے اچانک اپنا گھٹنا یوں دے مارا کہ میری گردن تقریباً توڑ ڈالی۔
’’توپتھر ڈھونڈ رہے تھے تم، ایں؟‘‘
میں نے انکار میں سر ہلایا جس سے اتنی شدید تکلیف ہوئی کہ میں سر کا ہلنا روک نہیں سکا۔ اپنے پیچھے سے مجھے دوڑتے قدموں کی دھمک اور اپنی والدہ اور بہن کی چیخ پکارسنائی دی۔ پھر بندوق دغنے کا زوردار دھماکا ہوا۔ اَدھ رستے میں والدہ کو گولی لگی، اور ان کا جسم اس کی بُودار ہوا سے ٹھٹکا، اور ان کی نظریں سامنے گری رہیں۔ ایک سیکنڈ بعد ان کے اندر جیسے کچھ ٹوٹا اور وہ تیورا کر ڈھیر ہو گئیں۔
میری بہن کا میرے چہرے کو چھونے کے لیے بڑھا ہوا ہاتھ خود اس کے اپنے کھلے ہوے منھ کی سمت لپکا، اور میں دیکھ سکتا تھا جیسے وہ میرے منھ سے چیخنے کی خاطر اپنے صوتی عضلات پر زور ڈل رہی ہو۔
والدہ نے ایمبولینس میں دم توڑ دیا۔
جب میں نے ان کو دفنایا، سورج اپنی بےزبانی سے چنگھاڑ رہا تھا۔ اس کی آب دار چمک کے گرد گرم اور سرد ہالے تھے۔ میری بہن اور میں، ہم دونوں واپس گھرلوٹنے کے لیے چارمیل پیدل چلتے صرف افریقیوں کے ہسپتال، صرف یورپیوں کے ہسپتال، برٹش ساؤتھ افریقہ پولیس کیمپ، پوسٹ آفس اور ریلوے اسٹیشن کے پاس سے گزرتے اور میل بھر چوڑے سبزہ زار کو پار کرتے، کالوں کی ٹاؤن شپ میں پہنچے۔
کمرہ اتنا خاموش تھا کہ میں محسوس کر سکتا تھا کہ وہ مجھ سے ہم کلام ہونے کے لیے اپنی زبان ہلانے اور جبڑے چلانے کی کوشش کر رہا ہے۔ میں کمرے کی کڑیوں کو گھور رہا تھا۔ میں اپنی بہن کو اپنے کمرے میں، جو میرے کمرے کے ساتھ ہی تھا، بےچینی سے اِدھر اُدھر ٹہلتے ہوے سن سکتا تھا۔ میں خود ان کو اپنے وجود میں شدت سے محسوس کر سکتا تھا۔ میرے لوہے کے پلنگ، میری ڈیسک، میری کتابوں اور میرے ان کینوسوں کے سوا جن پر میں ایک مدت سے اپنے اندر کی خاموش مگر بےچین آواز کے احساس کو پینٹ کرنے کی کوشش کرتا رہتا تھا، میرے کمرے میں کچھ نہیں تھا۔ میں نے جلتے ہوے آنسوؤں کو روکا اور ان کو اپنے وجود میں اتنی شدت سے محسوس کیا کہ میں برداشت نہ کر سکا۔ لیکن دروازہ رحم دلانہ وا ہوا، اور وہ ان کے ہاتھ کو سہارا دیے انھیں اندرلائے۔ وہ بےداغ سفید پیرہن میں ملبوس تھیں۔ ایک ہلکی نیلگوں روشنی ان میں ظہور کر رہی تھی۔ ان کے چھوٹے چھوٹے پیروں میں چمکدار سیف چمڑے کے سینڈل تھے۔ ان کے گوشت پوست سے عاری چہرے، آنکھوں کی جگہ خالی گڑھوں، نکلی ہوئی کھیسوں (ان کا ایک دانت تھوڑا جھڑ گیا تھا) اور رخسار کی ابھری ہڈیوں اور بےدردی سے گم ناک، ان سب کے مقناطیسی سحر سے میری نظریں ان پر جم کر رہ گئیں۔ یہاں تک کہ یوں لگا جیسے میری پھٹی پھٹی آنکھیں ان کی بےلوچ اور بےحس موجودگی میں دفعتاً جذب ہو گئی ہوں۔
وہ سیاہ لباس میں تھے۔ والدہ کا بے گوشت پوست ہاتھ ان کی بے گوشت پوست انگلیوں میں ساکت پڑا تھا۔ ان کا سر، جو دوبارہ ٹھیک طرح سے سیا نہیں گیا تھا، ایک جانب تشویشناک حد تک ڈھلکا ہوا تھا، اور یوں لگتا تھا جیسے اب گرا کہ تب گرا۔ ان کی کھوپڑی میں پیشانی کے درمیان سے لے کر نچلے جبڑے تک ایک نوکیلے کناروں والی دراڑ پڑی ہوئی تھی۔ کھوپڑی کو بھی اس حد تک بےڈھنگےپن سے اپنی اصلی حالت پر جمایا گیا تھا کہ لگتا تھا کسی بھی لمحے علیحدہ ہو کر بکھر جائے گی۔
میری آنکھوں کا درد ناقابلِ برداشت تھا۔ میں نے آنکھیں بند کر لیں۔ جب میں نے آنکھیں کھولیں، وہ جا چکے تھے۔ ان کی جگہ اب میری بہن کھڑی تھی۔ وہ گہرے گہرے سانس لے رہی تھی، جن کی وجہ سے میرے سینے میں ایک درد اٹھا۔ میں نے اپنا ہاتھ بڑھایا اور اس کو چھوا۔ وہ حرارت سے پُر تھی اور زندہ تھی اور اس کی ہی سانس میری آواز میں ایک دردناک اندیشہ بن گئی تھی۔ مجھے کچھ نہ کچھ کہنا لازم تھا۔ مگر اس سے پہلے کہ میری ذرا سی بھی آواز نکلتی، وہ میرے اوپر جھکی اور پیار کر لیا، جس کی تپتی تمتماہٹ سے لرز کر ہم دونوں ایک دوسرے سے چمٹ گئے۔ باہر رات ہماری چھت پر منھ ہی منھ میں اول فول بک رہی تھی اور ہوا نے کھڑکیوں پر اپنی گرفت مضبوط کر لی تھی اورہم کہیں دور سے فوجی بینڈ کو تانیں اڑاتے سن سکتے تھے۔
Artwork by Dariusz Labuzek
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آج اور اجمل کمال کے تعاون سے شائع کی جانے والی مزید تحاریر اور تراجم پڑھنے کے لیے کلک کریں۔
عطا صدیقی کے تراجم لالٹین پر اجمل کمال کے تعاون سے پیش کیے جا رہے ہیں۔ اجمل کمال کراچی پاکستان سے شائع ہونے والے سہ ماہی ادبی جریدے “آج” کے بانی اور مدیر ہیں۔ آج کا پہلا شمارہ 1981 میں شائع ہو تھا۔ آج نے اردو قارئین کو تراجم کے ذریعے دیگر زبانوں کے معیاری ادب سے متعارف کرانے کے ساتھ ساتھ اردو میں لکھنے والے ادیبوں اور شاعروں کے کام سے بھی متعارف کرایا۔ سہ ماہی آج کو سبسکرائب کرنے اور آج میں شائع ہونے والی تخلیقات کو کتابی صورت میں خریدنے کے لیے سٹی پریس بک شاپ یا عامر انصاری سے رابطہ کیا جا سکتا ہے:
عامر انصاری: 03003451649
[/blockquote]
انگریزی سے ترجمہ:عطا صدیقی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
لگاتار بارشوں کے تیسرے دن وہ اتنے بہت سے کیکڑے ٹھکانے لگا چکے تھے کہ پیلایو کو اپنا پانی بھرا صحن پار کر کے ان سب کو سمندر میں پھینکنے کے لیے جانا پڑا۔ بات یہ تھی کہ نومولود بچے کو تیز بخار تھا، اور وہ یہ سمجھ رہے تھے کہ اس کا سبب اِن کیکڑوں کی بساند ہے۔ منگل کے دن سے سارا عالم اداس اداس تھا۔ کیا سمندر اور کیا آسمان، سب ایک جیسے گدلے گدلے دکھائی دے رہے تھے، اور ساحل کی وہ ریت جو مارچ کی راتوں میں مثل افشاں کے جھلملایا کرتی تھی، اس وقت کیچڑ اور سڑے بُسے گھونگوں کی گاد بن چکی تھی۔ عین دوپہر میں بھی روشنی اتنی کم کم تھی کہ پیلایو جب کیکڑے پھینک کر گھر واپس آ رہا تھا تو اس کے لیے یہ اندازہ لگانا مشکل تھا کہ آخر وہ کیا شے ہے جو صحن کے پچھواڑے رینگ رہی ہے اور کراہ رہی ہے۔ یہ دیکھنے کے لیے کہ وہ ایک بڈّھا ہے، اسے اس کے بہت ہی قریب جانا پڑا: ایک پیرِ فرتوت جو منھ کے بل کیچڑ میں پڑا ہے اور سرتوڑ کوشش کے باوجود اپنے بڑے بڑے پروں کی وجہ سے اٹھ نہیں پا رہا۔
اس کابوس سے دہشت زدہ ہو کر پیلایو اپنی بیوی ایلی سیندا کو بلانے لپکا، جو کہ بیمار بچے کے ماتھے پر گیلی پٹیاں رکھ رہی تھی، اور اس کو لے کر صحن کے پچھواڑے تک آیا۔ وہ دونوں زمین پر پڑے ہوے اس جسم کو گم سُم، پھٹی پھٹی آنکھوں سے دیکھتے رہے۔ وہ چِندیاں بٹورنے والوں کا سا لباس پہنے تھا۔ اس کی سپاٹ چَندیا پر چند گنے چنے بال رہ گئے تھے اور منھ میں دانت بھی اکّادکّا تھے، اور اس کی تربتر، سگڑداداؤں والی افسوسناک حالت نے اس کی رہی سہی شان کو، جو اس میں کبھی رہی ہو گی، خاک میں ملا دیا تھا۔ اس کے میلے، اَدھ نُچے، بڑے بڑے، عقاب جیسے پنکھ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے کیچڑ میں لت پت ہو چکے تھے۔ دونوں اُس کو اتنی دیر تک اور اتنے غور سے دیکھا کیے کہ پیلایو اور ایلی سیندا کی حیرانی دھیرے دھیرے جاتی رہی، اور ہوتے ہوتے وہ ان کو مانوس سا لگنے لگا۔ تب انھوں نے اس سے بات کرنے کی ہمت کی، جس کا جواب اس نے ملّاحوں کی سی بھاری آواز میں کسی انجانی زبان میں دیا۔ یوں انھوں نے پروں والی دقّت کو نظرانداز کرتے ہوے، اپنی دانست میں بڑی دانشمندی سے، یہ نتیجہ اخذ کیا کہ وہ طوفان کے مارے کسی شکستہ فرنگی جہاز کا آخری بچ جانے والا ہے۔ اس کے باوجود انھوں نے پڑوس کی اُس عورت کو بلا لیا جو زندگی اور موت کے بارے میں سب کچھ جانتی تھی، تاکہ وہ اس کا معائنہ کر لے۔ ان کے غلط اندازے کو جھٹلانے کے لیے اس عورت کا اس کو بس ایک نظر دیکھنا کافی تھا۔
’’یہ تو فرشتہ ہے،‘‘ اس نے ان کو بتایا۔ ’’وہ بچے کے لیے آ رہا ہو گا، پر بےچارہ اتنا بوڑھا ہے کہ بارش نے راستے ہی میں ڈھیر کر دیا۔‘‘
اگلے دن سب کو معلوم ہو چکا تھا کہ ایک جیتاجاگتا فرشتہ پیلایو کے گھر میں بند ہے۔ پڑوس کی سیانی عورت کی رائے کے برخلاف، جس کا کہنا تھا کہ آج کل کے فرشتے دراصل ایک آسمانی سازش کے بعد بچ جانے والے بھگوڑے ہیں، ان کا دل نہ مانا کہ وہ ڈنڈے مار مار کر اس کی جان نکال دیں۔ اپنا بیلِف والا ڈنڈا اٹھائے اٹھائے پیلایو ساری سہ پہر باورچی خانے میں بیٹھا اس کی نگرانی کرتا رہا، اور رات کو سونے سے قبل اس نے اسے کیچڑ میں سے گھسیٹا اور لے جا کر جالی دار دڑبے میں مرغیوں کے ساتھ بند کر دیا۔ آدھی رات گئے جس وقت بارش تھمی تو پیلایو اور ایلی سیندا ابھی کیکڑے ہی مار رہے تھے۔ تھوڑی دیر بعد بچّے کی آنکھ کھل گئی؛ اس کو بخار نہیں تھا اور وہ کچھ کھانے کو مانگ رہا تھا۔ تب ان کی دریادلی نے جوش مارا اور انھوں نے طے کر لیا کہ وہ فرشتے کو تازہ پانی اور تین دن کی رسد دے کر، ایک تختے پر سوار کرا کے، سمندر میں تن بہ تقدیر چھوڑ آئیں گے۔ مگر جب وہ منھ اندھیرے صحن میں گئے تو کیا دیکھا کہ پورا محلّہ ٹولہ دڑبے کے سامنے جمع، فرشتے کے ساتھ دل لگی بازی میں لگا ہے۔ وہ ٹوٹی ہوئی جالی میں سے کھانے کی چیزیں ذرا سے بھی ادب و احترام کے بغیر اس کی طرف اس طرح پھینک رہے تھے جیسے وہ کوئی علوی وجود نہ ہو بلکہ سرکس کا کوئی جانور ہو۔
اس عجیب و غریب خبر سے گھبرا کر پادری گون زاگا کوئی سات بجے سے پہلے ہی پہلے آ گئے۔ اس وقت تک صبح والوں سے ذرا کم شریر تماش بین آ چکے تھے، اور قیدی کے مستقبل کے بارے میں جو منھ میں آ رہا تھا رائے زنی کر رہے تھے۔ ان میں سب سے بھولے کا خیال تھا کہ اس کو ساری دنیا کا میئر نامزد کر دیا جائے۔ ذرا زیادہ عقل کے پوڑھوں نے محسوس کیا کہ اس کو پنج ستاری جنرل ہونا چاہیے کہ ساری جنگیں فتح کر لے۔ چند خیال پرستوں نے آس لگائی کہ اس سے نسل کَشی کا کام بھی لیا جا سکتا ہے کہ وہ روے زمین پر پَردار سیانوں کی ایک ایسی نسل پیدا کر دے جو پوری کائنات کا چارج سنبھال سکے۔ لیکن پادری گون زاگا پادری بننے سے پہلے ایک تنومند لکڑہارے رہ چکے تھے۔ جالی کے پاس کھڑے کھڑے انھوں نے جھٹ پٹ علمِ دینیات کے تمام سوالات و جوابات کو دماغ میں تازہ کیا اور ان لوگوں سے کہا کہ دروازہ کھولیں تاکہ وہ قریب سے اس دُکھیا آدمی کو دیکھیں جو حیران پریشان، مرغیوں کے درمیان خود ایک بڑی سی خستہ حال مرغی لگ رہا تھا۔ وہ ایک کونے میں پھلوں کے چھلکوں اور بچے کھچے ناشتے کی چیزوں کے درمیان، جو صبح کو آنے والے پھینک گئے تھے، پڑا اپنے پھیلے ہوے پروں کو دھوپ میں سُکھا رہا تھا۔ جس وقت پادری گون زاگا نے دڑبے میں داخل ہوکر لاطینی زبان میں صبح بخیر کہا تو اس نے دنیا کی گستاخیوں کو خاطر میں نہ لاتے ہوے بس اپنی عمررسیدہ نظریں اٹھائیں اور اپنی بولی میں کچھ منمنایا۔ جب پادری گون زاگا نے دیکھا کہ نہ تو وہ خدا کی زبان جانتا ہے اور نہ اس کے خادموں کے استقبال کے آداب سے واقف ہے، تو ان کو پہلی بار اس پر جعلیا ہونے کا شبہ ہوا۔ پھر انھوں نے غور کیا کہ بہت قریب سے دیکھنے پر وہ بالکل آدمیوں جیسا ہے۔ اس کے پاس سے کھلے میں رہنے والوں کی سی ناقابلِ برداشت بو آ رہی تھی، اس کے پروں میں جوئیں بِجَک رہی تھیں اور زمینی ہواؤں نے اس کے اصل پروں کا برا حشر کر دیا تھا؛ اور اس میں کوئی بات بھی تو ایسی نہیں تھی جو فرشتوں کے قابلِ فخر وقار کے معیار پر پوری اترتی ہو۔ پھر وہ دڑبے سے باہر آئے اور ایک مختصر خطبے کے ذریعے متجسّس نفوس کو طبّاع بننے کے خطرات سے خبردار کیا۔ انھوں نے ان کو یاد دلایا کہ شیطان کی ایک بُری عادت کارنیوالی کرتبوں کا استعمال کرنا بھی ہے تاکہ غافلوں کو دھوکا دے سکے۔ انھوں نے دلیل پیش کی کہ اگر ہوائی جہاز اور عقاب میں فرق کرنے کے لیے پنکھ لازمی عنصر نہیں، تو فرشتوں کی پہچان کے لیے تو ان کی اہمیت اور بھی کم ہو گی۔ پھر بھی انھوں نے وعدہ کیا کہ وہ اپنے اُسقف کو عریضہ روانہ کریں گے، تاکہ وہ اپنے اُسقفِ اعظم کو اس بابت لکھیں، تاکہ وہ پاپاے روم کو لکھیں، اور یوں اعلیٰ ترین عدالت سے قولِ فیصل حاصل ہو جائے گا۔
ان کی دانشمندی چکنے گھڑوں پر ضائع گئی۔ اسیر فرشتے کی خبر اتنی تیزی سے پھیلی کہ چند گھنٹوں کے اندر اندر صحن میں بازار کی سی چہل پہل ہو گئی اور سنگین بردار سپاہی بلوانے پڑے تاکہ اس مجمعے کو منتشر کریں جو کہ مکان کو تلپٹ کیے دے رہا تھا۔ ایلی سیندا کو، جس کی کمر اتنا سارا بازاری گند جھاڑتے جھاڑتے دوہری ہو چکی تھی، یہ سوجھ گئی کہ صحن میں کٹہرا لگا دے اور فرشتے کو دیکھنے کے لیے ہر ایک سے پانچ پانچ سینٹ وصول کر لے۔ مشتاقانِ دید دور دور سے آنے لگے۔ ایک گشتی کارنیوال نے پھیرا لگایا؛ اس میں ایک اُڑان بھرنے والا نَٹ مجمعے کے سروں پر بار بار پھڑپھڑاتا پھِرا، مگر کسی نے اسے گھاس نہ ڈالی کیونکہ اس کے پَر فرشتوں کے مانند نہیں تھے بلکہ چمگادڑوں جیسے تھے۔ زمانے بھر کے بدنصیب ترین معذور لوگ تندرستی کی آس میں آنے لگے؛ ایک دُکھیاری جو بچپن سے دل کی دھڑکنیں شمار کر رہی تھی اور گنتے گنتے جس کی گنتی ہی ختم ہو گئی تھی؛ ایک پرتگالی مرد جو اس لیے سو نہیں سکتا تھا کہ ستاروں کا شور اس کو تنگ کرتا تھا؛ ایک نیند میں چلنے والا جو راتوں کو اٹھ اٹھ کر اپنے دن میں کیے ہوے کام بگاڑا کرتا تھا؛ اور دوسرے بہت سارے جن کے مرض ان سے ذرا کم تشویش ناک تھے۔ پیروں تلے کی زمین ہلا دینے والی، ڈوبتے جہاز جیسی اس ہڑبونگ کے بیچ پیلایو اور ایلی سیندا اپنی تھکن میں بھی مگن تھے، کیونکہ ایک ہفتے سے بھی کم مدت میں انھوں نے اپنا گھر رقم سے ٹھَساٹھَس بھر لیا تھا اور اب بھی اپنی باری کے منتظر زائرین کی قطار افق کے اُس پار تک پہنچی ہوئی تھی۔
فرشتہ ہی فقط ایک واحد ہستی تھا جو خود اپنے تماشے میں کوئی حصہ نہیں لیتا تھا۔ جالی کے نزدیک رکھے گئے تیل کے چراغوں اور عشاے ربانی والی موم بتیوں کی جہنّمی تمازت سے چکرایا چکرایا سا، وہ اپنا وقت اپنے مانگے کے ٹھکانے میں آسائش کی جستجو میں گزارتا۔ اوّل اوّل انھوں نے اس کو کپڑوں میں رکھنے والی گولیاں کھلانے کی کوشش کی، جو سیانی پڑوسن کے علم کے مطابق فرشتوں کی غذا تھی، لیکن اس نے کھانے سے انکار کر دیا، بالکل اسی طرح جیسے اس نے پوپ کا وہ خاصّہ کھانے سے انکار کر دیا تھا جو تائب لوگ لاتے تھے۔ وہ اتنا کبھی نہ جان سکے کہ اس کا سبب اس کا فرشتہ ہونا تھا یا یہ کہ وہ بوڑھا ہو چکا تھا۔ اور آخر کو وہ بینگن کے گودے کے سوا کچھ نہیں کھاتا تھا۔ اس کی قوتِ برداشت ہی ایک اکیلی خارقِ عادت بات نظر آتی تھی، خاص کر ابتدائی ایام میں، جب مرغیاں ان سماوی جوؤں کی تلاش میں جو اس کے پروں کے اندر بڑھی چلی جا رہی تھیں ٹھونگیں مارا کرتیں، اور اپاہج لوگ اپنے ناقص اعضا سے چُھوانے کے لیے اس کے پَر نوچا کرتے، اور سب سے زیادہ مہربان لوگ تک اس کو کھڑا کرنے کی کوشش میں پتھر مار دیا کرتے تاکہ وہ اس کو کھڑے قد دیکھ سکیں۔ وہ صرف ایک بار اس کو اپنی جگہ سے ہلانے میں کامیاب ہو سکے تھے، جب انھوں نے بچھڑوں کو داغنے والے لوہے سے اس کے پہلو میں چرکا لگا دیا تھا۔ بات یہ تھی کہ وہ اتنے گھنٹوں سے بے حس و حرکت پڑا تھا کہ انھوں نے سوچا کہیں مر نہ گیا ہو۔ وہ ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھا اور آنکھوں میں آنسو بھرے بھرے اپنی جنّاتی زبان میں بلبلانے لگا اور دو ایک بار اپنے پَر پھڑپھڑائے تو مرغیوں کی بِیٹ اور قمری خاک کا بگولا ناچنے لگا اور دہشت کا وہ جھکّڑ چلا جو اِس دنیا کا تو لگتا نہیں تھا۔ گو بہتوں نے سوچ لیا تھا کہ وہ خفگی کا نہیں بلکہ تکلیف کا مظاہرہ تھا، مگر اس دن کے بعد سے وہ سب احتیاط کرنے لگے کہ اس کو ناراض نہ کریں، کیونکہ اکثر لوگ سمجھ چکے تھے کہ اس کی مفعولیت اُس سورما کی سی نہیں جو اگلے حملے کے لیے سستا رہا ہو، بلکہ کسی خوابیدہ فتنے کی سی ہے۔
قیدی کی اصلیت کے بارے میں قولِ فیصل آنے کے انتظار کے دوران پادری گون زاگا نے مجمعے کی شرارتوں کو خادماؤں کی سی سوجھ بوجھ والے چٹکلوں سے قابو میں رکھا۔ مگر روم کی ڈاک نے آنے میں کوئی عجلت نہ دکھائی؛ کبھی وہ لوگ یہ دیکھتے کہ اس کی ناف ہے یا نہیں، کبھی یہ سوچتے کہ اس کی بولی کا تعلق آرامی زبان سے تو نہیں، کبھی یہ کہ ایک سوئی کی گھنڈی پر وہ کتنی مرتبہ سما سکتا ہے، یا یہ کہ کہیں وہ محض کوئی پَردار ناروے والا نہ ہو؛ اور یوں وہ لوگ اپنا وقت بِتایا کرتے تھے۔ اگر رحمتِ خداوندی نے آڑے آ کر پادری کی زحمتوں کا خاتمہ نہ کر دیا ہوتا تو یہ مختصر سے عریضے قیامت تک آتے جاتے رہتے۔
ہوا یہ کہ انھی دنوں میں آنے والے بہت سے کھیل تماشوں میں ایک ایسی عورت کا گشتی تماشا بھی آیا جس کو والدین کی نافرمانی کرنے پر مکڑی بنا دیا گیا تھا۔ اس کو دیکھنے کی قیمت نہ صرف یہ کہ فرشتے کی دید کی رقم سے کم تھی، بلکہ لوگوں کو اس بات کی بھی اجازت تھی کہ وہ اس کی مضحکہ خیز حالت کے بارے میں قسم قسم کے سوالات بھی پوچھ سکیں اور سر سے پیر تک اس کو چھو کر معائنہ بھی کر سکیں تاکہ کسی کو بھی اس ہولناک حقیقت پر کوئی شک و شبہ نہ رہے۔ وہ مینڈھے جتنی ایک ڈراؤنی ترَن تُولا مکڑی تھی جس کا سر ایک غمزدہ دوشیزہ کا سا تھا۔ تاہم سب سے بڑھ کر دل ہلا دینے والی شے اس کی نامانوس ہیئت نہ تھی بلکہ وہ پُرخلوص اندازِ بیاں تھا جس میں وہ اپنی بپتا کی ایک ایک تفصیل سناتی تھی۔ ابھی وہ بالی ہی تھی کہ ایک بار ناچ رنگ میں حصہ لینے کے لیے گھر سے چھپ کر چپ چاپ نکل گئی تھی، اور جب وہ بغیر اجازت لیے ساری رات ناچ لینے کے بعد جنگل میں سے ہوتی ہوئی گھر لوٹ رہی تھی تو ایک ہولناک کڑاکے نے آسمان کو دو کر دیا، اور شگاف میں سے لاوے کا برقی تیر سا لپکا جس نے اسے مکڑی بنا دیا۔ اس کا پیٹ فقط ان کوفتوں سے بھرتا تھا جو سخی لوگ اس کے منھ میں ڈال دیتے تھے۔ ایک ایسے نظارے کو، جس میں اتنی انسانی سچائی بھری ہو اور اتنی خوف دلانے والی نصیحت ہو، کوشش کیے بغیر ایک ایسے نک چڑھے فرشتے کی نمائش پر غالب رہنا ہی تھا جو فانی انسانوں کی طرف آنکھ اٹھانا بھی گوارا نہ کرتا تھا۔ علاوہ ازیں، جو تھوڑی بہت کرامات فرشتے سے منسوب کی گئیں ان میں بھی کچھ نہ کچھ عقل کا فتور نظر آیا— مثلاً وہ نابینا جس کو بینائی تو نہ ملی مگر تین نئے دانت نکل آئے، یا وہ مفلوج جو چل تو نہ سکا لیکن لاٹری تقریباً جیت لی، اور وہ کوڑھی جس کے زخموں کے اندر سے سورج مکھی پھوٹ نکلے۔ ان بہلانے والی کرامات کے سبب، جوکہ ہنسی دل لگی سے زیادہ کیا تھیں، فرشتے کی ساکھ گر تو چکی تھی کہ مکڑی بن جانے والی عورت نے آ کر آخرکار اس کو بالکل ملیامیٹ کر دیا، اور یوں پادری گون زاگا کا بےخوابی کا روگ بھی ہمیشہ ہمیشہ کے لیے جاتا رہا، اور پیلایو کا آنگن بھی پھر سے اتنا ہی خالی خالی رہنے لگا جتنا وہ اُس تین دن کی بارشوں کے زمانے میں تھا جب کیکڑے کمروں میں رینگا کرتے تھے۔
گھر والوں کے لیے کُڑھنے کی کوئی وجہ نہیں تھی۔ جو رقم انھوں نے اس دوران جمع کر لی تھی اس سے انھوں نے چھجّوں اور پھلواریوں والی دومنزلہ حویلی کھڑی کر لی جس میں اونچی اونچی جالیاں لگائی گئی تھیں کہ جاڑوں میں کیکڑے نہ گھس آئیں، اور دریچوں میں لوہے کی سلاخیں لگوائی گئی تھیں کہ فرشتے اندر نہ آ جائیں۔ پیلایو نے بستی کے قریب ہی خرگوش پالنے کا کاروبار جما لیا اور بیلف کی نوکری ہمیشہ ہمیشہ کے لیے چھوڑ دی اور ایلی سیندا نے ساٹن کے اونچی ایڑی والے چند پمپ اور ست رنگی ریشم کی پوشاکیں خریدیں، وہی جو اس زمانے کی من موہنی عورتیں اتوار کے دن زیبِ تن کیا کرتی تھیں۔ بس مرغیوں کا دڑبا ہی ایک ایسی چیز تھا جس پر کوئی توجہ نہیں دی گئی تھی۔ جو وہ کبھی کبھار اس کی دھلائی کریولن سے کر دیتے تھے اور اس کے اندر مُر اور لوبان سلگا دیتے تھے تو یہ کوئی فرشتے کی عقیدت میں نہیں تھا بلکہ اس کا مقصد فُضلے کی اس سڑاند سے پیچھا چھڑانا ہوتا تھا جو آسیب کی طرح ہر وقت لپٹی رہتی تھی اور ان کے نئے مکان کو بھی پرانا کیے دے رہی تھی۔ جب بچے نے چلنا سیکھ لیا تو پہلے پہلے انھوں نے احتیاط کی کہ وہ دڑبے کے بہت نزدیک نہ جانے پائے؛ پھر رفتہ رفتہ ان کا خوف دور ہوتا گیا، اور وہ بدبو کے عادی ہوتے گئے، اور دوسرا دانت نکلنے سے پہلے ہی بچہ کھیلنے کے لیے جہاں سے جالی ٹوٹ رہی تھی دڑبے میں گھس گیا۔ فرشتہ بچے سے بھی اتنا ہی لیے دیے رہا جتنا وہ دوسرے لوگوں سے رہتا تھا، مگر وہ اس کی نت نئی چھیڑخانیوں کو اس کتّے کے سے صبر سے برداشت کرتا رہتا جس کو کوئی خوش فہمیاں نہ ہوں۔ دونوں کو ایک ساتھ خسرہ نکل آئی۔ جس ڈاکٹر نے بچے کا علاج کیا وہ فرشتے کے دل کی دھڑکن سننے کے شوق کو دبا نہ سکا، اور اس نے اس کے دل میں اس قدر سیٹیاں بجتی اور گردے میں اتنی آوازیں سنیں کہ اس کو فرشتے کا زندہ رہنا محال نظر آیا۔ پروں کی تُک نے اس کو سب سے زیادہ حیرت میں ڈالا۔ اس مکمل انسانی بدن پر وہ اتنے فطری لگتے تھے کہ ڈاکٹر کی سمجھ میں یہ نہ آ سکا کہ آخر سب انسانوں کے جسم پر وہ کیوں نہیں ہوتے۔
جس وقت بچے نے اسکول جانا شروع کیا تو مرغی خانے کو دھوپ اور بارشوں کی وجہ سے تباہ ہوے کچھ عرصہ گزر چکا تھا۔ فرشتہ ایک بھٹکتے ہوے جاں بہ لب آدمی کی طرح یہاں وہاں گھسٹتا پھرتا تھا۔ وہ اسے جھاڑو مار مار کر خوابگاہ میں سے نکالتے تو پل بھر بعد وہ باورچی خانے میں نظر آتا؛ وہ بیک وقت اتنے مقامات پر نظر آنے لگا کہ وہ یہ سوچنے لگے کہ وہ ایک سے دو ہو گیا ہے، کہ وہ گھربھر میں اپنی نوع کو بڑھاتا پھر رہا ہے؛ اور بھنّائی اور بولائی ہوئی ایلی سیندا چیخ پڑی کہ اس فرشتوں بھرے جہنّم زار میں جینا دُوبھر ہو گیا۔ وہ اب مشکل ہی سے کھا پاتا تھا، اور اس کی بوڑھی آنکھیں اتنی دُھندلا گئی تھیں کہ وہ ستونوں سے ٹکراتا پھرتا تھا۔ اب اس کے پاس جھڑے ہوے آخری پروں کے ننگے سرے ہی رہ گئے تھے۔ پیلایو اس پر کمبل ڈال دیتا اور اتنا احسان اور کرتا کہ اس کو سائبان میں پڑ رہنے دیتا۔ اور تب ہی انھوں نے دیکھا کہ رات کو اسے بخار ہو جاتا اور وہ ہذیانی سا ہو کر بوڑھے ناروے والوں کی طرح زبان گھمایا کرتا۔ یہ چند موقعوں میں سے ایک موقع تھا جب وہ پریشان ہو گئے، کیونکہ انھوں نے سوچا کہ اس کا آخری و قت آ گیا؛ اور پڑوس کی سیانی عورت بھی یہ بتانے سے قاصر تھی کہ وہ مرتے ہوے فرشتے کے لیے کیا کیا کریں۔
اس کے باوجود وہ نہ صرف یہ کہ اپنا بدترین موسمِ سرما جھیل گیا بلکہ دھوپ سے روشن دنوں کے شروع ہوتے ہی سنبھالا لیتا ہوا نظر آنے لگا۔ وہ صحن کے پرلے سرے پر، سب کی نظروں سے دور، کئی دنوں تک چاپ چاپ پڑا رہا، اور دسمبر شروع ہوتے ہی چند لمبے اور سخت پَر اس کے شہپروں پر نمودار ہونے لگے؛ بجوکے کے پَر جو اس سے کہیں زیادہ، ناتوانی کی ایک اور نحوست دکھائی دیتے تھے۔ مگر وہ اپنی تبدیلیوں کی وجہ ضرور جانتا ہو گا، اسی لیے وہ اس بات کا بہت خیال رکھتا تھا کہ کوئی ان تبدیلیوں کو دیکھ نہ لے، کوئی وہ سمندری گیت نہ سن لے جو وہ وقتاًفوقتاً تاروں کی چھاؤں میں گنگنایا کرتا تھا۔ ایک صبح ایلی سیندا بیٹھی پیاز کتر رہی تھی کہ ہوا کا ایک جھونکا، جو سمندروں پر سے ہوتا ہوا آ رہا تھا، باورچی خانے میں در آیا۔ وہ اٹھ کر دریچے کے پاس گئی اور تب ہی اس نے فرشتے کو اُڑان بھرنے کی ابتدائی کوششیں کرتے ہوے دیکھ لیا۔ یہ کوششیں اس قدر بھونڈی تھیں کہ اس کے ناخنوں نے سبزی کی کیاری میں گہرا نشان ڈال دیا تھا، اور اپنے پروں کی بھدی سی پھڑپھڑاہٹ سے، جو ہوا میں ٹِک نہیں پا رہے تھے، وہ سائبان کو گرانے ہی والا تھا۔ پھر بھی وہ تھوڑا بہت اوپر اٹھنے میں کامیاب ہو گیا۔ ایلی سیندا نے جب اس کو ایک پھُوس عقاب کی طرح تشویش ناک انداز میں پَر ہلا ہلا کر، اور کسی نہ کسی طرح خود کو ہوا میں سنبھالے سنبھالے، آخری مکانوں کے اوپر سے دور ہوتے دیکھا تو اس نے خود اپنے لیے اور اس کی خاطر اطمینان کا سانس لیا۔ وہ اسے دیکھتی رہی، پیاز کترنے سے فارغ ہونے کے بعد بھی وہ تکتی رہی، اور اس وقت تک نظریں جمائے رہی جب تک کہ وہ نظروں سے اوجھل نہ ہو گیا۔ کیونکہ اب وہ اس کے جی کا جنجال نہ تھا بلکہ سمندری افق پر ایک خیالی نقطہ تھا۔
آج اور اجمل کمال کے تعاون سے شائع کی جانے والی مزید تحاریر اور تراجم پڑھنے کے لیے کلک کریں۔