Categories
نقطۂ نظر

سمجھدار کون؟

youth-yell-featured

سارا پاکستان اس وقت سیاسی مخمصے کا شکار ہے ، پوری قوم سیاسی نا پختگی کا مظاہرہ کررہی ہے اورملکی قیادت کے سیاسی رخ کا اندازہ لگانا ناممکن ہے۔ اسلام آباد میں راقم نے عوامی تحریک اور تحریک انصاف کے دھرنے کا بغور معائنہ کیا اور نہ صرف معائنہ کیا بلکہ وہاں عوامی تحریک کے پنڈال میں موجود لوگوں کی بے چارگی ، بچوں کی خستہ حالی، خواتین کی کسمپرسی، نوجوانوں کی مایوسی اور تھکاوٹ کے ساتھ ساتھ شرکاء کے چہروں پر عزم امید اورجوش کے ساتھ بدلہ لینے کاجذبہ بھی دیکھا۔ تحریک انصاف کے جزوقتی دھرنے میں نوجوانوں، خواتین اور بچوں کی ایک کثیر تعداد نظر آتی رہی ہےجو سمجھتے ہیں کہ وہ دھرنے میں شریک ہوکراپنے مقاصد حاصل کرچکےہیں۔ تحریک انصاف کے کارکنان کے لیےعمران خان کا روزانہ ان کے سامنے آجانا ہی تبدیلی ہے اور وہ دن دور نہیں جب انہیں منز ل مل جائے گی ۔ دونوں دھرنوں میں ایک بات تو عیاں تھی کہ دونوں قائدین روایتی سیاسی جماعتوں میں آمریت اور موروثیت کی روش کے خلاف بہت سنجیدہ تھے۔
عوامی تحریک کے کارکنان کہتے ہیں کہ ملک کا سب سے بڑا مسئلہ شریف برادران ہیں ۔عوامی تحریک کے قائد علامہ طاہر القادری کا کہنا ہے کہ وہ تینتیس برس سے انقلاب کی تیاریوں میں مصروف ہیں۔ نجانے ان تینتیس برسوں میں انہوں نے اپنے کارکنا ن کی کیا تربیت کی ہے کہ ان کے نزدیک انقلاب محض نوازشریف حکومت کا خاتمہ ہے۔ عوامی تحریک کا دھرنا جب تک جاری رہا،طاہر القادری صاحب کی تقاریر کے روزانہ دو ادوار ہوا کرتے تھے؛ ایک سہ پہر تین بجےکی پریس کانفرس اور پھر شام تقریباََ سات بجے اپنے کارکنان سے خطاب ۔ شام کے خطاب میں طاہر القادری اپنے کارکنان کو آئین پڑھاتے اور ساتھ ہی آستینیں چڑھا کرشریف برادران کو دھمکاتے ۔قادری صاحب ہر شام اخبارات میں نواز شریف اور شہباز شریف کے خلاف چھپنے والے سکینڈل اور خبروں پر تبصرہ فرماتے اور انقلاب کی نوید سناتے ۔اور کچھ نہیں تو لاہور اور اسلام آباد کے شہدا کو یاد کرتے اور حکومت کو کھری کھری سناتے۔
قادری صاحب بھلے دھرنا ختم کر چکے ہیں مگر کارکنان اور گھر بیٹھے عوام نے اس دوران ہونے والی تقاریر کے ذریعے آئین میں درج اپنے حقوق بارے آگہی اور شعور حاصل کیا۔
قادری صاحب بھلے دھرنا ختم کر چکے ہیں مگر کارکنان اور گھر بیٹھے عوام نے اس دوران ہونے والی تقاریر کے ذریعے آئین میں درج اپنے حقوق بارے آگہی اور شعور حاصل کیا۔ اس کے ساتھ ساتھ مقصد کی خاطر اپنے گھروں کو چھوڑ کر بارش ،دھوپ اور بیماریاں سہنا اور برداشت کرنا بھی سیکھا۔بہت سے مجبوروبے کس جو علامہ صاحب کی تقاریر سن کر اس دھرنے میں شامل ہوئے آخر کار انقلاب لائے بغیر مایوس لوٹ گئے۔دھرنے میں راقم کئی ایسے لوگوں سے بھی ملا جو گھر جانا چاہتے تھے لیکن کرایہ نہ ہونے کے باعث لوٹ نہیں سکے۔چند ایسے بھی نظر آئے جو صرف اس لئے ڈی چوک پر جمے ہوئے تھے کہ انہیں کھاناادویات اور اشیائے ضروریہ بالکل مفت دستیاب تھیں۔
ڈاکٹر طاہر القادری صاحب پر ڈیل کے الزامات سے قطع نظر ان کا ہر کارکن آج ان سے یہ پوچھنا چاہتا ہے وہ کونسی مجبوری ہے جو انہیں دھرنا ختم کر کے احتجاج کی طرف لے گئی ہے۔یہ سوال صرف راقم کا ہی نہیں شائد ان تمام کارکنوں کا بھی ہے جو اڑسٹھ روز تک اپنے قائد کی پکار پر لبیک کہتے رہے اور ان کی کامیابی کے لیے نعرے لگاتے رہے۔ہم سب جاننا چاہتے ہیں کہ وطن واپسی کے بعد اب وہ کس قسم کا احتجاج کرنا چاہتے ہیں اور انکے انقلاب کا محور کیا ہوگا۔
حکومت کے مقابلے میں ڈاکٹر طاہر القادری کی جانب سے پسپائی کے فیصلے کی تعریف کی جانی چاہیے،جنہوں نے اپنے کارکنان کو مزید تنگی اور خفت سے بچاتے ہوئے ایک جرات مندانہ قدم اٹھایا ہے۔
راقم ڈاکٹر طاہر القادری کا ایک نہیں کنٹینر میں تین بار انٹر ویو کر چکا ہے اور ہر بار انہیں ایسا پایا کہ وہ جو نعرہ لگا چکے وہ حرف آخر ہے، اور اب وہ یہاں سے اسکی تکمیل سے پہلے نہیں جائیں گے ۔انہوں نے اکتیس اگست کی رات کو وزیر اعظم ہاؤس کی جانب آگے بڑھتے ہوئے بھی اسی عزم کا اظہار کیامگر وہ پسپا ہوئے، یکم ستمبر کو پی ٹی وی اور پاکستان سیکریٹیریٹ پر دھاوا بولنے کے بعد جب حکومت نے کارروائی کا اعلان کیا تب بھی دونوں انقلابیوں نے الزام تراشی کرتے ہوئے واپسی کا راستہ اختیار کیا۔دوسری جانب حکومت کی ڈھٹائی کا اندازہ اسی بات سے لگا یا جا سکتا ہے کہ اسکے خلاف احتجاج کو تین ماہ ہونے کو ہیں لیکن حکمران جماعت کی جانب سے اب تک مظاہرین کے مطالبات تسلیم کرنے کے حوالے سے کوئی قدم نہیں اٹھایا گیا۔حکومت کے مقابلے میں ڈاکٹر طاہر القادری کی جانب سے پسپائی کے فیصلے کی تعریف کی جانی چاہیے،جنہوں نے اپنے کارکنان کو مزید تنگی اور خفت سے بچاتے ہوئے ایک جرات مندانہ قدم اٹھایا ہے۔امید ہے عمران خان اور حکومت بھی عقل مندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے مسائل کا سیاسی حل ڈھونڈنے کی کوشش کریں گے۔
Categories
نقطۂ نظر

!پاکستانی کروم ویل

Nara-e-Mastana-ajmal-jami

انداز ہ کیجیے ایک شخص اپنے مریدین کو پارلیمنٹ ہاوس کے گھیراو کا حکم دیتا ہے اور کہتا ہے کہ “کوئی شخص نہ اندر جائے نہ باہر آئے ، اور اگر کوئی باہر نکلنے کی کوشش کرے تو اسے تمہاری لاشوں سے گزرنا ہو گا۔” ارے صاحب کارکنوں کی لاشوں پر سے کیوں ،آپ کی لاش پر سے کیوں نہیں؟ یہ وہی شخص ہے جو رات شہادت پروف ائر کنڈیشنڈ کنٹینر میں گزارتا ہے،چند لمحوں کے لیے باہر آتا ہے اور مریدین کو ورغلانے کے بعد دوبارہ ٹھنڈے کنٹینر میں جا گھستا ہے۔ کارکن سڑکوں پر دندناتے ہیں، پارلینٹ ہاوس کا گھیراو کرتے ہیں اور یہ شخص کنٹینر میں بیٹھ کر کسی نئی چال کا جال بننے میں مصروف ہو جاتا ہے۔ قبلہ اگر خود آگے بڑھ کر مریدین کے ہمراہ پارلیمنٹ کا گھیراو کرتے تو میں یقیناقادری صاحب کو کسی حد تک داد کا مستحق قرار دیتا،لیکن آپ جناب نے کنٹینر میں پناہ لینے میں ہی عافیت جانی،اس پر مستزاد یہ کہ اندر بیٹھے سنتے رہے ” ہمت اور بہادری طاہر القادری “۔
قبلہ کا انقلاب تب کہاں تھا جب پاکستان پر مشرف حکمران تھا؟ ایک آمر کے دور میں انہوں نے نہ صرف انتخابات میں حصہ لیا بلکہ اسمبلی تک رسائی حاصل کی،مستعفی ہوئے اور وطن کو خیر باد کہہ دیا۔ کاش یہ حضرت کسی آمر کے دور میں بھی اسی جوش خطابت سے انقلاب کی بات کرتے اور شہادت پروف کنٹینر میں دھرنا دیتے۔
قبلہ نے اس سب کو انقلاب کا نام دے رکھا ہے۔ یہ وہی طاہر القادری ہیں جن کے جملہ اوصاف پر لکھنے کے لیے ہزاروں اوراق درکار ہیں۔ یہ کمال زبان کاہے تو کیا ہم کسی بس میں سوار منجن بیچنے والے کو یا صدر کراچی اور آزادی چوک لاہور میں پاکستان کے “سب سے بڑے مسئلے کا حل بیچنے والے” کو اپنا حکمران بنالیں ؟ اسے بھی مجمع سنتا ہے سر دھنتا ہے اور اس کی سن کر اپنی جیب ڈھیلی بھی کرتا ہے ۔ اور بعد میں پتہ چلتا ہے کہ جیب کٹ چکی تو کیا ہم اپنی قومی جیب کسی جیب کترے کو پیش کردیں ؟
فن خطابت کے ماہر یہ صاحب شاید بھول گئے ہیں کہ جس نظام کو یہ مسترد کر رہے ہیں اسی کے تحت انہیں ایسے مجمعے لگانے کی آزادی میسر ہے، جس حکومت کو گرانے کی بات کی جا رہی اس کی سیاسی نااہلی سے قطع نظر یہی حکومت ہے جس کے تحمل کے باعث یہ مجمع مارچ کرتے کرتے پارلیمنٹ ہاوس تک جا پہنچا ہے۔یہ اسی نظام کے ثمرات ہیں کہ قبلہ لاہور سے ہوتے ہوئے وفاق میں شاہراہ سہروردی پر ڈیرے ڈالے بیٹھے ہیں اور کاروبار حیات کو اپنے گھنٹوں طویل خطابات سے کئی روزسےمفلوج کئے ہوئے ہیں۔ کہنے کا مقصد یہ ہے کہ کیا اعلیٰ حضرت یہ انقلاب کسی ڈکٹیٹر کے دور میں برپا کر سکتے تھے؟ قبلہ کا انقلاب تب کہاں تھا جب پاکستان پر مشرف حکمران تھا؟ ایک آمر کے دور میں انہوں نے نہ صرف انتخابات میں حصہ لیا بلکہ اسمبلی تک رسائی حاصل کی،مستعفی ہوئے اور وطن کو خیر باد کہہ دیا۔ کاش یہ حضرت کسی آمر کے دور میں بھی اسی جوش خطابت سے انقلاب کی بات کرتے اور شہادت پروف کنٹینر میں دھرنا دیتے۔
سانحہ ماڈل ٹاون یقینا حکومتی نا اہلی اور بربریت کی بد ترین مثال ہے جس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔ حکومت کی جانب سے سنجیدہ اقدامات نہ کئے جانے کے باعث بظاہر قبلہ قادری کا حالیہ انقلاب اسی سانحے سے شروع ہوتا ہے۔ لیکن اس سانحے کے بعد سے آپ دن بھر میں آٹھ آٹھ بار سکرینوں پر جلوہ گر ہوتے رہےلیکن ایک بار بھی ان شہدا کی قبرو ں پر نہ گئے ۔ اس انقلاب کی انقلابیت جانچنے کے لیے فقط یہ جاننا ہی کافی ہے کہ چوہدری برادران آپ کے مکمل ہمنوا ہیں اور شیخ رشید صاحب ہیں بھی اور نہیں بھی کے مصداق انقلاب کا حصہ ہیں بھی اور نہیں بھی۔
کرومویل کی عوالی پارلیمنٹ کا انجام تو تاریخ کے صفحات میں درج ہے مگر قادری صاحب کی عوامی پارلیمنٹ کا انجام کیا ہوگا یہ جاننے کے لیے شاید تھوڑے صبر کی ضرورت ہے۔
قبلہ قادری کا دعویٰ ہے کہ پاکستان میں موجودہ جمہوری نظام اور پارلیمنٹ صحیح کام نہیں کررہے اس لئے اب ملک کے سیاسی مستقبل کا فیصلہ ان کے مریدین پر مشتمل عوامی پارلیمنٹ کرے گی۔1649تا 1653 برطانوی فوجی ولیم کرومویل نے انقلاب برپا کرتے ہوئے اقتدار پرقبضہ کرکے اپنی مرضی کے اراکین پر مشتمل پارلیمنٹ قائم کی جسے تاریخ رمپ پارلیمنٹ کے نام سے یاد کرتی ہے ۔ کرومویل اس پارلیمنٹ کو صرف چار سال تک چلاسکا اوراس دوران اس نے برطانیہ کے بادشاہ چارلس اول کے موت کے پروانے پر بھی دستخط کئے۔رمپ پارلیمنٹ کےاس بانی کی طبعی موت 1658 میں ہوئی اور اس کے بعد ملک میں ایک بار پھر سے بادشاہت بحال ہوئی۔ اور پھر تاریخ شاہد ہے کہ کس طرح کرامویل کی قبر کھود کر اس کی لاش باہر نکالی گئی ،اسے پھانسی دی گئی۔ یہی نہیں بلکہ اس کے بعد خود ساختہ عوامی پارلیمنٹ کے بانی کا سر کاٹ کر اسے کیچڑ میں پھینک دیا گیا۔ برطانوی سرکار نے فقط انہی اقدامات پر ہی اکتفا نہ کیا بلکہ کرومویل کے چار سالہ اقتدار کو ملکی تاریخ سے ہی خارج کر دیا۔ کرومویل کی عوالی پارلیمنٹ کا انجام تو تاریخ کے صفحات میں درج ہے مگر قادری صاحب کی عوامی پارلیمنٹ کا انجام کیا ہوگا یہ جاننے کے لیے شاید تھوڑے صبر کی ضرورت ہے۔
پس تحریر: گزارش ہے کہ حکومت ابھی تک تو دونوں انقلابی دھڑوں کو کسی سیاسی حل تک لانے میں ناکام رہی ہے،حالات کس کو “نواز” دیں گےفی الحال کچھ کہنا مشکل ہے، لیکن اس بات کا دھڑکا ہے کہ حکمران کوئی “شریف” ہی ہو گا۔ کسی “ایک” کی قربانی لازم ٹھہر چکی ہے کیونکہ قبلہ قادری اور خان صاحب کو خالی ہاتھ واپس بھیجنا اب ناممکن ہو چکا ہے۔
Categories
نقطۂ نظر

آزادی مارچ یا آخری جلسہ

آئے دن تبدیلی اور حقیقی آزادی کا شوروغوغا سننے کو مل رہا ہے، گزشتہ ایک ماہ سے آزادی مارچ اور انقلاب کی باتیں بڑھ چڑھ کر سنائی دے رہی ہیں، روزانہ ٹیلی ویژن پر بے تحاشہ تقاریر ، مباحثے اور بیانات سننے اور دیکھنے کو ملتی ہیں ،ساتھ ساتھ سیاسی جوڑ توڑ اور ملاقاتوں کا تانتا بندھا ہے اور تو اور ہمارے ایسے رہنما جو کبھی عوامی مقامات پر دکھائی یا سنائی نہیں دیےعوام کو اپنی طرف متوجہ کرنے میں مصروفِ عمل ہیں جبکہ اپنی طاقت سے بے خبر عوام ہمیشہ کی طرح انقلابی نعروں کی کشش سے کھچے چلے آرہے ہیں اور ایک نئے پاکستان کی تشکیل کو اسلام آباد کی طرف چل پڑے ہیں۔
ایک طرف جہاں حکمران جماعت کو اپنی بادشاہت چھنتی نظر آ رہی ہے اور پاکستان تحریکِ انصاف کے قائد تقریباً20 سال کی تگ و دو کے بعد اپنی کامیابی کا خواب دیکھ رہے ہیں وہیں کینیڈا پلٹ انقلاب فروش بھی اپنا کاروان لئے شامل باجہ ہیں ۔ حکمران جماعت پاکستان مسلم لیگ (ن) کی بے بسی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ایک طرف جہاں میاں شہباز شریف پاکستان تحریکِ انصاف کے قائد عمران خان صاحب سے ملاقات کرنے اور انہیں راضی کرنے میں مصروف تھے تو وزیراعظم اپنی ہی پارٹی کے اختلافات ختم کرنے کے ساتھ ساتھ خان صاحب کو مذاکرات کی دعوت دینے پر مجبور تھے۔ اب جب کہ مہینہ بھر کی سیاسی سرگرمیوں کے بعد تحریک انصاف اور طاہر القادری صاحب اپنے انقلابی کاروان لئے حکومت گرانے اسلام آباد کی طرف روانہ ہو چکے ہیں تو کئی سوالات ابھی تک جواب طلب ہیں ،سوچنے کی بات تو یہ ہے کہ کیا مسلم لیگ( ن) اب کسی سیاسی چال کا سہارا لے رہی ہے یا پھر واقعی گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہو گئی ہے؟
حالیہ سیاسی محاذآرائی عمران خان اور طاہر القادری سمیت شریف برادران کے لئے بھی سیاسی بقاء کی جنگ ہےتاہم سیاسی جماعتوں خصوصاً جماعت اسلامی، پیپلز پارٹی، اے این پی اور ایم کیوایم کی حمایت کے بغیر حکومت کے خاتمہ کا دعوی محض خام خیالی نظر آتا ہے۔
چار حلقوں کی گنتی دوبارہ کرانے، الیکشن کمیشن کی تشکیل نو اور انتخابی اصلاحات سمیت تمام معاملات سڑکوں کی بجائے پارلیمان میں حل ہونے ہیں اور پارلیمان کے اندر بات چیت، مفاہمت اور بحث کی گنجائش سڑکوں کی نسبت کہیں زیادہ ہوتی ہے لہذا اگر یہ سیاسی چال ہے تو اس سے مسلم لیگ (ن) کو دو سے تین ماہ کا وقت نئی حکمتِ عملی طے کرنے کے لیے مل جائے گااور اگر عمران خان صاحب جو بظاہر حکومت گرانے چل نکلے ہیں ، سیاسی مفاہمت کے تحت حکومت گرانے اور وزیراعظم کے مستعفی ہو نے کے مطالبات سے پیچھے ہٹ جاتے ہیں تو ان کا سیاسی مستقبل کیا ہو گا ؟
نتیجہ خواہ کچھ بھی ہو اسلام آباد میں مارچ اور دھرنا عمران خان صاحب کے سیاسی مستقبل کا فیصلہ کردیں گے ؛ اگر وہ آزادی مارچ کو کسی معاہدے کے تحت مختصر کر دیتے ہیں یا پھرایک جلسہ کی صورت میں چند گھنٹوں کے لیے اسلام آباد میں رونق لگائے رکھتے ہیں اور حکومت گرائے بغیر واپس لوٹ آتے ہیں تو بہت ممکن ہے کہ یہ ان کی زندگی کا آخری کامیاب جلسہ ہو اور وہ اپنے حامیوں کا اعتبار کھو بیٹھیں۔تاہم اگر خان صاحب اپنے اسی جوش و جذبے کے ساتھ پاکستان کے عوام کو لیکراسلام آباد روانہ ہو جاتے ہیں اور حکومت کو پسپا ہونے پر مجبور کردیتے ہیں تو اس بات میں کوئی شک نہیں کہ ملکِ پاکستان کے “بادشاہ” کو ایک بار پھر اپنی بادشاہت کھونا ہو گی۔ حالیہ سیاسی محاذآرائی عمران خان اور طاہر القادری سمیت شریف برادران کے لئے بھی سیاسی بقاء کی جنگ ہےتاہم سیاسی جماعتوں خصوصاً جماعت اسلامی، پیپلز پارٹی، اے این پی اور ایم کیوایم کی حمایت کے بغیر حکومت کے خاتمہ کا دعوی محض خام خیالی نظر آتا ہے۔عمران خان صاحب کو سوچ سمجھ کر اسلام آباد میں مارچ اور دھرنے کے دوران مطالبات کرنا ہوں گے، ایسے مطالبات جو فریقین کے لئے قابل قبول ہوں اور صورت حال کے باعزت حل کو یقینی بنا سکیں۔
Categories
نقطۂ نظر

لفڑا۔۔۔الیکشن کمیشن کا

انتخابات ہو گئے، حکومتیں بھی بن گئیں، لیکن ایک سال گزر جانے کے باوجود الیکشن کمیشن کا لفڑا جوں کا توں ہے۔ بلکہ اتوار کے روز مختلف سیاسی جماعتوں نے اپنے اپنے جلسوں میں الیکشن کمیشن کی شفافیت کو آڑے ہاتھوں لیا اور نئے آزادانہ کمیشن کی تشکیل کا مطالبہ بھی داغ دیا، اس سلسلے میں تحریک انصاف کے چیئرمین سر کردہ نظر آئے۔ یقینا جمہوریت کی بقا اور دوام کے لیے ایک بااختیار، آزاد، شفاف اور موثر الیکشن کمیشن بے حد ضروری ہے، اور اسی ضرورت کا ادراک کرتے ہوئے اب سبھی جماعتیں اس اہم نقطے پر متفق نظر آرہی ہیں۔ ایسے میں سوال یہ ہے کہ پھر لفڑا کیا ہے؟!
سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے الیکشن کمیشن کو دباؤ میں رکھا، درست! یہ بھی درست! لیکن سوال دو ہیں؛ ایک، سابق چیف جسٹس بارے یہ سب اتنی دیر سے کیوں سامنے آیا؟ اور اب جب کہ خان صاحب سو فیصد یقین سے ہیں تو وہ سابق سی جے کے خلاف کاروائی کا مطالبہ کیوں نہیں کرتے؟
طالب علم خان صاحب کی سیاسی بصیرت کا کوئی زیادہ مداح تو ہر گز نہیں، لیکن دن کو دن اور رات کو رات کہنے میں کبھی عار محسوس نہ کی۔ یہ اور بات ہے کہ کئی سیزنل سیاستدان سوشل میڈیا پر مزاح سے لپٹی گفتگو پڑھ کر سیخ پا ہو جاتے ہیں ۔ خیربات ہورہی ہے نئے الیکشن کمیشن کے قیام کی ۔تو اس بارے عرض ہے کہ اب پیپلز پارٹی، ق لیگ اور جماعت اسلامی نے الیکشن کمیشن کی تشکیل نو کے حوالے سے خان صاحب کے موقف کی تائید کر دی ہے، بھلے اسے سیاسی پلٹا سمجھیں یا بصیرت، لیکن بات اصولی ہے اور جمہوریت کے لیے بے پناہ اہمیت کی حامل بھی۔ پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما سینٹر اعتزاز احسن نے عمران خان کے مطالبات کی تائید کی اور الیکشن کمیشن کی تشکیل نو کا پرزور مطالبہ کیا۔ چوہدری پرویز الہی کے بقول غیر جانبدار الیکشن کمیشن کے بغیر صاف شفاف الیکشن کا خواب ممکن نہیں، ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ معاملہ قومی اسمبلی اور سینیٹ میں اٹھانے کے لیے جلدپارلیمانی پارٹی کو ہدایات جاری کریں گے۔ متحدہ قومی موومنٹ کی محترمہ ثمن جعفری نے پارٹی پوزیشن واضح انداز میں بیان کردی کہ متحدہ ہمیشہ سے ہی آزاد ، شفاف اور بااختیار الیکشن کمیشن کی حامی رہی ہے۔ جماعت اسلامی کے لیاقت بلوچ نے بھی بااختیار الیکشن کمیشن کی تشکیل کی حمایت کی ہے۔ دوسری جانب پنجاب کے وزیر قانون رانا ثنا اللہ کہہ چکے ہیں کہ اس معاملے پر پہلے سے سیاسی اتفاق رائے موجود ہے۔ درست، لیکن سوال یہ ہے کہ پھر لفڑا کیا ہے؟؟
خان صاحب نے اپنی تقریر میں سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری پر بھی تنقید کی، جس کی تائید سابق چیف الیکشن کمشنر فخر الدین جی ابراہیم چند روز پہلے ہی کر چکے ہیں، اس بارے ناچیز کو سابق سیکرٹری الیکشن کمیشن کنور دلشاد کے خیالات جاننے کا موقع ملا، دلشاد صاحب نے پہلی بار برملا اظہار کیا کہ جی ہاں، سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے الیکشن کمیشن کو دباؤ میں رکھا، درست! یہ بھی درست! لیکن سوال دو ہیں؛ ایک، سابق چیف جسٹس بارے یہ سب اتنی دیر سے کیوں سامنے آیا؟ اور اب جب کہ خان صاحب سو فیصد یقین سے ہیں تو وہ سابق سی جے کے خلاف کاروائی کا مطالبہ کیوں نہیں کرتے؟ کیوں نہ سپریم کورٹ سے رجوع کیا جائے کہ جناب سابق چیف جسٹس کو طلب کیا جائے اور اس اہم مدعے پر فل کورٹ بنچ تشکیل دے کر قصہ ہی تمام کیا جائے۔ لیکن سوال یہ بھی ہے کہ اگر ایسا نہیں ہو رہا اور معاملہ صرف میڈیا یا جلسے جلوسوں کو انٹرٹین کرنے کی حد تک ہی ہے تو پھر لفڑا کیا ہے۔
جب سبھی پارٹیاں اس مدعے پر متفق نظر آرہی ہیں تو کمی ہے صرف خلوص نیت کی، بسم اللہ کریں، پارلیمنٹ میں اصلاحاتی بل منظوری کے لیے پیش کریں۔
چلیے یہ بھی سنتے جائیے کہ موجودہ قانون کے مطابق چیف الیکشن کمشنر کی تقرری وزیر اعظم اور اپوزیشن لیڈر مشاورت سے کرتے ہیں، لیکن اس تقرری میں عمران خان اور پارلیمنٹ میں موجود دیگر بڑی سیاسی جماعتوں کے سربراہوں کا کوئی کردار نظر نہیں آتا، تو چیف الیکشن کمشنر کی تقرری تمام بڑے رہنماؤں کی رضا مندی سے کرنے کے لیے کیا طریقہ کار اختیار کرنا ہوگا؟ یہاں سوال یہ اٹھتا ہے کہ کیا کوئی ایسی ہستی ہے جس پر تمام سیاسی جماعتیں اور بالخصوص خان صاحب اتفاق رائے کرلیں؟ اگر نہیں تو پھر سوال وہی ہے۔ آخر لفڑا کیا ہے۔
مدعا جس قدر مشکل دکھائی دیتا ہے اس سے کہیں زیادہ آسان بھی ہے۔ جب سبھی پارٹیاں اس مدعے پر متفق نظر آرہی ہیں تو کمی ہے صرف خلوص نیت کی، بسم اللہ کریں، پارلیمنٹ میں اصلاحاتی بل منظوری کے لیے پیش کریں۔ اس بل کے لیے تمام جماعتوں کو آن بورڈ لیں، سیر حاصل بحث کروائیں، آئینی ماہرین کی سفارشات شامل کریں اور دو تہائی اکثریت سے منظوری کے بعد اسے آئین کا حصہ بنا ڈالیں (سبھی جماعتیں متفق ہیں تو پھر دو تہائی اکثریت سے منظوری یقینا بآسانی ہو جاوے گی)۔
اللہ اللہ خیر سلا۔ لیکن یہاں سوال لفڑے کا نہیں۔ سوال یہ ہے کہ مکھن سے بال نکالے گا کون؟! ہیں جی۔۔۔
قصہ مختصر، جمہوریت کے عدم تسلسل کے باعث جمہوریت کی اقدار کی پاسداری بھی تسلسل کے ساتھ نہ ہوسکی، یہی وجہ ہے کہ ہم آج بھی الیکشن کمیشن جیسے اہم مدعے پر شش و پنج میں مبتلا ہیں، راہ نما وہ ہوتا ہے جورہ نمائی کرے، اور ساتھ ساتھ مستقبل کے مسائل کا ادراک کرتے ہوئے ٹھوس اقدام اٹھائے۔ لیکن یہاں الٹی گنگا بہتی ہے، رہ نما آتے ہیں، ایوانوں میں دھمال ڈالتے ہیں اور اگلے آنے والوں کے لیے مسائل کو کئی گنا بڑھا کر جنگلوں میں کھو جاتے ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ یہاں اس مدعے پر تو اب سبھی راضی ہیں۔ تو پھر اصل لفڑا کیا ہے؟؟
منیر نیازی نے کہا تھا؛
خیال جس کا تھا مجھے ، خیال میں ملا مجھے
سوال کا جواب بھی سوال میں ملا مجھے
نوٹ: اتوار کے روز برپا کیے گئے جلوسوں کے بعد طالب علم مسلسل عالم استغراق میں ہے۔نہیں معلوم کہ اس روز جگہ جگہ بکھرے انقلاب کو قوم اب مزید کتنے دن سمیٹتی رہے گی۔
Categories
نقطۂ نظر

پی ٹی آئی؛ مطالبات درست طریقہ کار غلط

11 مئی کو اسلام آباد اور راولپنڈی کا موسم قدرے ٹھنڈا مگر سیاسی موسم خاصا گرم دکھائی دیا، مختلف عوامی مقامات پر عوامی تحریک نے جلسہ جمایا تو شاہراہ جمہوریت ڈی چوک پر تحریک انصاف اور عوامی مسلم لیگ نے اپنی سیاسی قوت کو مظاہر ہ کیاجبکہ فیض آباد انٹر چینج پر مجلس وحدت المسلمین نے دھرنا دیا۔ احتجاج کرتی ہو ئی تمام جماعتوں کے پروگرام الگ الگ مگر حکومت پر لگائے جانے والے الزامات بین بین ایک جیسے تھے ۔ لیاقت باغ میں جلسے کے دوران عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر طاہر القادری نے ملک کے اند ر رائج جمہوریت کو جھوٹی اور فریب زدہ جمہوریت سے تعبیر کیا ۔ طاہر القادری کے بقول پاکستان میں رائج پورے کا پورا سسٹم ہی آلودہ ہے جس سے پاکستان کے عام اور غریب شہری کو کسی خیر کی توقع نہیں رکھنی چاہیے۔ بہر کیف وہ پاکستان کے آئین کی علمداری پر یقین رکھتے ہیں اور ان کا مطالبہ بھی یہی ہے کہ 31سال کا عرصہ گزر جانے کے باوجود کوئی بھی حکومت آئین کے مطابق طے شدہ حقوق عوام کو دینے میں قاصر رہی ہیں اور اقتدار کی نچلی سطح پر منتقلی سے دانستہ طور پر رو گردانی کرتی رہی ہیں ، جس سے پاکستان میں جمہوری قدریں مستحکم ہونے کی بجائے اور زیادہ کمزور ہوئیں۔اسی غیر جمہوری رویہ کی وجہ سے عوامی فلاحی حکومت کے قیام کی بجائے نام نہاد خاندانی و موروثی جمہوریت نے لے لی جبکہ عوام محض تماشائی بن کر رہ گئے۔ طاہر القادری نے اپنے خطاب میں اپنے عوامی انقلاب کا ایجنڈا پیش کیا اور ان کے ایجنڈے میں دس نکات شامل تھے۔ ان دس نکات میں انہوں نے بے گھر افراد کے لیے گھر ، طویل مدتی بغیر سود کے قرضے ، روزگار الاونس ، کم آمدنی والے افراد کیلئے کھانے پینے کی اشیاء پر 50 فیصد سبسڈی ، بجلی، گیس پر عائد ٹیکس ختم کرنا، سرکاری انشورنس کا قیام ، یکساں نصاب تعلیم کے ساتھ میٹرک تک فری اور لازمی تعلیم، پیس ٹریننگ سنٹر کے قیام سے دہشت گردی و انتہاء پسندی کا خاتمہ ، گھریلو خواتین کے گھر کی سطح پر صنعتی یونٹس کا قیام، اقتدار کی گاؤں کی سطح تک منتقلی اور ہر ڈویژن کو صوبے کا درجہ دینا شامل ہیں۔
2013 کے الیکشن کو صاف و شفاف بنانے کیلئے حکومت اور اپوزیشن نے متفقہ طور پر نیوٹرل الیکشن کمشنر کو تعنیات کیا ، نئی انتخابی فہرتیں تیار کی گئی، مقناطیسی سیاہی کا استعمال کیا گیا، غیر متنازعہ وفاقی و صوبائی عبوری سیٹ اپ کے ساتھ ساتھ سابق ججوں پر مشتمل الیکشن ٹربیونل کا قیام عمل میں لایا گیا لیکن ان تمام انتظامات کے باوجود ہر سیاسی جماعت جہاں جہاں انتخابات ہاری وہاں وہاں اس نے الیکشن میں دھاندلی کا الزام لگایا۔
دوسری طرف عمران خان نے بھی موجودہ حکومت کے حاصل شدہ مینڈیٹ کو جعلی قرار دیتے ہوئے حالیہ الیکشن میں ہونے والی مبینہ دھاندلی کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ۔ عمران خان کا کہنا تھا کہ ہم نے انتخابات کو تسلیم کر لیا لیکن دھاندلی قبول نہیں کی۔ عمران خان نے اپنی جماعت کے احتجاج کو جمہوریت کے لئے خطرہ نہیں بلکہ صاف اور شفاف انتخابات کے انعقاد کے مطالبے کو جمہوریت کے استحکام کی بنیاد قرار دیا ۔ انھوں نے کہا کہ تحریک انصاف نے صرف چار حلقوں میں دھاندلی کی تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا لیکن سال گزرنے کے باوجود کوئی نتیجہ نہیں نکلا سکا۔ الیکشن سے قبل تمام سیاسی جماعتوں ، سول سوسائٹی ، میڈیا سمیت عام شہریوں کی نظریں الیکشن کمیشن اور خاص طور پر چیف الیکشن کمشنر فخرالدین جی ابراہیم کی طرف لگی تھیں کہ پاکستان میں شفاف انتخابات منعقد ہونے جا رہے ہیں لیکن انتخابات میں دھاندلی کی شکایات منظر عام پر آنے کے بعد اب سیاسی جماعتیں سپریم کورٹ کی طرف دیکھ رہی ہیں۔ 2013 کے الیکشن کو صاف و شفاف بنانے کیلئے حکومت اور اپوزیشن نے متفقہ طور پر نیوٹرل الیکشن کمشنر کو تعنیات کیا ، نئی انتخابی فہرتیں تیار کی گئی، مقناطیسی سیاہی کا استعمال کیا گیا، غیر متنازعہ وفاقی و صوبائی عبوری سیٹ اپ کے ساتھ ساتھ سابق ججوں پر مشتمل الیکشن ٹربیونل کا قیام عمل میں لایا گیا لیکن ان تمام انتظامات کے باوجود ہر سیاسی جماعت جہاں جہاں انتخابات ہاری وہاں وہاں اس نے الیکشن میں دھاندلی کا الزام لگایا۔
بی بی سی اردو کی رپورٹ کے مطابق الیکشن کمشن نے انتخابی نتائج سے منسلک شکایات سننے کے لیے چودہ ٹربیونائل بنائے اور قانون کے تحت انتخابی امید وار پنتالیس دونوں میں نتائج سےمتعلق شکایات داخل کروا سکتے تھے۔ الیکشن کمشن نے انتخابی نتائج سے منسلک چار سو دس شکایات الیکش ٹربیونلز کو بھیجوائیں اور قانون کے تحت الیکشن ٹربیونلز کو ایک سو بیس دنوں یعنی چار ماہ میں شکایات سننے کے بعد اپنا فیصلہ سنانا تھا لیکن ابھی بھی کئی سو پٹیشنز زیر التوا ہیں۔ اسی طرح پاکستان میں انتخابات کے اعداد و شمار اکٹھا کرنے والی غیر سرکاری تنظیم فری اینڈ فئیر الیکشن نیٹ ورک (فافین) کی رپورٹ کے مطابق مارچ دو ہزار چودہ تک الیکشن ٹربیونلز نے چار سو دس شکایات میں سے تین سو پچاسی درخوستوں پر فیصلہ سنایا جبکہ باقی شکایات کے فیصلے آنے باقی ہیں۔حکومت اور اپوزیشن رہنما ان سیاسی اجتماعات کو جمہوریت کے لیے خطرہ سمجھ رہے ہیں۔ ان کے خیال میں ان جلسے جلسوں کے نتیجے میں ملک میں غیر جمہوری قوتوں کواقتدار میں لانے کا موقع مل جاتا ہے جس کا پاکستان متحمل نہیں ہو سکتا۔ وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہاکہ عمران خان کے مطالبات حکومت سے نہیں ہیں مگر پھر بھی حکومت کے دائرہ اختیار میں جو کچھ ہے وہ کرنے کو تیار ہیں۔ انھوں نے کہا ’انھیں(عمران خان) اعتراضات ہیں تو الیکشن ٹربیونلز اور الیکشن کمیشن سےہیں ، اعلیٰ عدالتوں کے پاس تحریک انصاف کی شکایات سننے اور ان کا ازالہ کرنے اختیارات ہیں اور اعلیٰ عدالتیں آزاد ہیں، حکومت کے پاس کوئی ایسا اِختیار نہیں ہے۔
تحریک انصاف کی شکایات اور احتجاج کا جمہوری حق بجا لیکن سڑکوں پر احتجاج سے قبل تمام آئینی راستے اختیار کر لینا ضروری ہے۔تحریک انصاف احتجاج کے ذریعے اگر اپنے مطالبات منوانا چاہتی ہے تو اس کا مطلب ہے کہ وہ پارلیمنٹ اور مسلم لیگ نون کو انتخابات کے ذریعے ملنے والے عوامی مینڈیٹ کو کوئی اہمیت نہیں دیتی اور سٹریٹ پاور کے استعمال سے تصادم اور ہنگامہ آرائی کی سیاست کے ذریعے ملک کو عدم استحکام سے دوچار کر کے نئے الیکشنز اور حکومت پر قبضہ چاہتی ہے۔
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے پاکستان میں جمہوریت پر کام کرنے والی غیر سرکاری تنظیم PILDAT کے چئرمین احمر بلال صوفی نے کہا کہ الیکشن کمشن اور انتخابی نظام کو شفاف بنانے کے لیے پارلیمان میں رہتے ہوئے کوشش کرنی چاہیے۔ انھوں نے کہا کہ ’ مسئلہ ہے تو اُسے حل کرنے کے لیے قانون بنانا پڑے گا،کوئی ترمیم لانا پڑی گی۔ پارلیمنٹ میں تو آپ خود بھی ہیں آپ ترمیم لا سکتے ہیں قانون لا سکتے لیکن یہ راستہ انھوں نے بالکل چھوڑ دیا ہے۔ لیکن سوال یہ اٹھتا ہے کہ پاکستان میں حکومت اور دیگر ادارے کیوں اپنی ناقص کاردگردگی کی بناء پر ایسا مواقع کیوں فراہم کرتے ہیں کہ مخصوص جماعتیں ایسے ہنگامے برپا کرنے پر تل جاتی ہیں۔ اس بات میں کوئی شک و شبہ نہیں کہ مستحکم جمہوریت ہی میں پاکستان کا روشن مستقبل پنہاں ہے مگر جمہوریت وہ ہوتی ہے جس میں جمہور کی بہتری اور خوشحالی کی ضمانت موجود ہو مگر پاکستان میں ہر آنے والے جمہوری حکومت نے جمہور پر عرصہ حیات تنگ کئے رکھا۔ان جمہوری ادوار میں کرپشن، اقرباء پروری ، رشورت ، سفارش، دھونس دھاندلی ، قتل و غارت اور غربت جیسے مسائل میں مزید اضافہ ہوا۔
تحریک انصاف کی شکایات اور احتجاج کا جمہوری حق بجا لیکن سڑکوں پر احتجاج سے قبل تمام آئینی راستے اختیار کر لینا ضروری ہے۔تحریک انصاف احتجاج کے ذریعے اگر اپنے مطالبات منوانا چاہتی ہے تو اس کا مطلب ہے کہ وہ پارلیمنٹ اور مسلم لیگ نون کو انتخابات کے ذریعے ملنے والے عوامی مینڈیٹ کو کوئی اہمیت نہیں دیتی اور سٹریٹ پاور کے استعمال سے تصادم اور ہنگامہ آرائی کی سیاست کے ذریعے ملک کو عدم استحکام سے دوچار کر کے نئے الیکشنز اور حکومت پر قبضہ چاہتی ہے۔
ایک مستحکم جمہوریت کے لئے پاکستان میں موجود تمام اداروں کو اپنے اپنے آئین میں متعین شدہ حدود کے اندر کام کرنا ہو گا اور اداروں کی تکریم کو مقدم رکھنا ہوگا۔ جمہوریت میں پرامن احتجاج کو حق ہر شہری کو حاصل ہے لہذا عوام کے جمہوری حق کو شک کی عینک لگا کر دیکھنا صریحاً غلط ہے ۔ عوام کے جائز مطالبات کو پورا کرنا حکومت وقت کی آئینی ذمہ داری ہے ۔ جمہوریت کو اگر بچانا ہے تو سب کو اپنا اپنا مثبت کردار ادا کرنا ہو گا جس میں سب سے بھاری ذمہ داری حزب اختلاف خصوصاً تحریک انصاف پر عائد ہوتی ہے۔