Categories
اداریہ

سپاہ صحابہ سے تعلق؛ پنجاب یونیورسٹی کے دو اساتذہ اور ایک طالب علم گرفتار

پنجاب یونیورسٹی اپنے اساتذہ کی وجہ سے آج کل خبروں کی زینت ہے، لیکن بدقسمتی سے یہ اساتذہ تحقیق، تصنیف یاتالیف کے میدان میں کارہائے نمایاں کی بجائے دہشت گرد مذہبی تنظیموں کے ساتھ روابط کی وجہ سے سرخیوں میں ہیں۔ کاونٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ پنجاب نے 14 دسمبر کی صبح کارروائی کرتے ہوئے پنجاب یونیورسٹی کے دواساتذہ اور ایک طالب علم کو کالعدم قرار دی گئی تکفیری دہشت گرد تنظیم سپاہ صحابہ سے تعلق کی بناء پر گرفتار کیا ہے۔ کاؤنٹر ٹیرارزم ڈپارٹمنٹ پنجاب نے انسٹی ٹیوٹ آف ایڈمنسٹریشن سائنسز کے اسسٹنٹ پروفیسر عامر سعید، بوائز ہاسٹل کے سپرنٹنڈنٹ اور کالج آف انفارمیشن ٹیکنالوجی کے لیکچرار عمر نواز اور لاء کالج میں ساتویں سیمسٹر کے طالب علم وقار(بعض اطلاعات کے مطابق وقاص) کو حراست میں لینے کا دعویٰ کیا ہے۔

 

کاونٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ پنجاب نے 14 دسمبر کی صبح کارروائی کرتے ہوئے پنجاب یونیورسٹی کے دواساتذہ اور ایک طالب علم کو کالعدم سپاہ صحابہ سے تعلق کی بناء پر گرفتار کیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق سی ٹی ڈی نے اسسٹنٹ پروفیسر عامر سعید کو مرد اساتذہ کے لیے مخصوص ہاسٹل سے گرفتار کیا جہاں وہ اپنے خاندان کے ساتھ رہائش پذیر تھے۔ لیکچرر عمر نواز کو بوائز ہاسٹل کے سپرٹنڈنٹ ہاوس سے حراست میں لیا گیا۔ طالب علم وقار کو بھی یونیورسٹی حدود میں سے ہی گرفتار کیا گیا ہے۔ یونیورسٹی ترجمان کے مطابق چھاپہ صبح کے وقت پنجاب یونیورسٹی کے نیو کیمپس پر مارا گیا جس کی اطلاع انتظامیہ کو پہلے نہیں دی گئی تھی۔ اکیڈمک سٹاف ایسوسی ایشن نے اس کارروائی کی مذمت کی ہے اور اسے “تعلیمی سلسلے کو متاثر کرنے والا اقدام” قرار دیا ہے۔

 

ایسوسی ایشن کے عہدیداران کا کہنا ہے کہ معاشرے میں اساتذہ کا ایک وقار ہے اگر ان سے کسی بھی قسم کی تفتیش کرنا درکار ہے تو اس کے لیے مناسب طریقہ اختیار کرنا چاہیئے۔ اس طرح کے چھاپوں سے نہ صرف اساتذہ بلکہ کیمپس میں موجود طلبہ بھی ہراساں ہوتے ہیں اور ان کا تعلیمی سلسلہ متاثر ہوتا ہے۔ تاہم یونیورسٹی انتظامیہ نے پنجاب یونیورسٹی میں ایسے مزید اساتذہ یا طلبہ کی نشاندہی، ان کے خلاف کارروائی اور یونیورسٹی حدود میں ایسی تنظیموں کی سرگرمیاں روکنے کے لیے تاحال کوئی لائحہ عمل طے نہیں کیا۔ پنجاب یونیورسٹی سے گزشتہ بیس سال سے وابستہ ایک استاد نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر لالٹین سے بات کرتے ہوئے کہاکہ یونیورسٹی میں اس حوالے سے کبھی کوئی سنجیدہ بات چیت نہیں ہوئی اور نہ ہی کبھی کسی کالعدم تنظیم سے روابط کو برا سمجھا گیا ہے۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ اگرچہ گزشتہ کئی برس سے یونیورسٹی میں کھلے عام کالعدم تنظیموں کی سرگرمیاں نہیں ہو رہیں تاہم ان کا کہنا ہے کہ درپردہ خفیہ طور پر ان تنظیموں کے ہمدرد موجود ہیں۔

 

یونیورسٹی انتظامیہ نے پنجاب یونیورسٹی میں ایسے مزید اساتذہ یا طلبہ کی موجودگی اور یونیورسٹی حدود میں کالعدم مذہبی دہشت گرد تنظیموں کی سرگرمیاں روکنے کے لیے تاحال کوئی لائحہ عمل طے نہیں کیا۔
سپاہ صحابہ ایک تکفیری دہشت گرد تنظیم ہے جو اہل تشیع کے خلاف دہشت گرد کارروائیوں میں ملوث ہے۔ جنرل مشرف کے دور میں اس پر پابندی عائد کی گئی تھی جس کے بعد اس تحریک نے اہل سنت و الجماعت کی شکل اختیار کر لی۔ حال ہی میں اہل سنت و الجماعت پر پابندیوں کے بعد اس جماعت نے راہ حق پارٹی کی شکل میں انتخابات می حصہ لیا ہے۔
عامر سعید، عمر نواب اور وقاص کی گرفتاری سے قبل قبل 7 دسمبر کو انسٹی ٹیوٹ آف آیڈمنسٹریٹو سٹڈیز کے ایک اور استاد غالب عطا کو کالعدم تنظیم حزب التحریر سے روابط کی بنیاد پر گرفتار کیا گیا تھا۔

 

اس سے قبل رواں برس 20 اپریل کو پنجاب یونیورسٹی ہاسٹل نمبر 14 کی کینٹین پر حزب التحریر پنجاب کا سربراہ بھی گرفتار کیا جا چکا ہے۔ ستمبر 2013 میں حساس اداروں نے القاعدہ کے ایک رکن کو بھی پنجاب یونیورسٹی کے ہاسٹل نمبر 1 سے گرفتار کیا تھا۔ شدت پسند جہادی تنظیموں کا اثر صرف پنجاب یونیورسٹی میں ہی موجود نہیں ان کے اراکین پاکستان کی دیگر یونیورسٹیوں میں بھی موجود ہیں۔ سانحہ صفورا کے ملزمان بھی پاکستان کے اعلیٰ تعلیمی اداروں میں پڑھتے رہے ہیں۔
Categories
نان فکشن

مذہبی انتہا پسند اور ہمارے کوتاہ بین فیصلہ ساز

اگر کسی دیوانے کو یہ لگتا ہے کہ ہمارے ملک کے مقتدر طبقے میں شامل بڑی سیاسی جماعتیں فرقہ واریت اور انتہاپسندی کے عفریت کے خلاف غیر معمولی طور پر متفق اور متحد ہیں تو ازراہ کرم اس دیوانگی سے نکل آیئے۔ حالیہ بلدیاتی انتخابات میں سیاسی مفادات کے لیے جس طرح بڑی سیاسی جماعتوں نے بھیس بدل کر انتخابات میں حصہ لینے والی فرقہ پرست مذہبی تنظیموں سے سیاسی گٹھ جوڑ کیا ہے اس سے یہ واضح ہو گیا ہے کہ اپنے مفادات کے حصول کے لیے کوشاں ان سیاسی کرداروں نے پچھلے تیس سال سے جاری قتل و غارت اور بدنامی سے کچھ نہیں سیکھا۔ بی بی سی کی وہ خبر جس میں کالعدم سپاہ صحابہ پاکستان کی ہمشیرہ سیاسی جماعت “راہ حق پارٹی” کی انتخابی کارکردگی اور سیاسی اتحادوں کے باعث بلدیاتی انتخابات میں ملنے والی سیاسی کامیابی کا ذکر کیا گیا ہے، ہماری آنکھیں کھولنے کے لیے کافی ہے۔ حیرت ہے کہ ملک بھر کےمیڈیائی سپہ سالاروں پر کہ جن کی نگاہوں اور تبصروں کامطمع نظر “سب سے پہلے اور سب سے آگے” کی دوڑ ہے، جال ہے جو انہیں کبھی مثبت صحافت اور سیاسی شعور اجاگر کرنے کی توفیق عطا ہوئی ہو۔

 

راہ حق پارٹی کی انتخابی مہم
راہ حق پارٹی کی انتخابی مہم
وہ ادارے جو انتہاپسندسوچ کے خاتمے کے لیے قائم کیے گئے تھے ان کی تو خیر بات کرنا ہی بے وقوفی ہے۔ جب بھی کسی انتہاپسند عسکری یا سیاسی جماعت پر پابندی لگتی ہے تو وہ اگلی ہی صبح نام بدل کر گنگا نہا کر پوتر ہوجاتی ہے۔ اس صورتحال پر اگر تمثیلی طور پر کہا جائے تو نورے کمہار کا گدھا تو آگاہ ہوتا ہے مگر نیشنل ایکشن پلان اور الیکشن کمیشن آف پاکستان ناواقف و نا آشنا ہوتے ہیں۔

 

حالیہ بلدیاتی انتخابات میں جھنگ کے اندر ‘راہ حق پارٹی’ کے انتخابی نشان استری پر وہی چہرے 13 نشستیں جیتنے کے بعد اب ضلعی حکومت بنانے کی کوشش میں ہیں، جو کچھ عرصہ قبل کالعدم قرا دی گئی تنظیموں کے نمائندہ ہوا کرتے تھے۔ انتخابی حمایت کے لیے نعرے بھی وہی لگائے گئے جو کالعدم جماعتوں کے دور میں متعارف کروائے گئے تھے۔ لوگوں کو اپنی حمایت میں ووٹ دینے کے لیے یاددہانیاں بھی انہی امور کی کروائی گئیں جو کبھی کالعدم قرار دی جانے والی تنظیموں کا ایجنڈا تھے۔

 

راہ حق پارٹی کا انتخابی نشان استری تھا
راہ حق پارٹی کا انتخابی نشان استری تھا
راہ حق پارٹی سے سیاسی اتحاد کرنے والوں میں صرف دائیں بازو کی سیاسی جماعتیں ہی نہیں ہیں بلکہ عوامی نیشنل پارٹی اور پیپلز پارٹی جیسی ترقی پسند جماعتوں نے بھی بلدیاتی انتخابات میں اس جماعت کے ساتھ اتحاد کیا ہے۔
حیران کن امر یہ ہے کہ چیئرمین بلاول بھٹو کس بل بوتے پر مذہبی انتہاپسندی کو للکارتے ہیں جب کہ بلدیاتی انتخابات کے لیے کراچی کی یوسی3 کا ایک تشہیر ی بورڈ اس عبارت کا حامل ہو۔ “جماعت اہل سنت کے حمایت یافتہ پاکستان پیپلز پارٹی اور راہ حق پارٹی کے متفقہ امیدوار برائے چئیرمین فلاں صاحب” اور بورڈ پر ذوالفقار علی بھٹو مرحوم کی تصویر کے عین اوپر مولانا اورنگ زیب فاروقی صاحب کی تصویر لگی ہو جو پچھلے سال خیرپور سندھ میں موجود جامعہ حیدریہ کے جلسے میں تقریر کرتے ہوئے سپاہ صحابہ سے وفاداری کی بیعت کے لیے ہزاروں کے مجمع سے مخاطب تھے اور دلائل دیتے ہوئے نہایت جذباتی انداز میں اپنی تنظیم کا فکری تعلق چیچنیا، افغانستان، شام، عراق سے جوڑتے ہوئے اسلام آباد کی لال مسجد تک لے آئے تھے۔

 

Rah-e-Haq Party and ANP

عوامی نیشنل پارٹی اور پیپلز پارٹی نے بھی راہ حق پارٹی کے ساتھ اتحاد کیا
عوامی نیشنل پارٹی اور پیپلز پارٹی نے بھی راہ حق پارٹی کے ساتھ اتحاد کیا
پاکستان کے ‘ہردلعزیز’ وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف کس بل بوتے پر پاکستان کا مستقبل لبرل ازم اور جمہوریت میں دیکھتے ہیں جبکہ خود ان کی سیاسی جماعت نے بھی حالیہ بلدیاتی انتخابات میں ووٹ لینے کے لیے انتہاپسندی کی بہتی گنگا میں اشنان کیا ہو۔ بی بی سی اردو کی ایک رپورٹر نے پچھلے سال جھنگ سے اپنی ایک رپورٹ میں تحریر کیا تھا کہ “مولانا محمد احمد لدھیانوی کی زیر سربراہی اہل سنت و الجماعت کی تنظیم ہو بہو سپاہ صحابہ پاکستان کی نقل ہے۔ جھنگ میں جامعہ مسجد حق نواز سمیت اس کے دفاتر بھی انہی مقامات پر قائم ہیں جہاں بارہ برس قبل پابندی کا شکار ہونے سے قبل سپاہ صحابہ کے دفاتر ہوا کرتے تھے۔ اس کے علاوہ اہل سنت کی قیادت اب بھی اپنی تقاریر اور کارکنوں کے ساتھ روابط کے لیے سپاہ صحابہ کا نام کثرت سے استعمال کرتی ہے۔”

 

راہ حق پارٹی‘ کے صوبہ سندھ کے کنویئنر ثنااللہ حیدری مقتول مولانا علی شیر حیدری بھائی ہیں جو سپاہ صحابہ پاکستان کے سربراہ رہ چکے ہیں۔ الیکشن کمیشن میں اس پارٹی کی رجسٹریشن حکیم محمد ابراہیم قاسمی صاحب کی طرف سے ہوئی ہے جو خیبر پختونخوا میں سپاہ صحابہ کے سرگرم رہنماء رہے ہیں۔

 

کیا فرقہ وارانہ تشدد کی ذمہ داری بالواسطہ یا بلاواسطہ طور پر اسی جماعت پر عائد نہیں ہوتی؟

 

کیا اہل سنت والجماعت، سپاہ صحابہ اور لشکر جھنگوی، ان تمام جماعتوں کو ایک ہی سکے کے مختلف رخ نہیں؟

 

کیا ہم نہیں جانتے کہ سپاہ صحابہ پاکستان کو کالعدم قرار دیئے جانے کے بعد اس تنظیم نے اپنا نام اہل سنت والجماعت نہیں رکھ لیا ہے ؟

 

پاکستان میں مذہبی انتہاء پسندی پر تحقیق کرنے والے معتبر محقق عامر رانا نے غیر ملکی خبر رساں ادارے سے جماعت اہل سنت کی سیاسی تشکیل پر گفتگو کرتے ہوئے جو کہا وہ بہت کچھ بیان کردیتا ہے:
اگر چہ لشکر جھنگوی اور جماعت اہل سنت میں تنظیمی ربط نہیں رہ گیا لیکن لشکر کے پاس جو افرادی قوت ہے وہ سپاہ صحابہ یا جماعت اہل سنت ہی سے حاصل شدہ ہے۔ اس لیے کسی نہ کسی سطح پر اب بھی لشکر جھنگوی اور اہل سنت کا حلقۂنیابت ایک ہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اہل سنت والجماعت کی قیادت لاکھ کوشش کر لے، لشکر جھنگوی سے جان چھڑوانا اس کے لیے ممکن نہیں ہے۔

 

جھنگ، کبیر والا، خانیوال، خیرپور اور اب کراچی کے مختلف حلقوں میں کھڑے کیے گئے 250 سے زائد امیدوار یہ سمجھانے کے لیے کافی ہیں کہ انتہاءپسند عناصر اب اپنے مقاصد کی تکمیل کے لیے بلٹ کے ساتھ ساتھ بیلٹ کو بھی بطور ہتھیار استعمال کررہے ہیں۔ اور وہ ہاتھ جو ان کا قلع قمع کرنے پر معین ہونے چاہیئں وہی ہاتھ ان سانپوں کو دودھ پلا رہے ہیں۔

 

راہ حق پارٹی میں کالعدم سپاہ صحابہ کے اراکین کی کثیر تعداد شامل ہے
راہ حق پارٹی میں کالعدم سپاہ صحابہ کے اراکین کی کثیر تعداد شامل ہے
نیشنل ایکشن پلان اور آپریشن ضرب عضب کی کامیابی کے لیے لازم ہے کہ انتہاپسندوں کو نشانہ بنانے کے ساتھ ساتھ پالیسی ساز ادارے ان نظریات کا بھی قلع قمع کریں جو اس فکر کو افرادی قوت مہیا کرتے ہیں۔ جب تک ایک موثر، یکجا اور واضح پالیسی بنا کر بلاتفریق ان تمام گروہوں کو کیفر کردار تک نہیں پہنچایا جاتا جو مذہبی تعصب اور تکفیری فکر کی بنیاد پر معاشرے کی جڑیں کھوکھلی کر رہے ہیں تب تک ترقی یافتہ، پرامن اور خوشحال پاکستان کا خواب تعبیر نہیں پا سکتا۔
Categories
نقطۂ نظر

قبر سے واپسی

حماد حسن

qabar

 

کیا آپ جانتے ہیں کہ آپ کے چاروں طرف پھیلی ہوئی مذہبی انتہا پسندی کی جڑیں کہاں ہو سکتی ہیں اور وہ کونسی فیکٹریاں ہیں جہاں یہ پروڈکٹ تیار ہو کر ملک کی کونے کونے میں سپلائی ہوتی ہے ؟ وہ کون سے عناصر ہیں جو اس ڈرامے کے اصل ہدایت کار ہیں ؟ ان سارے سوالوں کا جواب اور اس صورت حال کا نقشہ شاید میری آپ بیتی سے واضح ہو پائے۔
میں ضلع مظفر گڑھ کے ایک گاﺅں میں پیدا ہوا۔بچپن کے ابتدائی سال انتہائی خوشگوار تھے۔ سارا سارا دن اپنے کزنوں کے ہمراہ گھر کے بڑے صحن میں کھیلنا میرا معمول تھا۔ ہر صبح ایک سہانی صبح ہوتی اور ہر شام کے پرندے مسرت کا پیغام دے کر جاتے ، کسی بھی قسم کے غم کے وائرس نے ابھی میرے سسٹم پر حملہ نہیں کیا تھا۔ مجھے معلوم نہ تھا کہ میری زندگی میں ایک ایسا موڑ آنے والا ہے جس کے اثرات میرے دل و دماغ پر شدید ہوں گے۔
پانچویں جماعت کا امتحان پاس کرنے کے بعد میرے والدین نے مجھے دین کی ”اعلیٰ “ تعلیم دلوانے کے لیی نواحی گاﺅں کی ایک مشہور مدرسے میں داخل کروا دیا ۔ جبکہ میرے بڑے بہن بھائی میڈیکل کالجوں اور یونیورسٹیوں میں پڑھ رہے تھے۔ میرے والدین کی خواہش تھی کہ وہ اپنے ایک بچے کو دین کے لیے وقف کریں گے۔
مدرسے میں پڑھنے والے کو ”طالب ‘ جبکہ پڑھانے والے کو ”استاد جی “ کہا جاتا تھا مدرسے میں دو ہزار کے لگ بھگ طالب زیر تعلیم تھے۔ جن میں سے بہت سارے طالب مدرسے میں رہائش پذیر تھے جبکہ باقی طالبوں کا تعلق مقامی گاﺅں

مدرسے میں موجود کتب فرقہ واریت پر مبنی مواد سے بھرپور تھیں۔ ٹیپ ریکارڈ ز پرسپاہِ صحابہ کے مولویوں کی تقاریر بلند آواز میں چلا کرتی تھیں۔ جا بجا دیواروں پر اسٹکرز چسپاں ہوتے تھے جن پر تلواروں اور بندوقوں کی تصاویر ہوتی تھیں اور جہادی نعرے درج ہوتے تھے

سے تھا ۔اس مدرسے کے پڑھے ہوئے بہت سے طالب مختلف علاقوں کی مساجد کے منبر سنبھال چکے تھے۔
شہر سے گاﺅں میں اور اسکول سے مدرسے میں، شروع میں تومیں وہاں کے ماحول کو سمجھ نہ پایا۔ پھر آہستہ آہستہ پردے ہٹتے گئے۔ اُستاد جی نے میرا استقبال قمیض کے کالر کاٹ کر کیا۔ انہوں نے فرمایا کہ یہ انگریزوں کی ایجاد ہے اور یہ کتے کے کان ہیں ،مجھے ایک ٹوپی ہر وقت پہنے رکھنے، اور بڑا حاجیوں والاچوخانہ رومال اپنے کندھوں پہ ڈالے رکھنے کا حکم دیا گیا۔
صبح منہ اندھیرے تین بجے نیند سے بیدار کر دیا جاتا ۔ فجر کی نماز تک کلاس ہوتی جس میں بچے روز کا یاد کیا ہوا سبق سناتے تھے۔نماز کے بعد پھر کلاس شروع ہو جاتی جو 11:00بجے تک جاری رہتی۔ 11:30 پر ناشتہ اور دوپہر کا کھانا ایک ساتھ دیا جاتا تھا۔ 12:00بجے سے ظہر کی نماز تک کے وقفہ میں طالب کپڑے دھوتے، نہاتے اور آرام کرتے تھے، ظہر سے عصر کی نماز تک پھر کلاس ہوتی۔ عصر سے مغر ب کے وقفے کے دوران رہائشی طالب کھیلتے جبکہ وہاں کے مقامی طالبوں کو برتنوں کے ساتھ مقامی گھروں سے استاد جی حضرات کے لیے کھانا مانگنے کے لیے بھیج دیا جاتا۔ مغرب سے عشاءتک پھر کلاس ہوتی اور عشاءکی نماز کے بعد رات کا کھانا کھا کر طالب سونے کے لیے اپنے اپنے بستروں میں چلے جاتے۔
مدرسے میں موجود کتب فرقہ واریت پر مبنی مواد سے بھرپور تھیں۔ ٹیپ ریکارڈ ز پرسپاہِ صحابہ کے مولویوں کی تقاریر بلند آواز میں چلا کرتی تھیں۔ جا بجا دیواروں پر اسٹکرز چسپاں ہوتے تھے جن پر تلواروں اور بندوقوں کی تصاویر ہوتی تھیں اور جہادی نعرے درج ہوتے تھے۔ مدرسے میں ٹوائلٹ کو بیت الخلا کہا جاتا تھا۔ وہاں جا کر یونہی محسوس ہوتا تھا جیسے انسان واقعی خلاﺅں میں چلا گیا ہو، وہاں کی دیواروں پر بھی دوسرے فرقوں کے خلاف کُفر کے فتوے درج ہوتے تھے۔ طالب اور استاد جی حضرات باہمی گفتگو میں دوسرے مسالک کے لوگوں پر پھبتیاں کستے اور برا بھلا کہتے۔
معمولی معمولی باتوں پر سخت سزائیں دی جاتی تھیں جن میں بید سے مارنا، مرغا بنانا، چہرے پر تھپڑ مارنا سرفہرست تھیں۔ میرے سامنے استاد جی نے ایک 6سالہ بچے کو گریبان سے پکڑ کر اٹھایا اور زمین پر دے مارا ۔اس کے سر پر ایسی شدید چوٹ لگی کہ اُس کے حواس کافی دیر تک بحال نہ ہوئے ۔ والی بال کھیل کھیل کر استاد جی حضرات تھپڑ رسید کرنے میں کافی مہارت حاصل کر چکے تھے۔
مدرسے میں صرف والی بال کھیلی جاتی تھی (یہ دیہاتی طرز کی والی بال ہوتی ہے جس کے اصول وقوانین ، بین الاقوامی طور پر کھیلی جانے والی ، والی بال سے کافی مختلف ہیں ) ۔ ایک دفعہ ہم نے کرکٹ کھیلی، استاد جی کو کسی طرح پتا چل گیا۔ انہوں نے ہمیں بید سے پیٹا اور بیٹ کو تنور میں ڈال دیا۔ انہوں نے فرمایا ”کرکٹ انگریزی کھیل ہے، والی
بال کھیلا کرو، یہ اسلامی ہے “۔
طالب مختلف ”غیر نصابی “ سرگرمیوں میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے تھے۔ استاد جی حضرات ان سرگرمیوں کی سرپرستی کرتے تھے۔ ان سرگرمیوں میں تبلیغی جماعت کے ساتھ وقت لگانا، جہادی کیمپوں میں جا کر عسکری تربیت حاصل کرنا اور باقی طالبوں کو بھی جہاد کی طرف مائل کرنا سرفہرست ہوتی تھیں۔ 9/11کے بعد ایک ترانہ طالبوں میں بہت مقبول تھا جس کے بول تھے ”میرا شیر اسامہ بن لادن، اسلام کا ہیرو نمبر ون“۔
طالبوں کا مدرسے کی چاردیواری سے باہر کی دنیا سے رابطے کا ذریعہ اخبار ہوا کرتے تھے۔ ان اخباروں میں جہادی تنظیموں کے اخباروں تک طالبوں کو رسائی حاصل تھی جبکہ باقی اخبارات کو پڑھنے کی اجازت نہ تھی، صرف استاد جی حضرات انہیں پڑھ سکتے تھے ۔ ان کا کہنا تھا کہ اخباروں میں برہنہ تصاویر ہوتی ہیں جن کی وجہ سے طالبوں کا ایمان متزلزل ہوتا ہے۔

ایک استاد جی کو میں جب بھی ملتا تو وہ مجھے سینے سے لگا کر ضرورت سی زیادہ بھینچتے۔ اُن کا یہ غیر معمولی عمل اکثر تنہائی میں ہوتا۔جب میں نے اپنے دوستوں سے استادجی کی اس غیر معمولی گرمجوشی کا ذکر کیا تو انہوں نے بھی اس سے ملتے جلتے تجربات بیان کیے ۔ آخر ایک سینئر طالب سے دریافت کرنے پر ایسے ایسے حقائق سے پردہ اُٹھا کہ مجھے اپنے کانوں پر یقین نہ آیا

انہیں دنوں 99ءکا کرکٹ ورلڈ کپ ہو رہا تھا ایک استاد جی جو قدرے زندہ دل معلوم ہوتے تھے، نے مجھ سے مختلف میچوں کی صورت حال دریافت کی۔ اُن کی دلچسپی کو مدنظر رکھتے ہوئے میں نے بڑھ چڑھ کر تفصیلات مہیا کیں ۔ میرے ذخیرہ معلومات سے متاثر ہو کر وہ کچھ سوچ میں پڑ گئے۔ پھر انہوں نے کچھ طالبوں کو بلا کر میرے سامان کی تلاشی کا حکم دیا۔ میرے سامان سے ایک بے ضرر ننھا سا ریڈیو دریافت ہونے پر میری جو درگت سنی، اسے آج بھی یاد کرتا ہوں تو رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔
مدرسہ میں طالبوں کو حکم دیا جاتا کہ استاد جی حضرات کو ہمیشہ جھک کر ملنا چاہئیے۔ ایسا کرنے سے سبق زیادہ یاد ہوتا ہے۔ چنانچہ ایک استاد جی کو میں جب بھی ملتا تو وہ مجھے سینے سے لگا کر ضرورت سی زیادہ بھینچتے۔ اُن کا یہ غیر معمولی عمل اکثر تنہائی میں ہوتا۔جب میں نے اپنے دوستوں سے استادجی کی اس غیر معمولی گرمجوشی کا ذکر کیا تو انہوں نے بھی اس سے ملتے جلتے تجربات بیان کیے ۔ آخر ایک سینئر طالب سے دریافت کرنے پر ایسے ایسے حقائق سے پردہ اُٹھا کہ مجھے اپنے کانوں پر یقین نہ آیا۔
اُنہیں دنوں مدرسے میں ایک نئے اُستاد جی بھرتی کیے گئے ، ان کی آمد کے کچھ ہی دنوں بعد ایک رات جب ہم سب سو چکے تھے تو اچانک شور ہونے پر میری آنکھ کھل گئی ۔ میں اپنے کمرے سے ایک دوست کے ہمراہ باہر نکلا تو دیکھا کہ نئے استاد جی کے کمرے کے باہر کچھ طالب جمع تھے۔ تھوڑی دیر میں ایک اور استاد جی وہاں آگئے۔ انہوں نے طالبوں کو وہاں سے منتشر کیا اور نئے استاد جی کے کمرے کے دروازے پر دستک دے کر انہیں آواز دی۔ کمرہ کھلا اور استاد جی بر آمد ہوئے۔ پرانے استاد نے اندر جا کر ایک نو دس سالہ لڑکے کو باہر نکالا جس کو نئے استاد محترم نے’ پاﺅں دبوانے ‘کے لیے رات گئے اپنے کمرے میں بلا لیا تھا۔ پرانے استاد نے اس معصوم لڑکے کی پٹائی شروع کر دی کہ وہ اتنی رات گئے اس کمرے میں کیا کر رہا تھا۔ اس کے بعد معاملہ رفع دفع ہو گیا۔
اتنے بڑے مدرسے کے انتظام و انصرام کو چلتا دیکھ کر مجھے حیرت ہوتی تھی۔ آخر اس معاملے کی بھی گتھیاں سُلجھنا شروع ہوئیں۔مدرسہ کے مہتمم اعلیٰ کے ایک بھائی جرمنی میں کوئی مدرسہ چلا رہے تھے ،دوسرے بھائی لندن میں ایک مدرسے کے مہتمم تھے، تیسرے بھائی ہر سال بنکاک کی کسی مسجد میں تراویح پڑھانے کے لیے جاتے تھے ۔ اس کے علاوہ سعودی عرب سے ملنے والی امداد علیحدہ تھی۔
تقریباً تین سال اس جزیرہِ علم میں رہ کر میں حافظ بن چکا تھا ۔ میرے والدین کی خواہش مجھے درس نظامی سے مزید تعلیم دلوانے کی تھی۔ لیکن میں مزید ”اعلیٰ “ تعلیم حاصل نہیں کرنا چاہتا تھا۔ لہذا والدین نے دوبارہ اسکول میں داخل کروادیا۔ اسکول اور گھر اب اجنبی سے محسوس ہوتے تھے۔ اکثر لوگ چلتے پھرتے کافرنظر آتے تھے۔ گھر میں TVچلتا دیکھ کر عجیب و حشت ہو تی تھی۔ میں دوسرے مسالک کے مسلمانوں کو سر عام پھانسی دینے کے حق میں بے تحاشا دلائل دیا کرتا تھا۔ سکولوں اور کالجوں میں پڑھائی جانے والی تعلیم مجھے سراسر غیر اخلاقی اور کفریہ عقائد پر مبنی نظر آتی تھی۔ دوسرے مسالک کے لڑکوں سے میری دو ایک بار جھڑپیں بھی ہوئیں۔
FScکا امتحان جیسے تیسے پاس کرنے کے بعد مجھے یونیورسٹی میں داخلہ مل گیا۔ وہاں میرے کمرے میں جہادی لڑکوں کا آنا جانا لگا رہتا، ہم جہاد کشمیر کے حق میں تقاریر کرتے اور نئے طلباءکے کمروں میں جا کر انہیں جہاد کی ترغیب دیتے۔ انہی دنوں میں نے ایک جہادی کیمپ سے ٹریننگ لینے کا فیصلہ کیا۔

جہادی کیمپ میں جا کر تصویر کا اصل رُخ میرے سامنے آگیا۔ جہاد کے جذبے کے پیچھے ان ملاﺅں کی متعصبانہ، غیر انسانی اور سماج دشمن سوچ مجھ پر آشکار ہوئی۔ ان کے ارادوں سے مجھے گھن سی آنے لگی۔ یہ لوگ ایک ایک ہندوکو چن چن کر مارنے کے حق میں تھے۔ احمدیوں کے بہیمانہ قتل پر غیر معمولی مسرت کا اظہار کرتے تھے۔ معمولی غلطیوں پر کڑی سے کڑی اور غیر انسانی سزائیں دینے کو تربیت کا حصہ گردانتے تھے۔

جہادی کیمپ میں جا کر تصویر کا اصل رُخ میرے سامنے آگیا۔ جہاد کے جذبے کے پیچھے ان ملاﺅں کی متعصبانہ، غیر انسانی اور سماج دشمن سوچ مجھ پر آشکار ہوئی۔ ان کے ارادوں سے مجھے گھن سی آنے لگی۔ یہ لوگ ایک ایک ہندوکو چن چن کر مارنے کے حق میں تھے۔ احمدیوں کے بہیمانہ قتل پر غیر معمولی مسرت کا اظہار کرتے تھے۔ معمولی غلطیوں پر کڑی سے کڑی اور غیر انسانی سزائیں دینے کو تربیت کا حصہ گردانتے تھے۔ گو کہ میں خودبھی کٹر، متعصبانہ خیالات کا مالک تھا لیکن شاید میرے ذہن کے کسی گوشے میں انسانیت کی تھوڑی سی رمق باقی تھی۔ ان جنونیوں کے غیر انسانی اور معاشرے کی جڑوں کو کھوکھلا کر دینے والے رویوں سے میرا دل متنفر ہوتا گیا۔

جہادی کیمپ سے واپسی پر میں ایک مکمل طور پر بدلا ہوا انسان تھا۔ ایسے موقع پر ایک سینئر کے توسط سے مجھے اعتدال پسند لٹریچر پڑھنے کا موقع ملا۔ انہی دنوں کچھ ترقی پسند،روشن خیال دوستوں سے بھی ملاقات ہوئی جنہوں نے جمہوریت،رواداری اور انسانی ترقی کے نظریات سے متعارف کرایا ۔ ان کے ساتھ ملاقاتوں کا سلسلہ جاری رہا۔ ان کے توسط سے دوسرے اعتدال پسند سوچ رکھنے والے دانشوروں سے ملنے کا موقع ملا۔ آہستہ آہستہ اندھیرے چھٹتے گئے اور میں زندگی میں واپس آنا شروع ہوا۔ آجکل میں سماجی وسیا سی کارکن کے طور پر مختلف تنظیموں کے ساتھ منسلک ہوں اور ایک بھرپور زندگی گزار رہا ہوں۔ اب مختلف صحت مندانہ سماجی سرگرمیوں میں حصہ لینے ، آگے بڑھنے اور دوسروں کی ترقی میں معاون بننے میں مجھے بے تحاشا خوشی محسوس ہوتی ہے۔