Categories
اداریہ

سپاہ صحابہ سے تعلق؛ پنجاب یونیورسٹی کے دو اساتذہ اور ایک طالب علم گرفتار

پنجاب یونیورسٹی اپنے اساتذہ کی وجہ سے آج کل خبروں کی زینت ہے، لیکن بدقسمتی سے یہ اساتذہ تحقیق، تصنیف یاتالیف کے میدان میں کارہائے نمایاں کی بجائے دہشت گرد مذہبی تنظیموں کے ساتھ روابط کی وجہ سے سرخیوں میں ہیں۔ کاونٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ پنجاب نے 14 دسمبر کی صبح کارروائی کرتے ہوئے پنجاب یونیورسٹی کے دواساتذہ اور ایک طالب علم کو کالعدم قرار دی گئی تکفیری دہشت گرد تنظیم سپاہ صحابہ سے تعلق کی بناء پر گرفتار کیا ہے۔ کاؤنٹر ٹیرارزم ڈپارٹمنٹ پنجاب نے انسٹی ٹیوٹ آف ایڈمنسٹریشن سائنسز کے اسسٹنٹ پروفیسر عامر سعید، بوائز ہاسٹل کے سپرنٹنڈنٹ اور کالج آف انفارمیشن ٹیکنالوجی کے لیکچرار عمر نواز اور لاء کالج میں ساتویں سیمسٹر کے طالب علم وقار(بعض اطلاعات کے مطابق وقاص) کو حراست میں لینے کا دعویٰ کیا ہے۔

 

کاونٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ پنجاب نے 14 دسمبر کی صبح کارروائی کرتے ہوئے پنجاب یونیورسٹی کے دواساتذہ اور ایک طالب علم کو کالعدم سپاہ صحابہ سے تعلق کی بناء پر گرفتار کیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق سی ٹی ڈی نے اسسٹنٹ پروفیسر عامر سعید کو مرد اساتذہ کے لیے مخصوص ہاسٹل سے گرفتار کیا جہاں وہ اپنے خاندان کے ساتھ رہائش پذیر تھے۔ لیکچرر عمر نواز کو بوائز ہاسٹل کے سپرٹنڈنٹ ہاوس سے حراست میں لیا گیا۔ طالب علم وقار کو بھی یونیورسٹی حدود میں سے ہی گرفتار کیا گیا ہے۔ یونیورسٹی ترجمان کے مطابق چھاپہ صبح کے وقت پنجاب یونیورسٹی کے نیو کیمپس پر مارا گیا جس کی اطلاع انتظامیہ کو پہلے نہیں دی گئی تھی۔ اکیڈمک سٹاف ایسوسی ایشن نے اس کارروائی کی مذمت کی ہے اور اسے “تعلیمی سلسلے کو متاثر کرنے والا اقدام” قرار دیا ہے۔

 

ایسوسی ایشن کے عہدیداران کا کہنا ہے کہ معاشرے میں اساتذہ کا ایک وقار ہے اگر ان سے کسی بھی قسم کی تفتیش کرنا درکار ہے تو اس کے لیے مناسب طریقہ اختیار کرنا چاہیئے۔ اس طرح کے چھاپوں سے نہ صرف اساتذہ بلکہ کیمپس میں موجود طلبہ بھی ہراساں ہوتے ہیں اور ان کا تعلیمی سلسلہ متاثر ہوتا ہے۔ تاہم یونیورسٹی انتظامیہ نے پنجاب یونیورسٹی میں ایسے مزید اساتذہ یا طلبہ کی نشاندہی، ان کے خلاف کارروائی اور یونیورسٹی حدود میں ایسی تنظیموں کی سرگرمیاں روکنے کے لیے تاحال کوئی لائحہ عمل طے نہیں کیا۔ پنجاب یونیورسٹی سے گزشتہ بیس سال سے وابستہ ایک استاد نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر لالٹین سے بات کرتے ہوئے کہاکہ یونیورسٹی میں اس حوالے سے کبھی کوئی سنجیدہ بات چیت نہیں ہوئی اور نہ ہی کبھی کسی کالعدم تنظیم سے روابط کو برا سمجھا گیا ہے۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ اگرچہ گزشتہ کئی برس سے یونیورسٹی میں کھلے عام کالعدم تنظیموں کی سرگرمیاں نہیں ہو رہیں تاہم ان کا کہنا ہے کہ درپردہ خفیہ طور پر ان تنظیموں کے ہمدرد موجود ہیں۔

 

یونیورسٹی انتظامیہ نے پنجاب یونیورسٹی میں ایسے مزید اساتذہ یا طلبہ کی موجودگی اور یونیورسٹی حدود میں کالعدم مذہبی دہشت گرد تنظیموں کی سرگرمیاں روکنے کے لیے تاحال کوئی لائحہ عمل طے نہیں کیا۔
سپاہ صحابہ ایک تکفیری دہشت گرد تنظیم ہے جو اہل تشیع کے خلاف دہشت گرد کارروائیوں میں ملوث ہے۔ جنرل مشرف کے دور میں اس پر پابندی عائد کی گئی تھی جس کے بعد اس تحریک نے اہل سنت و الجماعت کی شکل اختیار کر لی۔ حال ہی میں اہل سنت و الجماعت پر پابندیوں کے بعد اس جماعت نے راہ حق پارٹی کی شکل میں انتخابات می حصہ لیا ہے۔
عامر سعید، عمر نواب اور وقاص کی گرفتاری سے قبل قبل 7 دسمبر کو انسٹی ٹیوٹ آف آیڈمنسٹریٹو سٹڈیز کے ایک اور استاد غالب عطا کو کالعدم تنظیم حزب التحریر سے روابط کی بنیاد پر گرفتار کیا گیا تھا۔

 

اس سے قبل رواں برس 20 اپریل کو پنجاب یونیورسٹی ہاسٹل نمبر 14 کی کینٹین پر حزب التحریر پنجاب کا سربراہ بھی گرفتار کیا جا چکا ہے۔ ستمبر 2013 میں حساس اداروں نے القاعدہ کے ایک رکن کو بھی پنجاب یونیورسٹی کے ہاسٹل نمبر 1 سے گرفتار کیا تھا۔ شدت پسند جہادی تنظیموں کا اثر صرف پنجاب یونیورسٹی میں ہی موجود نہیں ان کے اراکین پاکستان کی دیگر یونیورسٹیوں میں بھی موجود ہیں۔ سانحہ صفورا کے ملزمان بھی پاکستان کے اعلیٰ تعلیمی اداروں میں پڑھتے رہے ہیں۔
Categories
نان فکشن

مذہبی انتہا پسند اور ہمارے کوتاہ بین فیصلہ ساز

اگر کسی دیوانے کو یہ لگتا ہے کہ ہمارے ملک کے مقتدر طبقے میں شامل بڑی سیاسی جماعتیں فرقہ واریت اور انتہاپسندی کے عفریت کے خلاف غیر معمولی طور پر متفق اور متحد ہیں تو ازراہ کرم اس دیوانگی سے نکل آیئے۔ حالیہ بلدیاتی انتخابات میں سیاسی مفادات کے لیے جس طرح بڑی سیاسی جماعتوں نے بھیس بدل کر انتخابات میں حصہ لینے والی فرقہ پرست مذہبی تنظیموں سے سیاسی گٹھ جوڑ کیا ہے اس سے یہ واضح ہو گیا ہے کہ اپنے مفادات کے حصول کے لیے کوشاں ان سیاسی کرداروں نے پچھلے تیس سال سے جاری قتل و غارت اور بدنامی سے کچھ نہیں سیکھا۔ بی بی سی کی وہ خبر جس میں کالعدم سپاہ صحابہ پاکستان کی ہمشیرہ سیاسی جماعت “راہ حق پارٹی” کی انتخابی کارکردگی اور سیاسی اتحادوں کے باعث بلدیاتی انتخابات میں ملنے والی سیاسی کامیابی کا ذکر کیا گیا ہے، ہماری آنکھیں کھولنے کے لیے کافی ہے۔ حیرت ہے کہ ملک بھر کےمیڈیائی سپہ سالاروں پر کہ جن کی نگاہوں اور تبصروں کامطمع نظر “سب سے پہلے اور سب سے آگے” کی دوڑ ہے، جال ہے جو انہیں کبھی مثبت صحافت اور سیاسی شعور اجاگر کرنے کی توفیق عطا ہوئی ہو۔

 

راہ حق پارٹی کی انتخابی مہم
راہ حق پارٹی کی انتخابی مہم
وہ ادارے جو انتہاپسندسوچ کے خاتمے کے لیے قائم کیے گئے تھے ان کی تو خیر بات کرنا ہی بے وقوفی ہے۔ جب بھی کسی انتہاپسند عسکری یا سیاسی جماعت پر پابندی لگتی ہے تو وہ اگلی ہی صبح نام بدل کر گنگا نہا کر پوتر ہوجاتی ہے۔ اس صورتحال پر اگر تمثیلی طور پر کہا جائے تو نورے کمہار کا گدھا تو آگاہ ہوتا ہے مگر نیشنل ایکشن پلان اور الیکشن کمیشن آف پاکستان ناواقف و نا آشنا ہوتے ہیں۔

 

حالیہ بلدیاتی انتخابات میں جھنگ کے اندر ‘راہ حق پارٹی’ کے انتخابی نشان استری پر وہی چہرے 13 نشستیں جیتنے کے بعد اب ضلعی حکومت بنانے کی کوشش میں ہیں، جو کچھ عرصہ قبل کالعدم قرا دی گئی تنظیموں کے نمائندہ ہوا کرتے تھے۔ انتخابی حمایت کے لیے نعرے بھی وہی لگائے گئے جو کالعدم جماعتوں کے دور میں متعارف کروائے گئے تھے۔ لوگوں کو اپنی حمایت میں ووٹ دینے کے لیے یاددہانیاں بھی انہی امور کی کروائی گئیں جو کبھی کالعدم قرار دی جانے والی تنظیموں کا ایجنڈا تھے۔

 

راہ حق پارٹی کا انتخابی نشان استری تھا
راہ حق پارٹی کا انتخابی نشان استری تھا
راہ حق پارٹی سے سیاسی اتحاد کرنے والوں میں صرف دائیں بازو کی سیاسی جماعتیں ہی نہیں ہیں بلکہ عوامی نیشنل پارٹی اور پیپلز پارٹی جیسی ترقی پسند جماعتوں نے بھی بلدیاتی انتخابات میں اس جماعت کے ساتھ اتحاد کیا ہے۔
حیران کن امر یہ ہے کہ چیئرمین بلاول بھٹو کس بل بوتے پر مذہبی انتہاپسندی کو للکارتے ہیں جب کہ بلدیاتی انتخابات کے لیے کراچی کی یوسی3 کا ایک تشہیر ی بورڈ اس عبارت کا حامل ہو۔ “جماعت اہل سنت کے حمایت یافتہ پاکستان پیپلز پارٹی اور راہ حق پارٹی کے متفقہ امیدوار برائے چئیرمین فلاں صاحب” اور بورڈ پر ذوالفقار علی بھٹو مرحوم کی تصویر کے عین اوپر مولانا اورنگ زیب فاروقی صاحب کی تصویر لگی ہو جو پچھلے سال خیرپور سندھ میں موجود جامعہ حیدریہ کے جلسے میں تقریر کرتے ہوئے سپاہ صحابہ سے وفاداری کی بیعت کے لیے ہزاروں کے مجمع سے مخاطب تھے اور دلائل دیتے ہوئے نہایت جذباتی انداز میں اپنی تنظیم کا فکری تعلق چیچنیا، افغانستان، شام، عراق سے جوڑتے ہوئے اسلام آباد کی لال مسجد تک لے آئے تھے۔

 

Rah-e-Haq Party and ANP

عوامی نیشنل پارٹی اور پیپلز پارٹی نے بھی راہ حق پارٹی کے ساتھ اتحاد کیا
عوامی نیشنل پارٹی اور پیپلز پارٹی نے بھی راہ حق پارٹی کے ساتھ اتحاد کیا
پاکستان کے ‘ہردلعزیز’ وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف کس بل بوتے پر پاکستان کا مستقبل لبرل ازم اور جمہوریت میں دیکھتے ہیں جبکہ خود ان کی سیاسی جماعت نے بھی حالیہ بلدیاتی انتخابات میں ووٹ لینے کے لیے انتہاپسندی کی بہتی گنگا میں اشنان کیا ہو۔ بی بی سی اردو کی ایک رپورٹر نے پچھلے سال جھنگ سے اپنی ایک رپورٹ میں تحریر کیا تھا کہ “مولانا محمد احمد لدھیانوی کی زیر سربراہی اہل سنت و الجماعت کی تنظیم ہو بہو سپاہ صحابہ پاکستان کی نقل ہے۔ جھنگ میں جامعہ مسجد حق نواز سمیت اس کے دفاتر بھی انہی مقامات پر قائم ہیں جہاں بارہ برس قبل پابندی کا شکار ہونے سے قبل سپاہ صحابہ کے دفاتر ہوا کرتے تھے۔ اس کے علاوہ اہل سنت کی قیادت اب بھی اپنی تقاریر اور کارکنوں کے ساتھ روابط کے لیے سپاہ صحابہ کا نام کثرت سے استعمال کرتی ہے۔”

 

راہ حق پارٹی‘ کے صوبہ سندھ کے کنویئنر ثنااللہ حیدری مقتول مولانا علی شیر حیدری بھائی ہیں جو سپاہ صحابہ پاکستان کے سربراہ رہ چکے ہیں۔ الیکشن کمیشن میں اس پارٹی کی رجسٹریشن حکیم محمد ابراہیم قاسمی صاحب کی طرف سے ہوئی ہے جو خیبر پختونخوا میں سپاہ صحابہ کے سرگرم رہنماء رہے ہیں۔

 

کیا فرقہ وارانہ تشدد کی ذمہ داری بالواسطہ یا بلاواسطہ طور پر اسی جماعت پر عائد نہیں ہوتی؟

 

کیا اہل سنت والجماعت، سپاہ صحابہ اور لشکر جھنگوی، ان تمام جماعتوں کو ایک ہی سکے کے مختلف رخ نہیں؟

 

کیا ہم نہیں جانتے کہ سپاہ صحابہ پاکستان کو کالعدم قرار دیئے جانے کے بعد اس تنظیم نے اپنا نام اہل سنت والجماعت نہیں رکھ لیا ہے ؟

 

پاکستان میں مذہبی انتہاء پسندی پر تحقیق کرنے والے معتبر محقق عامر رانا نے غیر ملکی خبر رساں ادارے سے جماعت اہل سنت کی سیاسی تشکیل پر گفتگو کرتے ہوئے جو کہا وہ بہت کچھ بیان کردیتا ہے:
اگر چہ لشکر جھنگوی اور جماعت اہل سنت میں تنظیمی ربط نہیں رہ گیا لیکن لشکر کے پاس جو افرادی قوت ہے وہ سپاہ صحابہ یا جماعت اہل سنت ہی سے حاصل شدہ ہے۔ اس لیے کسی نہ کسی سطح پر اب بھی لشکر جھنگوی اور اہل سنت کا حلقۂنیابت ایک ہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اہل سنت والجماعت کی قیادت لاکھ کوشش کر لے، لشکر جھنگوی سے جان چھڑوانا اس کے لیے ممکن نہیں ہے۔

 

جھنگ، کبیر والا، خانیوال، خیرپور اور اب کراچی کے مختلف حلقوں میں کھڑے کیے گئے 250 سے زائد امیدوار یہ سمجھانے کے لیے کافی ہیں کہ انتہاءپسند عناصر اب اپنے مقاصد کی تکمیل کے لیے بلٹ کے ساتھ ساتھ بیلٹ کو بھی بطور ہتھیار استعمال کررہے ہیں۔ اور وہ ہاتھ جو ان کا قلع قمع کرنے پر معین ہونے چاہیئں وہی ہاتھ ان سانپوں کو دودھ پلا رہے ہیں۔

 

راہ حق پارٹی میں کالعدم سپاہ صحابہ کے اراکین کی کثیر تعداد شامل ہے
راہ حق پارٹی میں کالعدم سپاہ صحابہ کے اراکین کی کثیر تعداد شامل ہے
نیشنل ایکشن پلان اور آپریشن ضرب عضب کی کامیابی کے لیے لازم ہے کہ انتہاپسندوں کو نشانہ بنانے کے ساتھ ساتھ پالیسی ساز ادارے ان نظریات کا بھی قلع قمع کریں جو اس فکر کو افرادی قوت مہیا کرتے ہیں۔ جب تک ایک موثر، یکجا اور واضح پالیسی بنا کر بلاتفریق ان تمام گروہوں کو کیفر کردار تک نہیں پہنچایا جاتا جو مذہبی تعصب اور تکفیری فکر کی بنیاد پر معاشرے کی جڑیں کھوکھلی کر رہے ہیں تب تک ترقی یافتہ، پرامن اور خوشحال پاکستان کا خواب تعبیر نہیں پا سکتا۔
Categories
نقطۂ نظر

ISIS Links with Pakistan: Past & Present

Wall chalking in support of ISIS in Bannu, Pakistan. [courtesy of Talha Siddidui]
Wall chalking in support of ISIS in Bannu, Pakistan. [courtesy of Taha Siddiqui]
The entire world has been gripped by news of ISIS – Islamic State of Iraq and the Levant (also known as Islamic State of Iraq and al-Sham; now just Islamic State) – declaring on 29th June 2014 what Islamist movements have always dreamt of: a Caliphate.

The concept of the Caliphate is sold in Jihadist narratives as the ultimate goal of their political (violent & non-violent) struggle. It is considered by them as the ultimate antidote to the venom of secular and liberal democracy, and thus a panacea for all social, political and religious ills that Muslim communities are currently undergoing.

ISIS have declared themselves the winners of the global race towards a Caliphate, and as such its gains and losses will shape the future face of Jihadism in Pakistan and across the world.

Their destruction of Sufi shrines, mass murders of Christians and Shias and threats to desecrate shrines in Karbala, Baghdad and even establishments in the Kaaba, reflect the ideological basis on which their movement is based.

Transnational alliances of Islamist movements form the backbone of their material and ideological support systems, a subject not given due mileage in local counter-extremism and counter-terrorism work. Thus this article attempts to explore the links between ISIS and various Jihadist movements within Pakistan.

History
ISIS sprang from what is known as Jama’at al-Tawhid wal-Jihad (JTJ) and later Al-Qaeda in Iraq (AQI), both of which were founded by Abu Musab al-Zarqawi. Zarqawi’s Islamic State of Iraq – also known as al-Qaeda in Iraq – is the genesis of what is today known as the ISIS.

Zarqawi is said to have traveled to Pakistan at the age of 23 to participate in the Afghan Jihad (Ahmed, 2011). He started living in Hayatabad, Peshawar and networked with leadership members of the newly formed al-Qaeda. It is important to note that Hayatabad, Peshawar became a center for al-Qaeda leadership and many of its terrorists have been arrested from there. Zarqawi’s sisters were also settled in Peshawar and his mother visited him frequently there.

It was in Peshawar that Zarqawi adopted the fundamentalist Salafist faith, which experts say fuelled his animosity toward Shia Muslims and moderate Muslim governments.

Zarqawi established a terrorist camp on the Afghanistan-Pakistan border to train fighters and is responsible for multiple terrorist attacks on government targets and against Shias.

He was hosted by the banned Pakistani terrorist outfit Lashkar-e-Jhangvi (LeJ) for several years and trained their recruits from South Punjab in his camp.

He is also rumored to be arrested by the Pakistani intelligence ISI, but was later released. He traveled to Karachi regularly, and before saying goodbye to Pakistan in 1999 he is thought to have influenced local Jihadi organizations like Laskhar-e-Taiba and Laskhar-e-Jhangvi, and maintained Jihadist ties with them. (Mir, 2008)

Zarqawi developed differences with Al-Qaeda’s spiritual mentor Al-Zahwahiri, chief Osama Bin Laden and ideologue Maqdisi for his brutal, ad-hoc and indiscriminate killing of Shias in Iraq.

Much of what is happening in the Arab world can be credited to the conscious decision of Zarqawi to adapt a violent anti-Shia stance in his global Jihadist world-view. The sectarian civil strife the Middle East is currently witnessing is exactly what the anti-Zarqawi leadership of Al-Qaeda predicted. He inspired and executed several attacks on Iraqi Shias and till date inspires local Pakistani organizations like Laskhar-e-Jhangvi for their public massacres of Shias.

Funeral
On 10th June 2006, Jamat’ud Dawa held funeral prayers in absentia of Abu Musab al-Zarqawi, after his death in an airstrike on 7th June 2006.

As certain Urdu columnists observed the ‘martyrdom’ of their fallen hero Zarqawi, many Pakistanis who stood at his funeral prayers in absentia did not know of the violence perpetuated by this man and his fierce anti-Shia views (although posted and published few days before his death on mainstream media and internet forums in June 2006) in which he claimed that, “There would be no total victory over the Jews and Christians without a total annihilation of the Shia” and that, “If you can’t find any Jews or Christians to kill, vent your wrath against the next available Shia” (Ahmed, 2011).

Current leader of ISIS
The current leader of IS (ISIS) and self-proclaimed Caliph of Muslims, Abu Bakr al-Baghdadi, fought and studied under Abu Musab al-Zarqawi. ISIS’s fighters have been spotted raising pictures of Zarqawi even 8 years after his death, clear proof of his continuing influence on the organization’s ideology.

Amid rumors, it is now established that ‘Mujahideen’ of Pakistani origin are also fighting in Syria and Iraq. Tehrik e Taliban Pakistan (TTP) has openly boasted about sending ‘hundreds of men’ and having established Jihadi camps in Syria.

The social media feeds of Sipah e Sahaba and Lashkar-e-Jhangvi reveal their level of interest in recent developments in the Middle East. While sectarian wars are on the rise everywhere, the recent upsurge in attacks on Shias in Pakistan can be directly linked with the rise of ISIS.

Zarqawi is dead but ‘Zarqawism’ is now deeply rooted in violent Islamist movements and his ruthless advocacy to kill the ‘near enemy’ (Shias, Sufis, Jews, Christians and others) first will not vanish anytime soon.

It is now up to Muslim societies and states to ensure that this crisis does not escalate further into what could be a full-blown, global sectarian war. The responsibility lies with governments and civil society, and the peaceful voices within them, to take a stand against the forces that seek to instil hatred, violence and division among us.