Categories
فکشن

کچا

اس کی پیدائش وقت سے پہلےہوئی۔ دائی نے لا کر باپ کی گود میں ڈالا تو اس کے نا مکنل ہاتھ پاؤں کا بتا دیا۔ باپ کو اپنے باپ کی بد دعا یاد آئی۔باپ نے اس کاکچا ہونا جان لیا۔ بعد میں کچھ اور باتیں باپ کے سامنے اس کے کچے ہونے کے ثبوت لاتی رہیں۔ حیرت انگیز طور پر اس کی یاداشت سے دو مناظر کبھی دھندلا ئے نہیں گئے۔ جانے کیسے وہ پکے رہ گئے۔

پہلا منظر تب کا تھا جب ماں کی وفات کے بعد وہ نانی کے پاس رہا تھا ،چارسال بعد اس کا باپ اسے واپس لینے آیا تھا۔ اس منظر میں اس کی روتی ہوئی نانی کے دو سوکھے سےبازو تھے جو اسے اس کے باپ سےواپس لینے کے لئے منتیں کرتے وقت اٹھے ہوئے تھے۔

دوسرے منظر میں اس کی اپنی ماں تھی۔اس کے پیچھے پیچھے چلتی۔اپنے مر جانے سے پہلے۔ قبرستان سے لکڑیاں جمع کرنے جاتے وقت وہ اسے ساتھ لے جاتی تھی۔ آم اورلیموں کے باغات کے درمیان گذرتے گری ہوئی کیری یا لیموں اٹھانے پر کبھی جھڑکتی تو کبھی چپت مار دیتی۔پھر پھینک دینے پر اس کے سر پر ہاتھ پھیرتی چلتی۔واپسی پر ماں کے دونوں ہاتھ سر پر پڑے لکڑیوں کے گٹھے کو سنبھالنے میں لگے ہوتے تو وہ کیری یا لیموں اٹھانے کی جرات کرلیتا۔بڑا آم تو اس کے ادھورے ہاتھوں نے کبھی نہ اٹھایا۔ زرد رنگ کے لیموں کی خوشبو اور کٹھاس اچھی لگتی تھی۔وہ لیموں سونگھتا ،ماں کی جھڑکیاں کھاتا گھرکی طرف چلتا رہتا۔گھر تک پہنچتے ماں کا غصہ ٹھنڈا پڑ جاتا۔پھر وہ لیموں کو دن بھر پسیجتے ہاتھ میں پکڑے سونگھتا رہتا۔مگر اب لکڑیاں لینے قبرستان جاتے کیری یا لیموں اٹھانے کی ہمت نہ پڑتی۔ویسے بھی خالی پیٹ اسے پیلو کا پھل کھانے پر اکساتا ہوتا۔نئی اماں جب صبح میں اس کا کان اینٹھتے لکڑیوں کے لئے گھر سے باہر نکالتی ، وہ سہما ہوا آم اور لیموں کے باغوں کے درمیان گذر جاتا۔بس اس وقت اماں زیادہ یاد آنے لگتی جب کانٹے دار جھاڑیوں سے لکڑیاں چنتے کانٹا چبھ جاتا۔ اس کے سیدھے ہاتھ کا انگوٹھا اور اشہد انگلی چونکہ پیدائشی ناخن والے حصے سے محروم تھے، اس لئے کانٹا بہت مشکل سے نکل پاتا۔اور جس دن لکڑیاں گھر لے جانے میں دیر ہوتی اس دوپہر کھانا نہ ملتا۔نئی اماں دھکیل کر دروازہ اندر سے بند کرلیتی۔وہ گاؤں کی گلیوں میں پھرتا یا جوہڑ کنارے درختوں کے سائے میں جا بیٹھتا۔بھوک زیادہ ستاتی تو گاؤں کے چنگے مڑس(وڈیرے) کی دیوڑھی میں چپ چاپ اکڑوں بیٹھ جاتا۔دیر سویر چنگے مڑس کی بیوہ بہن کی نظر پڑتی تو وہ اس کے سامنے کھانا لا کر رکھتی اور پھر اس کی نئی اماں کو صلواتیں سناتی۔ایسی باتیں باپ تک پہنچانے کا اسے کبھی خیال نہ آیا۔دو تین مرتبہ نئی اماں نے باپ کو اس کے لکڑیاں دیر سے لانے کی شکایت کی تھی۔ باپ نے گرم ہوکر اسے طمانچے جڑ دیے۔ اب باپ کا لال بھبوکا چہرہ بھوک سہنے میں مزید مدد دیتا۔ویسے بھی وہ باپ کو دیکھ کر بلی کے بچے کی طرح ادھر ادھر دبکنے لگتا۔

اس کے کچھ بڑے ہوجانے پر باپ نے شہر کے مدرسے میں داخل کروادیا۔اسی شہر میں باپ کی سائیکل پنکچر کی دکان تھی۔صبح کو باپ ساتھ لے جاتا اور شام ڈھلے واپس لے آتا۔اب کانٹوں اور بھوک سے اس کی جان چھوٹ چکی تھی۔مگر خوش وہ پھر بھی نہ تھا۔اس سے قاعدہ بغدادی کا سبق ہی یاد نہ ہوتا تھا۔مدرسے کے پکے فرش پر استاد حافظ کے آگے دورویہ قطار میں بیٹھے،سبق کو زور زور سے دھرانے کے بعد بھی وہ الفاظ کو بھلا بیٹھتا۔وہ ایک دوسرے میں گڈ مڈ ہوجاتے اور وہ انہیں پہچان ہی نہ پاتا۔استاد حافظ کے ڈنڈے کا ڈرمحنت تو کرواتا مگر سنانے جاتا تو سبق اس کے اندر سے پھسل جاتا۔ ہاتھوں پر بید کی ضربیں سہتا وہ پھر سبق پکا کرنے میں مگن ہوجاتا۔اگر کسی وقت ٹنڈ منڈ درخت جیسے بغیر ناخن والی سیدھے ہاتھ کی دو اور الٹے ہاتھ کی چار انگلیوں کے سرے پر بید پڑتا ، اس پر سکون حرام ہوجاتا۔آنکھیں مدرسے کی چھت میں لگے پر نالے کی طرح بہہ نکلتیں۔جیسے تیسے کر کے اس نے قاعدہ بغدادی ختم کیا اور قرآن پڑھنا شروع ہوا۔ایک شام وہ روزانہ کی طرح عصر نماز کے بعد مدرسے کے باہر روڈ پر آبیٹھا اور اور باپ کا انتظار کرنے لگا۔سورج غروب ہوتا گیا۔مغرب کی آذان ہوگئی۔باپ نہ آیا۔وہ مسجد میں نماز پر جانے کی بجائے وہیں باپ کا انتظار کرتا رہا۔تھوڑی دیر میں بازار کی سنسانی، اندھیرے اور انتظار نے دل کو دہلانا شروع کیا۔ وہ اٹھ کر گاؤں جاتے راستے پر چلنے لگا۔کچھ دور چلنے کے بعد خالی راستے اور کتوں کے بھونکنے کی آوازوں نے پیچھے کی طرف دوڑ لگوادی۔ وہ مدرسے گیا تو استاد حافظ نے اشارے سے اپنی طرف بلایا۔استاد حافظ اپنی مقرر کردہ مسند پر ٹیک لگائے بیٹھا تھا۔مسافر شاگرد سبق پڑھ رہے تھے۔

“تیرا ابا کہہ گیا ہے کہ اب تو یہاں رہے گا۔جا ،جاکر سبق پڑھ”یہ بات سن کر اس کا دل دھڑکنا چھوڑ کر پاؤں کی تلیوں میں جا پڑا۔وہ اٹھا اور مسافر شاگردوں کی صف میں جا بیٹھا۔رات کو سونے کا وقت ہوا۔ ہر ایک اپنا اپنا بستر کھول کر سونے کی تیاری کرنے لگا۔اس کے پاس بستر تھا ہی نہیں۔اس نے مدرسے کے ساتھ موجود مسجد میں ایک صف کو لپیٹ کر سرہانہ بنایا اور وہیں لیٹ گیا۔دوسرے دن باپ کی دکان پرچلا گیا۔

“اب تو مدرسے میں رہ اورپڑھائی کر۔میں تیرا بستر اور کپڑے لے آؤں گا۔”باپ نے دیکھا تو اتنا بول دیا۔وہ بیٹھا ٹکر ٹکر باپ کی صورت دیکھتا رہا۔ایک دو دن میں بستر اور کپڑے آگئے۔دن بدن اس کی کمزور یاداشت سے گاؤں کی گلیاں،جوہڑ نکلتا گیا۔وہ مسجد میں بچھی صفوں میں سے ایک صف بن گیا۔اسے خود یاد نہیں رہا کہ کتنے سال اس کو قرآن پورا کرنے میں لگ گئے۔قرآن ختم کرنے کے بعد استاد حافظ نے باپ کو بلایا۔

“تیرا بیٹا کسی کام کا نہیں۔اس کا ذہن ہی نہیں۔اس سے چھ کلمے اور سورتیں یاد نہیں ہوتیں وہ سارا قرآن کیسے حفظ کرے گا۔”
“حافظ جی میرے بھی تو کسی کام کا نہیں۔ہاتھ دیکھیں ہیں آپ نے اس کے؟وہ نہ پنکچر لگانے کا کام کر سکتا ہے نہ اس سے کدال بیلچا پکڑ کر مزدوری کی جائے گی۔میں اس کا کروں گا کیا؟آپ مہربانی کرو۔”

“اس کو درس نظامی والے مدرسے میں چھوڑ آؤ میں مولانا صاحب کو کہتا ہوں۔وہ اس کا کچھ کرلیں گے۔”باپ نے جا کر دوسرے مدرسے مولانا صاحب کے حوالے کیا۔درس نظامی شروع ہوا۔پہلے سال میں فارسی کی کتب تھیں۔یہ کام اسے ذرا آسان لگا۔آہستہ آہستہ پھر وہی دن لوٹ آئے۔عربی گرامر کی ابتدا کیا ہوئی۔اس کو کچھ سمجھ نہ آتا۔مار،کٹائی،تذلیل سہنے میں مشکل تب تک رہی جب تک اس نے ان سے ہم آہنگی پیدا نہ کرلی۔وقت کٹ رہا تھا۔کبھی پاس کبھی فیل کا سلسلہ جاری رہا۔اس نےروز شب کے مروجہ ڈگر پرخود کو ڈھالنے کی قوت حاصل کرلی تھی۔پھر ایک عرصہ بعد مصائب کے ایک دھارے نے اس کا رخ کرلیا۔اس وقت وہ چھٹی جماعت میں ہونے کے ساتھ اس مسجد میں مؤذن کے طور پر آذان کہتا اور صفائی کا کام کرتا تھا جہاں مدرسہ کا ایک استاد پیش امامت کرتا تھا۔اس کو کھانا وغیرہ مل جاتا تھا۔ باقی تنخواہ کے بارے استاد صاحب سے بات کرنا مؤخر ہوتی رہی۔کبھی کبھار کوئی شاگرد کہنے پر ابھارتا۔کہتا مسجد کمیٹی والے استاد صاحب کو مؤذنی کی تنخواہ دیتے ہیں۔وہ استاد صاحب سے مانگ لے۔مگر ایسا مناسب موقعہ کبھی پیدا نہ ہواکہ وہ اپنی تنخواہ حاصل کرنے کا استاد کو عرض کر سکے۔ ایک جمعہ مسجدمیں استاد صاحب نے چھٹی کی اور اسے خطابت و نماز کے لئے کہہ دیا۔ اس نے اپنے تئیں تیاری کی اور سنبھل سنبھل کر خطابت کی اور جمعہ پڑھایا۔کمیٹی کے صدر کو اس کا انداز بہت پسند آیا۔اس نے بعد جمعہ نمازیوں سے کٹھے کیے جانے والے چندہ میں سے چند سو اس کو دیے اور تقریر کی تعریف کی۔وہ وہاں سے اٹھا اور ہوٹل پر جا کر پہلی بار اپنی مرضی سے کچھ کھانے کا ارمان پورا کیا۔دوسرے دن اوقات تدریس میں استاد صاحب نے بلایا۔وہ صدر صاحب کے دیے پیسوں کا پوچھ رہے تھے۔ اس نے پیسے خرچ کردینے سے آگاہ کیا کیا استاد صاحب نے اسے زبان کی دھار پر رکھ لیا۔تفسیر کی کتاب سامنے رکھے انہوں نے اس کے قریبی زنانہ رشتوں کو خوب ادھیڑا۔اس دوران نادانستگی میں اس نے دلیل کے طور پر صدر صاحب کے خود پیسے دینے کی بات کہہ ڈالی۔استاد صاحب نے نہ صرف پاس رکھا بید اٹھایا بلکہ خود اٹھ کھڑے ہوئے۔ پہلے خیال نے اس کے دونوں ہاتھ بغلوں میں چھپاکر بچانے کی سعی کی اور نشانہ پیٹھ و بازو بنے۔کاروائی مکمل ہونےکے بعد وہ کراہتا جان بخشی کا خیال لاتے رخصت ہوگیا۔ مگر یہ ممکن نہ ہوا۔اگلی صبح وہ سبق پکا نہ ہونے پر نشانہ بنا۔رات بھر سبق یاد کر کے پکا سنانے کے بعد عبارت میں غلطیاں سرزد ہونے پر دھنک دیا گیا۔اس سے کچھ دن بعد دور پکا نہ ہونے پر مارا گیا۔روز مرہ کی سزا سہنے کی تو وہ طاقت رکھتا تھا مگر مقدار اس قدر تھی وہ داڑھی آنے کے بعد پہلی بار دھاڑیں مار مار کر رویا۔ الگ بات یہ تھی اسے مسجد کی مؤذنی سے نکال دیا گیا۔ہاتھ پاؤں مار کر ایک ہم سبق کی کوشش سے اس نے اور مسجد میں جگہ حاصل کی۔دو دن کے بعد اوقات کار کی بے ضابطگی اور پڑھائی میں پیچھے ہونے کی وجوہات بتا کر کہیں بھی مؤذنی و امامت پر روک لگادی گئی۔ساتھ میں عتاب و سزا تعطل کے بغیر چلتا رہا۔یہ دن تھے جب اس کے لئے نہ پائے ماندن تھی نہ جائے رفتن۔اگر کہیں بھی کوئی در کھلا ہوتا وہ اس کو چل نکلتا۔البتہ شہر کا قبرستان تھا جہاں وہ عصر کے بعد جا بیٹھتا۔ کسی دن کوئی اپنے عزیز و اقارب کی قبر پر آیا ہوا اس سے فاتحہ اور دعا کرواتا اور اس کے ہاتھ چند روپے پکڑا دیتا۔

چھٹیوں میں جب وہ گاؤں گیا عرصہ دراز بعد چنگے مڑس کی بیوہ بہن سے ملنے گیا۔اس نے اس کو اپنے شوہر کی قبر پر جا کر فاتحہ خوانی کا کہا اور آتی سردیوں کی مناسبت سے ایک رضائی دے دی۔قبرستان پہنچ کر اس نے قبر کی صفائی کی اور فاتحہ پڑھ کر واپس ہونے لگا۔اسے ماں کی قبر یاد آئی۔وہ جا کر خستہ حال قبر پر کھڑا ہوا۔جب قبر کی مٹی اور کچی اینٹوں کو درست جگہ ٹکا کر فارغ ہوا سورج ڈھلنے پر آگیا تھا۔وہ قبر کی پائینتی کی طرف فاتحہ خوانی کے لئے جا بیٹھا۔فاتحہ خوانی شروع تو کردی تھی مگر پورا کرنے پر قادر ہی نہ ہو رہا تھا۔چند الفاظ ادا کرتا اور آگے ہچکیاں نکل جاتیں۔دہرا ہوتے ہوئے وہ قبر کے تعویذ پر ماتھا ٹیک دیتا۔دل تھا کہ پھٹنے پر آیا ہوا تھا۔ قبرستان کی حد پھلانگ کر لیموں کے باغ میں قدم رکھا تو اسے لگا جیسے بچپن کی مانند ماں قدم بہ قدم اس کے پیچھے چلتے آرہی ہو۔وہ وہیں سے واپس بھاگا۔جب گھر پہنچاعشا ہوئے دیر ہو چکی تھی۔اس دن سے چھٹی ختم ہونے کے دن تک بلا ناغہ قبرستان جانا اور ماں کی قبر پر بیٹھنا لازم ہوگیا۔وہاں کے سنسان اور اجاڑ ماحول میں بیٹھے رہتے اسے کچھ قرار حاصل ہو جاتا۔ مدرسے کے کھلنے کا دن آیا۔اس نے کپڑے پلاسٹک کی تھیلی میں ڈال کر رضائی سر پر رکھی اور پیدل چلتا مدرسے جا پہنچا۔اس بار سردیوں میں گرم رضائی نے سکھ سے سلایا۔پہلے تو دو رلیاں اوپر لینے کے باوجود ٹھیک طرح نیند ہی نہ آتی تھی۔

باقی آخری دو سال تھے۔ایک ساتویں جماعت ،جسے موقوف علیہ بھی کہا جاتا تھا اور پھر دورہ حدیث۔ان دونوں سالوں میں اس نے جمعرات کی جمعرات مدرسے میں ہونے والی تربیتی نشست کے ذریعے خطابت کا طریقہ سیکھ لیا۔دورہ حدیث کے اختتام تک وہ اچھا بولنے پر قدرت حاصل کر چکا تھا۔صدر مدرس صاحب اس کی اس خوبی سے واقف تھے۔دورہ حدیث مکمل کر کے جب وہ درس نظامی سے فارغ ہوا تب سالانہ پروگرام کے اندر اسے دستار فضیلت پہنائی گئی۔پر فخر باپ نے گلے لگا کر ماتھا چوم لیا۔گاؤں جانے کی نوبت نہ آئی۔ صدر مدرس نے شہر کی ایک مسجد میں اسے خطیب و امام مسجد مقرر کروادیا۔بطور خطیب و امام اس کا پہلا جمعہ تھا۔ مؤذن آذان کہہ کر ،منبر پر مصلا جما کر اسے خطابت کے لئے عرض کرنے آیا۔ وہ نہا دھو کر عطر لگائے تیار تھا۔ سفید لباس پہنے اور سفید رومال سر پر ڈالے وہ حجرے سے نکل کر مسجد کو آیا۔حاضرین اسے دیکھ کر احتراما اٹھ کھڑے ہوئے اور اس کے منبر پر تشریف فرما ہونے تک کھڑے رہے۔مؤذن نے بٹن آن کیا۔لائوڈ چیک کرکے مائیک اس کے منہ کے آگے رکھا اور پھر سامنے موجود صف میں دو زانو ہو کر بیٹھ گیا۔اس نے عربی الفاظ سے خطبے کی ابتدا کی اور پھر موضوع تک آتے آواز متاثر کن حد تک بھاری ہو چکی تھی۔دوراں خطبہ ایک نکتہ بیان کرتے وہ جوش میں آیا۔اس نے جملے کا اختتام کیا تو مسجد حاضرین مجلس کی سبحان اللہ سے گونج اٹھی۔ اپنے سامنے بیٹھے چہروں پر نظر ڈالتے اس نے داہنے ہاتھ سے بمشکل مائیک کو پکڑا۔ آگے بولا تو آواز گرج میں تبدیل ہو چکی تھی۔ اسے لگا جیسےاس کے اندر طاقت کے تمام تر ذرات بھر دیے گئے ہوں۔

Categories
نقطۂ نظر

قبر سے واپسی

حماد حسن

qabar

 

کیا آپ جانتے ہیں کہ آپ کے چاروں طرف پھیلی ہوئی مذہبی انتہا پسندی کی جڑیں کہاں ہو سکتی ہیں اور وہ کونسی فیکٹریاں ہیں جہاں یہ پروڈکٹ تیار ہو کر ملک کی کونے کونے میں سپلائی ہوتی ہے ؟ وہ کون سے عناصر ہیں جو اس ڈرامے کے اصل ہدایت کار ہیں ؟ ان سارے سوالوں کا جواب اور اس صورت حال کا نقشہ شاید میری آپ بیتی سے واضح ہو پائے۔
میں ضلع مظفر گڑھ کے ایک گاﺅں میں پیدا ہوا۔بچپن کے ابتدائی سال انتہائی خوشگوار تھے۔ سارا سارا دن اپنے کزنوں کے ہمراہ گھر کے بڑے صحن میں کھیلنا میرا معمول تھا۔ ہر صبح ایک سہانی صبح ہوتی اور ہر شام کے پرندے مسرت کا پیغام دے کر جاتے ، کسی بھی قسم کے غم کے وائرس نے ابھی میرے سسٹم پر حملہ نہیں کیا تھا۔ مجھے معلوم نہ تھا کہ میری زندگی میں ایک ایسا موڑ آنے والا ہے جس کے اثرات میرے دل و دماغ پر شدید ہوں گے۔
پانچویں جماعت کا امتحان پاس کرنے کے بعد میرے والدین نے مجھے دین کی ”اعلیٰ “ تعلیم دلوانے کے لیی نواحی گاﺅں کی ایک مشہور مدرسے میں داخل کروا دیا ۔ جبکہ میرے بڑے بہن بھائی میڈیکل کالجوں اور یونیورسٹیوں میں پڑھ رہے تھے۔ میرے والدین کی خواہش تھی کہ وہ اپنے ایک بچے کو دین کے لیے وقف کریں گے۔
مدرسے میں پڑھنے والے کو ”طالب ‘ جبکہ پڑھانے والے کو ”استاد جی “ کہا جاتا تھا مدرسے میں دو ہزار کے لگ بھگ طالب زیر تعلیم تھے۔ جن میں سے بہت سارے طالب مدرسے میں رہائش پذیر تھے جبکہ باقی طالبوں کا تعلق مقامی گاﺅں

مدرسے میں موجود کتب فرقہ واریت پر مبنی مواد سے بھرپور تھیں۔ ٹیپ ریکارڈ ز پرسپاہِ صحابہ کے مولویوں کی تقاریر بلند آواز میں چلا کرتی تھیں۔ جا بجا دیواروں پر اسٹکرز چسپاں ہوتے تھے جن پر تلواروں اور بندوقوں کی تصاویر ہوتی تھیں اور جہادی نعرے درج ہوتے تھے

سے تھا ۔اس مدرسے کے پڑھے ہوئے بہت سے طالب مختلف علاقوں کی مساجد کے منبر سنبھال چکے تھے۔
شہر سے گاﺅں میں اور اسکول سے مدرسے میں، شروع میں تومیں وہاں کے ماحول کو سمجھ نہ پایا۔ پھر آہستہ آہستہ پردے ہٹتے گئے۔ اُستاد جی نے میرا استقبال قمیض کے کالر کاٹ کر کیا۔ انہوں نے فرمایا کہ یہ انگریزوں کی ایجاد ہے اور یہ کتے کے کان ہیں ،مجھے ایک ٹوپی ہر وقت پہنے رکھنے، اور بڑا حاجیوں والاچوخانہ رومال اپنے کندھوں پہ ڈالے رکھنے کا حکم دیا گیا۔
صبح منہ اندھیرے تین بجے نیند سے بیدار کر دیا جاتا ۔ فجر کی نماز تک کلاس ہوتی جس میں بچے روز کا یاد کیا ہوا سبق سناتے تھے۔نماز کے بعد پھر کلاس شروع ہو جاتی جو 11:00بجے تک جاری رہتی۔ 11:30 پر ناشتہ اور دوپہر کا کھانا ایک ساتھ دیا جاتا تھا۔ 12:00بجے سے ظہر کی نماز تک کے وقفہ میں طالب کپڑے دھوتے، نہاتے اور آرام کرتے تھے، ظہر سے عصر کی نماز تک پھر کلاس ہوتی۔ عصر سے مغر ب کے وقفے کے دوران رہائشی طالب کھیلتے جبکہ وہاں کے مقامی طالبوں کو برتنوں کے ساتھ مقامی گھروں سے استاد جی حضرات کے لیے کھانا مانگنے کے لیے بھیج دیا جاتا۔ مغرب سے عشاءتک پھر کلاس ہوتی اور عشاءکی نماز کے بعد رات کا کھانا کھا کر طالب سونے کے لیے اپنے اپنے بستروں میں چلے جاتے۔
مدرسے میں موجود کتب فرقہ واریت پر مبنی مواد سے بھرپور تھیں۔ ٹیپ ریکارڈ ز پرسپاہِ صحابہ کے مولویوں کی تقاریر بلند آواز میں چلا کرتی تھیں۔ جا بجا دیواروں پر اسٹکرز چسپاں ہوتے تھے جن پر تلواروں اور بندوقوں کی تصاویر ہوتی تھیں اور جہادی نعرے درج ہوتے تھے۔ مدرسے میں ٹوائلٹ کو بیت الخلا کہا جاتا تھا۔ وہاں جا کر یونہی محسوس ہوتا تھا جیسے انسان واقعی خلاﺅں میں چلا گیا ہو، وہاں کی دیواروں پر بھی دوسرے فرقوں کے خلاف کُفر کے فتوے درج ہوتے تھے۔ طالب اور استاد جی حضرات باہمی گفتگو میں دوسرے مسالک کے لوگوں پر پھبتیاں کستے اور برا بھلا کہتے۔
معمولی معمولی باتوں پر سخت سزائیں دی جاتی تھیں جن میں بید سے مارنا، مرغا بنانا، چہرے پر تھپڑ مارنا سرفہرست تھیں۔ میرے سامنے استاد جی نے ایک 6سالہ بچے کو گریبان سے پکڑ کر اٹھایا اور زمین پر دے مارا ۔اس کے سر پر ایسی شدید چوٹ لگی کہ اُس کے حواس کافی دیر تک بحال نہ ہوئے ۔ والی بال کھیل کھیل کر استاد جی حضرات تھپڑ رسید کرنے میں کافی مہارت حاصل کر چکے تھے۔
مدرسے میں صرف والی بال کھیلی جاتی تھی (یہ دیہاتی طرز کی والی بال ہوتی ہے جس کے اصول وقوانین ، بین الاقوامی طور پر کھیلی جانے والی ، والی بال سے کافی مختلف ہیں ) ۔ ایک دفعہ ہم نے کرکٹ کھیلی، استاد جی کو کسی طرح پتا چل گیا۔ انہوں نے ہمیں بید سے پیٹا اور بیٹ کو تنور میں ڈال دیا۔ انہوں نے فرمایا ”کرکٹ انگریزی کھیل ہے، والی
بال کھیلا کرو، یہ اسلامی ہے “۔
طالب مختلف ”غیر نصابی “ سرگرمیوں میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے تھے۔ استاد جی حضرات ان سرگرمیوں کی سرپرستی کرتے تھے۔ ان سرگرمیوں میں تبلیغی جماعت کے ساتھ وقت لگانا، جہادی کیمپوں میں جا کر عسکری تربیت حاصل کرنا اور باقی طالبوں کو بھی جہاد کی طرف مائل کرنا سرفہرست ہوتی تھیں۔ 9/11کے بعد ایک ترانہ طالبوں میں بہت مقبول تھا جس کے بول تھے ”میرا شیر اسامہ بن لادن، اسلام کا ہیرو نمبر ون“۔
طالبوں کا مدرسے کی چاردیواری سے باہر کی دنیا سے رابطے کا ذریعہ اخبار ہوا کرتے تھے۔ ان اخباروں میں جہادی تنظیموں کے اخباروں تک طالبوں کو رسائی حاصل تھی جبکہ باقی اخبارات کو پڑھنے کی اجازت نہ تھی، صرف استاد جی حضرات انہیں پڑھ سکتے تھے ۔ ان کا کہنا تھا کہ اخباروں میں برہنہ تصاویر ہوتی ہیں جن کی وجہ سے طالبوں کا ایمان متزلزل ہوتا ہے۔

ایک استاد جی کو میں جب بھی ملتا تو وہ مجھے سینے سے لگا کر ضرورت سی زیادہ بھینچتے۔ اُن کا یہ غیر معمولی عمل اکثر تنہائی میں ہوتا۔جب میں نے اپنے دوستوں سے استادجی کی اس غیر معمولی گرمجوشی کا ذکر کیا تو انہوں نے بھی اس سے ملتے جلتے تجربات بیان کیے ۔ آخر ایک سینئر طالب سے دریافت کرنے پر ایسے ایسے حقائق سے پردہ اُٹھا کہ مجھے اپنے کانوں پر یقین نہ آیا

انہیں دنوں 99ءکا کرکٹ ورلڈ کپ ہو رہا تھا ایک استاد جی جو قدرے زندہ دل معلوم ہوتے تھے، نے مجھ سے مختلف میچوں کی صورت حال دریافت کی۔ اُن کی دلچسپی کو مدنظر رکھتے ہوئے میں نے بڑھ چڑھ کر تفصیلات مہیا کیں ۔ میرے ذخیرہ معلومات سے متاثر ہو کر وہ کچھ سوچ میں پڑ گئے۔ پھر انہوں نے کچھ طالبوں کو بلا کر میرے سامان کی تلاشی کا حکم دیا۔ میرے سامان سے ایک بے ضرر ننھا سا ریڈیو دریافت ہونے پر میری جو درگت سنی، اسے آج بھی یاد کرتا ہوں تو رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔
مدرسہ میں طالبوں کو حکم دیا جاتا کہ استاد جی حضرات کو ہمیشہ جھک کر ملنا چاہئیے۔ ایسا کرنے سے سبق زیادہ یاد ہوتا ہے۔ چنانچہ ایک استاد جی کو میں جب بھی ملتا تو وہ مجھے سینے سے لگا کر ضرورت سی زیادہ بھینچتے۔ اُن کا یہ غیر معمولی عمل اکثر تنہائی میں ہوتا۔جب میں نے اپنے دوستوں سے استادجی کی اس غیر معمولی گرمجوشی کا ذکر کیا تو انہوں نے بھی اس سے ملتے جلتے تجربات بیان کیے ۔ آخر ایک سینئر طالب سے دریافت کرنے پر ایسے ایسے حقائق سے پردہ اُٹھا کہ مجھے اپنے کانوں پر یقین نہ آیا۔
اُنہیں دنوں مدرسے میں ایک نئے اُستاد جی بھرتی کیے گئے ، ان کی آمد کے کچھ ہی دنوں بعد ایک رات جب ہم سب سو چکے تھے تو اچانک شور ہونے پر میری آنکھ کھل گئی ۔ میں اپنے کمرے سے ایک دوست کے ہمراہ باہر نکلا تو دیکھا کہ نئے استاد جی کے کمرے کے باہر کچھ طالب جمع تھے۔ تھوڑی دیر میں ایک اور استاد جی وہاں آگئے۔ انہوں نے طالبوں کو وہاں سے منتشر کیا اور نئے استاد جی کے کمرے کے دروازے پر دستک دے کر انہیں آواز دی۔ کمرہ کھلا اور استاد جی بر آمد ہوئے۔ پرانے استاد نے اندر جا کر ایک نو دس سالہ لڑکے کو باہر نکالا جس کو نئے استاد محترم نے’ پاﺅں دبوانے ‘کے لیے رات گئے اپنے کمرے میں بلا لیا تھا۔ پرانے استاد نے اس معصوم لڑکے کی پٹائی شروع کر دی کہ وہ اتنی رات گئے اس کمرے میں کیا کر رہا تھا۔ اس کے بعد معاملہ رفع دفع ہو گیا۔
اتنے بڑے مدرسے کے انتظام و انصرام کو چلتا دیکھ کر مجھے حیرت ہوتی تھی۔ آخر اس معاملے کی بھی گتھیاں سُلجھنا شروع ہوئیں۔مدرسہ کے مہتمم اعلیٰ کے ایک بھائی جرمنی میں کوئی مدرسہ چلا رہے تھے ،دوسرے بھائی لندن میں ایک مدرسے کے مہتمم تھے، تیسرے بھائی ہر سال بنکاک کی کسی مسجد میں تراویح پڑھانے کے لیے جاتے تھے ۔ اس کے علاوہ سعودی عرب سے ملنے والی امداد علیحدہ تھی۔
تقریباً تین سال اس جزیرہِ علم میں رہ کر میں حافظ بن چکا تھا ۔ میرے والدین کی خواہش مجھے درس نظامی سے مزید تعلیم دلوانے کی تھی۔ لیکن میں مزید ”اعلیٰ “ تعلیم حاصل نہیں کرنا چاہتا تھا۔ لہذا والدین نے دوبارہ اسکول میں داخل کروادیا۔ اسکول اور گھر اب اجنبی سے محسوس ہوتے تھے۔ اکثر لوگ چلتے پھرتے کافرنظر آتے تھے۔ گھر میں TVچلتا دیکھ کر عجیب و حشت ہو تی تھی۔ میں دوسرے مسالک کے مسلمانوں کو سر عام پھانسی دینے کے حق میں بے تحاشا دلائل دیا کرتا تھا۔ سکولوں اور کالجوں میں پڑھائی جانے والی تعلیم مجھے سراسر غیر اخلاقی اور کفریہ عقائد پر مبنی نظر آتی تھی۔ دوسرے مسالک کے لڑکوں سے میری دو ایک بار جھڑپیں بھی ہوئیں۔
FScکا امتحان جیسے تیسے پاس کرنے کے بعد مجھے یونیورسٹی میں داخلہ مل گیا۔ وہاں میرے کمرے میں جہادی لڑکوں کا آنا جانا لگا رہتا، ہم جہاد کشمیر کے حق میں تقاریر کرتے اور نئے طلباءکے کمروں میں جا کر انہیں جہاد کی ترغیب دیتے۔ انہی دنوں میں نے ایک جہادی کیمپ سے ٹریننگ لینے کا فیصلہ کیا۔

جہادی کیمپ میں جا کر تصویر کا اصل رُخ میرے سامنے آگیا۔ جہاد کے جذبے کے پیچھے ان ملاﺅں کی متعصبانہ، غیر انسانی اور سماج دشمن سوچ مجھ پر آشکار ہوئی۔ ان کے ارادوں سے مجھے گھن سی آنے لگی۔ یہ لوگ ایک ایک ہندوکو چن چن کر مارنے کے حق میں تھے۔ احمدیوں کے بہیمانہ قتل پر غیر معمولی مسرت کا اظہار کرتے تھے۔ معمولی غلطیوں پر کڑی سے کڑی اور غیر انسانی سزائیں دینے کو تربیت کا حصہ گردانتے تھے۔

جہادی کیمپ میں جا کر تصویر کا اصل رُخ میرے سامنے آگیا۔ جہاد کے جذبے کے پیچھے ان ملاﺅں کی متعصبانہ، غیر انسانی اور سماج دشمن سوچ مجھ پر آشکار ہوئی۔ ان کے ارادوں سے مجھے گھن سی آنے لگی۔ یہ لوگ ایک ایک ہندوکو چن چن کر مارنے کے حق میں تھے۔ احمدیوں کے بہیمانہ قتل پر غیر معمولی مسرت کا اظہار کرتے تھے۔ معمولی غلطیوں پر کڑی سے کڑی اور غیر انسانی سزائیں دینے کو تربیت کا حصہ گردانتے تھے۔ گو کہ میں خودبھی کٹر، متعصبانہ خیالات کا مالک تھا لیکن شاید میرے ذہن کے کسی گوشے میں انسانیت کی تھوڑی سی رمق باقی تھی۔ ان جنونیوں کے غیر انسانی اور معاشرے کی جڑوں کو کھوکھلا کر دینے والے رویوں سے میرا دل متنفر ہوتا گیا۔

جہادی کیمپ سے واپسی پر میں ایک مکمل طور پر بدلا ہوا انسان تھا۔ ایسے موقع پر ایک سینئر کے توسط سے مجھے اعتدال پسند لٹریچر پڑھنے کا موقع ملا۔ انہی دنوں کچھ ترقی پسند،روشن خیال دوستوں سے بھی ملاقات ہوئی جنہوں نے جمہوریت،رواداری اور انسانی ترقی کے نظریات سے متعارف کرایا ۔ ان کے ساتھ ملاقاتوں کا سلسلہ جاری رہا۔ ان کے توسط سے دوسرے اعتدال پسند سوچ رکھنے والے دانشوروں سے ملنے کا موقع ملا۔ آہستہ آہستہ اندھیرے چھٹتے گئے اور میں زندگی میں واپس آنا شروع ہوا۔ آجکل میں سماجی وسیا سی کارکن کے طور پر مختلف تنظیموں کے ساتھ منسلک ہوں اور ایک بھرپور زندگی گزار رہا ہوں۔ اب مختلف صحت مندانہ سماجی سرگرمیوں میں حصہ لینے ، آگے بڑھنے اور دوسروں کی ترقی میں معاون بننے میں مجھے بے تحاشا خوشی محسوس ہوتی ہے۔