Categories
شاعری

بندہ بھائی کا منٹو

[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

بندہ بھائی کا منٹو

[/vc_column_text][vc_column_text]

بندہ بھائی!
تاویلوں کے تالوں کو مصرف میں لاؤ
جتنا چاہو باطن میں اندھیرا بھر لو
خود سے بھاگو
بھاگو جتنا بھاگ سکو ہو
گھومو۔۔۔۔۔۔ کاٹھ کے گھوڑے پر تم دنیا گھومو

 

بندہ بھائی!
ایسا کتنی دیر چلے گا؟
ہر بے حد کی حد ہوتی ہے
دیکھنا اک دن آ جائے گا
پیپرویٹ کے نیچے رکھے دستاویزی مے خانوں سے
باہر کی دنیا کے من میں پیر رکھے گا

 

بندہ بھائی!
دیکھنا منٹو آ جائے گا
ہو ہو ہو ہاہا کا پھاہا
اس بے دردی سے نوچے گا
چیخ رِسے گی
اس پر وہ ہچکی رکھے گا
ہچکی پر ہچکی باندھے گا
بہتے وقت کی گندی نالی کے کیڑوں کو
نمک بھری چٹکی کاٹے گا
اجلے کاغذ پر چھوڑے گا
اور پھر ان کے پیچھے پیچھے ان کی جنت تک جائے گا
پچھلی رات کے جھوٹے برتن مانجھ مانجھ کر کلی کرے گا
ان میں من کی میل دھرے گا
کتوں میں انسانی چہرے اور انسان میں جنگل سارا۔۔۔۔بھرا بھرایا
گدلے پانی کی بوتل میں خالی کر کے
روز جیئے گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔ روز بھرے گا
دیکھنا اک دن آ جائے گا
بندہ بھائی!
دیکھنا منٹو آ جائے گا

Art Work: Express Tribune
[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]

Categories
نقطۂ نظر

کم بخت منٹو کے کم بخت چاہنے والے

ہم نے سنا ہے کہ یہ “منٹو” بڑا کمبخت تھا، جو ذہن میں آتا وہی لکھ ڈالتا، نہ نام نہاد معاشرتی اقدار کی پرواہ کرتا، نہ اپنے دوستوں اور عزیزوں کی عزت کا پاس رکھتا۔ اسے “اوپر نیچے اور درمیان” جو بھی نظر آتا وہی افسانوی سانچے میں ڈال کر لوگوں کے سامنے رکھ دیتا تاکہ وہ یہ سمجھا سکے کہ واقعی معاشرتی برائیوں کو کپڑے پہنانا منٹو یا کسی بھی لکھاری کا نہیں بلکہ ان درزیوں کا کام ہے جنہیں “کالی شلواریں” سینی نہیں آتیں۔ وہ ایک کم بخت تھا اور اس کے چاہنے والے بھی کمبخت تھے اور ہیں۔ “منٹو” پڑھنا یا دیکھنا ہر کسی کے بس کی بات نہیں اور ایک وسیع النظر انسان ہی اتنے بے باک لکھاری کو پڑھ سکتا ہے اور اس فلم کو دیکھ کر منٹو سے سلام دعا کرنے کا حوصلہ کر سکتا ہے۔

 

گزشتہ دنوں راولپنڈی میں فلم “منٹو” دیکھنے کا اتفاق ہوا، فلم توقع سے زیادہ عمدہ نکلی اور فلم کے اختتام پر داد دئیے بغیر نہ رہ سکا۔ اس کم بخت منٹو کی زندگی اور افسانوں پر بننے والی فلم کے کردار جو بھی تھے، جس طرح بھی انہیں فلمایا گیا اور جس جس نے بھی یہ کردار نبھائے اس سب سے قطع نظر ایک بات طے ہے کہ اس فلم کو دیکھنا عام انسان کے بس کی بات نہیں۔ معاشرتی برائیوں اور انسانی نفسیات کا اتنا باریک بین اور حقیقت پسند بیان پست ذہنوں کو فحش ہی لگے گا۔ منٹو پڑھتے اور فلم منٹو دیکھتے ہوئے آپ یوں محسوس کرتے ہیں جیسے اس دنیا میں صرف منٹو کے کردار ہی زندہ ہیں، باقی سب بت ہیں، مجسمے ہیں اور واہمے ہیں۔

 

زمین پر موجود تمام مخلوق اگر”اوپر نیچے اور درمیان” دیکھے تو پتہ چلتا ہے کہ برائیاں یہی لوگ پھیلاتے ہیں اور پھر خود ہی اس کی ترویج کے لیے راستے بھی بناتے ہیں لیکن ایسے میں اگر کوئی منٹو کہتا ہے کہ “کھول دو” تو مجمعے میں بیٹھا ہر شخص کہتا ہے کہ بڑا کمبخت ہے یہ منٹو ۔

 

فلم ختم ہوئی اور ارد گرد دیکھا تو ایک اور فلم دیکھنے کو ملی جو تاحال چل رہی ہے، جس میں ایک بڑے سے پاگل خانے کے سیٹ پرہزاروں لاکھوں ٹوبہ ٹیک سنگھ سرحدیں عبور کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، بیسیوں سوگندیاں ٹھکرائی جا رہی ہیں اور کئی ازار بند کھلے ہوئے ہیں، کلونت کوریں چھریاں پکڑے اپنے ہی گلے کاٹ رہی ہیں، تانگوں میں گھوڑوں کی جگہ عورتیں جتی ہیں
یہاں پر ہر اس شخص کے ہاتھ سب کچھ کرنے کا “لائسنس” ہے جس کی لاٹھی مضبوط ہو اور وہ ٹیٹوال کے کتے ہانکنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔ ایسے میں ایک جوان عورت کیا کرے؟ اسی لیے تو اس کم بخت نے کہا تھا کہ “ہمارے معاشرے میں عورت کو کوٹھا چلانے کی اجازت ہے لیکن تانگہ چلانے کی اجازت نہیں”۔ اس سکینہ کی طرح جو “سکینہ” جس کا تانگہ چلانے کا “لائسنس” صرف اس لیے ضبط کیا گیا کہ وہ ایک عورت ہے اور پھر اسے جسم فروشی کا “لائسنس” بھی محض اس لیے مل گیا کیوں کہ وہ عورت ہے اور خوبصورت عورت ہے۔ اس معاشرے نے اسی سکینہ کو ایک نئے لائسنس کے ساتھ قبول کر لیا جو محنت مزدوری کرکے اپنا اور خاندان کا پیٹ بھرنا چاہتی تھی۔

 

فلم ختم ہوئی اور ارد گرد دیکھا تو ایک اور فلم دیکھنے کو ملی جو تاحال چل رہی ہے، جس میں ایک بڑے سے پاگل خانے کے سیٹ پرہزاروں لاکھوں ٹوبہ ٹیک سنگھ سرحدیں عبور کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، بیسیوں سوگندیاں ٹھکرائی جا رہی ہیں اور کئی ازار بند کھلے ہوئے ہیں، کلونت کوریں چھریاں پکڑے اپنے ہی گلے کاٹ رہی ہیں، تانگوں میں گھوڑوں کی جگہ عورتیں جتی ہیں اور ہر جگہ بارود اور خون کی بو میں بسے انکل سام اپنے اپنے ملاوں کی انگلیاں پکڑے ٹہل رہے ہیں، اور ایک، صرف ایک منٹو لکھے جا رہا ہے، پیے جا رہا ہے، پیے جا رہا ہے اور لکھے جا رہا ہے۔۔۔۔ معلوم نہیں اس فلم کا اختتام کب ہو گا؟ ہو گا بھی یا نہیں؟
Categories
تبصرہ

سرمدکھُوسٹ! لوگ تالیاں بجاتے ہیں

لیجنڈری افسانہ نگار سعادت حسن منٹو کی زندگی پر بننے والی فلم “منٹُو” پچھلے ماہ ریلیز ہوئی۔ ارادہ تو یہ تھا کہ فلم ریلیز ہونے کے ایک ہفتے کے اندر اندر اس پر تبصرہ رقم کر کے دوستوں کی خدمت میں پیش کر دیں، مگر چند دلچسپ عناصر ایسی گزرگاہ ثابت ہوئے جس پر خرام کرنا گویا “نہ پائے ماندن، نہ جائے رفتن” ایسے تذبذب سے گذرنا تھا۔ سو، تب نہ لکھ پائے۔ وہ عناصر کیا تھے، عرض کیے دیتے ہیں؛
یہ فلم اُستادِ محترم جناب سرمد کھُوسٹ کی تخلیق تھی۔ ان ہی کی شفقت، مروت اور محنت نے ہمیں اِس قابل بنایا کہ کسی فلم کا انتقاد تحریر کر سکیں۔ فلم کیسے دیکھی جاتی ہے، یہ ہمیں فطرت نے سکھا رکھا تھا۔ مگر فلم کیسے “پڑھی” جاتی ہے، یہ ہمیں جیمز موناکو کی بے مثال کتاب سے پہلے سرمد سلطان کھُوسٹ کی لگن اور مروت نے سکھایا۔ سو، انہی سے سیکھ کر انہی کی فلم پر انتقاد لکھنا ایک کٹھن کام تھا۔ احترام کا سحر اور استاد کا رُعب دل میں جاگزیں رہے تو انگلیاں ساکت ہوئیں۔ اس لیے تاخیر ہوئی۔
فلم کا اسکرین پلے بحیثیت مجموعی بہتر تھا۔ تاہم مکالمے چُست اور کاٹ دار نہیں تھے۔ ایک عظیم ادیب پر فلم بنانے کا منصوبہ تھا توقابلِ احترام ہدایتکار کو چاہیے تھا کہ وہ دستیاب مکالمہ نگاروں میں سے بہترین مکالمہ نگار کو یہ ذمہ سونپتے۔

 

فلم ریلیز ہوتے ہی ہمارے ادیب اور دانشور دوستوں نے اس پر تبصرے لکھنا شروع کر دیئے۔ حتی الوسع سب کو پڑھا۔ بیشتر کے تبصروں کا لب لباب یہ ہے کہ “منٹو” اچھی فلم ہے۔ مگر، جو بات ان کی تحریروں میں سب سے زیادہ کھٹکتی ہے، وہ یہ ہے کہ ان دوستوں نے بجائے فلم کے تکنیکی پہلوؤں پر بات کرنے کے، افسانہ نگار “منٹو” پر بات کی۔ فلم کے بہانے سعادت حسن منٹو کے فن اور شخصیت پر تبصرے کیے۔ جو اگرچہ اپنی جگہ قابل قدر کام ہے، مگر اسے فلم پر تبصرہ نہیں کہا جا سکتا۔ فلم پر تبصرہ کرنے کے لیے مبصر کا فلم کو بطور آرٹ اور بطور ٹیکنالوجی جاننا بہت ضروری ہے۔ اور یہ اہلیت منٹو کا اپنا کام، یا اُن پر کیا گیا کام پڑھنے سے نہیں، بلکہ فلم “پڑھنے” سے پیدا ہوتی ہے۔

 

اس تناظر اور اس صورتِ حال میں خاکسار ایک خالص فلمی انتقاد لکھنا چاہتا تھا۔ جسے ادیب بھی پڑھ سکیں اور فلم بین بھی۔ اس لیے بھی تاخیر ہوئی۔ مگر، آج یہ انتقاد لکھنے کی ٹھان لی، سو، جیسا بھی ہے، خلوص سے اور عجز و انکسار سے پیش کر رہا ہوں۔ قبول فرمائیے۔

 

منٹُو: دی فلم
اسکرین پلے، پلاٹنگ اور مکالمے:
مختلف کہانیوں سے تشکیل پانے والے کولاج میں تسلسل کے ساتھ بائیوپِک چلانا ایک مشکل کام تھایہ اسکرین پلے رائٹر کا امتحان تھا جس میں شاہد محمود ندیم کامیاب رہے۔ فلم کا اسکرین پلے کافی اچھے انداز میں پلاٹ کیا گیا ہے۔ تاہم، ہم اِس کی جُزئیات کو بے جھول اور کسے ہوئے کُل میں متشکل ہوتا نہیں دیکھتے۔ بطور کہانی کار، پردہِ سیمیں پر دِکھانے کے لیے منٹو کی زندگی کے جو واقعات شاہد ندیم نے منتخب کیے، اُن پر بحث جاری ہے۔مزید بحث کی گنجائش بھی موجود ہے مگر وہ ہمارا موضوع نہیں۔ ہمارا موضوع ہے، منتخب کردہ مواد کو کس انداز سے اسکرین پر پیش کا گیا ہے۔ تو عرض ہے کہ فلم کا اسکرین پلے بحیثیت مجموعی بہتر تھا۔ تاہم مکالمے چُست اور کاٹ دار نہیں تھے۔ ایک عظیم ادیب پر فلم بنانے کا منصوبہ تھا توقابلِ احترام ہدایتکار کو چاہیے تھا کہ وہ دستیاب مکالمہ نگاروں میں سے بہترین مکالمہ نگار کو یہ ذمہ سونپتے۔ ہم یہاں منٹو کی اپنی تحریروں میں موجود مکالموں کی بات نہیں کر رہے۔ ہم بات کررہے ہیں اُن مکالموں کی کہ جن کی مدد سے یہ بائیوپِک آگے بڑھتی ہے۔ یہ مکالمے منٹو کے شایانِ شان نہیں تھے۔
مروجہ دستور کے تناظر میں دیکھا جائے تو منٹو کے فریمز عمدہ ہیں اور ان کی کمپوزیشن بھی متوازن اور صاف ستھری ہے۔ رنگ اور روشنی کئی جگہوں پر تصویر اور آواز سے کہیں تیز کہانی کے معانی کی ترسیل کرتے ہیں۔

 

ساؤنڈ ڈیزائن اور بی جی ایم:
اگر تو یہ فلم چھوٹی اسکرین پر چلانے کے لیے بنائی گئی تھی، پھر ہمیں اس کے ساؤنڈ ڈیزائن پر زیادہ اعتراض نہیں۔ مگر، اِسے تو سینما ہالز کے لیے بنایا گیا تھا۔ اور سینما ہالز میں نمائش کے لیے پیش کیا جانے والا کام اپنے پروڈکشن ڈیزائن کے اعتبار سے ٹی وی سے مختلف ہوتا ہے۔ لہٰذا، ہم اگر بڑی اسکرین کے تناظر میں اس کے ساؤنڈ ڈیزائن پر اپنے تحفظات کا اظہار کریں تو حق بجانب ہوں گے۔ ہمارے خیال میں‌اس کا ساؤنڈ ڈیزائن اس کے اسکرین پلے کو بھرپور انداز میں support نہیں کر سکا۔ جس کی وجہ سے کئی ایک مقامات موثر visuals ہونے کے باوجود ناظر کے دل پر مناظر دیرپا اثر نہیں چھوڑ سکے۔ ہم جانتے ہیں کہ یہ فلم ڈرامے کی صنف(Genre) سے تھی اور منٹُو کی بائیوپِک تھی۔ جس میں‌سسپنس، تھرل وغیرہ کا تاثر دینے والا ساؤنڈ اُس انداز سے تخلیق نہیں کیا جا سکتا تھا جس انداز میں دیگر کسی بھی فکشن کے کام میں۔ مگر، کہانی سُنانے کے لیے جب ہم فلم کا میڈیم استعمال کرتے ہیں تو اس میڈیم کے تقاضے پورے کرنا لازمی ہوتا ہے۔ فلم “مُور” بھی ڈرامہ فلم تھی۔ اس میں ہدایتکار جامی نےجس انداز میں‌ کہانی سنانے کے لیے وژیولز کا اثر دوچند کرنے والا خالصتاً بڑی اسکرین کا جو ساؤنڈ ڈیزائن متعارف کرایا، قابلِ سماعت ہے۔ ہمارے خیال میں فلم “منٹو” کا ساؤنڈ ڈیزائن مزید بہتربنایا جا سکتا تھا۔
ٹھنڈا گوشت جس انداز سے پیش کی گئی، اس نے اِسے باقاعدہ ایک شاہکار فن پارہ بنا دیا ہے۔ اِسے فلم سے الگ دیکھا جائے تو بھی یہ ایک مکمل فن پارہ ہے۔

 

فریمنگ اور کمپوزیشن:
مروجہ دستور کے تناظر میں دیکھا جائے تو منٹو کے فریمز عمدہ ہیں اور ان کی کمپوزیشن بھی متوازن اور صاف ستھری ہے۔ رنگ اور روشنی کئی جگہوں پر تصویر اور آواز سے کہیں تیز کہانی کے معانی کی ترسیل کرتے ہیں۔ تاہم، اگر ہم اِسے سرمد کھُوسٹ صاحب کے اپنے مقرر کردہ معیار کے حوالے سے دیکھیں تو چند ایک جگہوں پر فریمنگ کے مسائل پیدا ہوئے۔ مثال کے طور پر صفیہ (ثانیہ سعید) جہاں سگریٹ سُلگا کر منٹو، سرمد صاحب، کو دیتی ہے، تو ثانیہ کا فریم کمزور ہے۔ یہاں ہینڈ ہیلڈ کیم کی چھُوٹ بھی نہیں دی جا سکتی۔ ان اِکا دُکا فریمز کے علاوہ بحیثیتِ مجموعی فریمنگ بھی عمدہ ہے اور کمپوزیشن بھی۔

 

اداکاری:
اداکاری کے شعبے میں‌سب سے زیادہ متاثر کُن خود سرمد صاحب رہے۔ ایسی بے مثال اداکاری کی کہ ناظرین دم بخود رہ گئے۔ بعض مقامات پر، مثلاً جنون کے انجیکشن لگواتے ہوئے اور خون تھوکتے ہوئے، ایسی شاندار اداکاری کی کہ دیکھنے والا خود کو اُسی اذیت کا شکار سمجھنے لگا جس سے کردار گزر رہا ہے۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ ساری فلم میں‌ سرمد صاحب نے موڈ یکساں رکھا، جو غیر فطری تھا۔ ہم نے دو بار یہ فلم دیکھی۔ ہمیں ایسا ہرگز محسوس نہیں ہوا۔ گھر میں وائٹ واش کرتے ہوئے اداکاری کا انداز اور موڈ مختلف ہے۔ نُور جہاں کی آمد پر مختلف، پاگل خانے میں مختلف اور نمرہ بُچہ یعنی کہانی کی Personification کے ساتھ مختلف، منٹو کے اپنے ہی تخلیق کردہ کرداروں کے ساتھ اُلجھتے ہوئے اور شہاب کے میز پر برف خانے کا لائسنس پھینکتے ہوئے بالکل مختلف۔
صبا قمر کی اداکاری دیگر اداکاروں کی نسبت کمزور تھی۔ ریحان شیخ نے البتہ حیران کیا۔ سرمد صاحب نے کاسٹنگ خُوب کی۔ سبھی اداکار اپنے کردار کے ساتھ انصاف کرتے دِکھائی دیئے۔ یاسرہ رضوی ہوں یا شمعون، ماہرہ ہوں یا حنا بیات، عرفان کھوسٹ ہوں یا فیصل قریشی۔۔۔۔ سب نے یادگار کردار اد کیے۔

 

فلم کی دیگر نمایاں خُوبیاں:
ٹھنڈا گوشت جس انداز سے پیش کی گئی، اس نے اِسے باقاعدہ ایک شاہکار فن پارہ بنا دیا ہے۔ اِسے فلم سے الگ دیکھا جائے تو بھی یہ ایک مکمل فن پارہ ہے۔ یاسرہ اور شمعون کی پُرتاثیر اداکاری، فریم میں Props اور اُن پر کیمرے کی رسائی کے زاویے، بعدازاں اُن تمام کو ایڈٹ کر کے جس طرح ایک علامتی نظام قائم کیا گیا، اور پوری کہانی ان علامتوں کی مدد سے پیش کی گئی، یہ حصہ پوری فلم کا بہتریں حصہ کہلانے کا مستحق ہے۔ ہمارے خیال میں اپنی پروڈکشن اور پیشکش کے اعتبار سے فلم میں کم از کم تین ناقابلِ فراموش sequences ہیں:
1۔ ٹھنڈا گوشت
2۔ ابتدائی مائم
3۔ فیصل قریشی کا ریڈیو ڈرامہ، منٹو کا انصاف

 

علاوہ ازیں، ان گنت جگہوں پر سرمد صاحب نے معانی کی ترسیل کے لیے علامتوں سے کام لیا۔ اور کچھ ایسے تخلیقی انداز میں کام لیا کہ بجائے وہ مناظر فحش ہونے کے، فن پارہ بن گئے۔ بعض جگہ روایتی علامتیں استعمال کیں مگر بعض جگہ پر علامت بنائی اور استعمال کی۔ افسانے “لائنسس” کی پیشکش میں سُرخ لپ اسٹک کو جس روایتی علامت کے طور پر برتا گیا، قابل داد ہے۔ مگرسویرا ندیم نے جس طرح ہتھیلی کی پُشت کو ایک علامت کے طور پر پیش کیا اور پیشکش کے اس دورانیے میں بے مثال اداکاری کر کے یہ علامت mature کی، یہ منظر ناقابلِ فراموش بن گیا۔ شاید اس سے بہتر انداز میں اور اس سے زیادہ نفاست کے ساتھ یہ نہیں بتایا جا سکتا تھا کہ اب ٹانگے والی کوٹھا چلائے گی۔

 

ایڈیٹنگ:
ایڈیٹنگ نے اس پیریڈ فلم کو حقیقی فن پارہ بنانے میں اپنا کردار ادا کیا۔ مگر خُدا لگتی کہوں تو ایڈیٹنگ دیکھ کر یہ بھانپنا مشکل نہیں تھا کہ کہاں سرمد صاحب کی خصوصی توجہ شاملِ حال رہی، اور کہاں پروفیشنل ایڈیٹر نے ایڈیٹنگ کے تقاضے مشینی انداز میں پورے کیے۔ فلیش بیک، فلیش فارورڈ، پیرالل، اور کانٹینیوٹی ایڈیٹنگ کچھ اس انداز میں کرنا کہ فلم بوجھل نہ ہوجائے، کوئی آسان کام نہیں۔ سچ پوچھیے تو سرمد صاحب کی اداکاری کے بعد جس خوبی نے سب سے متاثر کیا وہ اس فلم کی ایڈیٹنگ تھی۔

 

آخری بات:
فلم بنانا ایک پورا شہر بسانے کے مترادف ہوتا ہے۔ جب ہم فلم کی خامیوں کا تذکرہ کرتے ہیں تو اس کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ یہ شہر کھنڈر ہےبلکہ یہ ہوتا ہے کہ اس شہر کی خوبصورتی میں مزید کہاں کہاں پھولوں کے باغ لگانے سے اضافہ ہوسکتا تھا۔ سرمد صاحب نے ایک ایسے کام میں ہاتھ ڈالا جو صرف وہی کر سکتے تھے۔ ایسے کام کے لیے جس جنون اور مزاج کی ضرورت ہوتی ہے، اللہ نے سرمد صاحب کو ان سے نواز رکھا ہے۔ سرمد صاحب نے اپنی ان بے مثال صلاحیتوں کو بروئے کار لا کر ایک یاد رہ جانے والا شہکار تخلیق کیا ہے۔ ہم جس پر جتنا فخر کریں، کم ہے۔ ہماری خواہش ہے کہ سرمد صاحب شاعرِ مشرق پر بھی ایک فلم بنائیں۔ یہ کام وہی کر سکتے ہیں۔
سرمد صاحب نے ہمیں فلم پڑھاتے ہوئے ایک بار فرمایا تھا، ڈائریکٹر کو اُس کے کام کا صلہ تب مل جاتا ہے، یعنی تب اُس کے پیسے پورے ہو جاتے ہیں جب ٹکٹ پر پیسہ خرچ کر کے سینما ہال میں آنے والا ناظر کسی سین پر تالیاں بجاتا ہے۔فلم منٹو میں ایسے کئی سین آئے جس پر ناظرین نے والہانہ انداز میں تالیاں بجائیں۔ اور فلم کے اختتام پر تو لوگ کھڑے ہو کر کافی دیر تالیاں بجاتے رہے۔
سرمد صاحب! آپ کو آپ کی محنت کا ریوارڈ مل گیا۔ اور ہمارا سر فخر سے اونچا ہو گیا۔ لوگ تالیاں آپ کے لیے بجاتے تھے۔ آپ کی اداکاری اور ہدایتکاری پر بجاتے تھے، اور خوشی سے ہونٹ ہمارے کپکپاتے تھے اور کنجِ چشم ہمارا بھیگتا تھا۔
Categories
خصوصی

چھوٹی سی دنیا، ادبی دنیا ڈاٹ کام

[blockquote style=”3″]

ادارتی نوٹ: تصنیف حیدر ادبی دنیا کے نام سے ایک بلاگ کے ذ ریعے اردو ادب کے نوادر عام قاری تک پہنچانے کے لیے کوشاں ہیں۔ اردو ادب کی ترویج کے لیے قائم معروف ویب سائٹ ریختہ سے تین برس تک وابستہ رہنے کے بعد آپ نے ادبی دنیا کے نام سے اپنی ویب سائٹ کا آغاز کیا۔ ان کا شعری مجموعہ “نئے تماشوں کا شہر” کے عنوان سے شائع ہو چکا ہے۔ ذیل میں ادبی دنیا اور تصنیف حیدر کی ذات پر ان کا اپنا تحریر کردہ ایک تعارفی مضمون قارئین کی خدمت میں پیش کیا جارہا ہے۔

[/blockquote]

تم نہ آئے تھے تو ہر چیز وہی تھی کہ جو ہے
آسماں حد نظر، شیشہء مے شیشہء مے
—فیض
اس وقت رات کے سوا گیارہ بجے ہیں، میں اس کوشش میں ہوں کہ کوئی اچھی تحریر، کسی تخلیق کار کا ناول، شعری مجموعہ یا پھر کوئی افسانہ ادبی دنیا پر چڑھا سکوں، یا پھر کوئی کارآمدتنقیدی و تحقیقی مضمون۔ میں اس کا ڈیش بورڈ دیکھتا ہوں، قریب دس سے پندرہ ہزار لوگ اس ماہ وزٹ کرچکے ہیں۔میں ایک گھومنے والی کرسی پر بیٹھا ہوا ہوں۔سامنے ڈیسک ٹاپ کا بسیط سناٹا ہے، اس سناٹے سے اوب کر میں نے جگجیت سنگھ کی گائی ہوئی غالب کی ایک غزل لگادی ہے۔میں علی اکبر ناطق کا ناول ‘نولکھی کوٹھی’ اپ لوڈ کرنے کی کوشش کرتا ہوں اور ناکام ہوتا ہوں کیونکہ ایک پوسٹ میں یہ سارا ناول سما نہیں سکتا، چنانچہ مجھے سید مکرم نیاز سے مشورہ کرنا پڑتا ہے۔ وہ ادبی دنیا کے ایڈمن بھی ہیں اور میری ہر ممکن مدد کرتے ہیں۔ ادبی دنیا کا ڈومین www.adbiduniya.com بھی انہوں نے ہی لیا تھا۔خیر میں چودھرمی محمد علی ردولوی کے افسانے، راشد الخیری کے مضمون، ظفر اقبال کی غزلوں، مجید امجد کی نظموں اور ناصر عباس نیر کے تنقیدی مضامین بکھیرے ہوئے بیٹھا ہوں۔پھر میرے ہاتھ آصف فرخی کی دو خوبصورت کہانیاں لگتی ہیں اور میں انہیں اپ لوڈ کردیتاہوں۔
ادبی دنیا کا مصرف کیا ہے، آخر آج کے صنعتی دور میں اس کی ضرورت کیوں ہے اور کیا اس سے کوئی ایسا ادبی انقلاب رونما ہوجائے گا کہ لوگوں کا مذاق ادب تبدیل ہوسکے، بن سکے یا نکھر سکے۔ایسا کچھ نہیں ہوگا، جو لوگ نصیر ترابی کی لکھی ہوئی رومانی غزل پڑھ کر اپنے عشق کو تھپکیاں دے رہے ہیں، جو جنگ، نفرت، مذہب اور نعرے بازی کی سیاست میں الجھے ہوئے ہیں، وہ لوگ میرے قاری نہیں ہیں۔میرا پہلا قاری میں خود ہوں، اور میں ظاہر ہے کہ بدلنا نہیں چاہتا ہوں، بس آگے بڑھنا چاہتا ہوں۔یہ میری تربیت کے لیے بھی ضروری ہے، جس طرح اور لوگ اس کلاس میں شریک ہوکر اپنی تربیت کرسکتے ہیں، جیسے میں میلان کنڈیرا کا ایک انٹرویو پڑھ کر یہ سوچنے کے قابل ہوا ہوں کہ واقعی ہم ادب میں اچھے برے کا فیصلہ وقت کے ہاتھ سونپنے کی بھول کیسے کرسکتے ہیں، کیا وقت کے کیے گئے سارے فیصلے بالکل صحیح ہیں؟ کیا وقت کا کیا گیا فیصلہ صرف کچھ خاص لوگوں کی تدبیر و تعبیر کا عکس نہیں ہوا کرتا ہے۔میں سوچ رہا ہوں، پڑھ رہا ہوں اور مستقل اسی سفر کو آگے بڑھائے رکھنا چاہتا ہوں، سو اس لیے مجروح سلطان پوری کے الفاظ میں جو گھر کو آگ لگائے ہمارے ساتھ چلے۔مجھے کوئی غلط فہمی یا خوش فہمی نہیں ہے کہ ادبی دنیا کے ذریعے میں ادب کے لیے کوئی کام کررہا ہوں، ہم ادب اپنی ذات کے لیے پڑھتے ہیں، کیونکہ یہ ہمارے مزاج کا حصہ ہوا کرتا ہے، ہمارے جینوٹائپ میں موجود ، ہم میں گھلا ملا، رچا بسا ہوا کرتا ہے۔جس کا یہ مسئلہ نہیں، وہ فیس بک پر لکھے ہوئے کسی گھسے پٹے شعر کو پڑھے اور دوسروں کی طرح داد دہی کے شور میں گم ہوجائے۔
مجھے کوئی غلط فہمی یا خوش فہمی نہیں ہے کہ ادبی دنیا کے ذریعے میں ادب کے لیے کوئی کام کررہا ہوں، ہم ادب اپنی ذات کے لیے پڑھتے ہیں، کیونکہ یہ ہمارے مزاج کا حصہ ہوا کرتا ہے، ہمارے جینوٹائپ میں موجود ، ہم میں گھلا ملا، رچا بسا ہوا کرتا ہے
ایسا نہیں کہ ادبی دنیا کو میں معاشی قسم کی سرگرمیوں سے جوڑنا نہیں چاہتا، بلکہ میرا بس چلے تو میں اسی ویب سائٹ کے ذریعے کماوں اور دن رات اس پر ایسی چیزیں اپ لوڈ کروں جو میں پڑھ سکوں، پڑھواسکوں۔نعمتوں کا صحیح استعمال، وقت کا صحیح استعمال ہے۔انٹرنیٹ وقت کی بربادی بھی ہے اور نہیں بھی، یہ تو بس اس بات پر منحصر ہے کہ اس سے کس قسم کا کام لیا جارہا ہے۔میں پڑھنے والوں کو معیاری ادب کا ایک ایسا پلیٹ فارم بناکر دینا چاہتا ہوں، جہاں ان کا وقت برباد نہ ہو۔ میرا مقصد ادبی دنیا کو کسی قسم کا آرکائیو بنانا نہیں ہے، بس میں پڑھنے والوں کو انٹرنیٹ پر بھی ایسی چیزیں فراہم کروانا چاہتا ہوں، جن سے انہیں لگے کہ اس ادب کے یونی کوڈ ٹیکسٹ کی شکل میں مل جانے کی وجہ سے وہ اسے کاپی کرکے اپنے فرصت کے لمحات میں ایسے کمپیوٹرز، موبائلزوغیرہ پر بھی پڑھ سکتے ہیں، جہاں انٹرنیٹ کی سہولت نہ ہو۔وہ ان کا با آسانی پرنٹ لے سکتے ہیں، دوسروں کو اسے بھیج سکتے ہیں، اپنے پسندیدہ حصوں کو سوشل نیٹ ورکنگ ویب سائٹس پر شیئر کرسکتے ہیں، بلکہ انہیں آن لائن ٹرانسلٹریشن ٹولز (Transliteration Tools) کی مدد سے ہندی اور رومن میں بھی تبدیل کرکے پڑھ سکتے ہیں۔پھر اس ویب سائٹ کو اردو کے موقر و معتبر ادیبوں کا تعاون بھی حاصل ہوتا جارہا ہے، اور اس کی وجہ میری اور ان کی یہ فکری ہم آہنگی ہے کہ بات کو بنانے کے ساتھ ساتھ آج کے دور میں اسے پھیلانے کے بھی تمام وسائل موجود ہونے چاہیے۔ میں ادب کی تبلیغ کا قائل نہیں اور نہ کسی ایسے جعلی فروغ کا تصور دماغ میں رکھتا ہوں،جس کی وجہ سے میر اور منٹو کو پڑھنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہوسکے میرا ماننا تو بس یہ ہے کہ اگر کسی کونے میں کوئی ایسا شخص موجود ہے، جو میریا منٹو کے لکھے ہوئے ادب کو پڑھتا یا پسند کرتا ہو، اسے انٹرنیٹ پر مایوسی کا منہ نہ دیکھنا پڑے اور گوگل سرچ اسے ادبی دنیا ویب سائٹ تک پہنچادے۔
میں ادب کی تبلیغ کا قائل نہیں اور نہ کسی ایسے جعلی فروغ کا تصور دماغ میں رکھتا ہوں،جس کی وجہ سے میر اور منٹو کو پڑھنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہوسکے میرا ماننا تو بس یہ ہے کہ اگر کسی کونے میں کوئی ایسا شخص موجود ہے، جو میریا منٹو کے لکھے ہوئے ادب کو پڑھتا یا پسند کرتا ہو، اسے انٹرنیٹ پر مایوسی کا منہ نہ دیکھنا پڑے اور گوگل سرچ اسے ادبی دنیا ویب سائٹ تک پہنچادے۔
ادبی دنیا ڈاٹ کام پر شاعری کے ساتھ ساتھ فکشن اور تنقید کی نمائندگی بھی بہت ضروری ہے، اس کے علاوہ ادیبوں کے ساتھ مستقل رابطے کی ایک صورت دس سوالات کی صورت میں پیدا کی گئی ہے، اس حوالے سے اب تک ہندوستان و پاکستان کے کئی ادیبوں کے انٹرویوز ادبی دنیاپر پیش کیے جاچکے ہیں، جن میں ظفر اقبال، شمیم حنفی، محمد حمید شاہد، اجمل کمال، ناصر عباس نیر، ذکیہ مشہدی، خالد جاوید، شارق کیفی، یاسمین حمید، علی اکبر ناطق، ظفر سید، سید کاشف رضا، زاہد امروز، ابھیشیک شکلا اور کئی دوسرے اہم لکھنے والوں کے نام شامل ہیں۔اچھی کہانیوں، ناول، شعری انتخابات اور تنقیدی و تحقیقی مضامین کے سسلسلے میں ادبی دنیا کو فعال رکھنا ایک اہم فریضہ سمجھا گیا ہے، اسی لیے ساقی فاروقی، احمد مشتاق، آشفتہ چنگیزی، زیب غوری اور بانی کی غزلوں کو وافر مقدار میں ادبی دنیا پر اپ لوڈ کیا گیا ہے۔ ادبی دنیا پر محمد حمید شاہد کی فکشن تنقید سے تعلق رکھنے والی اہم سیریز’فکشن میرے عہد کا‘ بہت پسند کی جارہی ہے، جس کے ذریعے افسانہ نگاروں اور ان کے یہاں موجود فنی باریکیوں کا جائزہ لیا جاتا ہے اور معاصر فکشن پر سیرحاصل گفتگو قارئین کو پڑھنے کے لیے ملتی ہے۔ اسی طرح اجمل کمال کے مضامین کی سیریز قارئین کو پسند آرہی ہے، جس میں اجمل کمال کے ادب اور سماجیات سے تعلق رکھنے والے اہم مضامین اور ان کا معروضی انداز لوگوں کو ادبی دنیا کی جانب متوجہ کررہا ہے۔ساتھ ہی ساتھ ادبی دنیا پر جہاں ایک طرف ناصر عباس نیر،صلاح الدین درویش اور سید کاشف رضا جیسے معاصر ناقدین کی تنقیدات پڑھنے کو مل سکتی ہیں، وہیں دوسری جانب ادریس بابر، علی اکبر ناطق، انعام ندیم، زاہد امروز اور شہرام سرمدی جیسے اہم معاصر شاعروں کی تخلیقات کو بھی بہ آسانی پڑھا جاسکتا ہے۔
ادبی دنیا نے بہت سے اہم لکھنے والوں کی کلیات کو یونی کوڈ میں فراہم کرانے کی بھی کوشش کو رواج دیا ہے، جس کے تحت ابھی تک سعادت حسن منٹو اور قرۃ العین حیدر کی ساری کہانیاں اور عرفان صدیقی کی تمام غزلیں الگ الگ بلاگز کی صورت میں اپ لوڈ کردی گئی ہیں، جن کے رابطے یا لنکس ذیل میں فراہم کرائے جارہے ہیں
ادبی دنیا نے بہت سے اہم لکھنے والوں کی کلیات کو یونی کوڈ میں فراہم کرانے کی بھی کوشش کو رواج دیا ہے، جس کے تحت ابھی تک سعادت حسن منٹو اور قرۃ العین حیدر کی ساری کہانیاں اور عرفان صدیقی کی تمام غزلیں الگ الگ بلاگز کی صورت میں اپ لوڈ کردی گئی ہیں، جن کے رابطے یا لنکس ذیل میں فراہم کرائے جارہے ہیں۔تاکہ قارئین کوآسانی ہو اور وہ بغیر کسی پریشانی کے ان تمام اہم ادبی متون تک رسائی حاصل کرسکیں۔مستقبل قریب میں ایسے ہی بہت سے بلاگز بنانے کا ارادہ کا ہے، جن میں کلیات میر تقی میر، سعادت حسن منٹو کے تمام ڈرامے، خاکے اور مضامین، سجاد ظہیر کے تمام مضامین، زٹل نامہ اور بہت سی دوسری اہم ادبی و علمی تصانیف کو قارئین تک پہنچانا اہمیت کا حامل ہے۔ادبی دنیا پر جلد ہی کلاسیکی شاعروں کے انتخاب کاایک سلسلہ بھی شروع کیا جانے والا ہے، جس کے زیر اثر قائم چاند پوری، مرز ا محمد رفیع سودا، مصحفی، حاتم، تاباں اور اس دور کے دوسرے شاعروں کا کلام انٹرنیٹ پر اپلوڈ کیا جائے گا۔ادبی دنیا کے حوالے سے تازہ اطلاعات حاصل کرنے کے لیے آپ فیس بک پر موجود اس کے پیج کو بھی لائک کرسکتے ہیں،یا پھر مندر جہ ذیل لنکس میں سے کسی پر بھی کلک کرکے ان تک پہنچ سکتے ہیں۔

سعادت حسن منٹو کی ساری کہانیاں:
http://mantostories.blogspot.in

قرۃ العین حیدر کی ساری کہانیاں:
http://qurratulainhyderstories.blogspot.in

عرفان صدیقی کی تمام غزلیں:
http://www.irfaansiddiqui.blogspot.in

ہم جلد ہی ادبی دنیا کو ایک ویب سائٹ کی شکل دینا چاہتے ہیں، اور اسے صرف ادب تک محدود نہیں رکھنا چاہتے۔اسے سماجیات، معاشیات، مذہبیات ، فلسفے اور سائنس جیسے اہم مضامین سے بھی جوڑا جائے گا، مگر رفتہ رفتہ، ابھی چونکہ یہ ایک بلاگ کی صورت میں ہے، اس لیے کوشش ہے کہ جلد سے جلد اسے ایک ویب سائٹ کی شکل دی جانی چاہیئے، ادبی دنیا کا ایک آڈیومیگزین، ایک یوٹیوب اور ڈیلی موشن چینل اور ‘جدیدترین’ نامی آن لائن اور آف لائن رسالے کے اجراء کا بھی ارادہ ہے،لیکن ظاہر ہے کہ سارا بھاڑ اکیلے چنے کو پھوڑنے کا شوق چرایا ہے، چنانچہ اس میں کچھ وقت لگے گا، اب مدد کے لیے کچھ ہاتھ بھی آگے بڑھ رہے ہیں، جو لوگ واقعی اردو سے محبت کرتے ہیں اور اسے خوبصورتی کے ساتھ اس جدید ٹیکنالوجی سے جوڑنا چاہتے ہیں۔ وہ دنیا کے کسی بھی کونے میں بیٹھے ہوں، ادبی دنیا کے اپنے لوگ ہیں، اور آج کچھ لوگ چل کر اس جانب آئے ہیں، کل کو ممکن ہے ادبی دنیا ایک ایسا وسیلہ بن سکے، جس کے ذریعے اردو زبان ، ادب اور دیگر شعبوں کو دنیا تک پہنچانے، عام کرنے کے راستے اور چوڑے ہوسکیں اور دنیا میں کسی بھی جگہ اپنے پسندیدہ موضوع کو کم از کم اردو میں ڈھونڈتے وقت گوگل مایوسی بھرے دو جملے لے کر آپ کی ڈیسک پر نہ دھمک پڑے۔