Categories
خصوصی

دس برسوں کی دلی ۔ قسط نمبر 12

[blockquote style=”3″]

تصنیف حیدر شاعر ہیں اور شاعر بھی وہ جو غزل میں تجربات اور جدت طرازی سے خوف زدہ نہیں۔ دوردرشن اور ریختہ سے وابستہ رہے ہیں اور آج کل انٹرنیٹ پر اردو ادب کی سہل اور مفت دستیابی کے لیے ادبی دنیا کے نام سے اپنی ویب سائٹ چلا رہے ہیں۔ ان کی آپ بیتی “دس برسوں کی دلی” ان کے دلی میں گزرے دس برس پر محیط ہے جس کی بعض اقساط ادبی دنیا پر بھی شائع ہو چکی ہیں۔ اس آپ بیتی کو اب مکمل صورت میں لالٹین پر قسط وار شائع کیا جا رہا ہے۔

[/blockquote]

دس برسوں کی دلی کی گزشتہ اقساط پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

جب کبھی سردیوں کی اس تنگ و تاریک دنیا کو دیکھتا ہوں، جو شام ہوتے ہی معدے میں بچی کھرچن بھی صاف کرکے ایسی بھوک جگاتی ہے کہ معلوم ہوتا ہے کسی ننھے پیروں والے جانور نے اپنی زبان سے سارا پیندا چاٹ ڈالا ہے تو مجھے آج سے قریب نو سال پہلے کی ایک شام یاد آتی ہے۔ میں ان دنوں ماتھر سٹوڈیو جایا کرتا تھا۔ دوردرشن کا کام زوروں پر تھا اور ایک کشمیری پروڈیوسر نے جس کا نام عرفان تھا۔ مجھے پھانس لیا تھا۔ پھانس لینے کا محاورہ میں نے دونوں معنی میں استعمال کیا ہے، یعنی کہ اس نے جتنا کام کرایا اس کی آدھی اجرت بھی نہ دی، جبکہ اس کے قریب چھ سات پروگراموں کے دو سو ڈھائی سو ایپی سوڈ میں نے لکھے تھے۔ دوردرشن اردو کا ایک بڑا عہدے دار کشمیری تھا اور عرفان اور اس کے بھائی کے اس سے مراسم تھے، یہیں دلی کے گریٹر کیلاش میں وہ رہا کرتا تھا۔ ایک دفعہ اپنے گھر بھی لے گیا تھا۔اس نے ماتھر سٹوڈیو کو ان دنوں اپنا اڈا بنا رکھا تھا، آئی آئی ٹی روڈ پر واقع یہ سٹوڈیو بہت سے پروڈیو سر کرایے پر لیا کرتے تھے۔اسے میرا پتا ایک اینکر نے دیا تھا، جس کا نام حنا موج تھا اور اس کے ساتھ میں پہلے بھی ایک پروجیکٹ میں کام کرچکا تھا۔بہرحال عرفان اور اس کے بھائی میں کوئی خاص فرق نہیں تھا۔دونوں چار چھ پائی کا بھی برابر حساب رکھتے تھے، رقم یہاں سے وہاں ہوئی، چھوٹے اور معمولی کریو کے کسی ممبر نے کہیں کچھ زیادہ خرچ کیا تو وہ گریبان پر ہاتھ ڈالنے میں دیر نہ کرتے تھے۔میرے ساتھ حالانکہ اس کا رویہ نہایت شریفانہ رہا، مگر میں اس کی حرکتیں دیکھ دیکھ کر بہت اوبا کرتا تھا۔ اس کی گالیاں دلچسپ اس لحاظ سے تھیں کہ وہ ماں بہن کی گالیاں نہ دیتا تھا، بلکہ کسی شخص کو برسر شوٹنگ اگر کچھ کہنا ہو، اچانک بگڑ پڑنا ہو تو اس کے کیسے میں کچھ جانوروں کے نام ہوا کرتے تھے۔وہ ایسے خراب لہجے میں یہ نام لیا کرتا کہ سننے والوں کو وہ خطابات کریہہ ترین گالیوں سے بھی زیادہ برے معلوم ہوا کرتے۔اپنی بڑی سی کالی گاڑی میں بیٹھ کر اکثر وہ مجھے کبھی کسی، کبھی کسی سرکاری دفتر لے جایا کرتا، گاڑی میں اکثر کشمیر کے موضوع پر باتیں کیا کرتا تھا۔حیرت کی بات یہ تھی کہ وہ خود کو دل سے ہندوستانی تسلیم نہیں کرتا تھا اور کہا کرتا تھا کہ ہم تو اس ملک میں بس کمانے آیا کرتے ہیں۔مجھے انہی دنوں یہ معلوم ہوا کہ کشمیریوں کو بہت الگ قسم کی مراعات دی جاتی ہیں۔سرکاری رعایتیں الگ، وہ رشوت خوری، کنجوسی اور دوسرے کئی رویوں کے ساتھ سرکاری دفاتر سے رقم اینٹھا کرتے ہیں۔لیکن عجیب بات تھی کہ اس کھلم کھلا اعلان کے باوجود ماتھر سٹوڈیو کا مالک ان دونوں بھائیوں کا بہت اچھا دوست تھا۔ایک دفعہ جب اس نے مجھ سے کسی کشمیری مسئلے پر بات کی، تو میں نے اپنی لاعلمی کا اظہار کیا اور واقعی اس وقت تک مجھے کشمیر کے معاملے میں نہ کوئی دلچسپی تھی اور نہ میں اس کی دوغلی باتیں سننا چاہتا تھا۔اس سے مخالفت کا نتیجہ میں جانتا تھا کہ کام سے ہاتھ الگ دھونا پڑے گا اور ہوسکتا ہے کہ کچھ بدتمیزی بھی کرے۔بہرحال، میں نے اس سے دبے لہجے میں سوال کیا کہ جو حکومت آپ کو اس قدر روزگار دے رہی ہے، اس کے خلاف ایسی باتیں آپ کو زیب نہیں دیتیں۔میں نے کہا کہ شاید جتنی آسانی سے آپ نے یہ پروگرام حاصل کیے ہیں، ہر کسی کو نہیں ہواکرتے۔اس کے علاوہ ایک الگ سرکاری چینل جو کہ ڈی ڈی کاشمیر کے نام سے تھا، خود اس کے ذریعے میں دیکھتا تھا کہ بہت سے کشمیری پروڈیوسر، اداکار اور نہ جانے کتنے لوگ پیسہ کمارہے تھے۔اس نے میری بات کا جواب تو نہ دیا مگر اس کے منہ سے جتنی اول فول باتیں میں نے سنیں، اتنی تو گلمرگ نامی سیریل کی شوٹنگ کے دوران ‘جموں ‘ میں بھی نہ سنائی پڑیں۔لیکن اس کا قصہ اتنا اہم نہیں تھا، وہ جلد ہی منظر نامے سے غائب ہو گیا کیونکہ دوردرشن اردو کا کام ہی دھیرے دھیرے ٹھپ پڑتا گیا۔
میں ماتھر سٹوڈیو کا ذکر ایک خاص مقصد سے کر رہا تھا۔ وہاں کوئی ٹیکنیشین تھا، شاید کیمرہ مین یا کوئی اور، اب مجھے یاد نہیں۔ مگر کالا بھجنگ چہرہ، گھنی مونچھیں اور سیاہی مائل لال بھبھوکا آنکھیں۔وہ ہمیشہ غصے میں رہا کرتا تھا یا پتہ نہیں اس کا چہرہ ہی کچھ اس نوعیت کا ہوگیا تھا۔وہ عرفان اور اس کے بھائی سے بہت ناراض رہا کرتا تھا اور اس کی چپقلش خاصی مذہبی و قومی قسم کی تھی۔وہ شاید عرفان کی باتوں سے آشنا تھا، اس کے خیالات سے بھی، مجھے بھی شاید اس نے انہی خیالات کا شخص سمجھ رکھا تھا یا خدا جانے کیا بات تھی کہ سیدھے منہ بات ہی نہ کرتا۔ایک دفعہ شوٹنگ ختم ہوتے ہوتے دو یا ڈھائی بج گئے، اور مجھے ایک دوسرے کام کے سلسلے میں اسی وقت لکشمی نگر جانا تھا، ماتھر سٹوڈیو سے لکشمی نگر کا فاصلہ قریب پندرہ کلو میٹر ہے۔ رات سرد تھی، دسمبر کا زمانہ، سب نکل چکے تھے، عرفان اس دن پہلے ہی کسی کام سے جاچکا تھا،و رنہ وہ اتنا بااخلاق تو تھا ہی کہ مجھے کسی آٹو سٹینڈ تک اپنی گاڑی میں چھوڑ دیتا۔میرے لیے دلی شہراس وقت، بہت حد تک اجنبی تھا، چنانچہ میں نے صرف آٹو سٹینڈ کے بارے میں اس شخص سے پوچھنا چاہا تو وہ مجھے گھورتا ہوا نکل گیا۔بہت دیر تک میں گومگو کے عالم میں گیٹ پر کھڑا رہا اور پھر اندھیری گلیوں میں یہ سوچتے ہوئے اتر گیا کہ مین سڑک بہت دور نہیں ہے، اگر کوئی مسئلہ ہوا تو پلٹ آؤں گا۔ یہ الگ بات کہ فراٹے بھرتی ہوئی ہوا نے میری کانوں میں ابلتے ہوئے سیسے کی مانند شور مچایا اورہاتھوں، پیروں کی انگلیوں کے پورے کپو گئے، مگر میں ایک ڈیڑھ گھنٹے میں دوسرے دفتر تک پہنچ گیا۔اس کے دو تین روز کے بعد کا واقعہ ہے، سٹوڈیو میں وہی شخص مجھے شام کو اچانک گھورے چلا جارہا تھا، میں نے اس سے پہلے کبھی اس کو اپنی طرف اتنا متوجہ نہیں دیکھا تھا، پتہ نہیں کیا بات تھی کہ آج وہ مجھ پر سے نظر نہ ہٹاتا تھا، اس کی آنکھوں میں عجیب سی حقارت نظر آتی تھی، ایک سخت گیر قسم کی نفرت اور کراہت۔میں سمجھ ہی نہ پارہا تھا کہ آخر بات کیا ہے۔چائے بسکٹ لے کر جب ایک لڑکا میرے پاس آیا تو میں نے اس سے پوچھا کہ ان صاحب کو کوئی دماغی پروبلم ہے کیا؟ مگر لڑکے نے اپنی لاعلمی کا اظہار کیا۔مجھے محسوس ہوا کہ شاید میری کوئی ایسی بات اس شخص نے سن لی ہے، جو اسے نہایت ناگوار گزری ہو، کوئی ایسا جملہ، کوئی ایسا لفظ، جو اس کی سماعت پر اس قدرگراں گزرا ہو کہ مجھے کوئی کمینہ فطرت شخص سمجھ رہا ہو۔ بہرحال میں نے اس کی طرف سے دھیان ہٹا کر پھر کام میں لگالیا، کچھ وقت بعد، جب دفتر میں تھوڑا سناٹا چھایا تو وہ میرے پاس آکر بیٹھ گیا۔اس نے مجھ سے کہا

 

‘تصنیف صاحب! کیسے ہیں؟’ میں نے علیک سلیک کرکے پیچھا چھڑانے کی کوشش کی، مگر اس نے جھٹ سے کہا۔

 

‘بے نجیرکو ماردیا ایک ٹریرسٹ نے۔’ میں نے تب تک پاکستانی سیاستدانوں میں سب سے زیادہ نام بے نظیر بھٹو کا ہی سنا تھا پھر بھی اس خبر کا میرے دل پر کوئی صدماتی اثر نہیں ہوا تھا۔میں نے کنفرم کرنے کے لیے اس سے پوچھا۔

 

‘بے نظیر بھٹو؟’

 

اس نے کہا ‘ہاں، انہی کو۔کتنی نیک عورت تھیں۔’

 

اس کی باتوں سے احساس ہوتا تھا کہ اسے اس واقعے کا سخت افسوس تھا، وہ بے نظیر بھٹو کی اس اچانک موت اور بھیڑ میں ان پر ایک انجان سمت سے آنے والی گولی کو سخت برا محسوس کررہا تھا۔اس روز اس نے کھل کر باتیں کیں۔’اس نے کہا کہ بھائی! یہ مسلمان اپنے اچھے لوگوں کو ہی کیوں ماررہے ہیں۔’اب جب اس نے مجھ سے بات کی تو مجھے احساس ہوا کہ اس کا لہجہ اس کی شکل سے بالکل مطابقت نہ رکھتا تھا۔بس وہ ایک کم گو شخص تھا، جس سے میں بلا سبب خوف کھاتا آرہا تھا۔میں نے اسے سمجھانے کی کوشش کی کہ اس میں اسلام وغیرہ کا کوئی دخل نہیں، یہ تو سیاست کی لڑائی ہے۔اور سیاست کی لڑائی تو دنیا بھر میں جاری ہے۔مگر مجھے حیرت اس بات پر تھی کہ اسے بے نظیر سے اس قدر ہمدردی کیوں تھی، بے نظیر نہ اس کی ہم مذہب تھی، نہ ہم رشتہ، نہ ہم زبان تھی نہ ہم قوم۔ مگر وہ ناراض تھا، اسے ایسے ڈرپوک، بزدلانہ قسم کے حملے پر غصہ تو آیا ہی تھا، ساتھ ہی ساتھ اس نے اس غم کی نکاسی کے لیے ایک مسلمان لڑکے سے گفتگو کرنے کو کیوں ترجیح دی تھی۔شاید وہ سمجھتا تھا کہ وہ مجھے انسانیت کے بارے میں درس دے کر مسلمانوں کو اس قتل و غارت گری کے گورکھ دھندے سے بچا لے جائے گا۔دلی اور اتر پردیش دو ایسی ریاستیں ہیں، جہاں لوگ غم و خوشی دونوں قسم کے ماحول میں اپنے مذہب کو کبھی فراموش نہیں کرسکتے۔یہاں تک کہ کسی ایسے حادثے پر بات کرتے وقت بھی مذہب ان کے پیش نظر ہوتا ہے، جن میں اس کی گنجائش نہیں ہوا کرتی۔اس کا ایسا سوچنا شاید غلط نہ تھا کیونکہ نائن الیون کے حادثے کو زیادہ برس نہیں بیتے تھے اور پوری دنیا میں تشدد اور فساد کے تعلق سے مسلمانوں کی بدنامی دن بہ دن بے قابو سیاہی کی طرح پھیلتی جارہی تھی۔میں اس موقع پر نہ اس سے ہمدردی کرپایا نہ اس معاملے پر کوئی خاص روشنی ڈال سکا۔ مگر پھر بھی اس کا افسوس میرے لیے باعث حیرت تھا۔دنیا ادھر کی ادھر ہوگئی، تقسیم نے لوگوں کو بانٹ دیا، دھرم، مذہب کی لکیروں نے نہ جانے کتنا خون بہایا، کتنے لوگوں کو بے قصور پھانسیاں ہوئیں، کتنے ادیب، کتنے شاعر، کتنے فلسفی، کتنے سماجی خدمتگار اس صبح کا انتظار کرتے کرتے مٹی میں جاملے، جس میں لہو کی سرخی نہ ہو، تلوار کی تیزی نہ ہو، چیخ کی کڑواہٹ نہ ہو، درد کی آہٹ نہ ہو۔ بس ایک سکون ہو، جس میں لوگوں کو ناپنے یا تولنے کا عمل ان کے مذاہب و مسالک کی بنیاد پر ختم ہوجائے، مگر ایسا کچھ نہ ہوا، ستر سال کا عرصہ گزر گیا اور نفرت میں سر مو فرق نہ آیا۔ کتنے استقلال اور کتنی شدت سے ہم نے یہ رشتے نبھائے اور ہر تعمیر کے خواب کو تخریب کی دھار میں بہادیا۔پھر بھی کہیں کوئی دل، بے نام و بے ہنگام، ایک دوسرے بند ہوتے ہوئے دل کے لیے روتا ہے، یہ دیکھ کر مجھے بہت اچھا لگا تھا۔آج بھی اس شخص کو یاد کرکے مجھے خوشی ہوتی ہے۔بعد میں نہ میں کبھی اس سے ملا، نہ ملنے کی ضرورت محسوس کی، ہوسکتا ہے وہ آج بھی ماتھر سٹوڈیو میں ہی ہو یا کہیں اور کھو گیاہو، دس سال سو انقلابوں کے لیے کافی ہوتے ہیں اور کبھی کبھی سو سال ایک تبدیلی بھی پیدا نہیں کرپاتے۔پتہ نہیں کیوں، مجھے یہ بھی محسوس ہوا کہ جیسے میں بے نظیر کا قاتل ہوں اور وہ شخص مجھے سمجھا رہا ہے۔یہ اتنی سچی، ایسی دیانتدارانہ نفسیات ہے کہ اسے چھپانے کا کوئی فائدہ نہیں۔مجھے لگا کہ میرے ہاتھ اس زنگ آلود طمنچے کو تھامے، بھیڑمیں اس مسکراتے ہوئے چہرے کو داغنے کے لیے تیار ہورہے ہوں، جو نعروں کو تتر بتر کردیں گے، لوگوں کو ادھر ادھر کردیں گے۔بس اس کے بعد ایک خاموشی، ایک نیا صدر اور ایک نیا سیاست داں۔میں اسے سمجھانا چاہتا تھا کہ میرا اس ملک کی تقدیر سے کوئی واسطہ نہیں، جس نے خود کو علیحدگی کی منزل پر سات دہائیوں قبل چیختے بلکتے چھوڑ دیا تھا۔مگر آج جب میں دیکھتا ہوں کہ کوئی مسلمان، کوئی سیکولر اپنی سوچ کو نمایاں کرتے ہوئے، اس ملک میں پاکستان جانے کے ایک ان دیکھے مشورے یا دھمکی کو موصول کرتا ہے تو مجھے یکبارگی بے نظیر کے لہو میں ڈوبے ہوئے وہ انجان ہاتھ یاد آجاتے ہیں۔سچ ہے کہ شناخت کے نام کی رکھوالی کرنے والی آوازوں کی کوئی شناخت نہیں ہوتی۔

 

غالب جب دہلی سے کلکتہ گئے اور وہاں کے باشندوں سے دل برداشتہ ہوئے تو اپنی شناخت کو یاد کر کے یہ کہنے پر مجبور ہوئے کہ

 

برگ دنیا نہ ساز دینش بود
ننگ دہلی و سرزمینش بود

 

میں سوچنے لگا کہ دہلی سے اکھڑنے والے پائوں، پاکستان کے مختلف شہروں پر جم گئے ہوں گے تو آخر انہوں نے کیا سوچا ہوگا اور ان روحوں کا ملال کیسا ہوگا، جو واقعی بے نظیر کو اپنا ہیرو مانتی رہی ہونگی اور جنہوں نے اس کی سیاسی زندگی میں بہت سے اتار چڑھائو کے بعد ایک سڈن موت کو بھیڑ کی پالکی پر رقص کرتے دیکھا ہوگا۔ماتھر سٹوڈیو کی بتیاں اس وقت بجھ گئی ہوں گی، میں بھی قلم تھامتا ہوں اور آپ کو دہلی کے دوسرے دروازوں کی طرف لیے چلتا ہوں۔
Categories
خصوصی

دس برسوں کی دلی ۔ قسط نمبر 11

[blockquote style=”3″]

تصنیف حیدر شاعر ہیں اور شاعر بھی وہ جو غزل میں تجربات اور جدت طرازی سے خوف زدہ نہیں۔ دوردرشن اور ریختہ سے وابستہ رہے ہیں اور آج کل انٹرنیٹ پر اردو ادب کی سہل اور مفت دستیابی کے لیے ادبی دنیا کے نام سے اپنی ویب سائٹ چلا رہے ہیں۔ ان کی آپ بیتی “دس برسوں کی دلی” ان کے دلی میں گزرے دس برس پر محیط ہے جس کی بعض اقساط ادبی دنیا پر بھی شائع ہو چکی ہیں۔ اس آپ بیتی کو اب مکمل صورت میں لالٹین پر قسط وار شائع کیا جا رہا ہے۔

[/blockquote]

دس برسوں کی دلی کی گزشتہ اقساط پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

دلی ایک شہرہے، اس ٹھکے ہوئے تصور سے بالکل جدا، جس نے اسے آج بھی بہت سے لوگوں کی نظر میں شاہجہاں آباد بنا رکھا ہے۔کہتے ہیں کہ ایک انگریز نے جن کا نام ڈیوک کناٹ تھا، پرانے شہر کی تزئین کچھ اس طرح کی کہ وہ مغل حکمرانوں کے فصیل دہلی میں بھی ممکن نہ تھی، جو کہ مغلوں کے عہد میں نیا شہر کہلاتا تھا۔پرانی دلی اور نئی دلی کے درمیان قدیم و جدید کی ایک بالکل الگ دیوار کھڑی ہوئی ہے۔پرانی دلی آج بھی اپنے طرز، بود و باش، رہن سہن اور اطوار و رویے میں بالکل اتنی ہی شاہانہ، اکھڑ اور لاابالی ہے، جتنی کہ اقتدار کے دور میں رہی ہوگی۔ایک قدامت کی لہر اس شہر پر اس طرح چھائی ہوئی ہے کہ گولچہ سینما اور اردو بازار سب کچھ مغل عہد کی ہی یادگار معلوم ہوتے ہیں۔غالب نے اپنے خطوط میں لکھا تھا کہ دلی والے اجڑ گئے، اب جو آکر بسے ہیں، وہ دلی کے نہیں ہیں، کوئی کہیں سے آیا، کوئی کہیں سے۔کہیں کی اینٹ کہیں کا روڑالے کر غدر کے بعد بسائی گئی دہلی میں میرا جانا کم ہوا ہے۔وہاں کے لوگوں میں مہمان نوازی بلا کی ہے، گاہکوں کے تعلق سے یہاں کے دکانداروں کا رویہ نئی دہلی کے لوگوں میں غیر اخلاقی تصور کیا جاتا ہے۔جن چچا کبابی کی داستان آپ اشرف صبوحی کی کتاب’دلی کی چند عجیب ہستیاں’ میں پڑھ چکے ہوں گے، اصولوں کی ایسی ہی بے تکی دکانداریاں آپ کو اس شہر میں دیکھنے کے لیے مل جائیں گی۔نئے زمانے کے اعتبار سے یہاں کسٹمر کیئر کا رجحان نہیں ہے اور اہم اور غیر اہم سبھی قسم کے گاہک ایک ہی طریقے سے ڈیل کیے جاتے ہیں۔

 

پرانی دلی ایک بہت بڑا برگد ہے، جس کے نیچے وقت کا قصہ گو بیٹھا پرانے وقتوں کی داستان سناتا جارہا ہے، مگر وقت تیزی سے بدل رہا ہے
اب میٹرو زمین کا سینہ پھاڑتے ہوئے ان گلیوں تک جاپہنچی ہے، یہاں پرانی طرز کی عمارتوں کے گراؤنڈ فلور زمینوں کی بھرائی کی وجہ سے تہہ خانوں میں تبدیل ہوچلے ہیں، کئی جھر جھر کرتی ہوئی پرانی حویلیاں ہیں، بہت سی توڑ کر نئی طرز کی بلڈنگیں بنائی گئی ہیں، بازو سے بازو چپکائے، رانوں سے رانیں، عمارتوں کی اوبڑ کھابڑ صفیں پرانی دلی کی نئی تہذیب کا اعلامیہ بن گئی ہیں مگر ان میں رہنے والے آج بھی دلی چھ کی پر رونق شاموں کے گواہ ہیں، فیس بک اور ٹوئٹر کے عہد میں فرصت کم ہوگئی ہے، سماجی تعلقات میسنجر اور واٹس ایپ تک چلے آئے ہیں، اس کے باوجود شام کو کسی پنکھا جھلاتے ہوئے سیخ کباب والے کی دوکان پر پڑی چھوٹی سی بینچ، ابھی بھی نوجوانوں کے ٹھلوں، ٹھٹھولیوں اور حقے بازی کا دور گرم رکھتی ہے۔

 

پرانی دلی ایک بہت بڑا برگد ہے، جس کے نیچے وقت کا قصہ گو بیٹھا پرانے وقتوں کی داستان سناتا جارہا ہے، مگر وقت تیزی سے بدل رہا ہے، اس کے چلم نے دھوئیں اور راکھ میں ڈھلتے ڈھلتے، خود کو سارا خرچ کردیا ہے، آنکھیں لال ہیں اور پلکیں بوجھل۔ صبح بھی بہت دور نہیں، مگر خمار تو فی الحال باقی ہی ہے۔میں اس پورے عرصے میں لال قلعہ شاید دو تین بار ہی گیا ہوں۔مجھے لال قلعے سے وحشت ہوتی ہے، وہاں سفید رنگ کی خوبصورت عمارتیں، بیواؤں کا سا لباس پہنے، قدموں سے گھانس کی زنجیر باندھے، کسی قیدی کی طرح سر جھکائے کھڑی رہتی ہیں۔ لمبی لال فصیل تاریخ کی قبر پر بیٹھے ہوئے مجاور کی طرح خلا میں گھورتی رہتی ہے۔وہ حوض، جن میں کبھی دودھ اور شفاف پانی کی لہریں تیرتی ہونگی، اپنے بطن میں جھاڑ جھنکاڑ لیے اداسیوں کی آماجگاہ بنی ہوئی ہیں، وہ بازار جن میں دن کو مرد اور رات کو عورتیں، خواجہ سرا، کنیزیں اور باہر سے آئے تاجر سامان زندگی کو الٹ پلٹ کردیکھتے ہونگے، خور ونوش کے اسباب فراہم کرنے والے، ساز و سنگیت کی دوکانیں لگانے والے، سجاوٹ و بناوٹ کے آلات بیچنے والے، یہ سب میرے کانوں میں سرگوشیاں کرنے لگتے ہیں، مگراب وہاں دو وردی والے سپاہی، ہاتھوں میں بندوق تھامے، کیپ لگائے، سر سے پیر تک ایک گھنے سبز لباس میں گشت لگاتے ہیں۔ان کے قدموں کی ٹاپیں، بھاری بوٹوں کے نیچے کچلتی ہوئی محسوس ہوتی ہیں۔اس خاموش اور چیختے ہوئے منظر میں بس ایک خلا ہے، اور اس خلا میں وہ سارا شور، سارا تکبر، سارے نعرے لاشوں کی طرح پڑے ہوئے ہیں، جن میں اپنی سلطنت کو وسیع کرنے کی دھن، دولت کو ذخیرہ کرنے کی لالچ، مذہب کو برتری دلانے کا احساس، وطن کو فخر سے پکارنے کی کوشش اور لوگوں کی آہ و پکار، چیخیں، جنگیں، یلغاریں، دھما چوکڑیاں، جشن، ہنگامے، عورتوں کے قیمتی لباس، جگمگاتے ہوئے فانوس اورحکم کا اشارہ پانے والے غلام سب ایک کے اوپر ایک وحشت سے آنکھیں پھیلائے، ہاتھوں کو متضاد سمتوں میں بکھرائے ہوئے، زبان باہر نکالے بس خاموش لیٹے ہیں، کبھی نہ اٹھنے کے لیے۔

 

سلاطین ہوں یا مغل، اپنے ساتھ کتابیں لے کر ہندوستان میں داخل نہیں ہوئے تھے اور حکومتوں کو وسعت دینے کے لیے کتابوں کی نہیں تیروں، تلواروں کی ضرورت ہی ہوا کرتی تھی، چنانچہ انہوں نے وہی کیا، جو کہ جنگجو قومیں کیا کرتی ہیں۔
مجھے دلی کی جامع مسجد دیکھ کر بھی یہی احساس ہوتا ہے، سب سے پہلے میں اس سے سٹے ہوئے اردو بازار کا ذکر کرنا چاہوں گا، یہاں سے گزرنے والی مین سڑک، عام شہروں کی گلیوں جتنی پتلی ہے۔اس پر سائیکل رکشے، برقعہ پوش عورتیں، روتے بلکتے بچے، آٹو رکشے، کاریں، موٹر سائیکلز، سائیکل اور اسکوٹر، پیدل سوار سبھی گزرتے رہتے ہیں، راتوں کو بھی اس گھٹتی ہوئی نعش زدہ سڑک کو شایدہی سکون ملتا ہو۔ مختلف جگہوں پر کرنسی چینجر، مسافر خانے، چھوٹے موٹے ہوٹل، کتابوں کی کچھ دکانیں۔اردو بازار تو غالب کے عہد میں ہی ختم ہوچکا تھا۔یہ کچھ اور ہے اور اس کچھ اور میں، ایک نقالی موجود ہے، جس کو دیکھنے اور محسوس کرنے کے لیے بس ایک ایسی آنکھ چاہیے، جو روز کے ان ہنگاموں میں مل کر یہیں کا ایک منظر بن کر نہ رہ جائے۔ان کتابوں کی دکانوں میں بیٹھے ہوئے بوڑھے، بالوں میں مہندی لگائے،ہاتھوں میں کتاب یا اخبار تھامے خاموش رہتے ہیں، گاہک آتے ہیں، اپنی پسند کی کتابیں چھانٹتے ہیں اور لے جاتے ہیں، کئی مسافر کتابوں کے پیکٹ شام تک کے لیے یہیں چھوڑ جاتے ہیں۔ہرحال میں یہ لوگ جو ان دوکانوں پر بیٹھے ہیں، ان گاہکوں کی آؤ بھگت کرنے سے زیادہ اپنے دوستوں کے ساتھ گپیں ہانکنا زیادہ پسند کرتے ہیں۔ رعایت تقریباً سبھی دوکانوں پر دس فیصد سے زیادہ نہیں دی جاتی ہے۔لیکن ایک دکان بڑی دلچسپ ہے، جہاں جاکر آپ صرف کتابیں ہی نہیں خریدتے، دوکاندار کی گفتگو کا لطف بھی لیتے ہیں، یہ صاحب کتب خانہ انجمن کے ایک کتاب فروش ہیں، قادریہ، چشتیہ، نقشبندیہ، سہروردیہ تمام اوپری اور ذیلی تصوف کے سلسلوں کو ایسے بیان کرتے ہیں، جیسے ایلیڈ کی نظم سنارہے ہوں، ادبی لطیفوں، قصوں اور واقعات کی ایک لمبی گٹھری ان کے پاس موجود ہے، جو کھلتی ہے تو ایسا مزہ دیتی ہے کہ آدمی بس سنتا چلا جائے،یہاں ہر قسم کے گاہک آتے ہیں۔نو سیکھیے بھی، مدرسہ والے بھی، ادب کے طالب علم بھی۔غیر ملکی سٹوڈنٹس جو اردو سیکھ رہے ہوتے ہیں، سب سے زیادہ انہی کی دکان پر دیکھنے کو مل جاتے ہیں۔ بڑے میاں بھینگے ہیں، مگر نظر بالکل ٹھیک ہے۔پیسہ گننے، چھٹہ دینے کی ایسی مشق ہے کہ ہاتھ بڑی پھرتی سے چلنے کے باوجود ممکن نہیں کہ رتی برابر چوک جائے۔ میرے سامنے کئی گاہک ایسے آئے، جنہیں کتابوں کے نام معلوم نہ تھے، ادھر انہوں نے شاعر کا نام لیا اور ادھر وہ مجموعے گنوانے لگے۔سب لوگ ہنسی اور حیرت کے ملے جلے ماحول میں انہیں دیکھتے ہیں۔کرتاپاجامہ پہنے، لمبی ٹوپی لگائے، ہنستے بولتے سارے کام نمٹاتے رہتے ہیں۔کئی ایک کو ڈانٹتے بھی ہیں کہ یہ کتاب کیوں خریدنا چاہتے ہو، اس سے بہکنے کا اندیشہ ہے، کتاب ہی پڑھنی ہے تو فلاں فلاں پڑھو۔واقعی اب ایسے لوگ ندارد ہوتے جارہے ہیں، یہ بھی پرانے وقتوں کی آخری نشانی کی طرح یہاں بیٹھے ہیں اور ان کی اگلی نسل پرانی دلی میں موجود اس کتاب کو ایک قیمتی پراپرٹی کی نظر سے دیکھ کر بھاؤ لگانے کے لیے تیار ہورہی ہے۔ان موٹے سودوں میں علم کا سودا ماند پڑتا جارہا ہے، نزدیک ہی چمکتا دمکتا کناٹ پلیس ہے، اونچی زرق برق عمارتیں، چکنی سیمنٹی رنگ کی سڑکیں، مہنگی گاڑیاں، نرم لہجے اور تیکھی نظریں۔ایک بادل ہے جو دھیرے دھیرے اس خاکی اور پیلے رنگ کے ملے جلے منظر پر حاوی ہونے کے لیے بلی کے قدموں کی طرح آہستگی سے اس طرف بڑھ رہا ہے، بڑے میاں، ایک دن اچانک گرد بن جائیں گے، دوکانیں، کیفوں میں بدل جائیں گی، سڑک چوڑی ہوگی، موٹے موٹے شکم والے مکانات، پتلی پتلی لمبی عمارتوں کا روپ دھار لیں گے۔تیل کی دھار لٹانے والے باورچی، سفولا کی مہک میں ڈوبتے چلے جائیں گے، ہارٹ اٹیک والوں کی تعداد پھر بھی بڑھ جائے گی اور دل والے یکدم نگاہوں سے غائب ہوجائیں گے۔

 

دلی کی عمارتوں میں مجھے سب سے زیادہ ہمایوں کا مقبرہ پسند ہے۔پرانا قلعہ میں خود صرف ایک ہی بار گیا ہوں اور وہ بھی تب جب ہمارے دوست علی اکبر ناطق یہاں آئے ہوئے تھے۔مجھے یہ قلعہ بہت زیادہ پسند نہیں ہے، کہیں سے کوئی دیوار اپنے آپ اگ آتی ہے، کہیں اوبڑ کھابڑ بڑے بڑے پتھروں پر مشتمل دیوار کا لوہا، دھوپ کو اپنی پیٹھ پر اٹھائے چھاؤں اگلتا رہتا ہے۔ایک طویل و عریض مسجد ہے، جس میں چھت والا حصہ بہت کم ہے۔بہرحال پرانے قلعے سے زیادہ عجیب و غریب مجھے قطب مینار معلوم ہوتا ہے، وہاں بھی میرا زیادہ جانا نہیں ہوا، بس دو یا تین بار گیا ہوں،ایک بہت بڑا مینار، قرآنی آیات کا لباس پہنے ہوئے کھڑا ہے، لال رنگ کے پتھروں سے تعمیر کیا گیا یہ مینار سلاطین کے عہد کی یادگار ہے۔قطب الدین ایبک سنا ہے کوئی مسجد قوت الاسلام بنانا چاہتے تھے، یہ وہ ارادہ تھا جسے خود خدا نے ہی شاید مسترد کردیا اور شمس الدین التمش کی محنتوں کے باوجود بھی صرف ایک ہی مینار وجود میں آسکا۔قطب مینار مجھے ذاتی طور پر اس لیے پسند نہیں ہے کیونکہ یہاں بہت سے بت آج بھی پتھروں کی سلوں پر سجے ہوئے، پیچھے کی جانب رکھے ہیں، میری ہمدردی ان تمام پتھروں سے زیادہ ہے، کیونکہ یہ میری روح کا حصہ ہیں، اسی مٹی سے اگنے والے دیوتا۔مجھے ہندوستان پر حکومت کرنے والے مسلمان بادشاہوں کی یہ حرکت بہت عجیب معلوم ہوتی ہے کہ مسجد بنانی ہو تو وہ مندروں کو مسمار کرنے سے نہیں چوکتے تھے۔قطب مینار، اس میں کوئی شک نہیں کہ ہندوستان کی شناخت اپنے تعمیری شکوہ سے پوری دنیا میں کرانے کے لیے مشہور ہے، لیکن تاریخ پر اسے میں ایک لمبے، گہرے زخم سے زیادہ اہمیت دینے کو تیار نہیں۔اس رویے پر مغل دور کے اواخر اور شان اودھ کے طلوع ہوتے ادوار میں بڑی سخت تنقیدکی گئی ہے، جو کہ اس دور کے آرٹ بالخصوص شعر و شاعری میں صاف طور پر دیکھی جاسکتی ہے۔ہندوستان پر چڑھائی کرنے والے زیادہ تر بادشاہ ظالم، جنگجو، فتنہ پرور اور نہایت سنگ دل قسم کے لوگ تھے، جن کا مقصد یہاں کی دولت لوٹنا اور اسے ہتھیانا تھا۔وہ مذہب کی تبلیغ کے لیے یہاں بالکل نہ آئے تھے۔ان کو ہرحال میں یہاں اپنے تسلط کو بربریت اور تلوار کے زور پر قائم رکھنا تھا، جو کہ انہوں نے کیا۔اکبر اس پورے عہد میں وہ پہلا بادشاہ تھا، جس نے ہندوستان کو اپنا گھر سمجھا اور اسے لوٹنے کے بجائے، اس میں سکون سے رہنے کو ترجیح دی۔

 

اردو بازار تو غالب کے عہد میں ہی ختم ہوچکا تھا۔یہ کچھ اور ہے اور اس کچھ اور میں، ایک نقالی موجود ہے، جس کو دیکھنے اور محسوس کرنے کے لیے بس ایک ایسی آنکھ چاہیے، جو روز کے ان ہنگاموں میں مل کر یہیں کا ایک منظر بن کر نہ رہ جائے۔ا
سلاطین ہوں یا مغل، اپنے ساتھ کتابیں لے کر ہندوستان میں داخل نہیں ہوئے تھے اور حکومتوں کو وسعت دینے کے لیے کتابوں کی نہیں تیروں، تلواروں کی ضرورت ہی ہوا کرتی تھی، چنانچہ انہوں نے وہی کیا، جو کہ جنگجو قومیں کیا کرتی ہیں۔وہ کسی بھی مذہب سے تعلق رکھتے،ہندوستان میں داخل ہوکر یہاں کی مقدس عمارتوں کو گرا کر وہاں اپنے دیوتاؤں کو سجادیتے، جیسا کہ انہوں نے مسجدوں کو تعمیر کرکے اس کا ثبوت دیا۔خون کی نہریں بہہ جائیں، لوگ جل جائیں، کٹ جائیں، مرجائیں لیکن اپنے پاؤں جہاں تک ہوسکیں پھیلا لیے جائیں۔یقینی طور پر پرانے زمانے میں لوگ اسی طرح حکومت کرتے تھے۔مسلمانوں، عیسائیوں ان دونوں قوموں نے یہی طریقہ کار اپنایا اور مذہب کو اپنی توسیع پسندی کا جواز ٹھہرایا، جس کی وجہ سے یہ قاتل اور لٹیرے، اگلی نسلوں کے ہیرو بنتے گئے۔ان تمام معاملات کا تعلق مذہب کی ان متضاد تعلیمات سے بھی ہے، جن میں ایک طرف زمین پر فساد پھیلائے جانے سے روکا جاتا ہے تو دوسری جانب خدا کے دین کو عام کرنے کی تلقین کی جاتی ہے، اس کی راہ میں لڑنے مرنے کو مستحسن سمجھا جاتا ہے۔یہی وہ ڈھال ہے، جس کا سہارا پہلے جاہل جنگجو قومیں لیا کرتی تھیں، اب دہشت گرد، مولوی ملا اور نام نہاد غازی و شہید لیا کرتے ہیں۔یہ سارے سوال قطب مینار سے گزرتے، وہاں کی زمین پر پھرتے ہوئے ذہن کی سطح پر کیچوے کی طرح رینگنے لگتے ہیں، اس کے برعکس ہمایوں کا مقبرہ مجھے اس لیے پسند ہے، کیونکہ وہ ان کی ایرانی بیگم نے بنوایا تھا۔مغل دور حکومت میں محبت کی یہ عظیم نشانی تاج محل سےپہلے ایک عورت کی جانب سے اپنے شوہر کو دیا جانے والا ایسا تحفہ تھا، جس میں چودہ سال بعد اس کی ہڈیاں نکال کر کہیں اور دفن کرنے کی تدبیر بھی نہیں کی گئی اور ایسی عالیشان عمارت قائم کی گئی، جس نے مغل آرکی ٹیکچر کو ایک نئی سمت اور نئی جہت عطا کی۔تاریخ کے دامن پر ایرانی بیگم کا یہ شاندار بوسہ ہمیشہ کے لیے ثبت ہوگیا ہے۔ہمایوں کا مقبرہ اسی لیے اب ایک مقبرے سے زیادہ عشاق کی ملاقاتوں اور سرگوشیوں سے گونجتا رہتا ہے۔یہاں قبروں کے نزدیک الجھتی ہوئی گرم سانسیں، دنیا کے اس شور و ہنگامے سے بہت دور، بدن کی دھوپ میں سائیں سائیں کرتی ہیں، جس نے عشق کے لیے دنیاداری، نفرت اور بھاگ دوڑ کے چکر میں خود کو بھی فراموش کررکھا ہے۔کہتے ہیں اسی طرز پر بعد میں اکبر کے نورتنوں میں سے ایک عبدالرحیم خان خاناں کا مقبرہ بھی تعمیر کیا گیا۔یہ مقبرہ بھوگل سے ذرا آگے اور حضرت نظام الدین سے کچھ پہلے آج بھی سڑک کنارے موجود ہے۔برابر میں میلی کچیلی جمنا بہہ رہی ہے، جو شاید ان دنوں آئینے کی طرح چمکتی ہوگی۔ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے رحیم خان خاناں اچانک دوہے سناتے سناتے یہاں سے دور نکل گئے ہیں، کیا کیجیے ٹریفک دلی میں بہت بڑھ گیا ہے اور ہارن کی چیں چاں، پیں پاں میں فضاؤں کو اتنی مہلت کہاں کہ لفظ کے رقص پر تھاپ دے سکیں۔
Categories
خصوصی

چھوٹی سی دنیا، ادبی دنیا ڈاٹ کام

[blockquote style=”3″]

ادارتی نوٹ: تصنیف حیدر ادبی دنیا کے نام سے ایک بلاگ کے ذ ریعے اردو ادب کے نوادر عام قاری تک پہنچانے کے لیے کوشاں ہیں۔ اردو ادب کی ترویج کے لیے قائم معروف ویب سائٹ ریختہ سے تین برس تک وابستہ رہنے کے بعد آپ نے ادبی دنیا کے نام سے اپنی ویب سائٹ کا آغاز کیا۔ ان کا شعری مجموعہ “نئے تماشوں کا شہر” کے عنوان سے شائع ہو چکا ہے۔ ذیل میں ادبی دنیا اور تصنیف حیدر کی ذات پر ان کا اپنا تحریر کردہ ایک تعارفی مضمون قارئین کی خدمت میں پیش کیا جارہا ہے۔

[/blockquote]

تم نہ آئے تھے تو ہر چیز وہی تھی کہ جو ہے
آسماں حد نظر، شیشہء مے شیشہء مے
—فیض
اس وقت رات کے سوا گیارہ بجے ہیں، میں اس کوشش میں ہوں کہ کوئی اچھی تحریر، کسی تخلیق کار کا ناول، شعری مجموعہ یا پھر کوئی افسانہ ادبی دنیا پر چڑھا سکوں، یا پھر کوئی کارآمدتنقیدی و تحقیقی مضمون۔ میں اس کا ڈیش بورڈ دیکھتا ہوں، قریب دس سے پندرہ ہزار لوگ اس ماہ وزٹ کرچکے ہیں۔میں ایک گھومنے والی کرسی پر بیٹھا ہوا ہوں۔سامنے ڈیسک ٹاپ کا بسیط سناٹا ہے، اس سناٹے سے اوب کر میں نے جگجیت سنگھ کی گائی ہوئی غالب کی ایک غزل لگادی ہے۔میں علی اکبر ناطق کا ناول ‘نولکھی کوٹھی’ اپ لوڈ کرنے کی کوشش کرتا ہوں اور ناکام ہوتا ہوں کیونکہ ایک پوسٹ میں یہ سارا ناول سما نہیں سکتا، چنانچہ مجھے سید مکرم نیاز سے مشورہ کرنا پڑتا ہے۔ وہ ادبی دنیا کے ایڈمن بھی ہیں اور میری ہر ممکن مدد کرتے ہیں۔ ادبی دنیا کا ڈومین www.adbiduniya.com بھی انہوں نے ہی لیا تھا۔خیر میں چودھرمی محمد علی ردولوی کے افسانے، راشد الخیری کے مضمون، ظفر اقبال کی غزلوں، مجید امجد کی نظموں اور ناصر عباس نیر کے تنقیدی مضامین بکھیرے ہوئے بیٹھا ہوں۔پھر میرے ہاتھ آصف فرخی کی دو خوبصورت کہانیاں لگتی ہیں اور میں انہیں اپ لوڈ کردیتاہوں۔
ادبی دنیا کا مصرف کیا ہے، آخر آج کے صنعتی دور میں اس کی ضرورت کیوں ہے اور کیا اس سے کوئی ایسا ادبی انقلاب رونما ہوجائے گا کہ لوگوں کا مذاق ادب تبدیل ہوسکے، بن سکے یا نکھر سکے۔ایسا کچھ نہیں ہوگا، جو لوگ نصیر ترابی کی لکھی ہوئی رومانی غزل پڑھ کر اپنے عشق کو تھپکیاں دے رہے ہیں، جو جنگ، نفرت، مذہب اور نعرے بازی کی سیاست میں الجھے ہوئے ہیں، وہ لوگ میرے قاری نہیں ہیں۔میرا پہلا قاری میں خود ہوں، اور میں ظاہر ہے کہ بدلنا نہیں چاہتا ہوں، بس آگے بڑھنا چاہتا ہوں۔یہ میری تربیت کے لیے بھی ضروری ہے، جس طرح اور لوگ اس کلاس میں شریک ہوکر اپنی تربیت کرسکتے ہیں، جیسے میں میلان کنڈیرا کا ایک انٹرویو پڑھ کر یہ سوچنے کے قابل ہوا ہوں کہ واقعی ہم ادب میں اچھے برے کا فیصلہ وقت کے ہاتھ سونپنے کی بھول کیسے کرسکتے ہیں، کیا وقت کے کیے گئے سارے فیصلے بالکل صحیح ہیں؟ کیا وقت کا کیا گیا فیصلہ صرف کچھ خاص لوگوں کی تدبیر و تعبیر کا عکس نہیں ہوا کرتا ہے۔میں سوچ رہا ہوں، پڑھ رہا ہوں اور مستقل اسی سفر کو آگے بڑھائے رکھنا چاہتا ہوں، سو اس لیے مجروح سلطان پوری کے الفاظ میں جو گھر کو آگ لگائے ہمارے ساتھ چلے۔مجھے کوئی غلط فہمی یا خوش فہمی نہیں ہے کہ ادبی دنیا کے ذریعے میں ادب کے لیے کوئی کام کررہا ہوں، ہم ادب اپنی ذات کے لیے پڑھتے ہیں، کیونکہ یہ ہمارے مزاج کا حصہ ہوا کرتا ہے، ہمارے جینوٹائپ میں موجود ، ہم میں گھلا ملا، رچا بسا ہوا کرتا ہے۔جس کا یہ مسئلہ نہیں، وہ فیس بک پر لکھے ہوئے کسی گھسے پٹے شعر کو پڑھے اور دوسروں کی طرح داد دہی کے شور میں گم ہوجائے۔
مجھے کوئی غلط فہمی یا خوش فہمی نہیں ہے کہ ادبی دنیا کے ذریعے میں ادب کے لیے کوئی کام کررہا ہوں، ہم ادب اپنی ذات کے لیے پڑھتے ہیں، کیونکہ یہ ہمارے مزاج کا حصہ ہوا کرتا ہے، ہمارے جینوٹائپ میں موجود ، ہم میں گھلا ملا، رچا بسا ہوا کرتا ہے
ایسا نہیں کہ ادبی دنیا کو میں معاشی قسم کی سرگرمیوں سے جوڑنا نہیں چاہتا، بلکہ میرا بس چلے تو میں اسی ویب سائٹ کے ذریعے کماوں اور دن رات اس پر ایسی چیزیں اپ لوڈ کروں جو میں پڑھ سکوں، پڑھواسکوں۔نعمتوں کا صحیح استعمال، وقت کا صحیح استعمال ہے۔انٹرنیٹ وقت کی بربادی بھی ہے اور نہیں بھی، یہ تو بس اس بات پر منحصر ہے کہ اس سے کس قسم کا کام لیا جارہا ہے۔میں پڑھنے والوں کو معیاری ادب کا ایک ایسا پلیٹ فارم بناکر دینا چاہتا ہوں، جہاں ان کا وقت برباد نہ ہو۔ میرا مقصد ادبی دنیا کو کسی قسم کا آرکائیو بنانا نہیں ہے، بس میں پڑھنے والوں کو انٹرنیٹ پر بھی ایسی چیزیں فراہم کروانا چاہتا ہوں، جن سے انہیں لگے کہ اس ادب کے یونی کوڈ ٹیکسٹ کی شکل میں مل جانے کی وجہ سے وہ اسے کاپی کرکے اپنے فرصت کے لمحات میں ایسے کمپیوٹرز، موبائلزوغیرہ پر بھی پڑھ سکتے ہیں، جہاں انٹرنیٹ کی سہولت نہ ہو۔وہ ان کا با آسانی پرنٹ لے سکتے ہیں، دوسروں کو اسے بھیج سکتے ہیں، اپنے پسندیدہ حصوں کو سوشل نیٹ ورکنگ ویب سائٹس پر شیئر کرسکتے ہیں، بلکہ انہیں آن لائن ٹرانسلٹریشن ٹولز (Transliteration Tools) کی مدد سے ہندی اور رومن میں بھی تبدیل کرکے پڑھ سکتے ہیں۔پھر اس ویب سائٹ کو اردو کے موقر و معتبر ادیبوں کا تعاون بھی حاصل ہوتا جارہا ہے، اور اس کی وجہ میری اور ان کی یہ فکری ہم آہنگی ہے کہ بات کو بنانے کے ساتھ ساتھ آج کے دور میں اسے پھیلانے کے بھی تمام وسائل موجود ہونے چاہیے۔ میں ادب کی تبلیغ کا قائل نہیں اور نہ کسی ایسے جعلی فروغ کا تصور دماغ میں رکھتا ہوں،جس کی وجہ سے میر اور منٹو کو پڑھنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہوسکے میرا ماننا تو بس یہ ہے کہ اگر کسی کونے میں کوئی ایسا شخص موجود ہے، جو میریا منٹو کے لکھے ہوئے ادب کو پڑھتا یا پسند کرتا ہو، اسے انٹرنیٹ پر مایوسی کا منہ نہ دیکھنا پڑے اور گوگل سرچ اسے ادبی دنیا ویب سائٹ تک پہنچادے۔
میں ادب کی تبلیغ کا قائل نہیں اور نہ کسی ایسے جعلی فروغ کا تصور دماغ میں رکھتا ہوں،جس کی وجہ سے میر اور منٹو کو پڑھنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہوسکے میرا ماننا تو بس یہ ہے کہ اگر کسی کونے میں کوئی ایسا شخص موجود ہے، جو میریا منٹو کے لکھے ہوئے ادب کو پڑھتا یا پسند کرتا ہو، اسے انٹرنیٹ پر مایوسی کا منہ نہ دیکھنا پڑے اور گوگل سرچ اسے ادبی دنیا ویب سائٹ تک پہنچادے۔
ادبی دنیا ڈاٹ کام پر شاعری کے ساتھ ساتھ فکشن اور تنقید کی نمائندگی بھی بہت ضروری ہے، اس کے علاوہ ادیبوں کے ساتھ مستقل رابطے کی ایک صورت دس سوالات کی صورت میں پیدا کی گئی ہے، اس حوالے سے اب تک ہندوستان و پاکستان کے کئی ادیبوں کے انٹرویوز ادبی دنیاپر پیش کیے جاچکے ہیں، جن میں ظفر اقبال، شمیم حنفی، محمد حمید شاہد، اجمل کمال، ناصر عباس نیر، ذکیہ مشہدی، خالد جاوید، شارق کیفی، یاسمین حمید، علی اکبر ناطق، ظفر سید، سید کاشف رضا، زاہد امروز، ابھیشیک شکلا اور کئی دوسرے اہم لکھنے والوں کے نام شامل ہیں۔اچھی کہانیوں، ناول، شعری انتخابات اور تنقیدی و تحقیقی مضامین کے سسلسلے میں ادبی دنیا کو فعال رکھنا ایک اہم فریضہ سمجھا گیا ہے، اسی لیے ساقی فاروقی، احمد مشتاق، آشفتہ چنگیزی، زیب غوری اور بانی کی غزلوں کو وافر مقدار میں ادبی دنیا پر اپ لوڈ کیا گیا ہے۔ ادبی دنیا پر محمد حمید شاہد کی فکشن تنقید سے تعلق رکھنے والی اہم سیریز’فکشن میرے عہد کا‘ بہت پسند کی جارہی ہے، جس کے ذریعے افسانہ نگاروں اور ان کے یہاں موجود فنی باریکیوں کا جائزہ لیا جاتا ہے اور معاصر فکشن پر سیرحاصل گفتگو قارئین کو پڑھنے کے لیے ملتی ہے۔ اسی طرح اجمل کمال کے مضامین کی سیریز قارئین کو پسند آرہی ہے، جس میں اجمل کمال کے ادب اور سماجیات سے تعلق رکھنے والے اہم مضامین اور ان کا معروضی انداز لوگوں کو ادبی دنیا کی جانب متوجہ کررہا ہے۔ساتھ ہی ساتھ ادبی دنیا پر جہاں ایک طرف ناصر عباس نیر،صلاح الدین درویش اور سید کاشف رضا جیسے معاصر ناقدین کی تنقیدات پڑھنے کو مل سکتی ہیں، وہیں دوسری جانب ادریس بابر، علی اکبر ناطق، انعام ندیم، زاہد امروز اور شہرام سرمدی جیسے اہم معاصر شاعروں کی تخلیقات کو بھی بہ آسانی پڑھا جاسکتا ہے۔
ادبی دنیا نے بہت سے اہم لکھنے والوں کی کلیات کو یونی کوڈ میں فراہم کرانے کی بھی کوشش کو رواج دیا ہے، جس کے تحت ابھی تک سعادت حسن منٹو اور قرۃ العین حیدر کی ساری کہانیاں اور عرفان صدیقی کی تمام غزلیں الگ الگ بلاگز کی صورت میں اپ لوڈ کردی گئی ہیں، جن کے رابطے یا لنکس ذیل میں فراہم کرائے جارہے ہیں
ادبی دنیا نے بہت سے اہم لکھنے والوں کی کلیات کو یونی کوڈ میں فراہم کرانے کی بھی کوشش کو رواج دیا ہے، جس کے تحت ابھی تک سعادت حسن منٹو اور قرۃ العین حیدر کی ساری کہانیاں اور عرفان صدیقی کی تمام غزلیں الگ الگ بلاگز کی صورت میں اپ لوڈ کردی گئی ہیں، جن کے رابطے یا لنکس ذیل میں فراہم کرائے جارہے ہیں۔تاکہ قارئین کوآسانی ہو اور وہ بغیر کسی پریشانی کے ان تمام اہم ادبی متون تک رسائی حاصل کرسکیں۔مستقبل قریب میں ایسے ہی بہت سے بلاگز بنانے کا ارادہ کا ہے، جن میں کلیات میر تقی میر، سعادت حسن منٹو کے تمام ڈرامے، خاکے اور مضامین، سجاد ظہیر کے تمام مضامین، زٹل نامہ اور بہت سی دوسری اہم ادبی و علمی تصانیف کو قارئین تک پہنچانا اہمیت کا حامل ہے۔ادبی دنیا پر جلد ہی کلاسیکی شاعروں کے انتخاب کاایک سلسلہ بھی شروع کیا جانے والا ہے، جس کے زیر اثر قائم چاند پوری، مرز ا محمد رفیع سودا، مصحفی، حاتم، تاباں اور اس دور کے دوسرے شاعروں کا کلام انٹرنیٹ پر اپلوڈ کیا جائے گا۔ادبی دنیا کے حوالے سے تازہ اطلاعات حاصل کرنے کے لیے آپ فیس بک پر موجود اس کے پیج کو بھی لائک کرسکتے ہیں،یا پھر مندر جہ ذیل لنکس میں سے کسی پر بھی کلک کرکے ان تک پہنچ سکتے ہیں۔

سعادت حسن منٹو کی ساری کہانیاں:
http://mantostories.blogspot.in

قرۃ العین حیدر کی ساری کہانیاں:
http://qurratulainhyderstories.blogspot.in

عرفان صدیقی کی تمام غزلیں:
http://www.irfaansiddiqui.blogspot.in

ہم جلد ہی ادبی دنیا کو ایک ویب سائٹ کی شکل دینا چاہتے ہیں، اور اسے صرف ادب تک محدود نہیں رکھنا چاہتے۔اسے سماجیات، معاشیات، مذہبیات ، فلسفے اور سائنس جیسے اہم مضامین سے بھی جوڑا جائے گا، مگر رفتہ رفتہ، ابھی چونکہ یہ ایک بلاگ کی صورت میں ہے، اس لیے کوشش ہے کہ جلد سے جلد اسے ایک ویب سائٹ کی شکل دی جانی چاہیئے، ادبی دنیا کا ایک آڈیومیگزین، ایک یوٹیوب اور ڈیلی موشن چینل اور ‘جدیدترین’ نامی آن لائن اور آف لائن رسالے کے اجراء کا بھی ارادہ ہے،لیکن ظاہر ہے کہ سارا بھاڑ اکیلے چنے کو پھوڑنے کا شوق چرایا ہے، چنانچہ اس میں کچھ وقت لگے گا، اب مدد کے لیے کچھ ہاتھ بھی آگے بڑھ رہے ہیں، جو لوگ واقعی اردو سے محبت کرتے ہیں اور اسے خوبصورتی کے ساتھ اس جدید ٹیکنالوجی سے جوڑنا چاہتے ہیں۔ وہ دنیا کے کسی بھی کونے میں بیٹھے ہوں، ادبی دنیا کے اپنے لوگ ہیں، اور آج کچھ لوگ چل کر اس جانب آئے ہیں، کل کو ممکن ہے ادبی دنیا ایک ایسا وسیلہ بن سکے، جس کے ذریعے اردو زبان ، ادب اور دیگر شعبوں کو دنیا تک پہنچانے، عام کرنے کے راستے اور چوڑے ہوسکیں اور دنیا میں کسی بھی جگہ اپنے پسندیدہ موضوع کو کم از کم اردو میں ڈھونڈتے وقت گوگل مایوسی بھرے دو جملے لے کر آپ کی ڈیسک پر نہ دھمک پڑے۔