Categories
شاعری

انٹرنیٹ استھان کی ملکہ

انٹرنیٹ استھان پہ بیٹھی خواب کی ملکہ !
مخمل سی پوروں سے کتنے روز بنو گی؟
خواب کی ریکھا
رنگ رنگیلے بیر بہوٹی جیسے لفظوں کی انگنائی
جلتی بجھتی تصویروں کی خواب سرائی
ثابت انگوروں کے دانوں جیسی
دنیا کی یہ ہوش ربائی
تنہائی کی گاگر سے پھر لمحہ چھلکا
انٹرنیٹ استھان پہ بیٹھی خواب کی ملکہ !

دور کسی کیفے میں بیٹھے
خواہش اور محبت کے یہ اجلے سائن
یہ جلتے ہونٹوں کے خط،
یہ ہنسنا رونا
سب کچھ آدھا سچ ہے
آدھے سچ میں ڈوب مرو گی
گورکھ دھندا بس اک پل کا
انٹر نیٹ استھان پہ بیٹھی خواب کی ملکہ !
چیٹنگ روم میں
سرد دلوں کے رش میں گھٹتی سانسیں
انسانوں کے چہرے پہنے
جذبے کھائیں روح چبائیں
تنہائی کے روپ رنگیلے رقص دکھائیں
حرفوں کے بجھتے انگارے
کتنے دن تک اور چنو گی؟
پیاس تو مانگے رستہ جل کا
انٹرنیٹ استھان پہ بیٹھی خواب کی ملکہ!

Categories
خصوصی

چھوٹی سی دنیا، ادبی دنیا ڈاٹ کام

[blockquote style=”3″]

ادارتی نوٹ: تصنیف حیدر ادبی دنیا کے نام سے ایک بلاگ کے ذ ریعے اردو ادب کے نوادر عام قاری تک پہنچانے کے لیے کوشاں ہیں۔ اردو ادب کی ترویج کے لیے قائم معروف ویب سائٹ ریختہ سے تین برس تک وابستہ رہنے کے بعد آپ نے ادبی دنیا کے نام سے اپنی ویب سائٹ کا آغاز کیا۔ ان کا شعری مجموعہ “نئے تماشوں کا شہر” کے عنوان سے شائع ہو چکا ہے۔ ذیل میں ادبی دنیا اور تصنیف حیدر کی ذات پر ان کا اپنا تحریر کردہ ایک تعارفی مضمون قارئین کی خدمت میں پیش کیا جارہا ہے۔

[/blockquote]

تم نہ آئے تھے تو ہر چیز وہی تھی کہ جو ہے
آسماں حد نظر، شیشہء مے شیشہء مے
—فیض
اس وقت رات کے سوا گیارہ بجے ہیں، میں اس کوشش میں ہوں کہ کوئی اچھی تحریر، کسی تخلیق کار کا ناول، شعری مجموعہ یا پھر کوئی افسانہ ادبی دنیا پر چڑھا سکوں، یا پھر کوئی کارآمدتنقیدی و تحقیقی مضمون۔ میں اس کا ڈیش بورڈ دیکھتا ہوں، قریب دس سے پندرہ ہزار لوگ اس ماہ وزٹ کرچکے ہیں۔میں ایک گھومنے والی کرسی پر بیٹھا ہوا ہوں۔سامنے ڈیسک ٹاپ کا بسیط سناٹا ہے، اس سناٹے سے اوب کر میں نے جگجیت سنگھ کی گائی ہوئی غالب کی ایک غزل لگادی ہے۔میں علی اکبر ناطق کا ناول ‘نولکھی کوٹھی’ اپ لوڈ کرنے کی کوشش کرتا ہوں اور ناکام ہوتا ہوں کیونکہ ایک پوسٹ میں یہ سارا ناول سما نہیں سکتا، چنانچہ مجھے سید مکرم نیاز سے مشورہ کرنا پڑتا ہے۔ وہ ادبی دنیا کے ایڈمن بھی ہیں اور میری ہر ممکن مدد کرتے ہیں۔ ادبی دنیا کا ڈومین www.adbiduniya.com بھی انہوں نے ہی لیا تھا۔خیر میں چودھرمی محمد علی ردولوی کے افسانے، راشد الخیری کے مضمون، ظفر اقبال کی غزلوں، مجید امجد کی نظموں اور ناصر عباس نیر کے تنقیدی مضامین بکھیرے ہوئے بیٹھا ہوں۔پھر میرے ہاتھ آصف فرخی کی دو خوبصورت کہانیاں لگتی ہیں اور میں انہیں اپ لوڈ کردیتاہوں۔
ادبی دنیا کا مصرف کیا ہے، آخر آج کے صنعتی دور میں اس کی ضرورت کیوں ہے اور کیا اس سے کوئی ایسا ادبی انقلاب رونما ہوجائے گا کہ لوگوں کا مذاق ادب تبدیل ہوسکے، بن سکے یا نکھر سکے۔ایسا کچھ نہیں ہوگا، جو لوگ نصیر ترابی کی لکھی ہوئی رومانی غزل پڑھ کر اپنے عشق کو تھپکیاں دے رہے ہیں، جو جنگ، نفرت، مذہب اور نعرے بازی کی سیاست میں الجھے ہوئے ہیں، وہ لوگ میرے قاری نہیں ہیں۔میرا پہلا قاری میں خود ہوں، اور میں ظاہر ہے کہ بدلنا نہیں چاہتا ہوں، بس آگے بڑھنا چاہتا ہوں۔یہ میری تربیت کے لیے بھی ضروری ہے، جس طرح اور لوگ اس کلاس میں شریک ہوکر اپنی تربیت کرسکتے ہیں، جیسے میں میلان کنڈیرا کا ایک انٹرویو پڑھ کر یہ سوچنے کے قابل ہوا ہوں کہ واقعی ہم ادب میں اچھے برے کا فیصلہ وقت کے ہاتھ سونپنے کی بھول کیسے کرسکتے ہیں، کیا وقت کے کیے گئے سارے فیصلے بالکل صحیح ہیں؟ کیا وقت کا کیا گیا فیصلہ صرف کچھ خاص لوگوں کی تدبیر و تعبیر کا عکس نہیں ہوا کرتا ہے۔میں سوچ رہا ہوں، پڑھ رہا ہوں اور مستقل اسی سفر کو آگے بڑھائے رکھنا چاہتا ہوں، سو اس لیے مجروح سلطان پوری کے الفاظ میں جو گھر کو آگ لگائے ہمارے ساتھ چلے۔مجھے کوئی غلط فہمی یا خوش فہمی نہیں ہے کہ ادبی دنیا کے ذریعے میں ادب کے لیے کوئی کام کررہا ہوں، ہم ادب اپنی ذات کے لیے پڑھتے ہیں، کیونکہ یہ ہمارے مزاج کا حصہ ہوا کرتا ہے، ہمارے جینوٹائپ میں موجود ، ہم میں گھلا ملا، رچا بسا ہوا کرتا ہے۔جس کا یہ مسئلہ نہیں، وہ فیس بک پر لکھے ہوئے کسی گھسے پٹے شعر کو پڑھے اور دوسروں کی طرح داد دہی کے شور میں گم ہوجائے۔
مجھے کوئی غلط فہمی یا خوش فہمی نہیں ہے کہ ادبی دنیا کے ذریعے میں ادب کے لیے کوئی کام کررہا ہوں، ہم ادب اپنی ذات کے لیے پڑھتے ہیں، کیونکہ یہ ہمارے مزاج کا حصہ ہوا کرتا ہے، ہمارے جینوٹائپ میں موجود ، ہم میں گھلا ملا، رچا بسا ہوا کرتا ہے
ایسا نہیں کہ ادبی دنیا کو میں معاشی قسم کی سرگرمیوں سے جوڑنا نہیں چاہتا، بلکہ میرا بس چلے تو میں اسی ویب سائٹ کے ذریعے کماوں اور دن رات اس پر ایسی چیزیں اپ لوڈ کروں جو میں پڑھ سکوں، پڑھواسکوں۔نعمتوں کا صحیح استعمال، وقت کا صحیح استعمال ہے۔انٹرنیٹ وقت کی بربادی بھی ہے اور نہیں بھی، یہ تو بس اس بات پر منحصر ہے کہ اس سے کس قسم کا کام لیا جارہا ہے۔میں پڑھنے والوں کو معیاری ادب کا ایک ایسا پلیٹ فارم بناکر دینا چاہتا ہوں، جہاں ان کا وقت برباد نہ ہو۔ میرا مقصد ادبی دنیا کو کسی قسم کا آرکائیو بنانا نہیں ہے، بس میں پڑھنے والوں کو انٹرنیٹ پر بھی ایسی چیزیں فراہم کروانا چاہتا ہوں، جن سے انہیں لگے کہ اس ادب کے یونی کوڈ ٹیکسٹ کی شکل میں مل جانے کی وجہ سے وہ اسے کاپی کرکے اپنے فرصت کے لمحات میں ایسے کمپیوٹرز، موبائلزوغیرہ پر بھی پڑھ سکتے ہیں، جہاں انٹرنیٹ کی سہولت نہ ہو۔وہ ان کا با آسانی پرنٹ لے سکتے ہیں، دوسروں کو اسے بھیج سکتے ہیں، اپنے پسندیدہ حصوں کو سوشل نیٹ ورکنگ ویب سائٹس پر شیئر کرسکتے ہیں، بلکہ انہیں آن لائن ٹرانسلٹریشن ٹولز (Transliteration Tools) کی مدد سے ہندی اور رومن میں بھی تبدیل کرکے پڑھ سکتے ہیں۔پھر اس ویب سائٹ کو اردو کے موقر و معتبر ادیبوں کا تعاون بھی حاصل ہوتا جارہا ہے، اور اس کی وجہ میری اور ان کی یہ فکری ہم آہنگی ہے کہ بات کو بنانے کے ساتھ ساتھ آج کے دور میں اسے پھیلانے کے بھی تمام وسائل موجود ہونے چاہیے۔ میں ادب کی تبلیغ کا قائل نہیں اور نہ کسی ایسے جعلی فروغ کا تصور دماغ میں رکھتا ہوں،جس کی وجہ سے میر اور منٹو کو پڑھنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہوسکے میرا ماننا تو بس یہ ہے کہ اگر کسی کونے میں کوئی ایسا شخص موجود ہے، جو میریا منٹو کے لکھے ہوئے ادب کو پڑھتا یا پسند کرتا ہو، اسے انٹرنیٹ پر مایوسی کا منہ نہ دیکھنا پڑے اور گوگل سرچ اسے ادبی دنیا ویب سائٹ تک پہنچادے۔
میں ادب کی تبلیغ کا قائل نہیں اور نہ کسی ایسے جعلی فروغ کا تصور دماغ میں رکھتا ہوں،جس کی وجہ سے میر اور منٹو کو پڑھنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہوسکے میرا ماننا تو بس یہ ہے کہ اگر کسی کونے میں کوئی ایسا شخص موجود ہے، جو میریا منٹو کے لکھے ہوئے ادب کو پڑھتا یا پسند کرتا ہو، اسے انٹرنیٹ پر مایوسی کا منہ نہ دیکھنا پڑے اور گوگل سرچ اسے ادبی دنیا ویب سائٹ تک پہنچادے۔
ادبی دنیا ڈاٹ کام پر شاعری کے ساتھ ساتھ فکشن اور تنقید کی نمائندگی بھی بہت ضروری ہے، اس کے علاوہ ادیبوں کے ساتھ مستقل رابطے کی ایک صورت دس سوالات کی صورت میں پیدا کی گئی ہے، اس حوالے سے اب تک ہندوستان و پاکستان کے کئی ادیبوں کے انٹرویوز ادبی دنیاپر پیش کیے جاچکے ہیں، جن میں ظفر اقبال، شمیم حنفی، محمد حمید شاہد، اجمل کمال، ناصر عباس نیر، ذکیہ مشہدی، خالد جاوید، شارق کیفی، یاسمین حمید، علی اکبر ناطق، ظفر سید، سید کاشف رضا، زاہد امروز، ابھیشیک شکلا اور کئی دوسرے اہم لکھنے والوں کے نام شامل ہیں۔اچھی کہانیوں، ناول، شعری انتخابات اور تنقیدی و تحقیقی مضامین کے سسلسلے میں ادبی دنیا کو فعال رکھنا ایک اہم فریضہ سمجھا گیا ہے، اسی لیے ساقی فاروقی، احمد مشتاق، آشفتہ چنگیزی، زیب غوری اور بانی کی غزلوں کو وافر مقدار میں ادبی دنیا پر اپ لوڈ کیا گیا ہے۔ ادبی دنیا پر محمد حمید شاہد کی فکشن تنقید سے تعلق رکھنے والی اہم سیریز’فکشن میرے عہد کا‘ بہت پسند کی جارہی ہے، جس کے ذریعے افسانہ نگاروں اور ان کے یہاں موجود فنی باریکیوں کا جائزہ لیا جاتا ہے اور معاصر فکشن پر سیرحاصل گفتگو قارئین کو پڑھنے کے لیے ملتی ہے۔ اسی طرح اجمل کمال کے مضامین کی سیریز قارئین کو پسند آرہی ہے، جس میں اجمل کمال کے ادب اور سماجیات سے تعلق رکھنے والے اہم مضامین اور ان کا معروضی انداز لوگوں کو ادبی دنیا کی جانب متوجہ کررہا ہے۔ساتھ ہی ساتھ ادبی دنیا پر جہاں ایک طرف ناصر عباس نیر،صلاح الدین درویش اور سید کاشف رضا جیسے معاصر ناقدین کی تنقیدات پڑھنے کو مل سکتی ہیں، وہیں دوسری جانب ادریس بابر، علی اکبر ناطق، انعام ندیم، زاہد امروز اور شہرام سرمدی جیسے اہم معاصر شاعروں کی تخلیقات کو بھی بہ آسانی پڑھا جاسکتا ہے۔
ادبی دنیا نے بہت سے اہم لکھنے والوں کی کلیات کو یونی کوڈ میں فراہم کرانے کی بھی کوشش کو رواج دیا ہے، جس کے تحت ابھی تک سعادت حسن منٹو اور قرۃ العین حیدر کی ساری کہانیاں اور عرفان صدیقی کی تمام غزلیں الگ الگ بلاگز کی صورت میں اپ لوڈ کردی گئی ہیں، جن کے رابطے یا لنکس ذیل میں فراہم کرائے جارہے ہیں
ادبی دنیا نے بہت سے اہم لکھنے والوں کی کلیات کو یونی کوڈ میں فراہم کرانے کی بھی کوشش کو رواج دیا ہے، جس کے تحت ابھی تک سعادت حسن منٹو اور قرۃ العین حیدر کی ساری کہانیاں اور عرفان صدیقی کی تمام غزلیں الگ الگ بلاگز کی صورت میں اپ لوڈ کردی گئی ہیں، جن کے رابطے یا لنکس ذیل میں فراہم کرائے جارہے ہیں۔تاکہ قارئین کوآسانی ہو اور وہ بغیر کسی پریشانی کے ان تمام اہم ادبی متون تک رسائی حاصل کرسکیں۔مستقبل قریب میں ایسے ہی بہت سے بلاگز بنانے کا ارادہ کا ہے، جن میں کلیات میر تقی میر، سعادت حسن منٹو کے تمام ڈرامے، خاکے اور مضامین، سجاد ظہیر کے تمام مضامین، زٹل نامہ اور بہت سی دوسری اہم ادبی و علمی تصانیف کو قارئین تک پہنچانا اہمیت کا حامل ہے۔ادبی دنیا پر جلد ہی کلاسیکی شاعروں کے انتخاب کاایک سلسلہ بھی شروع کیا جانے والا ہے، جس کے زیر اثر قائم چاند پوری، مرز ا محمد رفیع سودا، مصحفی، حاتم، تاباں اور اس دور کے دوسرے شاعروں کا کلام انٹرنیٹ پر اپلوڈ کیا جائے گا۔ادبی دنیا کے حوالے سے تازہ اطلاعات حاصل کرنے کے لیے آپ فیس بک پر موجود اس کے پیج کو بھی لائک کرسکتے ہیں،یا پھر مندر جہ ذیل لنکس میں سے کسی پر بھی کلک کرکے ان تک پہنچ سکتے ہیں۔

سعادت حسن منٹو کی ساری کہانیاں:
http://mantostories.blogspot.in

قرۃ العین حیدر کی ساری کہانیاں:
http://qurratulainhyderstories.blogspot.in

عرفان صدیقی کی تمام غزلیں:
http://www.irfaansiddiqui.blogspot.in

ہم جلد ہی ادبی دنیا کو ایک ویب سائٹ کی شکل دینا چاہتے ہیں، اور اسے صرف ادب تک محدود نہیں رکھنا چاہتے۔اسے سماجیات، معاشیات، مذہبیات ، فلسفے اور سائنس جیسے اہم مضامین سے بھی جوڑا جائے گا، مگر رفتہ رفتہ، ابھی چونکہ یہ ایک بلاگ کی صورت میں ہے، اس لیے کوشش ہے کہ جلد سے جلد اسے ایک ویب سائٹ کی شکل دی جانی چاہیئے، ادبی دنیا کا ایک آڈیومیگزین، ایک یوٹیوب اور ڈیلی موشن چینل اور ‘جدیدترین’ نامی آن لائن اور آف لائن رسالے کے اجراء کا بھی ارادہ ہے،لیکن ظاہر ہے کہ سارا بھاڑ اکیلے چنے کو پھوڑنے کا شوق چرایا ہے، چنانچہ اس میں کچھ وقت لگے گا، اب مدد کے لیے کچھ ہاتھ بھی آگے بڑھ رہے ہیں، جو لوگ واقعی اردو سے محبت کرتے ہیں اور اسے خوبصورتی کے ساتھ اس جدید ٹیکنالوجی سے جوڑنا چاہتے ہیں۔ وہ دنیا کے کسی بھی کونے میں بیٹھے ہوں، ادبی دنیا کے اپنے لوگ ہیں، اور آج کچھ لوگ چل کر اس جانب آئے ہیں، کل کو ممکن ہے ادبی دنیا ایک ایسا وسیلہ بن سکے، جس کے ذریعے اردو زبان ، ادب اور دیگر شعبوں کو دنیا تک پہنچانے، عام کرنے کے راستے اور چوڑے ہوسکیں اور دنیا میں کسی بھی جگہ اپنے پسندیدہ موضوع کو کم از کم اردو میں ڈھونڈتے وقت گوگل مایوسی بھرے دو جملے لے کر آپ کی ڈیسک پر نہ دھمک پڑے۔

Categories
نقطۂ نظر

مسلم معاشروں میں کتاب کا زوال

انسانی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ ہر دور میں انسان نے اپنی عقل اور شعور کے استعمال کی بدولت آگے کی طرف سفر جاری رکھا ہے۔ غاروں میں رہنے والوں نے بھی اپنی کھوج اور پہچان کی خاطر خوابوں کے ساحلوں پر کھڑے ہوکر اپنی تعبیر کے دریاؤں کو عبور کیا اور یہ جذبہ آج بھی انسانی جدوجہد کی صورت میں کارفرما ہے۔ انسان ہمہ وقت اس کائنات کے انگنت رازوں پر سے پردہ اٹھانے میں مگن ہے اور اس جہد مسلسل کی شمع تھامے ہوئے آگے کی طرف بڑھ رہا ہے۔ اس سفر میں انسان سوچنے، سمجھنے، جاننے، تلاش کرنےاور لکھنے جیسے مراحل سے گزرا ہے ۔ آج بھی ہم کئی ہزار سال پہلےتحریر کیے جانے والے علوم سے استفادہ  کرتے ہیں۔ آج کی نسلوں کو ان تمام ادوار کے لوگوں کا شکر گزار ہونا چاہیے جنہوں نے اس کائنات کو اپنے اپنے انداز سے دیکھا اور اس کی تشریح کی۔ ہمیں ان لکھاریوں، دانش وروں اور کاتبوں کا شکر گزار ہونا چاہیئے جن کی کاوشیں آج تحریری صورت میں ہمارے سامنے موجود ہیں۔
مٹی کی تختیوں، درختوں کی چھالوں، جانوروں کی کھالوں اور کاغذ سے ہوتا ہوا یہ سفر آج انٹرنیٹ تک آن پہنچا ہے جہاں ہر موضوع پر سینکڑوں ہزاروں کتابچے صرف ایک کلک کی دوری پر ہیں
مٹی کی تختیوں، درختوں کی چھالوں، جانوروں کی کھالوں اور کاغذ سے ہوتا ہوا یہ سفر آج انٹرنیٹ تک آن پہنچا ہے جہاں ہر موضوع پر سینکڑوں ہزاروں کتابچے صرف ایک کلک کی دوری پر ہیں۔ میں یہ سمجھتا ہوں کہ یہ چیزیں حاصل کرتے وقت ہمیں ان تمام لوگوں کا شکر گزار ہونا چاہیے کہ جن کی انتھک محنت کی بدولت ہی ہم یہاں تک پہنچے ہیں اور یہ سفر اب بھی جاری ہے۔ اس صدی کو بہت سے لوگوں نے کتاب کی صدی کہا ہے لیکن جب بھی ہم مسلم معاشروں کا جائزہ لیتے ہیں تو صورت حال انتہائی مخدوش دکھائی دیتی ہے ۔ ویسے تو مسلم معاشروں نے پچھلی کئی دہائیوں میں کسی بھی شعبے میں کوئی بڑا آدمی پیدا نہیں کیالیکن کتاب کے حوالے سے صورت حال انتہائی شرمناک ہے ۔ مختلف خلیجی ریاستوں میں جانے کا اتفاق ہوااور یہ دیکھا کہ وہاں سرمائے کے بل بوتے پر مزید سرمایہ  کھینچنے کی دوڑ جاری ہے۔مسلم حکم رانوں کی عدم دلچسپی کے ساتھ ساتھ ایک عام آدمی بھی کتاب سے کوئی رشتہ نہیں رکھتا۔
مسلم معاشرے عرصہ دراز سے ایک خول میں بند ہیں اور گزشتہ کئی صدیوں سے مسلم فکر جمود کا شکار ہے۔ ہمارے اہل مذہب اور اربابِ اختیار نے یہ سوچ ہمارے ذہنوں میں پیوست کردی ہے کہ ہمارا بس ماضی شاندار تھا اور ایک دن ہمارا  مستقبل تابناک ہوجائے گا۔ یہ ایک ایسا زہرِ ہے جسے تریاق بنا کر مسلم معاشروں میں ہر سطح پر دیا جارہا ہے۔  مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ لاہور سے نیویارک جاتے ہوئے پین ایم کی پروازیں ریاض میں رکتی تھیں ۔اس سفر کے دوران میں نے اس فلائٹ پر موجود تمام غیر ملکیوں کے ہاتھ میں اخبار یا کوئی کتاب دیکھی۔  بہت دفعہ خلیجی ممالک کا سفر بھی کیا اور ہمیشہ حیران رہا کہ فضائی میزبان جب اخبارات پیش کرتی تھیں تو 200مسافروں میں سے صرف 5یا 6اخبار بین ہی میسر آئے۔  ہمارے ہاں بھی کم و بیش یہی صورت حال ہے۔ کتاب خریدنے کی استطاعت رکھنے والوں کا بھی کتاب سے کوئی رشتہ نہیں ہے بلکہ وہ اس سے یوں اجتناب کرتے ہیں جیسے یہ گناہ کبیرہ ہو۔ حد تو یہ ہے کہ ہمارے ہاں گھروں میں بھی غیر نصابی کتب کے مطالعے کی حوصلہ شکنی کی جاتی ہے۔ ہمارے والدین اکثر یہ نصیحت کرتے ہیں کہ بس اپنی کتابوں پر دھیان دو غیر نصابی کتاب کو ہاتھ بھی نہ لگاؤ ورنہ دماغ خراب ہوجائے گا۔  حیرت ہے جس چیز کے مطالعہ سے ذہن زرخیز، سوچ وسیع اور علم و آگاہی کے نئے دریچے کھلتے ہیں یہاں اس پر پابندی ہے۔
ہمارے اہل مذہب اور اربابِ اختیار نے یہ سوچ ہمارے ذہنوں میں پیوست کردی ہے کہ ہمارا بس ماضی شاندار تھا اور ایک دن ہمارا  مستقبل تابناک ہوجائے گا۔
آج بھی مغرب اور یورپ کی ترقی میں کتاب کا عمل دخل سب سے زیادہ ہے۔ مختلف رپورٹس کے مطابق سب سے زیادہ کتابوں کی اشاعت انہی ملکوں میں ہوتی ہے ۔  یورپ کے چھوٹے سے ملک آئس لینڈ میں ہر دس میں سے ایک آدمی مصنف ہے ۔ یورپ میں مطالعے کی شرح مسلم دنیا کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ ہے۔  یہی فرق ہے جن قوموں نے علم، آگاہی اور سوچ پر پہرے اور پہریدار نہیں بٹھائے وہ مسلسل ترقی کی طرف گامزن ہیں، ایجادودریافت ان کا طرہ امتیاز ہے۔ دوسری طرف علم دشمنی اور کتاب سے احتراز کے نتائج بھی ہمارے سامنے ہیں۔ ہمارے مستقبل کی کنجی کتاب دوستی سے وابستہ ہے۔  کتب بینی ہی سے ہمارے لیے فکر کے  نئے دروازے کھلیں گے، سوچ کی اجلی کرنیں ہمارے ہاں بسیرا کریں گی اور ہمارے دلوں اور ذہنوں پر لگے صدیوں پرانے زنگ آلودقفل کھل جائیں گے۔
Categories
نقطۂ نظر

کھیل کے لیے کھیل کے میدان کا رخ کریں

اگر میں انٹرنیٹ کے جدید دور سے گزرے ہوئے دور کا موازنہ کروں تو مجھے اپنے وطن عزیز کے ہر علاقے کے کھیلوں کے میدان آباد نظر آتے تھے جہاں روزانہ شام کو بچے مختلف کھیل کھیلا کرتے تھے
بلاشبہ انٹرنیٹ اس جدید دور کی بہترین ٹیکنالوجی ہے جس نے دنیا کو سمیٹ کر آپ کے کمپیوٹر میں سمو دیا ہے ، جو سمندر کو ایک کوزے میں بند کرنے کے مترادف ہے ۔ اس سے آپ ہر لمحہ دنیا کے حالات سے با خبر رہتے ہیں بلکہ پوری دنیا میں قیام پذیر اپنے پیاروں سے رابطے میں بھی رہتے ہیں ۔ ہر گزرتے دن کے ساتھ اس ٹیکنالوجی میں مزید جدت اور سہولت آرہی ہے اور اب انٹرنیٹ استعمال کرنے کے بہت سے ذرائع ہماری دسترس میں ہیں۔پاکستان میں ایک اندازے کے مطابق 30 ملین انٹر نیٹ صارفین ہیں جن میں سے 15 ملین موبائل فون پر انٹرنیٹ استعمال کرتے ہیں۔ انٹرنیٹ کا استعمال اب ہر گھر میں ایک ضرورت کی صورت اختیار کرگیا ہے۔ انٹرنیٹ استعمال کے بے شمار مثبت پہلووں کے ساتھ چند ایک منفی پہلو بھی ہیں لیکن یہ بھی انٹرنیٹ استعمال کرنے والے صارف پر ہی منحصر ہے کہ وہ اس کا مثبت استعمال کرتا ہے یا منفی۔
میں یہاں اپنے مشاہدے میں آنے والی ان منفی باتوں میں سے ایک نہایت اہم پہلو کی جانب توجہ مبذول کرانا چاہوں گا جو بچوں کے انٹرنیٹ استعمال کے حوالے سے ہے ۔اگر میں انٹرنیٹ کے جدید دور سے گزرے ہوئے دور کا موازنہ کروں تو مجھے اپنے وطن عزیز کے ہر علاقے کے کھیلوں کے میدان آباد نظر آتے تھے جہاں روزانہ شام کو بچے مختلف کھیل کھیلا کرتے تھے جن میں کرکٹ ، فٹبال، ہاکی،والی بال، کشتی سر فہرست تھے ۔اتوار یا چھٹی کے دن تو کھیل کے میدان بچوں سے کھچا کھچ بھرے رہتے تھے گویا تل دھرنے کی جگہ نہ ہوتی تھی۔ لیکن انٹرنیٹ کے اس جدید دور میں نہایت افسردگی کے ساتھ ان کھیل کے میدانوں کی طرف دیکھتا ہوں تو مجھے کہیں لوگ ڈرائیونگ سیکھتے نظر آتے ہیں تو کہیں کوئی سرکس لگا نظر آتا ہے اور کئی کھیل کے میدان تو اپنی مسلسل ویرانی کی وجہ سے کچرا کنڈیوں میں تبدیل ہوچکے ہیں ۔
ایک بچہ جو کھیل کے میدان میں جاکر کھیلتا تھا تو اس کی یہ سرگرمی جسمانی ورزش کا بہترین ذریعہ تھی جس سے اس کی جسمانی نشو نما ہوتی تھی جوانٹرنیٹ پر بیٹھ کر یا لیٹ کر کھیلنے سے ممکن نہیں۔
آج بھی بچے مجھے کرکٹ ، فٹبال، ہاکی، والی بال، اسکوائش، ٹینس، کشتی اور بہت سے دوسرے کھیل کھیلتے نظر تو آتے ہیں لیکن اپنے گھر میں کمپیو ٹر یا موبائل پر انٹرنیٹ کے ذریعے۔ایک بچہ جو کھیل کے میدان میں جاکر کھیلتا تھا تو اس کی یہ سرگرمی جسمانی ورزش کا بہترین ذریعہ تھی جس سے اس کی جسمانی نشو نما ہوتی تھی جو انٹرنیٹ پر بیٹھ کر یا لیٹ کر کھیلنےسے ممکن نہیں۔ایک انٹرنیٹ استعمال کرنے والے بچے کے روزانہ کے معمول پراگرنظرڈالیں تو وہ آپ کو زیادہ تر وہ بیٹھا، لیٹا یا سوتا ہوا ہی نظر آئے گا۔ بچے اسکول میں اور اسکول سے واپس آ کر شام میں بھی گھر کا کام کرتے ہوئےاور مدرسے یا کوچنگ سنٹر جاکر بھی زیادہ تر وقت بیٹھے رہتے ہیں۔ ملک کے خراب حالات کی وجہ سے زیادہ تر سکولوں میں ورزش ،اسکول اسمبلی اور جسمانی تربیت کی مشقوں کا سلسلہ بھی بند کردیا گیا ہے یہی وجہ ہے کہ بچوں کے پاس تفریح کے لیے جسمانی کھیل کود کے ذرائع محدود ہو چکے ہیں اس انٹرنیٹ پردستیاب تفریح نے اس کی جگہ لے لی ہے ۔
بچوں کی بہتر نشو نما کے لیے جسمانی ورزش بہت ضروری ہے اور اس کا موثر ذریعہ کھیل کے میدانوں میں کھیلنا ہی ہے ہمیں انفرادی اور اجتماعی طور پر اس اہم مسلہز کی جانب توجہ دینی ہوگی، کھیل کے حوالے سے بچوں کو اپنے علاقوں میں سہولیات دینی ہوں گی اور بچوں میں یہ شعور بھی پید ا کرنا ہوگا کہ وہ معلومات اور تعلیمی حوالے سے انٹرنیٹ کا استعمال ضرور کریں لیکن کھیل کود کے لیے میدانوں اور محلے کے پارکوں کو ترجیح دیں تاکہ وہ تندرست اور چاک و چوبند رہیں اور ایک صحت مند معاشرہ تشکیل دیا جا سکے۔