Categories
شاعری

The Swinger Party (Zahid Nabi)

وہ اپنے زیر جاموں سے اور ان کے زیر جامے ان سے اُوب چکے تھے
انہوں نے لیبل اتارے اور انہیں چوراہے پر لٹکا دیا

اُن کی آوازیں زنگ آلود تھیں
انہوں نے مل کر ایک فلک شگاف قہقہہ لگایا
اور گونج بن کر سماعتوں کی جھولیاں بھرنے لگے

وہ اپنے خوابوں کی یکسانیت سے تنگ تھے
انہوں نے اپنے سرہانے بدل لیے
اور دور دور تک نیند میں جاگنے لگے

ان کے دکھ ان کی آنکھوں میں پک چکے تھے
انہوں نے اپنے آنسو پیالے میں جمع کیے
اور گھونٹ گھونٹ سب کے دکھ چکھنے لگے

وہ جسموں سے خوفزدہ تھے
انہوں نے جسموں سے جسم بدل لیے
ان کا ڈر اتر گیا
وہ جو ایک دوسرے کے لیے خاص ہیں
سب کے لیے عام ہو گئے
وہ جو جسموں سے بھرے ہوئے ہیں
ایک دوسرے کا ہاتھ تھام کر سوتے ہیں

Categories
شاعری

دیوارِ دوست (زاہد نبی)

تیری دیور پہ لکھا ہے
سارے دکھ اندر نہیں تھوکے جا سکتے
میرے دوست!
میں تیرا اگال دان ہوں
اور گرتی ہوئی دیوار کا سایہ سنبھالنے آیا ہوں
کسی جا چکے دوپہر کے لیے
جانے کتنی مکھیاں اڑانا ہوں گی
یہاں کی بھیڑ میں نگاہ بھر جگہ بنانے کو
اور اس میں چنوائی ہوئی سرگوشیاں۔۔۔
بے توجہی کی خاموشی میں بہانا ہوں گی
اس سے پہلے کے دلوں میں در آئیں
راز دار رخنوں کو دربدر کر دینا چاہیئے
عریاں درزیں جزدان میں لپیٹ کر
سست لمحوں کے سپرد کر دوں؟
ار پر جمی ہوئی روشنی اور اس پر پڑے ہوئے سائے
کھرچنے ہیں یا انہیں لکیروں میں کا کفن دینا ہے؟
یہ سب فیصلے دیوار نہیں سایہ کرے گا
کہ دیوار محفوظ تو کرتی ہے
فیصلے نہیں کرتی!
سائے کے فیصلے اور اس فیصلے کی روشنی میں تُو بتا ۔۔۔۔۔
کہ طاقچے میں بکھرے ہوئے رنگ آنکھوں میں اکٹھے کر کے
انہییں آس کے حوالے کرنا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
یا دیوار کی دراڑوں کا ڈھیر جمع کر کے
جھریوں میں چھپانے کے لیے ایک دکھ بنانا ہے؟
Image: Ian Clegg Walsh

Categories
شاعری

بندہ بھائی کا منٹو

[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

بندہ بھائی کا منٹو

[/vc_column_text][vc_column_text]

بندہ بھائی!
تاویلوں کے تالوں کو مصرف میں لاؤ
جتنا چاہو باطن میں اندھیرا بھر لو
خود سے بھاگو
بھاگو جتنا بھاگ سکو ہو
گھومو۔۔۔۔۔۔ کاٹھ کے گھوڑے پر تم دنیا گھومو

 

بندہ بھائی!
ایسا کتنی دیر چلے گا؟
ہر بے حد کی حد ہوتی ہے
دیکھنا اک دن آ جائے گا
پیپرویٹ کے نیچے رکھے دستاویزی مے خانوں سے
باہر کی دنیا کے من میں پیر رکھے گا

 

بندہ بھائی!
دیکھنا منٹو آ جائے گا
ہو ہو ہو ہاہا کا پھاہا
اس بے دردی سے نوچے گا
چیخ رِسے گی
اس پر وہ ہچکی رکھے گا
ہچکی پر ہچکی باندھے گا
بہتے وقت کی گندی نالی کے کیڑوں کو
نمک بھری چٹکی کاٹے گا
اجلے کاغذ پر چھوڑے گا
اور پھر ان کے پیچھے پیچھے ان کی جنت تک جائے گا
پچھلی رات کے جھوٹے برتن مانجھ مانجھ کر کلی کرے گا
ان میں من کی میل دھرے گا
کتوں میں انسانی چہرے اور انسان میں جنگل سارا۔۔۔۔بھرا بھرایا
گدلے پانی کی بوتل میں خالی کر کے
روز جیئے گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔ روز بھرے گا
دیکھنا اک دن آ جائے گا
بندہ بھائی!
دیکھنا منٹو آ جائے گا

Art Work: Express Tribune
[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]