Categories
شاعری

ہیں زوال آمادہ اجزا آفرینش کے تمام

[blockquote style=”3″]

Virtual Textual Practical Criticism “قاری اساس تنقید” کی مجموعی تھیوری کے تحت وہ طریقِ کار ہے، جس میں طلبہ کو یہ تربیت دی جاتی ہے کہ کسی نظم یا نظمیہ فارمیٹ کے متن پر عملی تنقید کیسے لکھی جائے۔ اس کے لیے شاعر کے نام کا علم ہونا ضروری نہیں ہے۔ (اگر ہو تو کوئی مضائقہ نہیں ہے، لیکن اس کے نجی حالات، سیاسی یا مذہبی خیالات، ہم عصر شاعری کی نہج یا ہم عصر شعرا کا تتبع یا مخالفت وغیرہم کو کلیتاً نظر انداز کر دیا جانا ضروری ہے، گویا کہ آپ کو علم ہی نہیں ہے کہ یہ نظم کس شاعر کی ہے)۔صرف سامنے رکھے ہوئے متن پر ہی انحصار کرنے کے لیے یہ طریق ِ کار اختیار کیا جائے۔ متن میں مشمولہ تمام Proper and Common Nouns اسماء کے ہم معنی الفاظ، یعنی homonyms یا ان کے متبادل الفاظ کی فہرست تیار کر لی جائے۔ اب ہر اس اسم (اسم، اسم ِ ضمیر، اسم معرفہ، نکرہ، آلہ، تصغیر، تکبیر، وغیرہ) کے سامنے بنائی گئی فہرست کے ہر ایک لفظ کو استعمال کیے گئے لفظ کی جگہ پر رکھ کر دیکھا جائے کہ کون سا لفظ شاعر کی منشا یا مطلب کو براہ راست یا استعارہ یا علامت کے طور پر زیادہ واضح طور پر پیش کر سکتا ہے۔ اب تنقید لکھتے ہوئے ان الفاظ کو زیر ِ بحث لایا جائے اور آخری پیرا گراف میں اپنی findings تفصیل سے لکھی جائیں۔ اس طریق کار کے تحت تنقید کا مضمون یورپ اور امریکہ میں پڑھایا جا رہا۔ یہ منظوم سلسلہ “خامہ بدست غالب” غالب کے کلام کو Virtual Textual Practical Criticism کے تحت سمجھنے کی ایک کوشش ہے۔ ستیہ پال آنند

[/blockquote]

غالب کے اشعار پر ستیہ پال آنند کی نظموں پر مشتل سلسلے ‘خامہ بدست غالب‘ میں شامل مزید نظمیں پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

مصرع

 

ہیں زوال آمادہ اجزا آفرینش کے تمام

 

نظم

 

آفرینش کب تھی غالب؟ عالمِ علوی میں کیا؟
یا کہیں باغِ جناں میں، آدم و حوّا کے بیچ؟
عالمِ لاہوت میں؟ یا عالمِ ناسوت میں؟
کیا کسی پرلوک میں یا اِس ہمارے لوک میں؟

 

اورپھر اجزائے ضربی؟ دیمقراسی سالمات؟
مادۃ العبدان۔۔۔۔ یا ذی روح اِنس و بشریت؟
عبدِ آب و گِل؟ جگت باسی منُش، بندہ، بشر؟
یا نباتاتی، خیابانی اپج، روئیدگی؟

 

کیوں زوال آمادہ ہیں یہ آفرینش کے نشاں؟
پوچھیے غالب سے اور پھر سوچئے خود بھی جناب
دائیں بائیں دیکھیے۔۔۔۔۔۔ اور غور سے پھر دیکھیے
ہے زوال آمادہ اِنس و بشریت صدیوں سے اب

 

پیش بینی “غالبِ خستہ” کا شیوہ تو نہ تھا
“شاعری جزویست از پیغمبری”، لیکن، یہ قول
منطبق اس پر بھی تھا جس نے کہا تھا شوق سے
“تھا طلسمِ قفلِ ابجد خانہِ مکتب مجھے!”
Categories
شاعری

غرّہءِ اوجِ بنائے عالمِ امکاں نہ پوچھ

[blockquote style=”3″]

Virtual Textual Practical Criticism “قاری اساس تنقید” کی مجموعی تھیوری کے تحت وہ طریقِ کار ہے، جس میں طلبہ کو یہ تربیت دی جاتی ہے کہ کسی نظم یا نظمیہ فارمیٹ کے متن پر عملی تنقید کیسے لکھی جائے۔ اس کے لیے شاعر کے نام کا علم ہونا ضروری نہیں ہے۔ (اگر ہو تو کوئی مضائقہ نہیں ہے، لیکن اس کے نجی حالات، سیاسی یا مذہبی خیالات، ہم عصر شاعری کی نہج یا ہم عصر شعرا کا تتبع یا مخالفت وغیرہم کو کلیتاً نظر انداز کر دیا جانا ضروری ہے، گویا کہ آپ کو علم ہی نہیں ہے کہ یہ نظم کس شاعر کی ہے)۔صرف سامنے رکھے ہوئے متن پر ہی انحصار کرنے کے لیے یہ طریق ِ کار اختیار کیا جائے۔ متن میں مشمولہ تمام Proper and Common Nouns اسماء کے ہم معنی الفاظ، یعنی homonyms یا ان کے متبادل الفاظ کی فہرست تیار کر لی جائے۔ اب ہر اس اسم (اسم، اسم ِ ضمیر، اسم معرفہ، نکرہ، آلہ، تصغیر، تکبیر، وغیرہ) کے سامنے بنائی گئی فہرست کے ہر ایک لفظ کو استعمال کیے گئے لفظ کی جگہ پر رکھ کر دیکھا جائے کہ کون سا لفظ شاعر کی منشا یا مطلب کو براہ راست یا استعارہ یا علامت کے طور پر زیادہ واضح طور پر پیش کر سکتا ہے۔ اب تنقید لکھتے ہوئے ان الفاظ کو زیر ِ بحث لایا جائے اور آخری پیرا گراف میں اپنی findings تفصیل سے لکھی جائیں۔ اس طریق کار کے تحت تنقید کا مضمون یورپ اور امریکہ میں پڑھایا جا رہا۔ یہ منظوم سلسلہ “خامہ بدست غالب” غالب کے کلام کو Virtual Textual Practical Criticism کے تحت سمجھنے کی ایک کوشش ہے۔ ستیہ پال آنند

[/blockquote]

غالب کے اشعار پر ستیہ پال آنند کی نظموں پر مشتل سلسلے ‘خامہ بدست غالب‘ میں شامل مزید نظمیں پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

شعر

 

غرّہءِ اوجِ بنائے عالمِ امکاں نہ پوچھ
اس بلندی کے نصیبوں میں ہے پستی ایک دن

 

نظم

 

غرّہ کیا ہے؟
خود پسندی؟
اینڈنا؟ کج خلق ہونا؟ ادّعا، “میَں پن”
دکھاوا؟
زائد از امکاں بلندی، خود پسندی
اور اس پندار کی تشہیر ۔ “پھُوں پھاں”
طنطنہ، شیخی، دکھاوا
شہروں شہروں، ملکوں ملکوں
اپنی خلعت، کلغی، وردی کی نمائش
بانس کی ٹانگوں پہ چلتا ایک سرکس کا کھلاڑی
لاف زن، مغرور، متکبر، مدّمغ!

 

‘عالمِ امکاں‘ کی گربنیاد یہ ہو
اس بلندی کا اگر میزاب یہ ہو
دیکھئے پھر اس بلندی کا نتیجہ
صرف گرنا اوندھے منہ یا سر کے بل
یا چار زانو منحصر اس بات پر ہے
یہ تنزل، خفّت و ذلت ہے یا پھر
کورنش ہے خود سے اک بالا نشیں کی !!
جو بھی کچھ ہے
خاکساری، سجدہ ریزی، چاپلوسی، چاکری ہے!
ایسے خود بیں کے لیے موزوں ہے غالب کا یہ کہنا
“اس بلندی کے نصیبوں میں ہے پستی ایک دن!”
Categories
نان فکشن

بدن اور ملبوس ۔ بہم دگر متصادم (فارسی عروض اور اردو شاعری)

یہ قصہ حیدراآباد (دکن) میں میرے نو ماہ کے قیام (1964 تا 1965) کا ہے۔میں تھا تو ریسرچ اسکالر کے طور پر انڈین انسٹیٹیوٹ آف ایڈوانسڈ اسٹدیز میں، لیکن میں سارا سارا دن کیمپس سے غیر حاضر رہتا اور اپنے ہم عمر دوستوں شاذ تمکنت، وحیداختر، مغنی تبسم وغیرہ کی سنگت میں رہتا۔ دس بارہ برس پہلے پنجاب یونیورسٹی سے اپنے ادیب فاضل کا کورس کرنے کے دنوں میں ہی میں نے “حدائق البلاغت” کو جیسے گھول کر پی لیا تھا اور عروض پر میری گرفت استادوں کی طرح تھی۔ ڈاکٹر محی الدین قادری زورسے بات چیت اور ان سے دکن کی شاعری پر عروض کے انضباط کے حوالے سے میں نے ایک بار پھر عربی فارسی عروض اور ہندوی جملوں کی ساخت میں ایک ایسی طوائف الملوکی کی سی حالت دیکھی، جو ہر مصرع کی تقطیع میں شکست ِ ناروا کی سی حالت پیدا کرتی تھی۔ میں نے اس بارے میں دو مضامین لکھے۔ ایک نشست میں کچھ دوستوں کو سنائے اور انہوں نے میری تائید بھی کی لیکن ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ تاریخ کا وہ دھارا جو تین چار صدیوں تک ایک جانب بہہ چکا ہے، لوٹایا نہیں جا سکتا۔ امیر خسرو کے حوالے سے کئی اور باتیں ہوئیں اور تاریخ کی اس بے رحم روش پر کئی بار رونا بھی آیا، لیکن ہو بھی کیا سکتا تھا، اس لیے دل مسوس کر رہ گیا۔

 

راشد نے یہ تمیز روا رکھی ہے کہ اگر رن۔آن لائن کا چلن ضروری ہو گیا ہے تو گذشتہ سے پیوستہ سطر کو بیچ میں سے شروع کیا جائے۔
چونکہ میں ان دنوں اردو کی آزاد نظم میں طبع آزمائی کر رہا تھا اور ن۔م۔راشد، میرا جی کے علاوہ دیگر اردو شعرا کا بغور مطالعہ کر رہا تھا۔ ڈاکٹر زور کے توسط سے جامعہ عثمانیہ کے کتب خانے سے مجھے کتابیں مل سکتی تھیں، اس لیے میں نے اس موضوع پر اپنے نوٹس سے ایک پوری ڈائری بھر دی۔

 

ایک خاص موضوع جس پر میں نے عرق ریزی کی حد تک کام کیا ، وہ اردو میں صنف غزل کے منفی اثرات کی وجہ سے آزاد نظم (یعنی بلینک ورس۔۔فری ورس نہیں، جسے آج کل نثری نظم کہا جاتا ہے ) میں “رن ۔ آن” سطروں سے لا تعلقی کا رویّہ تھا۔ طوالت یا اختصار کی بنا پر سطور کی قطع برید بہت پرانی بات نہیں ہے۔ یہاں تک کہ تصدق حسین خالدسے چل کر میرا جی اور ن۔م۔راشد تک پہنچ چکنے کے بعد تک، (بلکہ مجید امجد اور اختر الایمان تک) شیوہ یہ رہا کہ اگر ایک سطر بہت طویل ہو گئی ہے اور صفحے کی چوڑائی اس بات کی متحمل نہیں ہو سکتی کہ شاعر اس کو قطع کیے بغیر لکھ سکے، تو رن۔آن لائنز کے قاعدے کواس شرط پر بروئے کار لایا جائے کہ باقی کا متن پیوستہ سطر کے وسط سے شروع کیا جائے۔ ایک مثال دے کر اپنی بات واضح کرتا ہوں۔

 

اے سمندر! پیکرِ شب، جسم، آوازیں
رگوں میں دوڑتا پھرتا لہو
پتھروں پر سے گزرتے، رقص کی خاطر
اذاں دیتے گئے۔
(ن۔م۔راشد: “اے سمندر”)

 

یہ بحر رمل (فاعلاتن) کی تکرار ہے۔ غور فرمایئے: اے سمندر (فاعلاتن)، پیکر شب (فاعلاتن)، جسم آوا (فاعلاتن)۔۔۔۔ [یہاں اب “زیں” کو رن۔آن کر کے پیوستہ سطر کے “رگوں میں” سے ملا دیا گیا ہے] یعنی ۔۔زیں رگوں میں (فاعلاتن)، دوڑتا پھر (فاعلاتن)، تا لہو (فاعلن) ۔۔گویا سطر کی برید اس لیے کی گئی کہ چھ (6) فاعلاتن کے بعد ’فاعلن‘ کا اختتامیہ آیا ہے، (جو کہ غزل کا وزن عام طور پر نہیں ہے)۔ لیکن راشد نے یہ تمیز روا رکھی ہے کہ اگر رن۔آن لائن کا چلن ضروری ہو گیا ہے تو گذشتہ سے پیوستہ سطر کو بیچ میں سے شروع کیا جائے۔ اسی طرح : پتھروں پر (فاعلاتن)، سے گذرتے (فاعلاتن) رقص کی خا (فاعلاتن) ۔۔۔اب یہاں “طر”، جو “خاطر” کا اختتامیہ ہے، پیوستہ سطر کے پہلے لفظ سے منسلک ہونا ضروری ہو گیا ہے، اس لیے دوسرا ٹکڑا سطر کے عین درمیان میں سے شروع کیا گیا۔ تر اذاں دے (فاعلاتن)، تے گئے (فاعلن)۔

 

ان شعرا نے رمل کے علاوہ ہزج (مفاعلین کی تکرار)، رجز (مستفعلن کی تکرار)، متدارک (فاعلن کی تکرار)، متدارک سالم (فعلن کی تکرار)، متقارب سالم (فعولن کی تکرار)، متقارب مقبوض (فعول فعلن) اور کامل (فاعلن کی تکرار) ۔۔۔یعنی لگ بھگ سبھی مروج بحور میں یہ چلن اختیار کیا۔

 

ڈاکٹر کالیداس گپتا رضا نے لکھا۔ “مجھے یقین ہے کہ فارسی عروض کی قربانی دئیے بغیر، اردو میں بلینک ورس کے لیے ‘رن آن لائنز’ کی یہ سہولیت، وقت کی ایک بہت بڑی ضرورت تھی، جسے آپ نے پورا کیا ہے۔
راقم الحروف نے 1960ءکے لگ بھگ اس سے انحراف کیا تھا اور حیدر آباد میں قیام کے دوران تک لگ بھگ پچاس نظموں میں نثری جملے کی منطقی ساخت کو برقرار رکھتے ہوئے (سبھی متعلقات فعل کو ان کی صحیح جگہ پر مستعدی سے کھڑا رکھتے ہوئے)، رن ۔آن لائنز کو اس طور سے برید کیا تھا کہ نفس ِ مضمون گذشتہ سطر سے تجاوز کرتا ہوا، ما بعد سطر کے وسط یا آخر تک، اور بسا اوقات، ما بعد سطر سے بھی منسلک ہونے والی اگلی سطر تک flux and flow کے ناتے سے بہتا چلا جائے۔ اب یاد آتا ہے کہ حیدر آباد کا دقیانوسی ماحول اول تو آزاد نظم کو قبول کرنے کے لیے ہی تیار نہیں تھا، اس پر رن ۔آن لائن کی ‘زیادتی’؟ ظاہر ہے کہ محفلوں میں تو کم کم، مگر مشاعروں میں مجھے ہوُٹ بھی کیا گیا اور کوسا بھی گیا۔

 

اس سلسلے میں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ حیدر آباد کے قیام کے بیس برسوں کے بعد جب ایک پراجیکٹ کے تحت میری تحریر کردہ ایک سو نظموں کا مجموعہ “دست برگ” چھپا تو اس پر ایک ذاتی خط میں ڈاکٹر کالیداس گپتا رضا نے لکھا۔ “مجھے یقین ہے کہ فارسی عروض کی قربانی دئیے بغیر، اردو میں بلینک ورس کے لیے ‘رن آن لائنز’ کی یہ سہولیت، وقت کی ایک بہت بڑی ضرورت تھی، جسے آپ نے پورا کیا ہے۔ آنے والا مورخ جب اس کا لیکھا جوکھا کرے گا تو اردو کی آزاد نظم پر آپ کے اس احسان کو سراہا جائے گا۔” ڈاکٹر گوپی چند نارنگ نے کتاب کے “اختتامیہ” میں بھی یہ رائے ظاہر کی کہ اگر اس چلن پر اردو کی آزاد نظم چل سکی تو یہ قدم مستحن قرار پائے گا۔ ڈاکٹر وزیر آغا نے پنے ایک مکتوب میں ایک نہایت دلچسپ انکشاف کیا۔ انہوں نے لکھا۔ “آپ کے کہنے پر میں نے ایک آدھ گھنٹہ اس بات پر صرف کیا کہ 1970 ءسے پہلے کی اپنی نظموں کو نکال کر آٹھویں یا نویں دہائی یا اس کے بعد میں لکھی گئی نظموں کے مد مقابل رکھ کر دیکھا تو واقعی یہ معلوم ہوا کہ میں نے بھی کوئی شعوری فیصلہ کیے بغیر (یعنی کلیتاً لا شعوری طور پر) اپنی نئی نظموں میں رن آن لاینز کا چلن اپنا لیا تھا، لیکن یہ بات مجھے آپ کے استفسار کے بعد معلوم ہوئی اب میں خود سے پوچھ رہا ہوں۔ ستیہ پال آنند صاحب کو اس بات کا کریڈٹ جاتا ہے یا نہیں؟” میرے دیگر نظم گو دوستوں میں احمد ندیم قاسمی(مرحوم)، ضیا جالندھری(مرحوم)، بلراج کومل، نصیراحمد ناصر، علی محمد فرشی اور کئی دیگر احباب نے بھی اس رویے پر مجھ سے اتفاق کیا اور اپنی نظموں میں اس چلن پر صاد کیا۔

 

ماہنامہ “صریر” کراچی میں شامل ہوئے میرے ایک مضمون پر رد عمل کے طور پر ایک صاحب نے (نام بھول گیا ہوں، کیونکہ میں اپنی اس برس کی ڈائری سے یہاں نقل کر رہا ہوں) ماہنامہ “صریر”کے ہی فروری 2004 کے شمارے میں ان نکتوں کی شیرازہ بندی اان الفاظ میں کی۔ “ان تفصیلات پر بحث کے لیے کچھ اہم نکات کو دہرا دینا مناسب ہے [۱] مروج عام بحور جو سالم ارکان پر مشتمل ہوں آزاد موشح (ان کا مطلب تھا “آزاد نظم”) کی تخلیق کے لیے موزوں ہیں یا ایسی مزاحف بحریں جن کے دو ارکان کے درمیان تین متحرک حروف مل کی ایک یونٹ بنا دیں، بھی جائز و موزوں ہیں۔ [۲] آزاد نظم کے مصرع کو سطر کہنا چاہیے [۳] آزاد نظم کا کوئی مصرع خود کفیل نہیں ہونا چاہیے۔ اور [۴] صوتی اعتبار سے ما قبل مصرع کا اگلے مصرع میں انضمام ضروری ہے۔ “

 

آج بھی کئی بار خود سے یہ سوال پوچھنے کی جرات کرتا رہا ہوں کہ آج تک، یعنی اکیسویں صدی کی ایک دہائی گزرنے کے بعد بھی، اردو کا نظم گو شاعر غزل کی روایت کے اس مکروہ اثر سے کیوں آزاد نہیں ہو سکتا کہ وہ اپنی سطروں کی تراش خراش میں رن آن لاینز کے چلن کو روا رکھ سکے۔
اس زمانے میں بھی اور آج بھی کئی بار خود سے یہ سوال پوچھنے کی جرات کرتا رہا ہوں کہ آج تک، یعنی اکیسویں صدی کی ایک دہائی گزرنے کے بعد بھی، اردو کا نظم گو شاعر غزل کی روایت کے اس مکروہ اثر سے کیوں آزاد نہیں ہو سکتا کہ وہ اپنی سطروں کی تراش خراش میں رن آن لاینز کے چلن کو روا رکھ سکے۔اور نظم کی ‘سطر’ کو سطر ہی سمجھے، ‘مصرع’ نہیں۔ ان دو باتوں کو الگ الگ پلڑوں میں رکھ کر بھی تولنے کی اہلیت مجھ میں ہے۔

 

(الف) کیا مقفےٰ اور مسجع نظموں کی غنائیت اور نغمگی، حسن قافیہ کی سحر کاری اور بندش الفاظ نگینوں میں جڑی ہوئی شوکت و رعنائی اس صنف کو”آزاد نظم” یا “نظم معرا” سے ممتاز بناتی ہے؟

 

(ب) کیا غزل کے روایتی “فارمیٹ” سے مستعار اردو شاعروں کی یہ عادتِ ثانیہ کہ وہ نظم کی ‘سطر’ کو بھی ‘مصرع’ سمجھتے ہیں اور ایسا کرنے سے وہ نظم کی آزادی، یعنی اس کے مضمون اور اس کے شعری اظہار کی لسّانی اور اسلوبیاتی تازہ کاری کی قربانی نہیں دیتے؟ اور

 

(ج) کیا مقفےٰ اور یکساں طوالت کی سطروں پر مشتمل پابند نظموں میں یا ان آزاد اور معرا نظموں میں جن میں ‘سطر’ مصرع کی صورت میں وارد ہوتی ہے، اور رن آن لائنز کا التزام اس لیے ممکن نہیں ہے کہ ‘سطر’ کے بیچ میں ایک جملے کے مکمل ہونے سے حسن شاعری کو ضرب پہنچتی ہے، ان امیجز images کی قربانی نہیں دینی پڑتی، جو رمز و ایمایت کی جمالیات سے عبارت ہوتے ہیں اور علامت و استعارہ کے حسین جھالروں والے پردے کے پیچھے سے نیمے دروں نیمے بروں حالت میں پوشیدہ یا آشکارہ ہوتے ہیں؟

 

ناظم حکمت نے طنزیہ لہجے میں پوچھا، “تو کیا ہندوستان کی اتنی قدیم تہذیب اور لٹریچر میں شاعری کا اپنا کوئی عروض نہیں ہے جو آپ اردو والوں کو ایک بدیسی زبان کے عروض پر انحصار کرنا پڑا ہے؟”
آخری بات فارسی عروض کے بارے میں ہے جو اردو کے گلے میں ایک مردہ قادوس Albatross کی شکل میں لٹک رہا ہے۔ (استعارے کو سمجھنے کے لیے کالریج کی نظم The Ancient Mariner دیکھنی پڑے گی)۔۔۔مجھ جیسے کم فہم اردو دان کو بھی اس بات کا احساس ہے کہ صوتی محاکات کے حوالے سے یہ عروض اردو کی جملہ سازی کے لیے ناقص ترین ہے۔ کیونکہ عربی اور فارسی کی نسبت اردو کی جملہ سازی واحد و یگانہ ہے۔ غالب کے صرف ایک مصرعے کی تقطیع سے اس بات کا اندازہ ہو سکتا ہے

 

سب کہاں؟ کچھ لالہ و گل میں نمایاں ہو گئیں ۔۔۔
(فاعلاتن، فاعلاتن، فاعلاتن فاعلن ۔ بحر رمل)

 

پہلے صوتی محاکات دیکھیں اور پھر تقطیع کا جوکھم اٹھائیں۔ “سب کہاں” (انحرافی استہفامیہ ) یعنی “سب نہیں”۔ “سب کہاں؟” (بشمولیت سوالیہ نشان )کے بعد اردو قواعد کی رو سے سکون، یعنی ساکن حرف کی علامت، جزم کا ہونا مسّلم ہے۔ اب تقطیع کرتے ہوئے مجھے بہت کوفت ہوئی۔ سب کہاں کچھ (فاعلاتن) یعنی (سب=فا کہاں = علا کچھ = تن) اگر نثر میں لکھا گیا ہوتا تو یہ جملہ یوں ہوتا، سب کہاں؟ کچھ۔۔۔ ‘کچھ’ ہندوی ہے اور صفت کے طور پر تعداد میں ‘چند’ کے معنی میں آتا ہے۔ “سب کہاں کچھ” کو ‘فاعلاتن’ کی ایک ہی بریکٹ میں اکٹھا کرنے سے ایک پیہم، لگاتار، دوڑ لگاتا ہوا جملہ، “سب کہاں کچھ؟” بن گیا ، اور “یعنی” سے “لا یعنی” ہو گیا۔ جملے کا باقی حصہ یہ ہے۔ “لالہ و گل میں نمایاں ہو گئیں”۔ اس جملے میں “لالہ و گل” کے بعد کا لفظ یعنی “میں” گرائمر کی زبان میں، ہمیشہ (ظرف مکان ہو، یا ظرف زمان)، مفعول فیہ کے بعد آتا ہے۔ یعنی “میں” کا تعلق مابعد کے لفظ سے نہیں، بلکہ ما قبل کے لفظ سے ہے۔ گویا “لالہ و گل میں” ایک قابل فہم جزو ہے، نہ کہ “میں نمایاں” جو کہ لا یعنی ہے۔ لیکن، اب پھر ایک بار تقطیع کریں۔ لالہ و گل (فاعلاتن) میں نمایاں (فاعلاتن) ہو گئیں (فاعلن)۔۔۔ گویا جس بدعت کا ڈر تھا، وہی ہوئی۔ عروض کے اعتبار سے ہم نے مفعول فیہ کے بعد آنے والے اور اس سے منسلک لفظ “میں” کو اس سے اگلے لفظ کے گلے میں باندھ دیا۔ عروض کی ضرورت تو پوری ہو گئی لیکن جملے کا خون ناحق ہو گیا اور اس قتل عمد کی ذمہ داری ان سب پر ہے جنہوں نے ہندوی چھند اور پِنگل سے منہ موڑکر فارسی عروض کواپنایا۔

 

ایک سچا واقعہ یاد آتا ہے جولندن میں محترمہ زہرہ نگاہ کے گھر میں بیٹھے ہوئے فیض احمد فیض سے سنا، (اور شاید مرحوم فیض نے کہیں لکھا بھی ہے) کہ ترقی پسند مصنفین کی ایک کانفرنس میں جب فیض ترکی کے شہرہ آفاق شاعر ناظم حکمت سے ملے تو باتوں باتوں میں (ترکی زبان پر فارسی کا اثر دیکھتے ہوئے)، بزعم خود فیض نے کہا کہ اردو شاعری فارسی عروض کے مطابق لکھی جاتی ہے تو ناظم حکمت نے طنزیہ لہجے میں پوچھا، “تو کیا ہندوستان کی اتنی قدیم تہذیب اور لٹریچر میں شاعری کا اپنا کوئی عروض نہیں ہے جو آپ اردو والوں کو ایک بدیسی زبان کے عروض پر انحصار کرنا پڑا ہے؟” یہ سوال سن کر فیض کی جو حالت ہوئی ہو گی وہ مجھ پر عیاں ہے۔
Categories
نان فکشن

نظریات کا گورکھ دھندا؛ اردو ادب کے تناظر میں

یہاں امریکا میں ایک سینیر کورس (لٹریچر ۔۲) کے اپنے طلبہ کو مجھے کسی بھی دقیق مسئلے کو آسان ترین زبان میں سمجھانا پڑتاہے، انگریزی میں تھیسارس کے حوالے سے دیکھیں تو ایک ہی لفظ کی مختلف جہات سے تعلق رکھنے والے ایک درجن سے اس سے بھی زیادہ الفاظ ‘ریڈی میڈ’ مل جاتے ہیں، اس لیے مجھے کلاس روم میں وہ مشکل پیش نہیں آئی جو میں آج صبح یہ صفحہ لکھتے ہوئے محسوس کر رہا ہوں کہ اردو میں مجھے وہ سرمایہ میسر نہیں ہے۔ چاہتا تو ہوں کہ اس مضمون میں ان سب تخلیقی، تدریسی اور تحقیقی کاموں کا ذکر کروں جو اس وقت میرے سامنے ہیں، لیکن صرف دو یا تین کے بارے میں مختصراً لکھنے پر اکتفا کروں گا۔ ایک مقالہ جو میں نے ان دنوں لکھا ہے وہ تخلیقی قوت کی اس کارکردگی کے بارے میں ہے، جو فنکار کے ذہن میں پہلے ایک موہوم سی اور بعد میں ایک بہت شدید “ٹینشن” کی شکل میں وارد ہوتی ہے، اور فن پارہ مکمل ہونے کے بعد کتھارسس سے تحلیل ہو کر ایک قسم کی آسودگی کا احساس چھوڑ جاتی ہے۔

 

انگریزی لفظ tension یونانی لفظtensio اور اس کی اسمِ جامد شکل tensusسے آیا ہے۔ ارسطونے اپنی بوطیقا میں اس ہیجان کی سی کیفیت کے لیے جس کا علاج اس نے کتھارسس catharsis فرض کیا، یہی دو الفاظ استعمال کیے ہیں۔میں نے جب اس لفظ کے ممکنہ اردو نعم البدل الفاظ، ہیجان، کھچاؤ، تناؤ (ذہنی اور جسمانی) پر ارسطو کی اصطلاح کے حوالے سے غور کیا تو مجھے یہ تینوں نا کافی محسوس ہوئے۔ بہر حال 1964ء میں تحریر کردہ ایک ریسرچ پیپر جو P.E.N. کی کانفرنس کے لیے مجھے لکھنا تھا، میں نے یہ سوچ کر کہ “کتھارسس” پر توہزاروں صفحے لکھے جا چکے ہیں، لیکن “ٹینشن” پرجو ایک آرٹسٹ تخلیق کے عمل سے پہلے محسوس کرتا ہے، بہت کم کام ہوا ہے، اس موضوع کا انتخاب کیا تھااور چونکہ میں انگریزی کے علاوہ سنسکرت میں بھی شد بد رکھتا تھا، سنسکرت کاویہ شاستر کو کھنگالنے سے مجھے جو موتی ملے، انہیں میں نے بقدر ظرف اس مقالے میں استعمال کیا۔

 

یورپ میں تو جنگ عظیم کے ختم ہوتے ہوتے جدیدیت کی تحاریک شروع ہو چکی تھیں، لیکن ہمارے ہاں قدرے دیر سے پہنچیں۔
یہ درست ہے کہ جذباتی اور نفسیاتی کھینچا تانی سے ہمارے دل و دماغ میں جو ہلچل پیداہوتی ہے اگر اسے بڑھنے دیا جائے اور اس کا سدِباب نہ کیا جائے تو اس کا اخراج فساد، مار پیٹ، قتل اور خود کشی میں نمایاں ہو سکتا ہے۔ اس لیے اگر حیاتاتی اور نفسیاتی علوم کی مدد سے اس کو خارج کیا جا سکے تو ‘مریض’ اپنی نارمل حالت میں واپس آ سکتا ہے۔ یونانی اطباء کو بھی اس کا علم تھا، اس لیے جب ارسطو نے یہ کہا کہ ایک ٹریجڈی اسٹیج پر کھیلے گئے واقعات کی بنا پر تماشائیوں کے ایسے جذبات کو رحم اور خوف سے خارج کرنے میں معاون ثابت ہوتا ہے، اس لیے افلاطون کی ری پبلک میں جہاں دیگر پیشہ وروں کو مناسب جگہ اور رتبہ دیا گیا ہے، وہاں ڈرامہ نویسوں کو بھی دیاجانا ضروری ہے۔ یہاں تک تو طلبہ کو سمجھانا آسان تھا، لیکن میں نے اس مقالے میں مثالوں سے یہ واضح کیا کہ جب تک ہم عصری حوالوں سے، جن میں نسل، قومیت، مذہب اور رنگ کی بنیاد پر فسادات کا ایک لا اختتام سلسلہ جاری ہے، ان حالات کو ارسطو کے نظریے میں کچھ توسیع کر کے نہ بتائیں، ہم طلبہ کو نہیں سمجھا پائیں گے، کہ ارسطو کا نظریہ کس حد تک نا مکمل ہے۔ اسی طرح نصاب کی متنی تدریس سے تجاوز کر کے میں اپنے طلبہ سے جو باتیں کرتا تھا، (اور میں نے جس کے بارے میں اپنے مقالے میں تفصیل سے لکھا)، ان میں یہ باریک نکتہ بھی شامل تھا کہ حقیقت نگاری اور سماجی حقیت نگاری Realism & Social Realismمیں کیا فرق ہے۔ اوّل الذکر صدیوں سے قابل قبول اس چلن سے انحراف تھا جسے ہم رومانی اور تخیلی کہہ سکتے ہیں۔ لیکن روسی انقلاب سے کچھ قبل اور پھر اس کے بعد شد و مد سے موخر الذکر کا دور شروع ہوا جس میں مقصدیت اور مروجہ جمالیاتی اسلوب سے بغاوت تھی، یہاں تک کہ سیاسی اور سماجی تشکیل نو کے لیے بھی ادب کو آلۂ کار بنا لیا گیا۔ ترقی پسند مصنفین کی تگ و دو بھی دونوں ممالک، یعنی ہندوستان اور پاکستان میں اسی کے زیر اثر شروع ہوئی۔ ان برسوں میں عقیدہ، جاگیردارانہ تکلف، روحانی اقدار کی پابندی، بورژوا اخلاقیات کی بھرپور مخالفت کی گئی۔ پھر وہ دور آیا، جب روس کی دیکھا دیکھی ہماری زبانوں میں بھی ادیبوں اور قارئین، دونوں نے یہ محسوس کیا کہ وہ بھٹک گئے ہیں۔ یورپ میں تو جنگ عظیم کے ختم ہوتے ہوتے جدیدیت کی تحاریک شروع ہو چکی تھیں، لیکن ہمارے ہاں قدرے دیر سے پہنچیں۔ ہم لوگ بہت پیچھے تھے، یعنی جب بیسویں صدی کی تیسری دہائی میں ژاں پال سارترؔ کے وجودیت کے فلسفے کی بحث زوروں پر تھی ہم ابھی انجمن ترقی پسند مصنفین کی داغ بیل ڈال رہے تھے۔ جیمز جوائس کا ناول “یولیسیِس” انگلینڈ میں 1922ء میں چھپا جب کہ اردو والوں نے اس کے بارے میں بات چیت کرنا تیس چالیس برس بعد شروع کیا۔

 

سارترؔ کے فلسفۂ وجودیت کے حوالے سے یہ بات لکھنا ضروری ہے کہ کہیں کہیں اس میں ادبی روایات سے بغاوت کا چلن مختلف نہیں تھا، تہذیبی بیڑیوں کو کاٹنے کی بات اس میں بھی کہی جاتی تھی، بورژوا اخلاقیات اور مادیت سے بچ کر چلنے کی ہدایت اس میں بھی دی جاتی تھی۔جنسی موضوعات سے پردہ پوشی کی روایت سے انحراف اس میں بھی تھا، لیکن ہوا یہ کہ مایوسی، تکان، مستقبل کے بارے میں بد اعتمادی ، جہد لا حاصل جب ادبی موضوعات میں رواج پا گئے تو انسان کی افضل تریں حیثیت کے بارے میں “ڈی ٹراپ”de-trop یعنی بیکار، فضول کا نظریہ پنپنے لگا۔ اسلوب کی سطح پر علامت کے ابہام، استعارے کی ملفوفیت اور مدوریت کے اجزا در آئے اورشعری تخلیقات تو ایک معّمہ بن کر رہ گئیں۔

 

جہاں یورپ میں اشتراکی حقیقت پسندی کو بالائے طاق رکھ کر جدیدت کو اپنا لیا گیا تھا وہاں ہمارے ہاں یہ دونوں تحاریک کچھ برسوں تک ساتھ ساتھ چلتی رہیں
جہاں یورپ میں اشتراکی حقیقت پسندی کو بالائے طاق رکھ کر جدیدت کو اپنا لیا گیا تھا وہاں ہمارے ہاں یہ دونوں تحاریک کچھ برسوں تک ساتھ ساتھ چلتی رہیں، لیکن آخر روایت سے کلیتاً بغاو ت نہ کیے بغیر بھی جدیدیت کے اجزائے ترکیبی ہمارے ادب میں رواج پا گئے۔ حقیقت نگاری کے غیر جمالیاتی اور صحافتی اسلوب کی جگہ پر ما فوق الفطرت اور فطرت کی علامتوں سے مادی اور زمینی حقیقت کی ترجمانی رواج پا گئی۔ اردو ادب کے جزیروں میں ہی سہی، لیکن پاکستان میں کم اور ہندوستان میں زیادہ یہ امور دیکھنے میں آئے کہ de-familiarization یعنی غیر مانوسیت اور anachronism یعنی سہو زمانی کے طریق کار سے جمالیات اور معنویت کہ تہہ داری پیدا کی گئی۔ مجھے یہ کہنے میں تامل نہیں ہے، اور میں اسے hindsight سے دیکھ سکتا ہوں، (کیونکہ ان میں بیشتر قلمکار ذاتی سطح پر میرے واقف تھے!) کہ یہ لوگ غیر منطقی اور ابسرڈ absurd تحریریں ارادتاً لکھ رہے تھے۔ یورپ میں بھی سَرریئلسٹوں Surrealists کے بارے میں یہ بات اب غلط نہیں سمجھی جاتی کہ وہ گراف بنا کر، اسکیچ یا نقشہ بنا کر، اپنی تحریر کو خلط ملط کرنے اور متن کی “آنکھ ناک کان کو اس کے جسم کی کسی بھی جگہ پر ٹرانسپلانٹ کرنے” کی کوشش جان بوجھ کر کیا کرتے تھے۔ ان کی تحریروں میں جنس و جبلت بطور موضوع یا مضمون نہ بھی ہوں تو بھی ان کا ذکر برملا ہوتا تھا۔لیکن گفتگو میں یورپ کے معروف دانشوروں کا نام لینے تک ہی ان کیے مطالعہ کی سد سکندری تھی۔ اگر ان سے پوچھے جائے کہ ییک لاکاں، جس کا نام وہ لے رہے ہیں، کون سے ملک سے یا کس زبان سے یا کس دور سے تعلق رکھتا تھا، تو انہیں کچھ پتہ نہ تھا۔

 

اگر یہ کلید بھی دے دی جائے کہ اس نے نشاۃ ثانیہ Renaissance کی تحریک کو جدید دور اور قرون وسطی کی کڑی بتایا ہے تو بھی انہیں کوئی سراغ نہیں مل سکتا تھا۔ ایک بار میں نے ایسے ہی ایک گروپ میں سوئٹزرلینڈ کے مورخ جیکب برک ہارٹ Jacob Berchart کا ذکر کیا اور کہا کہ موجودہ جدیدیت سے بہت پہلے اس نے نشاۃ ثانیہ کی اصطلاح کے ساتھ ساتھ ان عوامل کی نشاندہی کر دی تھی جنہیں آج ہم جدیدیت کے بنیادی عناصر کے طور پر تسلیم کرتے ہیں۔ اور یہ تھے، فردیت کے نظریہ کا فن پر اطلاق، دنیا اور فرد کی باہمی کشمکش کی نئے سرے سے دریافت، فرد اور حکومت کے تعلق باہمی کا ادب سے اخراج۔۔ مجھے یہ دیکھ کر حیرت ہوئی کہ سب خاموش بیٹھے تھے۔ ان میں وہ بھی تھے جو بزعم خود اپنے آپ کو جدیدیت کے قائد کے بعداس کا سب سے بڑا ideologue سمجھتے تھے۔

 

تنقید نگاری کی تمام تر ہذیہ سرائی اور شغل اندوزی جس کا تعلق اسلوبیات اور ہیئت سے ہو، وہ نیم سائنسی درجہ بندی اور تصنیف یا تخلیق کے تجزیات، نباتیاتی سائینس کی فیشن زدگی کے ساتھ نقل کہلائے گی، جس میں ما سوا لفاظی اور طول بیانی کے اور کچھ نہیں
یہاں ضروری سمجھتا ہوں کہ یہ بات واضح طور پر کہوں کہ کمرہ جماعت میں پوسٹ گریجویٹ طلبہ کو پڑھاتے ہوئے ایک اچھا استاد نہ صرف ایک تنقید نگار کے کردار میں ڈھل جاتا ہے، بلکہ اضافی طور پر ایک مفسر اور ترسیل کے جملہ لوازمات سے واقف ایک مقرّر کا رول بھی ادا کرتا ہے۔ اس لحاظ سے اس کی ذمہ داری ایک تنقید نگار سے کہیں زیادہ ہے۔ مجھے بہت جلد اپنی اس ذمہ داری کا احساس ہوگیا تھا اور چہ آنکہ میں نے یہ محسوس کیا تھا، کہ اردو کے نقادوں کے علاوہ انگریزی کے”تدریسی نقاد” بھی technical parlance of literary criticismیعنی تنقید کی سکہ بند اور تکنیکی محاورہ بند زبان پر بھروسہ کرتے ہیں جسے عام قاری تو کیا وہ ادیب بھی نہیں سمجھ سکتے، جن کے بارے میں لکھا گیا ہے۔ ایک انگریزی نقاد نے صحیح کہا تھا کہ اگر ورجینیا وُولف اپنی قبر سے نکل کر اپنے ناولوں Mrs. Dalloway اور To the Lighthouse کے بارے میں لکھی ہوئی تنقید پڑھے تو وہ چاہے گی کہ اسے پھر قبر میں دفن کر دیا جائے۔ میں نے کمرۂ جماعت میں حتےٰ الوسع ما سوائے technical terms کو بلیک بورڈ پر لکھنے کے اپنے لیکچروں میں ہمیشہ وہ زبان استعمال کی جسے میرے طلبہ باآسانی سمجھ سکیں۔بقول شخصے “تنقید نگاری کی تمام تر ہذیہ سرائی اور شغل اندوزی جس کا تعلق اسلوبیات اور ہیئت سے ہو، وہ نیم سائنسی درجہ بندی اور تصنیف یا تخلیق کے تجزیات، نباتیاتی سائینس کی فیشن زدگی کے ساتھ نقل کہلائے گی، جس میں ما سوا لفاظی اور طول بیانی کے اور کچھ نہیں۔”
Categories
نان فکشن

تصوریت اور حقیقت

شروع جوانی سے ہی میری خواہش رہی کہ میں مطالعے میں سینئر کسی اہل قلم یا پروفیسرسے تصورّیت اور حقیقت نگاری (Idealism and Realism )پر یورپی ناول کے حوالے سے بات کروں۔ اس سنگلاخ زمیں یعنی یورپ (بالخصوص فرانس) میں حقیقت نگاری کی جڑیں تلاش کرنے کے لیے فطرت نگاری یعنی (Naturalism) کی شروعات کی تلاش ضروری تھی۔ قطع نظر اس بات کے کہ ترقی پسندوں کو اس اصطلاح یعنی نیچرل ازم سے بغضِ محض تھا، میں نے مطالعے کی عرق ریزی کے دنوں میں یہ محسوس کیا کہ دونوں ایک دوسرے کی ضد نہ ہو کر ابتدا اور انتہا کی بہم دگر کشش ثقل کی سی کیفیت میں گھومتی ہیں۔ ایک دوسرے سے پیوست بھی نہیں ہو سکتیں اور ایک دوسرے کے مدار میں ہونے کی وجہ سے دور بھی نہیں جا سکتیں۔ ایک جانب تو نیچرل ازم حقیقت نگاری کی وہ جہت ہے جو عام آدمی کی روز مرہ کی زندگی کے ان پہلوؤں کو پیش کرتی ہے، جو مذہب یا اخلاقیات کے زیر اثر پہلے منصۂ شہود پر نہیں آئے۔ عقلی ثبوتیت یا منطقی شہادت اگر ایک منظر نامے اور اس میں جڑے ہوئے کرداروں اور ان کے کام کاج، گفتگو اور رسم و رواج کو صحیح تصور کرتی ہے تو روحانی یا مذہبی تقاضوں کو رد کیا جا سکتا ہے۔ فرانس میں گون کور (دو بھائی)، فلابیئرؔ، ایمل زولاؔ اور گائی دی موپاساںؔ کو سامنے رکھیں تو یہ بات پایہ ثبوت تک پہنچ جاتی ہے کہ حقیقت نگاری اور فطرت نگاری کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔

 

نیچرل ازم حقیقت نگاری کی وہ جہت ہے جو عام آدمی کی روز مرہ کی زندگی کے ان پہلوؤں کو پیش کرتی ہے، جو مذہب یا اخلاقیات کے زیر اثر پہلے منصۂ شہود پر نہیں آئے۔
ایک اور جہت جس پر میں کسی سے بات کرنے کے لیے موقع ہی تلاش کر رہا تھا وہ ادب میں فطرت نگاری اور پلاسٹک آرٹس، خصوصی طور پر پینٹنگ میں Impressionism کا فرانس میں بیک وقت ظہور پذیر ہونا تھا۔ ایمل زولا کا یار غار اور پینے پلانے والا دوست سیزانؔ Cezanne نہ صرف اس کا محرک تھا، بلکہ نظریہ ساز بھی تھا۔ اس نے کہا، “زندگی کی صحیح صورت تبھی پیش کی جا سکتی ہے جب کہ اس کی خوبصورتی کے ساتھ ساتھ اس کی بدصورتی کو بھی پیش کیا جائے۔ میں نے کچھ مناظر میں بھدّے اور کھردرے رنگ اسی لیے استعمال کیے ہیں کہ روز مرہ کی زندگی کی ہو بہو نقاشی کی جائے۔” اس کا اسٹائل یہ تھا کہ رنگوں کو باریکی اور نفاست سے کینوس پر استعمال کرنے کے بجائے ان کے انبار بکھرا دیے جائیں اور ان کی جیومیٹری کو اس طرح ترتیب دیا جائے کہ ان پر پڑتی ہوئی روشنی ان کو مدھم کرنے کے بجائے زیادہ اجاگر کرے۔

 

ایمل زولاؔ اور گون کور بھائیوں کے ہاں کردار اور واقعات نگاری میں بھی یہی طریقِ کار ہے۔ صرف معمولی سا فرق ہے، جو مجھے دکھائی دیا، شاید دیگر فرانسیسی نقادوں نے بھی اس کا ذکر کیا ہو لیکن یہ میری دسترس سے باہر تھا کہ میں ان کو پڑھ سکتا۔ فرق صرف یہ تھا کہ گون کور بھائی کرداروں کو واقعات پر ترجیح دیتے ہوئے بھی انہیں آس پاس کے ماحول کو تابع رکھنے کا ہنر جانتے تھے اور ایک مضمون میں جو اٹلی کے گنتھرمارتوؔ نے لکھا تھا، ان کو اس بات کا کریڈٹ بھی دیا گیا تھا کہ وہ سمجھتے تھے کہ سب لکھنے والے پہلے اس ماحول سے کماحقہ واقفیت حاصل کر لیں جس میں وہ اپنے کرداروں کو ’پھنسانا‘ چاہتے ہیں۔ (انگریزی میں یہ لفظ entangled تھا)۔

 

گون کور بھائی کرداروں کو واقعات پر ترجیح دیتے ہوئے بھی انہیں آس پاس کے ماحول کو تابع رکھنے کا ہنر جانتے تھے
اس بات کا ذکر کرتے ہوئے بھی میں خود کوئی شرم نہیں محسوس کر رہا کہ میں نے بھی کون کورؔ صاحبان کی طرز پر اپنی character-oriented کہانیوں میں اس طریق کار کو اپنایا ہے اور اس میں خاطر خواہ کامیابی حاصل کی ہے۔ دوسری طرف زولاؔ کا طریقِ کارمجھے مختلف دکھائی دیا۔ اس کے بارے میں تحریر کردہ دو مضامین (جو انسائکلو پیڈیا بریٹانِکا کے1956ء ایڈیشن میں مجھے نظر آئے) ایک نقاد نے لکھا ہے کہ زولاؔ کے خیال میں ایک کہانی یا ناول کو لیباریٹری کے تجربے کی طرح ہونا چاہیے، یعنی اگر ہم ایک کردار کا انتخاب کر رہے ہیں اور ہم نے اسے ایک کاریگر، مزدور یا جسمانی مشقت کا کام کرنے والا دکھانا ہے، تو پہلے اس کی لیباریٹری میں استعمال کیے جانے والے کیمیکل اجزاء کی طرح اس کی عمر، جسامت، حجم، بولنے کے انداز کا تعین کر لیں اور تب اسے کاغذ کی سطح پر اتاریں۔ آج کل ہم اسے Type-characterکا نام دیتے ہیں، لیکن زولا کے وقتوں میں یہ اصطلاح عام نہیں تھی۔ مجھے اس طرز سے اختلاف تھا کیونکہ اس میکانکی طریقے سے ہم اپنے کرداروں میں individualistic خصوصیات پیدا نہیں کر سکتے۔ ہر کردار پہلے ایک فرد ہے اور بعد میں ایک جماعت۔

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

مجھے یاد ہے کہ ایک بار دہلی میں میرے ساتھ میرے پرانے دوست رام لالؔ، ہیرا نند سوز اور ہرچرن چاولہ تھے، اس میں فلابیئرؔ کا ناول “مادام بوواری”، اسی مصنف کا ایک اور ناول (جو انڈیا میں بہت کم پڑھا گیا ہے) “سلامبوو”، اور زولاؔ کے علاوہ گون کورؔ بھائیوں کے ناول اور گائی دی موپاساںؔ کے افسانوں پر دو تین گھنٹوں تک بحث ہوئی۔ جب یہ مسئلہ زیر بحث آیا۔ مقابلتاً میرے تینوں احباب کا مطالعہ بہت کم تھا اور کافی لے دے کے بعد، ہیرا نند سوز کو چھوڑ کر باقی کے دونوں دوست میرے ساتھ اس بات پر ایمان لے آئے کہ ستیہ پال آنند کی بات صحیح ہے۔ سوزؔ کا نکتۂ ارتکاز یہ تھا کہ یہ بات ترقی پسند نظریے کے منافی ہے، یعنی آپ ایک اچھے کارکن کو ہڑتالی مزدور کے طور پر کارخانے کو آگ لگاتے ہوئے تو دکھا سکتے ہیں، لیکن کارخانے کے مالک کے بیٹے یا بیٹی کو اغوا کرتا ہوا نہیں دکھا سکتے۔ جب کہ ہم تینوں اس سے متفق نہیں تھے۔

 

جب تک اردو شاعری غزل سے دامن چھڑا کر نظم کی طرف متوجہ نہیں ہوتی، اس بات کا کوئی تدارک نہیں ہے کہ اس میں وہ خصوصیات پیدا ہو سکیں جس سے یہ یورپی ادب کے شانہ بشانہ کھڑی ہو سکے۔
افسانہ نویسی کے دنوں میں رات رات بھر بیٹھ کر ان مسلمہ اصول اور قاعدوں پر سوچتا تھا جن کے بارے میں انیسویں صدی کے شروع میں ہی یورپ میں بحث و مباحثے، تکرار و مناظرہ کا سلسلہ شروع ہو چکا تھا۔ اردو میں ابھی ان باتوں کا چلن شاید کچھ جامعات میں ہوا ہو لیکن سیمیناروں اور کانفرنسوں میں (ترقی پسند تحریک کا بھلا ہو!) صرف ادبی سیاست ہی دکھائی دیتی تھی۔ مثال کے طور پر 1957ء میں میرا ایک مضمون کراچی کے ایک جریدے میں شائع ہوا جس میں بر اعظم یورپ میں اظہاریت Expressionism کی تحریک کی اطالوی شروعات کے بارے میں لوئی پیرانڈیلو Louise Pirandelloکے حوالے سے میں نے imagism یعنی ’تصویریت‘ کے بارے میں اردو غزل کی بے مائیگی کا ذکر کیا تھا اور کہا تھا کہ جب تک اردو شاعری غزل سے دامن چھڑا کر نظم کی طرف متوجہ نہیں ہوتی، اس بات کا کوئی تدارک نہیں ہے کہ اس میں وہ خصوصیات پیدا ہو سکیں جس سے یہ یورپی ادب کے شانہ بشانہ کھڑی ہو سکے۔

 

اسی رسالے کے دوسرے شمارے میں کراچی کے ہی ایک بزرگوار نے میرے مضمون کے حوالے سے مجھے لتاڑا کہ میں، یعنی ایک ’مبتدی‘ جو غیر مسلم بھی ہے، اس لیے اردو شاعری کو نقصان پہنچا رہا ہے کیونکہ وہ ہندی میں بھی لکھتا ہے اور اردو کی شاخ نازک پر یورپی شاعری کا پیوند لگا کر اس کا ستیا ناس کرنا چاہتا ہے۔ بعینہ یہی بات برسوں بعد، یعنی گذشتہ صدی کی اسی کی دہائی میں میرے ساتھ دہلی میں پیش آئی۔ انجمن ترقی اردو کے ایک مناظرے میں بر سبیل تذکرہ میں نے یورپ کی کچھ تحاریک کا ذکر کیا کہ کیسے انیسویں صدی میں ہی اظہاریت کے بعد اثریت Impressionism اور ما بعد اثریت Post Impressionism یا مستقبلیت Futurism اور تصویریت Imagism نے مختلف اصناف سخن کو نئی جہات سے روشناس کروایا، تو جناب خلیق انجمؔ، جو انجمن کے روح رواں تھے، مجھے آڑے ہاتھوں لیا اور کہا، (ان کے الفاظ میرے دل پر نقش ہیں، کیونکہ اس سے زیادہ غیرذّمہ دارانہ اور غیر مہذب کامینٹ میں نے پہلے کسی ذمہ دار شخص سے نہیں سنا تھا !) ، “ڈاکٹر آنند کا بس چلے تو یہ اردو شاعری کو ایک “سی ڈی” میں بند کر کے کمپیوٹر میں ڈال دیں، کچھ بٹن دبائیں اور جب کمپیوٹر سے یہ طلسمی سی ڈی واپس نکلے تو میر اور غالب کی شاعری کو مسخ کرنے کے بعد یہ یورپی شاعری بن چکی ہو۔”

Image: Girl before a mirror by Picasso

Categories
شاعری

دونوں جہان دے کے وہ سمجھے یہ خوش رہا

[blockquote style=”3″]

Virtual Textual Practical Criticism “قاری اساس تنقید” کی مجموعی تھیوری کے تحت وہ طریقِ کار ہے، جس میں طلبہ کو یہ تربیت دی جاتی ہے کہ کسی نظم یا نظمیہ فارمیٹ کے متن پر عملی تنقید کیسے لکھی جائے۔ اس کے لیے شاعر کے نام کا علم ہونا ضروری نہیں ہے۔ (اگر ہو تو کوئی مضائقہ نہیں ہے، لیکن اس کے نجی حالات، سیاسی یا مذہبی خیالات، ہم عصر شاعری کی نہج یا ہم عصر شعرا کا تتبع یا مخالفت وغیرہم کو کلیتاً نظر انداز کر دیا جانا ضروری ہے، گویا کہ آپ کو علم ہی نہیں ہے کہ یہ نظم کس شاعر کی ہے)۔صرف سامنے رکھے ہوئے متن پر ہی انحصار کرنے کے لیے یہ طریق ِ کار اختیار کیا جائے۔ متن میں مشمولہ تمام Proper and Common Nouns اسماء کے ہم معنی الفاظ، یعنی homonyms یا ان کے متبادل الفاظ کی فہرست تیار کر لی جائے۔ اب ہر اس اسم (اسم، اسم ِ ضمیر، اسم معرفہ، نکرہ، آلہ، تصغیر، تکبیر، وغیرہ) کے سامنے بنائی گئی فہرست کے ہر ایک لفظ کو استعمال کیے گئے لفظ کی جگہ پر رکھ کر دیکھا جائے کہ کون سا لفظ شاعر کی منشا یا مطلب کو براہ راست یا استعارہ یا علامت کے طور پر زیادہ واضح طور پر پیش کر سکتا ہے۔ اب تنقید لکھتے ہوئے ان الفاظ کو زیر ِ بحث لایا جائے اور آخری پیرا گراف میں اپنی findings تفصیل سے لکھی جائیں۔ اس طریق کار کے تحت تنقید کا مضمون یورپ اور امریکہ میں پڑھایا جا رہا۔ یہ منظوم سلسلہ “خامہ بدست غالب” غالب کے کلام کو Virtual Textual Practical Criticism کے تحت سمجھنے کی ایک کوشش ہے۔ ستیہ پال آنند

[/blockquote]

اس سلسلے کی مزید نظمیں پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔
شعر

 

دونوں جہان دے کے وہ سمجھے یہ خوش رہا
یاں آ پڑی یہ شرم کہ تکرار کیا کریں

 

نظم

 

’دونوں جہان‘ کیا ہیں؟ یہاں کے کہ وہاں کے؟
دنیا و مافیہا ہیں کہ محسوس و لا محسوس؟
فطری ہیں کہ خاکی ہیں؟ کہ ایتھر (ether) ہیں کہ صوری؟

 

کیا زیرِ فلک سمک ہے یعنی کوئی پاتال؟
یہ ’دونوں جہاں‘ ہیں بھی کہاں؟ دیکھنا یہ ہے
شاعر کے تصّور میں کہیں
ان کا مکاں اور زماں
حاضر و موجود بھی
اور مخفی و پنہاں بھی ہے اس اپنے جہاں سے؟

 

‘سمجھے’ سے کیا مقصود ہے؟
اک صاف، سیدھی بات؟
یا صرف ’شُبہ‘؟ صرف ’تاثر‘؟
’وہ‘ کون ہے جو ’جمع‘ کے صیغے میں ہے مرقوم؟
کیا ایک ہے؟
یا ایک سے زائد ہے وہ موصوف؟
(اللہ! مجھے بخش!)
غالب تو سخنور ہے، سمجھتا ہے سخن میں
(خالق کے لیے ’جمع‘ کا صیغہ نہیں ہوتا!)
شاید سمجھنے سے ہی کھلے ’سمجھے‘ کا عقدہ!
دہلی کے گلی کوچوں کی ’ٹکسالی‘ زباں میں
”وہ سمجھے ہے“ شاید ہو یہ جملے کا مخفف
اک گردشِ معکوس ہے ”سمجھے“ کی حقیقت !
کیا واقعی یہ صیغہ واحد میں ہے، اللہ!
“گنجینہِ معنی کا طلسم اس کو سمجھیے
جو لفظ کہ غالب مرے اشعار میں آوے!”

 

اب آئیں، ذرا دیکھ لیں دو سادہ سے الفاظ
جانچیں تو ذرا ”شرم“ یا ”تکرار“ کی قیمت!

 

شاعر کہ اک مسکین طبع شخص تھا اور بس
تھا عجز کی اک مورتی یہ بے ریا انسان
یا ضبط و متانت کی تھا تفسیر سرا سر
اللہ سے خیرات کا طالب یہ بھکاری
اس وقت تو خاموش رہا، سِمٹا ہوا سا
ہاں چار عناصر کا دھڑکتا ہوا یہ بُت
اللہ کا ہی روپ تھا یہ بھولتا کیسے!

 

وہ چاہتا تو اپنا سرِ عجز جھکاتا
پھر سجدے میں گرتا
تعظیم سے پھر کہتا، “یہ کافی نہیں، مولا
دونوں جہاں؟ ہاں، مگر یہ خاک بصری تو
مجھ آدمِ خاکی کے لیے کچھ بھی نہیں ہے
کچھ ”نور“ کا عنصر بھی مجھے دیں، مرے معبود!”

 

لیکن ادائے خاص ہے اک دیکھنے کی چیز
کہتا ہے ذرا جھینپ کر اک صوفیانہ بات
“یاں آ پڑی یہ شرم کہ تکرار کیا کریں!”

 

(اس نظم میں دو بحور کا اشتراک و اشتمال روا رکھا گیا)
Categories
شاعری

عالم تمام حلقۂ دام ِ خیال ہے

[blockquote style=”3″]

Virtual Textual Practical Criticism “قاری اساس تنقید” کی مجموعی تھیوری کے تحت وہ طریقِ کار ہے، جس میں طلبہ کو یہ تربیت دی جاتی ہے کہ کسی نظم یا نظمیہ فارمیٹ کے متن پر عملی تنقید کیسے لکھی جائے۔ اس کے لیے شاعر کے نام کا علم ہونا ضروری نہیں ہے۔ (اگر ہو تو کوئی مضائقہ نہیں ہے، لیکن اس کے نجی حالات، سیاسی یا مذہبی خیالات، ہم عصر شاعری کی نہج یا ہم عصر شعرا کا تتبع یا مخالفت وغیرہم کو کلیتاً نظر انداز کر دیا جانا ضروری ہے، گویا کہ آپ کو علم ہی نہیں ہے کہ یہ نظم کس شاعر کی ہے)۔صرف سامنے رکھے ہوئے متن پر ہی انحصار کرنے کے لیے یہ طریق ِ کار اختیار کیا جائے۔ متن میں مشمولہ تمام Proper and Common Nouns اسماء کے ہم معنی الفاظ، یعنی homonyms یا ان کے متبادل الفاظ کی فہرست تیار کر لی جائے۔ اب ہر اس اسم (اسم، اسم ِ ضمیر، اسم معرفہ، نکرہ، آلہ، تصغیر، تکبیر، وغیرہ) کے سامنے بنائی گئی فہرست کے ہر ایک لفظ کو استعمال کیے گئے لفظ کی جگہ پر رکھ کر دیکھا جائے کہ کون سا لفظ شاعر کی منشا یا مطلب کو براہ راست یا استعارہ یا علامت کے طور پر زیادہ واضح طور پر پیش کر سکتا ہے۔ اب تنقید لکھتے ہوئے ان الفاظ کو زیر ِ بحث لایا جائے اور آخری پیرا گراف میں اپنی findings تفصیل سے لکھی جائیں۔ اس طریق کار کے تحت تنقید کا مضمون یورپ اور امریکہ میں پڑھایا جا رہا۔ یہ منظوم سلسلہ “خامہ بدست غالب” غالب کے کلام کو Virtual Textual Practical Criticism کے تحت سمجھنے کی ایک کوشش ہے۔ ستیہ پال آنند

[/blockquote]

غالب کے اشعار پر ستیہ پال آنند کی نظموں پر مشتمل سلسلے ‘خامہ بدست غالب‘ میں شامل مزید نظمیں پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

مصرع

 

عالم تمام حلقہ ٔ دام ِ خیال ہے

 

(اس نظم میں دو بحور کا امتزاج روا رکھا گیا)

 

الفاظ کی فہرست

 

عالم تمام: مافیہا، آفاق، کائنات؟
عالم تمام: تارکا منڈل، نظام ِ شمس؟
عالم تمام: روئے زمیں، زیرِ زمیں، سمک
عالم تمام: فوٹو اسفیّر (Photo sphere ) کرومو زون (chromo zone)
دامِ خیال : کشف و گماں کا فن و فریب
دامِ خیال: خود سے پخت و پزکا چھل کپٹ
دامِ خیال : فکر ِفی نفسہ کا زاد بوم
دامِ خیال : فہم کا اک خوابِ تہی مغز

 

نظم

 

اس گنجلک دماغ میں غالب میاں کہو
کیسا یہ انصرام ہے، کیسا یہ انضباط
کیسی ہے با قرینہ، مرتب یہ تبعیت؟

 

مانا کہ ذہن غیر معروضی ہے اک مقام
مانا کہ اس کی عیینت ہے عالم مثال
مانا کہ ایسٹَرل (Easterl) ہے وہ ایتھرک (Etheric)نظام
جس میں جہان اکبر و اصغر بھی ہیں مقیم
لیکن میاں ، یہ فلکِ اثیر ایٹموں کی اصل
اور آدمی کا ذہن فقط اثریت کا دام
شعری غلو سے بڑھ کے نہیں ہے یہ انضمام !
Categories
شاعری

آتش و آب و باد و خاک نے لی

[blockquote style=”3″]

Virtual Textual Practical Criticism “قاری اساس تنقید” کی مجموعی تھیوری کے تحت وہ طریقِ کار ہے، جس میں طلبہ کو یہ تربیت دی جاتی ہے کہ کسی نظم یا نظمیہ فارمیٹ کے متن پر عملی تنقید کیسے لکھی جائے۔ اس کے لیے شاعر کے نام کا علم ہونا ضروری نہیں ہے۔ (اگر ہو تو کوئی مضائقہ نہیں ہے، لیکن اس کے نجی حالات، سیاسی یا مذہبی خیالات، ہم عصر شاعری کی نہج یا ہم عصر شعرا کا تتبع یا مخالفت وغیرہم کو کلیتاً نظر انداز کر دیا جانا ضروری ہے، گویا کہ آپ کو علم ہی نہیں ہے کہ یہ نظم کس شاعر کی ہے)۔صرف سامنے رکھے ہوئے متن پر ہی انحصار کرنے کے لیے یہ طریق ِ کار اختیار کیا جائے۔ متن میں مشمولہ تمام Proper and Common Nouns اسماء کے ہم معنی الفاظ، یعنی homonyms یا ان کے متبادل الفاظ کی فہرست تیار کر لی جائے۔ اب ہر اس اسم (اسم، اسم ِ ضمیر، اسم معرفہ، نکرہ، آلہ، تصغیر، تکبیر، وغیرہ) کے سامنے بنائی گئی فہرست کے ہر ایک لفظ کو استعمال کیے گئے لفظ کی جگہ پر رکھ کر دیکھا جائے کہ کون سا لفظ شاعر کی منشا یا مطلب کو براہ راست یا استعارہ یا علامت کے طور پر زیادہ واضح طور پر پیش کر سکتا ہے۔ اب تنقید لکھتے ہوئے ان الفاظ کو زیر ِ بحث لایا جائے اور آخری پیرا گراف میں اپنی findings تفصیل سے لکھی جائیں۔ اس طریق کار کے تحت تنقید کا مضمون یورپ اور امریکہ میں پڑھایا جا رہا۔ یہ منظوم سلسلہ “خامہ بدست غالب” غالب کے کلام کو Virtual Textual Practical Criticism کے تحت سمجھنے کی ایک کوشش ہے۔ ستیہ پال آنند

[/blockquote]

غالب کے اشعار پر ستیہ پال آنند کی نظموں پر مشتل سلسلے ‘خامہ بدست غالب‘ میں شامل مزید نظمیں پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

شعر
آتش و آب و باد و خاک نے لی
وضعِ سوز و نم و رم و آرام
نظم
آتش و آب و باد و خاک ہیں کیا؟
جسمیت، مادیت، خس و خاشاک
ما وطِین و طبیعیاتِ ِ زمیں
عنصری، چار دانگِ عالم میں
غیر شخصی زمین و کون و مکاں
ثقل ہویا سبک، کثیف و لطیف
اپنی بنیادمیں ہیں چار فقط!
اثریت کا نہیں کوئی بھی وجود
صرف اجزائے دیمقراطیسی
“آرکی ٹائپ” ہیں سبھی اجزاء
آتش و آب و باد و خاک سمیت
اِس جگہ، اُس جگہ، یہاں اور وہاں!

 

آب ‘نم’، باد ‘رم’، و آتش ‘سوز’
خاک چسپیدہ ، ٹھس، فقط ‘آرام’
ہاں، مگر غالب حزیں کے لیے
جذبہ و جوش کے ظوا ہر تو
رنج، دکھ، درد کی علامتیں ہیں
آب، آنسو ہیں، جلتے تپتے ہوئے(1)
آب شبنم ہے، لمحہ بھر کی حیات(2)
خاک سے کیا ہوا کا رشتہ ہے
جانئے گا تو رویئے گا، جناب ۔۔۔
‘سوز’ اور ‘رم’ سے ہے یہی مقصود! (3)
‘آب’، ‘آتش’، ‘ہوا’ سے خاک تلک
ہے سبک گام زندگی ہر دم (4) (5)
“ہے ازل سے روانی ءِ آغاز
ہو ابد تک رسائیٔ انجام”!

 

حوالے کے اشعار
1۔ آتش پرست کہتے ہیں اہلِ جہاں مجھے
سر گرمِ نالہ ہائے شرر بار دیکھ کر
2۔ پرتوِ خور سے ہے شبنم کو فنا کی تعلیم
میں بھی ہوں ایک عنایت کی نظر ہونے تک
3۔ مگر غبار ہوئے پر ہوا اُڑا لے جائے
وگرنہ تاب و تواں بال و پر میں خاک نہیں
4۔ ضعف سے گریہ مبدّل بہ دمِ سرد ہوا
باور آیا ہمیں پانی کا ہوا ہو جانا
5۔ہے مجھے ابرِ بہاری کا برس کر کھُلنا
روتے روتے غمِ فرقت میں فنا ہو جانا
Categories
شاعری

ھل من ناصرًا ینصرنا

[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

ھل من ناصرًا ینصرنا
ایک دعائیہ نظم

[/vc_column_text][vc_column_text]

میں نہیں چاہتا ٹوٹنا پھوٹنا
میرا ڈھانچہ تو اس چکنی مٹّی کا ہے
جو مرا کوزہ گر گوندھ کر مجھ کو
اک ظاہری وضع،اک شخصیت دے گیا
عضو بندی مری شیشہ وش ہے، اسے
ٹوٹنے سے بچائے گا اب کون، اے کوزہ گر؟

 

میرے چاروں طرف حملہ آور عدو ہیں ہتھوڑے اٹھائے ہوئے
مفسدوں، حاسدوں کے گروہوں کا بس ایک ہی عزم ہے
مجھ کو توڑیں، مجھے ریزہ ریزہ کریں
جان سے مار دیں

 

کوزہ گر، تو نے جب
مجھ کو تشکیل دی تھی تو اتنا تو کرتا
مجھے اک مبارز بناتا
مرے ہاتھ میں ایک تلوار دیتا
کہ اپنی حفاظت مرا کام ہوتا
مگر میں نہتّا، اکیلا کھڑا دیکھتا ہوں
عدو چاروں جانب سے یلغار کرتے ہوئے آ رہے ہیں

 

میں نہیں چاہتا ٹوٹنا پھوٹنا، میرے مولا، مرے کوزہ گر

[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]

Categories
نان فکشن

عارف ہمیشہ مستِ مئے ذات چاہیے

[blockquote style=”3″]

Virtual Textual Practical Criticism “قاری اساس تنقید” کی مجموعی تھیوری کے تحت وہ طریقِ کار ہے، جس میں طلبہ کو یہ تربیت دی جاتی ہے کہ کسی نظم یا نظمیہ فارمیٹ کے متن پر عملی تنقید کیسے لکھی جائے۔ اس کے لیے شاعر کے نام کا علم ہونا ضروری نہیں ہے۔ (اگر ہو تو کوئی مضائقہ نہیں ہے، لیکن اس کے نجی حالات، سیاسی یا مذہبی خیالات، ہم عصر شاعری کی نہج یا ہم عصر شعرا کا تتبع یا مخالفت وغیرہم کو کلیتاً نظر انداز کر دیا جانا ضروری ہے، گویا کہ آپ کو علم ہی نہیں ہے کہ یہ نظم کس شاعر کی ہے)۔صرف سامنے رکھے ہوئے متن پر ہی انحصار کرنے کے لیے یہ طریق ِ کار اختیار کیا جائے۔ متن میں مشمولہ تمام Proper and Common Nouns اسماء کے ہم معنی الفاظ، یعنی homonyms یا ان کے متبادل الفاظ کی فہرست تیار کر لی جائے۔ اب ہر اس اسم (اسم، اسم ِ ضمیر، اسم معرفہ، نکرہ، آلہ، تصغیر، تکبیر، وغیرہ) کے سامنے بنائی گئی فہرست کے ہر ایک لفظ کو استعمال کیے گئے لفظ کی جگہ پر رکھ کر دیکھا جائے کہ کون سا لفظ شاعر کی منشا یا مطلب کو براہ راست یا استعارہ یا علامت کے طور پر زیادہ واضح طور پر پیش کر سکتا ہے۔ اب تنقید لکھتے ہوئے ان الفاظ کو زیر ِ بحث لایا جائے اور آخری پیرا گراف میں اپنی findings تفصیل سے لکھی جائیں۔ اس طریق کار کے تحت تنقید کا مضمون یورپ اور امریکہ میں پڑھایا جا رہا۔ یہ منظوم سلسلہ “خامہ بدست غالب” غالب کے کلام کو Virtual Textual Practical Criticism کے تحت سمجھنے کی ایک کوشش ہے۔ ستیہ پال آنند

[/blockquote]

غالب کے اشعار پر ستیہ پال آنند کی نظموں پر مشتل سلسلے ‘خامہ بدست غالب‘ میں شامل مزید نظمیں پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

شعر
یعنی بہ حسبِ گردش ِ پیمانہ صفات
عارف ہمیشہ مستِ مئے ذات چاہیے
(اس شعر میں بطور تجربہ دو بحور کا امتزاج روا رکھا گیا)

 

الفاظ کی فہرست
‘عارف’ یعنی پہچاننے والا، خدا شناس یعنی نماز و سجدہ و تمجید کا غلام
یعنی حکیمِِ مطلق و دانا و خردمند
یعنی کہ بودھ اور بصیرت کا اک فریس
یعنی متین و حاذق وآگاہ شاستری
یہ محترم بھی “مست مئے ذات چاہیے”
وہ بھی اِنہی “صفات” کے پیمانے کے طفیل؟
پیمانہ یعنی جام ساغر و مینا، ظروفِ مے
“گردش” کے استعمال سے شاید درست ہو
لیکن “صفات” کے لیے؟
جی ہاں، اک ایسا آلۂ میزان جو ہمیں
توفیق دے کہ ہم
مقیاسِ عقل و فہم سے تفریق کر سکیں
“عارف” کے سب کوائف و احوال جان کر
اس کی علیہیات کو، سیرت کو، نام کو
کچھ ماپ سکیں، تول سکیں،بحث کرسکیں
“عارف” کی کیا صفات ہیں؟ یہ جان چکے ہیں
پیمانہ کیا ہے، یہ بھی ہم پہچان چکے ہیں
اب دیکھیں “مئے ذات” بھی کیا چیزے دگر ہے
کیسا ہے یہ مشروب جو خود میں ہے منفرد
جس کے حصول سے یہ موصوف ہمیشہ
خوش باش و خوش آینداور سر ‘مست’ رہے گا؟

 

نظم
ہاں، “ذات” ذاتِ باری و عالی و ذوالجلال
ہاں، “ذات” امتیاز، تخصص، انا۔۔۔ نشان
شاید یہ دونوں۔۔
یا کوئی موزوں سا امتزاج
دونوں کا، یعنی
ذاتِ شریفِ عارف و ‘شر’ آب خوار بھی
“عارف”قبول
“مست مئے ذات” بھی قبول
لیکن “ہمیشہ”؟۔۔۔ مستقل؟ تا زیست؟ آٹھوں پہر؟
یہ لفظ تو شرمندہ ٔ تعبیر رہے گا
Categories
شاعری

بس کہ دشوار ہے ہر کام کا آساں ہونا

[blockquote style=”3″]

Virtual Textual Practical Criticism “قاری اساس تنقید” کی مجموعی تھیوری کے تحت وہ طریقِ کار ہے، جس میں طلبہ کو یہ تربیت دی جاتی ہے کہ کسی نظم یا نظمیہ فارمیٹ کے متن پر عملی تنقید کیسے لکھی جائے۔ اس کے لیے شاعر کے نام کا علم ہونا ضروری نہیں ہے۔ (اگر ہو تو کوئی مضائقہ نہیں ہے، لیکن اس کے نجی حالات، سیاسی یا مذہبی خیالات، ہم عصر شاعری کی نہج یا ہم عصر شعرا کا تتبع یا مخالفت وغیرہم کو کلیتاً نظر انداز کر دیا جانا ضروری ہے، گویا کہ آپ کو علم ہی نہیں ہے کہ یہ نظم کس شاعر کی ہے)۔صرف سامنے رکھے ہوئے متن پر ہی انحصار کرنے کے لیے یہ طریق ِ کار اختیار کیا جائے۔ متن میں مشمولہ تمام Proper and Common Nouns اسماء کے ہم معنی الفاظ، یعنی homonyms یا ان کے متبادل الفاظ کی فہرست تیار کر لی جائے۔ اب ہر اس اسم (اسم، اسم ِ ضمیر، اسم معرفہ، نکرہ، آلہ، تصغیر، تکبیر، وغیرہ) کے سامنے بنائی گئی فہرست کے ہر ایک لفظ کو استعمال کیے گئے لفظ کی جگہ پر رکھ کر دیکھا جائے کہ کون سا لفظ شاعر کی منشا یا مطلب کو براہ راست یا استعارہ یا علامت کے طور پر زیادہ واضح طور پر پیش کر سکتا ہے۔ اب تنقید لکھتے ہوئے ان الفاظ کو زیر ِ بحث لایا جائے اور آخری پیرا گراف میں اپنی findings تفصیل سے لکھی جائیں۔ اس طریق کار کے تحت تنقید کا مضمون یورپ اور امریکہ میں پڑھایا جا رہا۔ یہ منظوم سلسلہ “خامہ بدست غالب” غالب کے کلام کو Virtual Textual Practical Criticism کے تحت سمجھنے کی ایک کوشش ہے۔ ستیہ پال آنند

[/blockquote]

غالب کے اشعار پر ستیہ پال آنند کی نظموں پر مشتل سلسلے ‘خامہ بدست غالب‘ میں شامل مزید نظمیں پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

شعر
بس کہ دشوار ہے ہر کام کا آساں ہونا
آدمی کو بھی میسّر نہیں انساں ہونا
الفاظ کی فہرست
‘بس کہ’ یعنی’ کہ عیاں ہے یہ بات’
‘کام’ یعنی کہ’ کوئی کارِ حیات’
کاروائی کوئی، کارگزاری کوئی فعل
اس کی تکمیل، نیابت نہیں ’آساں‘، یعنی
کوئی بھی کام ہو، ’دشوار‘ سدا ہوتا ہے
نظم
یہ اگر طے ہے کہ ہر کام بہت مشکل ہے
پوچھیں خود سے کہ بھلا کیسے کوئی آدم زاد
اپنا اعصاب زدہ خاکہ بدل سکتا ہے
ایک حیوان جو ‘ناطق’ تو ہے، لیکن پھر بھی
‘جیِنز’ میں اپنے وہی علم الابدن رکھتا ہے
جسے ہم عالمِ ناسوت کے اس بخرے میں
‘چلتی پھرتی ہوئی مخلوق’ کہا کرتے ہیں
جسم و خوں، گوشت، تنفس وہی، تجسیم وہی
وہی راحت، وہی تکلیف، وہی سُکھ، وہی دُکھ
تپ وہی، یخ وہی، مرطوب وہی، خشک وہی
فرق، ہاں، ہے تو سہی، سمجھیں تو۔۔۔۔
“آدمی کو بھی میّسر نہیں انساں ہونا”!

 

اِنس کیا ہے؟ فقط ہم وضعی؟
ذات یا شکل میں ملحق ہونا
نسلِ آد م کا ہی نطفہ ہونا؟
جی نہیں۔۔۔۔
“اِنس”، انسان کا وہ خاص توافق ہے، کہ جو
نسلِ آدم کو ہی ’انسب‘ میں بدل دیتا ہے
بہتری، شستگی، تہذیب، ثقافت جس کے
سولہ سنگھار ہیں، زیبائی، دلآرائی ہیں
خیر، انصاف، صدق، صلح صفائی جس کے
لعل، پکھراج ہیں، ہیرے ہیں، کھرے موتی ہیں
نیک پروین کوئی، نابغہ، ابطال کوئی
یہی ‘انسان’ ہے، جس کے لیے شاعر نے یہاں
جزع و فزع میں شاید یہ لکھا ہے مصرع
“آدمی کو بھی میّسر نہیں انساں ہونا”
Categories
شاعری

قاری اساس تنقید ۔ ایک مکالمہ

[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

قاری اساس تنقید ۔ ایک مکالمہ

[/vc_column_text][vc_column_text]

قاری (۱)

 

مصنف ہی اگر مر کھپ چکا * ہو چار صدیاں پیشتر تو
اس کے تحریری متن کو کیسے سمجھے گا وہ قاری
جو”زماں” میں پانچ چھہ صدیاں
“مکاں “میں پانچ چھہ سو میل دوری پر کھڑا
کاغذ کا پرزہ ہاتھ میں لے کر
متن میں منہمک ہے، سر کھجاتا ہے؟

 

قاری (۲)

 

اگر معنی متن میں ہی نہاں ہے تو
مصنف کی ضرورت ایسی حالت میں کہاں محسوس ہوتی ہے؟
مصنف غیر حاضر ہے**
مگر قاری توحاضر ہے
اور اس کے سامنے کاغذ کے پرزے پر
متن موجود ہے، تو پھر
یقیناً “حاضر و موجود” ہیں دونوں!

 

(مسئلے کا حل)

 

تو پھرایسا سمجھئے…
کوئی اک شعر یا اک نظم، یا کوئی بھی کیسا بھی متن
اک ’چیز‘ ہی ٹھہرا
مکمل خود میں، با معنی و مطلب
کچھ بھی ہو
آساں، سریع الفہم ہو ..
.مشکل، عسیر الفہم ہو ***
کیسا بھی ہو!

 

چلیں، قاری سے پوچھیں …
کون قاری؟
وہ جسے سونے سے پہلے
یہ ’متن‘ پڑھنے کی خواہش ہے؟
بھلا پوچھے گا کیا پڑھنے سے پہلے
دوستوں سے، یا کسی ناقد سے
کیا مطلب ہے اس کا …
یا اسے جو کچھ سمجھ آتا ہے اپنے ہی حوالے سے
فقط اپنے ’زماں‘ سے … حال، ماضی سے
’ مکاں‘ سے، ملک ، سے
اپنے ہی تہذیب و تمدّن سے
زباں پر اپنی قدرت سے
وہی کچھ ہی تو سمجھے گا یہ قاری
رات کو سونے سے پہلے!

* Roland Barthes: Death of the Author*
**The meaning is in the printed text: not outside it. Hence it is in the Readers’ domain. Wolfgang Iser.
*** An absentee author is like an absentee witness who cannot give his evidence. Wolfgang Iser

Image: Enkel Dika
[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]

Categories
نان فکشن

فنکار ایک آزاد فرد ہے

[blockquote style=”3″]

یہ مضمون اس سے قبل دنیا پاکستان پر بھی شائع ہو چکا ہے۔

[/blockquote]

فنکار ایک آزاد فرد ہے
میری نظریہ سازی میں کیا کچھ محرک ثابت ہوا

 

گذشتہ صدی کی چھٹی دہائی میں میرے مطالعہ کی رفتار بہت تیز تھی۔ یونیورسٹی میں دو پیریڈ پڑھانے کے بعد میرا معمول دوپہر کو قیلولہ کرنا نہیں تھا، لائبریری میں بیٹھ کر کتابیں پڑھنا تھا۔ انہی برسوں میں میں نے کروچےؔ کے ایک ایک لفظ کو بنظرِ غور پڑھا، یعنی ایسے پڑھا جیسے امتحان کے لیے طلبہ کسی متن کو حفظ کر لیتے ہیں۔ کروچےؔ نے علم و عمل کی دو جہتی یونانی تھیوری کے مطابق یہ درس دیا کہ علم و عمل دونوں جہاں ایک طرف نفسِ امارہ، نفسِ مطمئنہ اور نفس لوامہ کے لیے وجدان کا سامان مہیّا کر سکتے ہیں وہاں منطق و ادراک، شعور و عقل کو بھی نشو و نما دیتے ہیں۔ موخر الذکر کے لیے تعقل یہ کام کرتا ہے اور اول الذکر کے لیے تخیل اپنا سب سر و سامان بروئے کار لاتا ہے۔ وجدان اپنے آپ میں صرف ایک حسی اور حسیاتی جذبہ ہے اور اس کی تکمیل تبھی ہوتی ہے، جب یہ اظہار کا راستہ تلاش کر لے۔ اظہار کی تجسیم ہی اس کا فرض ہے اور اگر یہ ممکن نہیں ہے تو یہ کسی جانور کا خوشی میں چھلانگیں لگانے کا عمل تو ہو سکتا ہے، انسان کا وجدان نہیں۔

 

جمالی فعل صرف اس وقت منصہ شہود پر آتا ہے جب انسانی ذہن میں کوئی واضح یا نیم واضح خیالی خاکہ ایک شکل میں ڈھل جائے۔
جس بات نے مجھے ہمیشہ کے لیے کروچےؔ کا مرہونِ منت کر لیا وہ اس کا یہ فرمان ہے کہ جمالی فعل صرف اس وقت منصہ شہود پر آتا ہے جب انسانی ذہن میں کوئی واضح یا نیم واضح خیالی خاکہ ایک شکل میں ڈھل جائے۔ گویا ایک بصری منظر نامہ معرضِ وجود میں آ جائے۔ مثال کے طور پر حب الوطنی ایک ’کانسیپٹ‘ ہے، جس کی کوئی واضح شکل انسانی ذہن میں موجود نہیں ہے۔ اس کانسیپٹ کو تخلیقی عمل میں سے گذرنے کی غٖرض سے اپنے لیے ایک سہارا ڈھونڈنا پڑتا ہے اور وہ ایک ایسا منظر نامہ ہے، جس سے اس کی غرض و غایت اگر ثابت نہ بھی ہو تو اس کا عمل ثابت ہو۔ اس دورانیے میں تخلیقی ذہن اپنے لیے وہ جیومیٹری کی اشکال تراشتا ہے، جو زبان میں ڈھلنے کے بعد اس کا نقشہ قاری کو یا سامع کو سمجھ آ سکیں۔

 

یہاں یہ بات ضروری ہے کہ اظہار کا یہ خارجی طریقہ شاعر کے لیے زباندانی، مصور کے لیے برش اور رنگوں کے استعمال کا ہنر، یامورتی کلا کے لیے، خام سامان یعنی پتھراور اوزار یعنی ہتھوڑا، چھینی وغیرہ کا ماہرانہ عمل، یہ سب خارجی اوزار اس کے اصلی اور اندرونی لائحہ عمل سے کوئی سروکار نہیں رکھتے، اس کے لیے تو اسے فنکارانہ ہنر کی ضرورت ہے۔ فن اور ہنر کا یہی امتزاج کسی کو اچھا یا برا فنکار بنا سکتا ہے۔

 

جو کچھ ‘باہر’ معرضِ وجود میں آیا ہے، وہ ‘اندر’ کی کاربن کاپی تو نہیں ہو سکتا۔ ‘اندر’ کے تصویری مونتاژ کی لا تعداد جہتیں، بے شمار رنگ، بے حد و نہایت زمان و مکان کے استمراری اور غیر استمراری آبان۔ اور ان سب کی دم بدم بدلتی ہوئی کیفیات کی کوئی “نقل برابر اصل” تصویر الفاظ میں یا رنگوں میں یا ایک مورتی کی شکل میں ڈھالی نہیں جا سکتی، تو پھر آرٹ کیسے اصل یعنی اندرونی ’سچ‘ کو دکھا سکتا ہے؟ اس کا کوئی جواب دینا کسی کے بس کی بات نہیں تھی، لیکن چندی گڑھ میں قیام کے دوران جب میں نے اورو بندو گھوشؔ کی انگریزی تصنیفات کو پڑھا تو مجھے یہ مسئلہ کچھ کچھ حل ہوتا ہوا دکھائی دیا۔ اس کا ذکر آگے آئے گا۔

 

تخیل کی بنا پرنظم یا افسانہ لکھنے والی شخصیت اور عقیدے کی بنا پر اتوار کو گرجا گھر جانے یا کمیونسٹ پارٹی کے جلوسوں میں شامل ہونے والی شخصیتوں کا آپس میں کوئی لین دین نہیں ہے۔
پہلے ایک کتاب کی بات کریں جو میرےانجمن ترقی پسند مصنفین سے علیحدگی کے روّیے میں محرک ثابت ہوئی۔ یہ کتاب تین انگریزی ناول نگاروں کے خطوط کا مجموعہ تھی، جو گراہم گرینؔ، بریختؔ اور الزبتھ ہاون نے آپس میں ایک دوسرے کو لکھے تھے۔ کتاب کا عنوان تھا، Why Do I Write؟ یہ سلسلہ تب شروع ہوا جب برٹولڈ بریخت کے دو خطوط جو اس نے اپنی خاتون دوست الزبتھ ہاون کو لکھے تھے، مکتوب علیہ نے اپنے کامینٹس کے ساتھ گراہم گرین کو پڑھنے اور تبصرہ کرنے کے لیے بھیج دیے۔ بریخت چونکہ اس سلسلے کا محرک تھا، اس کے دونوں خطوط میں نے کئی بار پڑھے، سرخ اور نیلی پنسلوں سے سطروں کو انڈر لاین (اردو : خط زد؟) کیا، حاشیے میں اپنے خیالات لکھے، اور پھر ان کا اردو ترجمہ کیا۔ یہ ترجمہ، ظاہر ہے، کسی ترقی پسند رسالے میں تو اس لیے نہیں شائع ہو سکتا تھا کہ اس کے مندرجات ترقی پسند تحریک کے منشور کے منافی تھے، لیکن دہلی سے چھپنے والے رسالے “راہی”، جس کے اندرون سرورق پر اس کے مالک اور مدیر بلدیو متر بجلی ؔ کے نام کے ساتھ ساتھ ترتیب دینے والوں میں میرا نام بھی از راہ مروّت چھپتا تھا، اسے شامل اشاعت کر لیا۔ یہ بات تو طے تھی کہ جب تک یہ “شاہراہ” یا پاکستان کے ترقی پسند تحریک سے منسلک ادبی رسائل “سویرا” (مدیر احمد راہی) یا “نقوش” میں نہ چھپتا، اس کی طرف کسی کا توجہ دینا محال تھا۔ اور یہی ہوا، سوائے ایک دو دوستوں کے اس کی تعریف میں یا اس کی مخالفت میں مدیر کے نام کوئی خط موصول نہیں ہوا۔

 

بریخت کے خطوط اسی مفروضے سے شروع ہوتے تھے کہ سیاسی یا مذہبی عقیدہ ایک چیز ہے اور تخیل اس سے مختلف ایک دوسری۔ ایک قلم کار جو کچھ لکھتا ہے، وہ اس کی اس شخصیت سے الگ ہے، جو اس کے کیتھولک عیسائی ہونے یا کمیونسٹ ہونے کا دم بھرتی ہے۔ تخیل کی بنا پرنظم یا افسانہ لکھنے والی شخصیت اور عقیدے کی بنا پر اتوار کو گرجا گھر جانے یا کمیونسٹ پارٹی کے جلوسوں میں شامل ہونے والی شخصیتوں کا آپس میں کوئی لین دین نہیں ہے۔ اس نے تحریر کیا کہ ادیب کے طور پر یہ سوال خود میں لا یعنی ہے کہ ہم جس سماج کے فرد ہیں، اس کے مطالبات کے مطابق ہم ادب تخلیق کر رہے ہیں یا نہیں۔ “ہم تو ان جھمیلوں سے آزاد ہیں”، اس نے لکھا۔ “اور خصوصاً اگر ہم مبلغ کے طور پر، یعنی ڈھنڈورچی بن کراپنے ناولوں اور ڈراموں میں ایک سیاسی نظریے کا پرچار کر رہے ہیں، تو ہم فنکار نہیں ہیں، ڈھنڈورچی ہی ہیں”۔

 

بریختؔ نے تو اس خط میں ایک سیدھا سادا جملہ لکھا تھا کہ وہ نہ تو کسی پڑھنے والے کے لیے لکھتا ہے، نہ عوام کے لیے، نہ سوسائٹی کے لیے، بلکہ صرف اپنی ذات کے لیے لکھتا ہے.
مجھے یہ باور کرنے میں کچھ تامل ہوا کہ اگر بریخت یہ کہتا ہے کہ ادیب کو ایماندارانہ طور پر اپنی اس شخصیت persona پر ہی بھروسہ کرنا چاہیے جو اس کی تخلیقیت کا منبع ہے تو اس میں ترقی پسندوں کو اعتراض کیوں ہے۔ وہ ان ادیبوں پر یہ الزام کیوں لگاتے ہیں کہ اکثر ادیب ایماندار نہیں ہے اور “بے تعلقی کے پردے میں عوام مخالف طاقتوں کا ساتھ دیتے ہیں۔” نقادوں کے استاد گرامی احتشام حسین نے تو یہ لکھنے سے بھی گریز نہیں کیا: “جب ہم موجودہ دور کے عالمی ادب پر نگاہ ڈالتے ہیں تو یہ بات صاف ہو جاتی ہے کہ عوام دوست ادیب اپنی جانبداری کا اعلان کرتے ہیں اور جو کچھ لکھتے ہیں شعوری طور پر عوام کے مفاد کے لیے لکھتے ہیں، لیکن وہ ادیب جو سرمایہ دار حاکم طبقہ کا ساتھ دینا چاہتے ہیں اپنی غیر جانبداری کا ڈھنڈورا پیٹتے ہیں۔ یہاں تک کہ جب ان کا مشاہدہ اور تجزیہ ان سے کوئی ایسے چیز لکھوا دیتا ہے جس سے عام انسانوں کے مفاد کو کوئی پہلو نکلے تو اس کی تاویلیں کرتے ہیں۔” مجھے ابکائی سی آئی، ایسے محسوس ہوا کہ یہ بات ہم سب کے پیر و مرشد سید احتشام حسین نہیں کہہ رہے، بلکہ ماؤ زے تُنگ ؔ کہہ رہا ہے، یا کمبودیا کا پول پات ؔ کہہ رہا ہے۔ تو کیا ادیب اور مبلغ میں کوئی تمیز نہیں۔ کیا تخلیقی قوت کی کارکردگی کو تسمہ پا کر کے اس بات پر مجبور کر دیا جائے کہ وہ صرف اور صرف عوام کی بہبودی کے لیے حرکت میں آئے، اور پھر ‘عوام کی بہبودی’ کیا وہی بہبودی ہے جس نے روس اور چین اور کمبودیا میں آمرانہ تسلط قائم کیا اور لاکھوں انسانوں کو یا تو موت کے گھاٹ اتارا یا پھرقیدی بنا کر کیمپوں میں بھر دیا۔ مجھے حیرت بھی ہوئی کہ احتشام حسین جیسے قابل احترام نقاد بھی “عوام دوست”، “عوام دشمن” جیسی اصطلاحات کا استعمال کرتے ہوئے نہ صرف یہ کہ جھجکتے نہیں، بلکہ فخر محسوس کرتے ہیں۔

 

بریختؔ نے تو اس خط میں ایک سیدھا سادا جملہ لکھا تھا کہ وہ نہ تو کسی پڑھنے والے کے لیے لکھتا ہے، نہ عوام کے لیے، نہ سوسائٹی کے لیے، بلکہ صرف اپنی ذات کے لیے لکھتا ہے. اور یہ کہ لکھتے ہوئے اور لکھ چکنے کے بعد اسے اپنا ہی بنایا ہوا ، لفظوں سے مزین، جمال آفرین خاکہ دیکھ کر روحانی مسرت ہوتی ہے۔ اس سیدھے سادے جملے پر عوام دوستی یا عوام دشمنی کے لیبل لگا کر یہ کہنا کہ ایسے ادیب “رجعت پسند” ہیں ، نہ احتشام حسین کی اور نہ ہی ان جیسے کسی اور عزت ماّب پروفیسر اور نقاد کی شان کے شایاں تھا۔

 

مجھے اپنے ترقی پسند تحریک کا ایک فرد ہونے پر کچھ کچھ شک تو پہلے ہی تھا، لیکن اس کتاب اور اس پر پروفیسر احتشام حسین کے ارشادات کو دیکھ کر طبیعت بہت مکدر ہوئی۔

 

ایلزبتھ ہاون نے متن میں ہئیت پر زور دیا اور لکھا کہ نفسِ مضمون کے چکر میں پھنس کر ہم اگر اسلوب کو پسِ پشت ڈال دیں تو یہ “گوشت کو آدھا کچا کھانے کی طرح ہو گا”۔
بہرحال واپس کتاب کی طرف جائیں۔ الزبتھ ہاون نے متن میں ہیئت پر زور دیا اور لکھا کہ نفسِ مضمون کے چکر میں پھنس کر ہم اگر اسلوب کو پسِ پشت ڈال دیں تو یہ “گوشت کو آدھا کچا کھانے کی طرح ہو گا”۔ یعنی اگر نفس مضمون گوشت ہے اور ہیئت اسے پکانے کا سلیقہ ہے تو پھوہڑ پن سے بھون بھون کر پکائے گئے گوشت کا کیا لطف ہے؟ یہ پڑھ کر اس وقت میرے دل میں یہ خیال ضرور جاگزیں ہوا کہ اگر ہم گوشت کو سلیقے سے پکانے پر ہی یعنی ہئیت پر سارا زور صرف کر دیں اور نفس مضمون پر اسے غالب آنے دیں تو ہم کرشن چندر تو بن سکتے ہیں، راجندر سنگھ بیدی یا منٹو نہیں بن سکتے۔

 

گراہم گرین کے اصل خطوط کی غرض و غایت یہی تھی کہ کیا یہ ضروری ہے کہ کوئی بھی ادیب عصرِ حاضر کے سیاسی یا معاشرتی یا تہذیبی مباحث کو اس طرح اپنے ادب میں آگے بڑھائے کہ اس کی ترجیحات کا دائرہ بائیں بازو کی طرف صریحاً جھکتا ہوا نظر آئے؟ گراہم گرین نے اپنے خطوط کے تحرک سے ایک نکتہ جو اور اٹھایا تھا وہ میرے لیے بے حد قیمتی تھا۔ اس نے کہا(اور بریخت نے اس پر صاد کیا) کہ سماج اور فنکار اس لیے ہمیشہ باہم دست و گریبان رہے ہیں کہ سماج میں متصادم فرقوں میں سے کسی ایک کی جانب جھکے بغیر فنکار دونوں کو بجنسہ پیش کر سکتا ہے۔ اگر سماج اور فرد میں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے صلح نامہ لکھ لیا جائے

 

اور تصادم کی کیفیت بیک قلم موقوف ہو جائے تو ادیب کے لکھنے کے لیے کیا موضوع رہ جائے گا؟ صرف تمثال، تمثیل اور علامت کے تانے بانے میں الجھی ہوئی تخلیقات کے علاوہ وہ لکھ بھی کیا سکے گا؟

 

اس نے اس سلسلے میں انقلاب کے بعد روس کی مثال دی اور کہا کہ اشتراکیت کے نفاذ کے بعد روس نے کوئی بڑا ادیب پید ا نہیں کیا، کہاں لرمینتوف اور ٹالسٹائی اور گورکی اور کہاں اشتراکی انقلاب کے بعد کے اہل قلم؟ مجھے اس منطق میں کچھ خامی ضرور نظر آئی کہ ایک طرف تو بریخت اور گراہم گرین دونوں اس بات پر مصر ہیں کہ ادیب کا اپنے تخیل کو آزاد رکھنا ضروری ہے، چاہے اس کے خیالات مذہب یا سیاست کے بارے میں کچھ ہی کیوں نہ ہوں اور دوسری طرف وہ سماج میں اور فرد میں تصادم کو اچھے ادب کی تخلیقی کی ایک شرط تسلیم کرتے ہیں۔ اگر فرد (اور شاعر یا فنکار ایک خود آگاہ فرد ہی تو ہے!) اور سماج کے ما بین تعاون اور استمداد کا رشتہ استوار ہے، (جیسے کہ مبینہ طور پر انقلاب روس کے بعد اس ملک میں ہے) تو اچھا ادب کیسے تخلیق ہو گا۔ واہ واہ اور تعریف و توصیف تو مقررین کی خصوصیات ہیں، اہل قلم کی نہیں۔

Image: Zenos Frudakis