Laaltain

بدن اور ملبوس ۔ بہم دگر متصادم (فارسی عروض اور اردو شاعری)

کئی بار خود سے یہ سوال پوچھنے کی جرات کرتا رہا ہوں کہ آج تک، یعنی اکیسویں صدی کی ایک دہائی گزرنے کے بعد بھی، اردو کا نظم گو شاعر غزل کی روایت کے اس مکروہ اثر سے کیوں آزاد نہیں ہو سکتا کہ وہ اپنی سطروں کی تراش خراش میں رن آن لاینز کے چلن کو روا رکھ سکے۔

نظریات کا گورکھ دھندا؛ اردو ادب کے تناظر میں

جہاں یورپ میں اشتراکی حقیقت پسندی کو بالائے طاق رکھ کر جدیدت کو اپنا لیا گیا تھا وہاں ہمارے ہاں یہ دونوں تحاریک کچھ برسوں تک ساتھ ساتھ چلتی رہیں، لیکن آخر روایت سے کلیتاً بغاو ت نہ کیے بغیر بھی جدیدیت کے اجزائے ترکیبی ہمارے ادب میں رواج پا گئے۔

تصوریت اور حقیقت

نیچرل ازم حقیقت نگاری کی وہ جہت ہے جو عام آدمی کی روز مرہ کی زندگی کے ان پہلوؤں کو پیش کرتی ہے، جو مذہب یا اخلاقیات کے زیر اثر پہلے منصۂ شہود پر نہیں آئے۔

ھل من ناصرًا ینصرنا

کوزہ گر، تو نے جب
مجھ کو تشکیل دی تھی تو اتنا تو کرتا
مجھے اک مبارز بناتا
مرے ہاتھ میں ایک تلوار دیتا
کہ اپنی حفاظت مرا کام ہوتا
مگر میں نہتّا، اکیلا کھڑا دیکھتا ہوں
عدو چاروں جانب سے یلغار کرتے ہوئے آ رہے ہیں

فنکار ایک آزاد فرد ہے

اگر ہم مبلغ کے طور پر، یعنی ڈھنڈورچی بن کراپنے ناولوں اور ڈراموں میں ایک سیاسی نظریے کا پرچار کر رہے ہیں، تو ہم فنکار نہیں ہیں، ڈھنڈورچی ہی ہیں