Categories
تبصرہ

کائناتی گرد میں عریاں شام۔۔ نفسیاتی مطالعہ

کولاج میں پڑھے جانے والے مزید مضامین پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔
ظہیر احمد ظہیر
ڈارون کے پیش کردہ نظریات نے ابھی انسان کو اپنی تخلیق کے بارے میں تشکیک کا شکار کیا ہی تھا کہ بیسویں صدی میں پھوٹنے والی پہلی جنگ عظیم نے مرکزیت کی جگہ لامرکزیت کا طوفان لا کھڑا کیا۔ ہر طرف لاشیں دیکھنے اور چیخ پکار سننے کے بعد وہ یہ سوال کرنے پر مجبور ہوا کہ خدا کہاں ہے؟ وہ خدا جو انسان کو رنج و الم اور ہر قسم کے مصائب سے تحفظ دیتا ہے۔ عقیدہ پر پڑنے والی اس زوردار ضرب نے انسان کو اپنے اندر جھانکنے پر مجبور کر دیا۔
کائنات کے رازوں سے پردہ اٹھنے کے بعد صرف رنج و الم ہی کیوں بچتا ہے؟ یہ وہ سوال تھا جن کا جواب پانچ سو قبل مسیح میں لکھی جانے والی سوفوکلیس کی تحریروں سے مل سکتا ہے۔ جہاں اس نے انسانی المیے کو پیش کیا، وہیں جنس کی بھی نئی جہتیں متعارف کرائیں۔ جنس، جس کی خاطر دنیا میں انسان نے پہلی بار قتل کیا۔ بیسویں صدی میں فرائیڈ اور کارل جنگ کے اڈیپس اور الیکٹرا پر لکھے گئے مضامین نے سوفوکلیس کے المیوں کی تشریح نفسیاتی سطح پر کی تو انسان جس نے ابھی اپنے اندر جھانکنا شروع ہی کیا تھا، اسے گویا ایک نئی ڈور ہاتھ آ گئی۔ خارج سے داخل کا یہ سفر شروع ہوا تو اسے احساس ہوا کہ اندر کی دنیا باہر کی دنیا سے کہیں زیادہ وسیع ہے۔ مسرت اور غم کے نئے پہلو آشکار ہوئے۔ خود اذذیتی اور خود لذتی کی آگاہی نے انسان کو اس کے وجود اور اس کی ضروریات سے متعارف کروایا۔

 

دوسری طرف جب بنیادی عقیدہ پر شک کی ضرب پڑی تو اس کے ساتھ ہی انسان پر لگائی گئی مذہبی معاشی، معاشرتی اور سماجی پابندیوں پر بھی سوالات اٹھنا شروع ہوئے۔ انسان نے ان تمام بیڑیوں کو مسترد کرنا شروع کر دیا جو اس کی خوشی کی راہ میں رکاوٹ کا باعث تھیں۔ بنیادی عقائد پر پڑنے والی چوٹ نے جہاں دیگر شعبہ ہائے زندگی کو متاثر کیا، وہیں ادب پر بھی دور رس نتائج مرتب کیے۔ شاید یہی وہ اثرات تھے جو نظم کی ایک بہت بڑی روات ایپک سے انحراف کا سبب بنے اور نظم کے میٹرز، سٹرکچر اور رائم سکیمز کو یکسر نظرانداز کر کے جدید نظم کی بنیاد رکھی گئی۔ جدید نظم جہاں اپنی ساخت میں روایتی نظم سے منفرد ہے وہیں وہ روایتی اصولوں اور نظریات پرجدید عہد کے انسان کا سوال بھی ہے۔

 

انسان جہاں بھی رہے، اس کے مسائل اور اس کی سوچیں دوسرے انسانوں سے ملتی ہیں۔ انگریزی ادب میں پلنے والی جدیدیت اور وجودیت کی لہر اگر اردو ادب پر اپنے اثرات نہ بھی ڈالتی تو بھی یہاں میرا جی اور راشد جیسے شعرا کا پیدا ہونا ایک فطری امر تھا۔میرا جی اور راشد نے بقول ڈاکٹر رشید امجدکرم خوردہ اخلاق کی جھوٹی قدروں والی خستہ دیواروں کو ڈھانا اور حالیؔ کے سائے میں پلی ہوئی پود کے چہرے سے چھلکا اتارنا شروع کیا۔ درحقیقت یہی وہ شعرا تھے جنہوں نے نظم کو روزمرہ موضوعات اور اخلاقی باتوں سے نکال کر حیات و کائنات کے مسائل سے روشناس کرایا۔انگریزی زبان اور ادب پر ان کی گہری نظر تھی انھوں نے وہاں سے ایک چیز جو بطورِ خاص برآمد کی وہ شعور کی رو کی تکنیک ہے۔جدید نظم کا تجربہ انگریزی ادب سے ہی آیا تھا میرا جی نے اسے ہندوستان کی مقامیت میں گوندھ کر اردو کی مستقل اور جاندار صنف بنادیا۔

 

میرا جی کی نظم کی بنیادی وجہ ان کی محبت میں ناکامی ہے اور اس ناکامی سے پریشان ہو کر وہ جنس میں پناہ لیتے ہیں۔ ان کے ہاں جنس کا تصور کچلا ہوا ہے۔ جنسی ناآسودگی کے سائے ان کی شخصیت اور شاعری دونوں سے نمایاں ہیں۔ جنسی گھٹن کے مظاہر ان کی شاعری میں جا بجا بکھرے نظر آتے ہیں۔ سرگوشیاں سرسراہٹ اسی قبیل کی نظمیں ہیں۔

 

راشد کی شاعری کی ابتدا اگرچہ میرا جی کی طرح جنس سے نہ ہوئی، مگر انہوں نے جنسی موضوعات کو اپنی شاعری کا حصہ ضرور بنایا۔ جنس کے معاملے میں انہوں نے چونکا دینے والی صاف گوئی سے کام لیا۔ باطنی سطح پر اٹھنے والی جنسی تحریکیں ان کی شاعری میں بھی دیکھنے کو ملتی ہیں۔ ان کی نظمیں”ہونٹوں کا لمس” “ انتقام” اور” اے مری ہم رقص” جنسی جذبے کی فراوانی سے بھری ہوئی ہیں۔ راشد نے جنس کو شجر ممنوعہ کے درجے سے نکال کر حقیقی مسرت کی بنیاد بنایا۔ مصطفی زیدی کی اپنی محبوبہ شہناز پر لکھی گئی نظمیں بھی جنسی موضوعات کے نئے دریچے وا کرتی ہیں۔

 

فہمیدہ ریاض کا تذکرہ بھی میں یہاں ضروری سمجھوں گا کیونکہ اب سے پہلے نظم میں جنس کا اتنا بے باکانہ اظہار نہ ہوا تھا جتنا فہمیدہ ریاض کی نظموں “لاؤ اپنا ہاتھ لاؤ ذرا” “باکرہ” “ زبانوں کا بوسہ” اور اس جیسی دیگر نظموں میں سامنے آیا۔۔لذت کوشی ان کی نظموں کا بھی خاص موضوع ہے۔ تاہم ان کی جنسی شاعری کا نمایاں وصف نسائیت ہے جس پر چلتے ہوئے وہ انتہائی تلخ ہو جاتی ہیں۔

 

زاہد امروز اسی روایت کا حصہ ہے۔ کائناتی گرد میں عریاں شام زاہد کی نظموں کا وہ مجموعہ ہے جس میں جنس پر لگائی گئی معاشی، معاشرتی، سماجی، اور مذہبی پابندیوں کے خلاف احتجاج شامل ہے۔ ان نظموں میں اذیت کوشی بھی ہے اور خود لذتی بھی۔ رنج بھی ہے اور مسرت بھی۔ جدید شاعر ہونے کے ناطے انہوں نے اپنی نظموں میں ان تمام پابندیوں کو اکھاڑ پھینکا ہے جو ان کے راستے کی رکاوٹ ہیں۔ انسانی ذہن کی گہرائیوں میں جھانکتی ہوئی یہ نظمیں شعور اور لاشعور کی نئی جہتیں تلاش کرتی دکھائی دیتی ہیں۔ ان کے ستعارے نئے اور تازہ ہیں۔ زبان سادہ اور صاف ہے مگر نظمیں جدید انسان کے مسائل کی طرح پیچیدہ۔ بظاہر سادہ نظر آنے والی نظم تہ بہ تہ نئے مفاہیم کھولتی نظر آتی ہے۔

 

زاہد امروز کی نظموں میں لاشعور میں پلنے والی کون سی تحریکیں بیان کی گئی ہیں؟ اس کا جواب خود ان کی اپنی نظموں “میں اسے خشک کپڑے پہننے سے پہلے ملوں” “نیم وحشی دنیا میں عقلمند اجنبی” اور “اس شیطان کو کیسے ماروں جو آدمی کا قتل کرتا ہے” میں موجود ہے۔ان منظومات کے عنوانات ہی اپنی وضاحت آپ ہیں۔

 

میں اسے خشک کپڑے پہننے سے پہلے ملوں میں ان اولیں جذبات کا تذکرہ ہے جو آگے چل کرNeurosis کا باعث بن سکتے ہیں۔ یہ وہ مقام ہے جہاں سے لذت کی نادیدہ جڑیں اگتی ہیں۔ محبوب کو تن برہنہ دیکھنے کی خواہش اور جرم کے افشا ہونے کا خدشہ وہ لاشعوری عوامل ہیں جن کو اگر مناسب راستہ نہ دیا گیا تو وہ کسی بھی لمحے جسم اور روح کے پرزے اڑاسکتی ہیں۔

 

نیم وحشی دنیا میں عقلمند اجنبی بھی انسانی زندگی کی اس Phallic Stageکو ظاہرکرتی ہوئی ایک نظم ہے جہاں ایک انسان اپنی شناخت کے اولین مراحل سے گزر رہا ہوتا ہے۔ وہ زندگی کے نئے حقائق اور سرشاریوں اور محرومیوں سے آگاہی حاصل کر رہا ہوتا ہے۔ یہ عمر کا وہ حصہ ہے جہاں انسان کو اپنے جسم سے حاصل ہونے والی مسرتوں سے آگاہی حاصل ہونا شروع ہوتی ہے۔

 

میں بالوں سے بھرا اپنا نیم حیوانی جسم دیکھتا ہوں
اور سرد پانی کی جھیل میں نہاتے ہوئے
مچھلیوں سے دوستی کی خواہش کرتا ہے۔

 

“اس شیطان کو کیسے ماروں جو آدمی کا قتل کرتا ہے”۔ یہ نظم اپنے آغاز سے ہی اڈیپس اور الیکٹرا کمپلیکس کی نشاندہی کرتے دکھائی دیتی ہے۔

 

“تبدیلی کا موسم آیا اور مجھ پر بور آگیا”

 

اور اس کے بعد میں آنے والی سطور بھی Phallic Stageکی نمائندہ ہیں جہاں جذبات پہلی بار سر ابھار رہے ہوتے ہیں اور انسان اپنے اور مخالف صنف کے اعضا سے حاصل ہونے والی آسودگی اور تکلیف سے واقفیت حاصل کر رہا ہوتا ہے۔

 

یہ بات تو طے ہے کہ اس کتا ب میں بنیادی مسئلہ آسودگی کا ہے اور وہ بھی جنسی آسودگی۔ لیکن کیا یہ آسودگی محض وحشت کو مٹانے کے لیے اور جسمانی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے ہو یا ایک ایسی آسودگی جس میں جسم کے ساتھ ساتھ ذین اور روح کی طمانیت بھی شامل ہو۔نظم “جب مجھے لمس کی خواہش ہوتی ہے” میں شاعر نے خود انتہائی واضح الفاظ میں اس خواہش کا بے باکانہ اظہار کیا ہے کہ وہ دوسری قسم کی آسودگی کا خواہاں ہے۔

 

مجھے تمھاری دھوپ میں لیٹنا ہے
ضرورت کے زندہ قبرستان میں تو
میں کئی عورتوں کے ساتھ سو سکتا ہوں
(جب مجھے لمس کی خواہش ہوتی ہے)

 

جدید عہد کا انسان ہر قسم کی پابندی سے آزادی چاہتا ہے۔ اب وہ پابندی چاہے مذہبی ہو، معاشی ہو، معاشرتی ہو یا کچھ بھی ہو، وہ یہ بیڑیاں اپنے پاؤں سے اتار پھینکنا چاہتا ہے۔ آسودگی اس کی خواہش ہے اور اس خواہش کے لیے وہ کسی پابندی کو خاطر میں نہیں لاتا۔ یہاں دو صورتیں ہیں۔

 

اول؛ معاشرتی اور مذہبی پابندیاں اس کے راستے کی رکاوٹ بن جاتی ہیں۔ نتیجتا اس کو اپنی خواہش سے دست بردار ہونا پڑتا ہے۔ یہ دست برداری ایک قسم کی بے بسی ہے جو غصے، بے چینی اور نفرت جیسے جذبات کو جنم دیتی ہے۔

 

دوم؛ اگر وہ تمام پابندیوں کو توڑ کر اپنی آسودگی کا سامان کر بھی لیتا ہے تو اس آسودگی کے اختتام پر دوبارہ وہ نا آسودگی کی منزل پر آن پہنچتا ہے۔ دونوں ہی صورتوں میں وہ ناکام ٹھہرتا ہے۔
دونوں صورتوں میں اپنی انا اور اپنے غصے کے اظہار کے لیے وہ Ego Defense Mechanismکا سہارا لیتا ہے مثلا دروازے کو زور سے بند کرنا، کسی چیز کو اٹھا کر پھینکنا۔ تلخ الفاظ کا استعمال بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ڈیفنس میکانزم پر لکھی گئی ایک نظم “میرا غصہ کہاں ہے” میں شاعر نے محبوب کی بے وفائی پر پلنے والے غصے کا اظہار جنسی جذبے کے تحت کیا ہے۔ اس نظم کو راشد کی “ انتقام” کے ساتھ رکھا جا سکتا ہے

 

“مجھے بتاؤ
میرا غصہ کس شیر کے بدن میں جھرجھراتا ہے
میری آگ کس عقاب کی آنکھوں میں کپکپاتی ہے
جسے تمھاری ہنسی، تمھارے دل
اور تمھاری دھوکے باز ناف میں انڈیل سکوں

 

جنس انسان کی بنیادی جبلتوں میں سے ایک ہے۔ جنسی آسودگی کو محض جسم کی آسودگی سے تعبیر نہیں کیا جا سکتا۔ ذہنی اور روحانی آسودگی بھی اس میں برابر کی حصہ دار ہیں۔روحانی بالیدگی کے بغیر جسمانی تسکین کا کوئی فائدہ نہیں۔غیر متوقع بچے کی موت ایک ایسے معاشرے میں لکھی گئی نظم ہے جہاں ذہنی آسودگی اور جنسی آسودگی دو الگ موضوعات ہیں۔ دونوں کے الگ الگ معنی اور دنیائیں ہیں۔ یہاں لمس ہمیشہ محبت کو ترستے ہیں اور دو نفوس اپنی وحشت کو نپٹانے کے بعد اگلے پڑاؤ کو روانہ ہو جاتے ہیں۔

 

“یہ ملک بن مانگے بچوں سے بھرا پڑا ہے جن کی ماؤں کو کبھی مخلص مرد نہیں ملا”

 

نظم کی آخری لائن میں لفظ بے ارادہ مدہوشی آسودگی کی صرف ایک سطح کو بیان کر رہا ہے جو صرف جسمانی ہے اور جس میں ذہنی اطمینان کی بجائے کرب اور تکلیف کا عنصر ہے۔ گویا جسمانی ضرورت کو پورا کرتے وقت یہاں ذہنی اور روحانی خوشی کا خیال نہیں رکھا گیا۔
“اس محبت کا کیا مصرف” بھی اسی موضوع پر لکھی گئی نظم ہے جس میں یہ موقف زیادہ واضح انداز میں بیان ہوا ہے۔

 

“ریشمی ارمانوں میں قید بانجھ عورتوں کا کوئی مصرف نہیں
جن کے مردوں نے صرف وارث کے لیے جسم خریدے؟؟
وحشت میں چبائے ناخنوں کا اب کیا مصرف؟

 

انسانی زندگی کا ہر دور ایک نفسیاتی دور ہے جہاں اس کے جسم میں مختلف جنسی تحرکات پیدا ہوتے ہیں۔ جیسے جیسے انسان بڑا ہوتا ہے، تو جسم کے مختلف حصے ایک مخفی احساس محرومی یا آسودگی کے لحاظ سے اہمیت اختیار کرتے چلے جاتے ہیں۔ زندگی انہی محرومیوں اور خوشیوں کے گرد گھومتی ہے۔انسانی جسم میں پیدا ہونے والی ایک جنسی تحریک Libido کی افزائش سے ذہنی تناؤ اور اس کے ڈسچارج ہونے سے خوشی پیدا ہوتی ہے۔لبیڈو ڈسچارج ہونے کے لیے ایسے حالات مانگتی ہے جو معاشرے کے لیے اخلاقی لحاظ سے قابل قبول ہوں۔

 

نظم “عریاں شام پہ کتے بھونکتے ہیں” اس معاشرے کا علامتی اظہار ہے جہاں جنس کو ایک ممنوع چیز خیال کیا جاتا ہے۔یہ نظم شعور اور لاشعور کے بابین ہونے والی جنگ کی عکاس ہے۔ لاشعوری تحریکوں کی Gratification ایک معاشرے میں قابل قبول ہو نہ ہو، پھر بھی یہ تحریکیں کسی نہ کسی طور اپنا راستہ نکال لیتی ہیں، فطری نہ سہی، غیر فطری ہی سہی۔ ایسی صورت میں شہر کی آٹھویں منزل پر مدہوش پڑے دو امرد پرستوں کا ملنا کوئی حیران کن بات نہیں۔

 

نظم کے اگلے ہی بند میں دو عورتوں کا تذکرہ بھی ملتا ہے جن میں سے ایک سیاہ برقعے میں اور دوسرے سفید بستر پر عریاں۔یہ بالکل اسی طرح ہے جیسے موسم سرما کی خنک آلود رات میں آگ کا الاؤ جل رہا ہو مگر اس کو سینکنے کی اجازت نہ دی جائے۔

 

نظم میں صرف معاشرتی رکاوٹوں کا ذکر نہیں، یہاں اس نقطر نظر کا بھی تذکرہ ہے جہاں نفس کا قتل کر کے راہبانہ صورت اختیار کی جاتی ہے اور انسان کو ایک سرخوشی سے دور رکھا جاتا ہے۔ “ سجدے میں خصیوں کا بوجھ اٹھاتا ہوا آدمی” دراصلCastrationکے ایک عمل کی طرف اشارہ ہے جس کی اذیت سہنے کے بعد Sterilityکے ذریعے شعوری اور لاشعوری تحریکوں کے پر کاٹنے کی کوشش کی جاتی ہے۔

 

نظم میں استعمال ہونے والے سیاہ اور سفید رنگ بھی انہی تحریکوں کے ترجمان ہیں۔ سفید پر سیاہ لباس پہنتی ہوئی رات اس امر کی طرف اشارہ ہے جہاں ہم حقائق سے نظر چرا کر لاشعور میں پلنے والی امپلسسز کو دبانے کی کوشش کرتے ہیں۔

 

ڈر، خوف اور شک جنسی آسودگی کی تحریکوں پر کیا اثر ڈالتے ہیں، اس کا اندازہ زاہد کی نظم “قصہ ایک مینڈک کا” سے بخوبی کیا جا سکتا ہے۔ یہ نظم بھی معاشرے کے انہی رسوم و رواج پر ہے جہاں پیدا ہونے والی جنسی تحریکوں کو اپنا راستہ نہی ملتا۔ اس نظم میں جنس کے مرکزی خیال کے پس پردہ ایک ایسی لڑکی کا تذکرہ ہے جو ایک ایسے معاشرے میں رہتی ہے جوMale Dominant ہے۔جہاں مردوں کو آزادی حاصل ہے۔ وہ جس چشمے سے چاہیں سیراب ہو لیں مگر لڑکی معاملے میں ایسا نہیں۔ یہاں مرد جنسی تسکین کے لیے آزاد ہے۔ مگر عورت کے ساتھ ایسا نہیں۔جس مرد کے ساتھ اسے زندگی گزارنا ہے،جیلسی اس مرد کا خاصہ ہے۔ اوتھیلو کو تو صرف بہانہ چاہیے۔ Possessionمیں کسی قسم کا اشتراک اسے پسند نہیں۔ لیکن یہ جیلسی بذات خود اس کے اپنے اندر پوشیدہ ایک چور کی عکاسی ضرور کرتی ہے۔

 

“سب مردوں کی طرح اسے بھی باکرہ لڑکی چاہیے تھی”
“خواہش تھی کہ کسی نے اس کی منگیتر کو چھوا نہ ہو
کسی نے اس کے معبد میں جھانکا نہ ہو”
لیکن عورت اپنے اندر اٹھنے والی موجوں کے مقابل بے بس ہے، دوسری طرف بدنام ہو جانے کا خدشہ۔ نتیجتا
“تبھی وہ اپنے یاروں سے یہ وعدہ کرتی
پردے کے اس پار نہ جانا
چوری پکڑی جائے گی”

 

گویا اس نے اپنے وجود کے گرد جالا بن لیا۔اور اس جالے میں اپنی تمام خواہشوں کا گلا گھونٹ دیا۔ احساس محرومی نے اس کی شخصیت کا جو قلع قمع کیا سو کیا، مگر شوہر خوش تھا کہ پردہ قائم ہے اور عزت دائم ہے۔

 

آگہی ہمیشہ تکلیف دہ کیوں ہوتی ہے؟۔ زاہد امروز نے حقائق کے تکلیف دہ ادراک کو اپنی نظموں کا موضوع بنایا ہے لیکن یہ موضوع بھی ان کے ہاں جنسی دروازے سے آیا ہے۔ حسین عورت کی خوش حال شادی ایک ایسی نظم ہے جس میں ہمارے معاشرے کے دوہرے معیار کو طنز کا نشانہ بنایا گیا ہے۔جہاں انسانی جبلتوں کو مختلف رسوم و رواج سے دبانے کی کوشش کی جاتی ہے۔اکیسویں صدی میں بھی ہمارے ہاں شادی کے وقت عورت کی مرضی نہیں پوچھی جاتی۔ نتیجتا دولہا اور دلہن کا ملاپ صرف جسمانی رہ جاتا ہے جسے شہوت کے ایک جوشیلے کھیل سے تشبیہ دی گئی ہے۔

 

دولہا اپنے نشے میں کھیلے
شہوت کا جوشیلا کھیل
اسے نہیں معلوم کہ اس کا
سرد بدن سے میل

 

یہ ان جذبات کی کہانی ہے جب رخصتی کے وقت ایک دلہن بظاہر اپنے ماں باپ سے بچھڑنے کے دکھ پر رو رہی ہوتی ہے،لیکن لاشعوری سطح پر ان آنسوؤں کے پیچھے کئی دوسرے عوامل بھی کارفرما ہوتے ہیں۔ عمر بھر کی جمع پونجی اور کمائی کے لٹنے کا غم اپنی جگہ پر مسلم، لیکن کہیں کسی کونے میں کسی دوسرے شخص کے خواب بھی اس سیلاب کا باعث ضرور ہوتے ہیں۔ لڑکی بیٹی سے بہو بن جاتی ہے، دلہن بن کر بیٹھ جاتی ہے لیکن اس کا جسم سرد ہے۔ زندگی نام کی کوئی شے اس میں موجود نہیں کیونکہ شہوت کے اس جوشیلے کھیل میں نہ تو اس کا دل ملوث ہے اور نہ دماغ۔ شعوری سطح پر اس کا جسم موجود ہے مگر لاشعوری سطح پر وہ کسی اور کے خواب میں اپنے کپڑے اتار دیتی ہے۔

 

ابتر معاشرتی حالات جہاں زندگی کے دیگر شعبوں پر اثر انداز ہوتے ہیں، وہیں وہ جنسی آسودگی راہ میں بھی بہت بڑی رکاوٹ ہیں۔شہری روشنیوں میں وحشی خواب ایک ایسے شخص کا قصہ جو غم دوراں سے گھبرا کر جنس میں پناہ لینا چاہتا ہے مگر عین وقت پر کسی بم دھماکے کی آواز اس کی سوچوں کو منتشر اور منحرف کر دیتی ہے۔ اس نظم میں بھی شدید ذہنی کرب ہے۔ ایک ہیجان ہے جو کسی طور کم نہیں ہو رہا۔ اپنے ہم وطنوں کے دکھ اس شخص کوذہنی کرب میں مبتلا رکھتے ہیں۔ وہ شخص نہ تو ان سے پیچھا چھڑا سکتا ہے اور نہ ہی ان کو حل کر سکتا ہے۔ اسی ادھیڑ بن میں اس کی اپنی شخصیت کا استحصال ہونا شروع ہوتا ہے اور وہ لڑکھڑاتا ہوا اپنے محبوب کے بدن میں جا گرتا ہے۔

 

میں تمام راستوں سے اپنا تعاقب کرتا ہوں
اور خواب لیے تمھارے بدن میں کود جاتا ہوں

 

جنسی تلذذ اسے زندگی کے مسائل سے دور اک جنت میں لے جاتا ہے جہاں اس کی سوچوں کا منتشر پن مجتمع ہونا شروع ہوتا ہے۔ نظم کا دوسرا بند اسی آسودگی و اطمینان کا نمائندہ ہے جو شاعر کو جنس سے حاصل ہے۔، ایک شانتی کا بار بار چومنا۔ روشنی کا بانہوں میں بھرنا، کوئی سمت اجنبی نہ ہونا۔ محسوس ہوتا ہے جیسے جنسی اطمینان تمام مسائل کا حل ہے۔ لیکن عین وقت پر ہونے والا دھماکہ شاعر کو دوبارہ اسی ذہنی کرب میں مبتلا کر دیتا ہے جہاں سے وہ چلا تھا۔ ایکسٹیسی کے عین عروج پر توجہ کا منحرف ہونا ایک ناقابل بیان ذہنی فالج اور نفسیاتی عارضے کا جنم دیتا ہے جس کو ظاہر کرنے کے لیے شاعر نے یہاں قبر اور وحشی خواب جیسے استعاروں کا سہارا لیا ہے۔ جدید عہد کا ایک المیہ یہ بھی ہے کہ انسان زیادہ دیر ایک کیفیت میں نہیں رہ سکتا۔ اور کیفیات کی یہی جلد تبدیلی اس کی شخصیت کی توڑ پھوڑ کی بھی ذمہ دار ہے۔

 

زاہد امروز کی نظموں پر اٹھنے والے ممکنہ سوالوں میں سے ایک بے باکانہ اظہار کا سوال بھی ہے۔ تاہم اس کے لیے ہمیں اردو ادب کی شعری روایت میں میرا جی، راشد، فہمیدہ ریاض اور کشور ناہید وغیرہ جبکہ نثری ادب میں منٹو اور عصمت چغتائی کے نام کو بھی مدنظر رکھنا ہوگا۔ کلاسیکی شاعری میں میر جعفر زٹلی کا نام بھی اس حوالے سے ایک پیمانہ تصور کیا جاتا ہے۔ اگر یہ تمام نام اس الزام کی زد میں آتے ہیں تو زاہد کی شاعری میں میر جعفر زٹلی جیسا اظہار نہ سہی، لیکن راشد اور میرا جی سے کہیں زیادہ بے باکی موجود ہے، اور اگر اس روایت کو راستہ دیا جاتا ہے تو پھر یقینا زاہد داد کے مستحق ہیں۔

 

اس سے قطع نظر کہ اس کتاب کا اردو کی جنسی روایت میں کیا مقام ہو گا،انسانی ذہن کی گہرائیوں میں جھانکتی ہوئی نظمیں پڑھ کر یہ بات حتمی طور پر کہی جا سکتی ہے کہ یہ کتاب جدید نسل کے نفسیاتی مسائل کو سمجھنے اور ان کے حل کرنے میں ایک سنگ میل ثابت ہو سکتی ہے۔
Categories
شاعری

قومی قاتلوں کے لیے سپاس نامہ

[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

قومی قاتلوں کے لیے سپاس نامہ

[/vc_column_text][vc_column_text]

چاروں جانب اُمڈی تاریکی میں
ہم کتنے دن زندہ رہ سکتے ہیں؟
یہ وطن ہنسی کی گود نہیں
کسی قاتل کا وحشی بدن ہے

 

درد مٹنے سے پہلے پہلے
ہمیں ایک بار پھر بانٹ دیا جائے گا
جتنا جلد ہو سکے
ہمیں اپنے بچوں کو کھلونے خرید دینے چاہئیں
اپنی بیویوں اور محبو باؤں سے آخری مباشرت کر لینی چاہئے

 

چہرے کے لمبے بالوں سے
جب سوچوں کو باندھ دیا جائے گا
تو عقیدوں میں چرتی معصوم روحوں کی چیخیں
ہماری مسکراہٹیں لہولہان کر دیں گی

 

خواب بکھرنے کی آواز
ہماری نیندوں کی خاموشی تار تار کر ڈالے گی
اور ایک اند ھی صبح کے کنارے
بے رنگ دھوئیں میں تیرتے ہوئے
ہم زندگی سے ہار جائیں گے

[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]
[vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]

Categories
گفتگو

شاعری ہر جگہ موجود ہے، بس اسے دریافت کرنا پڑتا ہے

[blockquote style=”3″]

زاہد امروز پاکستان کی نئی نسل کے ایک اہم نظم نگار ہیں، نثری نظم ان کی ادبی شناخت کا حوالہ ہے۔ ان کی نظموں کے اب تک دو مجموعے “خود کشی کے موسم میں” اور “کائناتی گرد میں عریاں شام” شائع ہو چکے ہیں۔ آپ نیشنل یوتھ ایوارڈ وصول کر چکے ہیں اور طبعیات پڑھاتے ہیں۔

[/blockquote]

تصنیف حیدر: نثری نظم پر ہر تین طرف سے سوالات کی بوچھاڑ ہو تی ہے۔ اول اس کی ہیئت پر، دوسرے اِس کے وجود پر اور تیسرے اس کی شناخت پر۔ کیا مذہبی صحائف جن میں ایک خاص قسم کا ردھم بھی موجود ہوتا ہے، اپنی ہئیت کی بنیاد پر شاعری تسلیم کر لیئے جائیں گے؟

 

زاہد امروز: اس سوال کے لہجے سے یوں لگتا ہے جیسے نثری نظم ادبی عدالت میں کھڑی ایک ملزمہ ہے جس سے کوئی شعری غلطی سر زد ہو گئی کہ چاروں اطراف سے سوالات کی بوچھاڑ اور لعن طعن ہورہی ہے۔ اب اِسے اپنی ہیئت، وجود اور شناخت کے بارے میں صفائی پیش کرنا ہو۔ ایسی صورت حال تو تب پیدا ہوگی جب شاعری کے کوئی آفاقی اصول ہوں اور حضرت جبرائیل کے ہاتھوں پیغمبرانِ شعر پر نازل ہوئے ہوں۔ مجھے اس بات پر حیرانی ہوتی ہے کہ اگر شاعری محض قافیہ پیمائی اور عروض کی تنی رسی پر کرتب بازی ہے تو مختلف زبانوں میں اس کی بیسیوں اشکال کیوں کر موجود ہیں۔ میں یہاں نہ نثری نظم کی وکالت کروں گا اور نہ اس کی صفائیاں پیش کروں گا۔ یہ کام تو ہر تخلیق کار کی تخلیق خود کرتی ہے۔ ہاں البتہ ان سوالوں جوابوں کے ذریعے ہم یہ دیکھنے کی کوشش کرسکتے ہیں کہ شاعری کو کیا چیز شاعری بناتی ہے۔ شعر اور غیر شعر کی صنفی شناخت کیا محض عروض ہیں یا کچھ اور عناصر کسی خیال کو شعری پیکر عطا کرتے ہیں۔

 

مجھے اس بات پر حیرانی ہوتی ہے کہ اگر شاعری محض قافیہ پیمائی اور عروض کی تنی رسی پر کرتب بازی ہے تو مختلف زبانوں میں اس کی بیسیوں اشکال کیوں کر موجود ہیں۔
پہلی بات کہ ہئیت کوئی جامد شے نہیں۔ شاعری ہو، نثر ہو، کوئی دفتری دستاویز ہو یا عام بول چال، ہر بات کی کوئی فارم یا ہیئت موجود ہوتی ہے۔ ہم اس کی بصری ساخت کو دیکھ کر اندازہ لگا لیتے ہیں کہ اس کی صنف کیا ہے۔ چونکہ ہمارے محدود مشاہدات سے ذہنوں میں اصناف کی مخصوص ہیئتیں بن جاتی ہیں اور ہم ایک نظر دیکھتے ہی پہچان جاتے ہیں کہ یہ فلاں صنف ہے اور اس صنف کی فلاں ہیئت ہے۔ ایک صفحے پر لکھے ہوئے چند الگ الگ اشعار اور ردیف قافیہ دیکھتے ہی ہم کہہ دیتے ہیں کہ یہ تو غزل ہے۔ اسی طرح چھوٹے بڑے مصروں کے تسلسل میں لکھی ہوئی تحریر کو ہم آزاد نظم کہہ دیتے ہیں۔ یہاں تک ہیئت کا کام ختم ہو جاتا ہے اور اس کے بعد اس ہیئت کے تشکیلی اصول دیکھنے کی ضرورت پیش آتی ہے۔ جب ہم آزاد نظم پڑھنا شروع کرتے ہیں تو ہمارا ذہن ایک مخصوص آہنگ کے تابع مصرعوں کی شناخت کرنا چاہتا ہے۔ جب قاری (صرف وہ جسے عربی عروض کا علم ہو) کسی لائن یا مصرعے میں بحر کا تسلسل محسوس نہیں کر پاتا تو اسے ایک مایوسی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس کی حسِ بصرہ کو دھوکے کا گمان ہوتا ہے اور فوراً اپنا ردِ عمل ظاہر کردیتا ہے کہ صاحب! یہ تو شاعری ہی نہیں۔ البتہ وہ قاری جسے عربی عروض کا علم نہیں ہوتا وہ اس ہیئتی دھوکے کا شکار نہیں ہوتا اور نظم پڑھتے ہوئے اس سے لطف اٹھانا شروع کر دیتا ہے۔ مصرعوں کو پڑھتے ہوئے وہ خیال کی اشکال پر غور کرتا ہے۔ تشبیہات پر غور کرتا ہے، استعاروں کی گہرائی میں اترنے کی کوشش کرتا ہے۔ مصرعے کی نحوی ترتیب میں اگر بہاؤ ہے تو اسے پڑھتے ہوئے محسوس بھی کرتا ہے۔ لفظوں کے تناسب، تکرار اور تلازموں سے شعریت کا لطف اٹھاتا ہے۔ اسے ایک لمحے کے لیے بھی یہ خیال نہیں آتا کہ اس میں سارے شعری لوازمات ہونے کے باوجود یہ شاعری نہیں ہے۔

 

یہاں ہمیں سوچنا چاہئے کہ صحیح قاری کون ہوا؟ وہ جس نے محض سرسری دیکھا اور مصرعے کو عربی عروض کے تابع نہ پا کر ایک طرف جھٹک دیا یا وہ جس نے اس کے باطن میں اتر کر اُسے بغیر تعصب کے پڑھنے کی کوشش کی ؟ میں سمجھتا ہوں کہ علمی اور فکری جمود کے ساتھ ساتھ ہم حسی جمود کا بھی شکار ہیں۔ صرف شاعری نہیں، زندگی کے ہر شعبے میں ہماری تربیت کا نقص ہے کہ ہم ہر نئی چیز کو پہلے تعصب سے دیکھتے ہیں، اسے غیر مانوس پا کر اُس کا تمسخر اڑاتے ہیں۔ جب ایک محدود سے گروہ میں بات شروع ہوتی ہے۔ جو نسبتاً کھلے ذہن سے اُسے دیکھتا ہے، مکالمہ جنم لیتا ہے اور جب اس کے رد میں دلائل کم پڑ جاتے ہیں یا غیر موثر رہتے ہیں تو کچھ لوگ اُس نئی چیز کی طرف مائل ہو جاتے ہیں، کچھ بعد میں قبول کر لیتے ہیں اور باقی خاموش ہو جاتے ہیں۔ پھر جب وہ رائج ہو جاتی ہے تو بغیر اعلان کئے اُسے استعمال میں لے آتے ہیں۔ یہی کچھ آزاد نظم کے ساتھ ہوا اور اب یہ اُردوشاعری کی سب سے زیادہ توانا صنف ہے۔ اور یہی نثری نظم کے ساتھ ہوا۔ سوائے چند رجعت پسندوں کے وہ تمام شاعر جو چند سال پہلے اِس کا تمسخر اڑاتے تھے، اب نثری نظموں کی کتابیں شائع کر رہے ہیں۔ بات کہنے کا مقصد محض یہ بتانا مقصود ہے کہ ہمارا علمی رویہ محققانہ نہیں بل کہ مقلدانہ ہے۔ افسوس کہ ہم تشکیک و تحقیق و تائید کی بجائے تحقیر و تائیدو تقلید پر عمل کرتے ہیں۔

 

شاعری میں استعاروں، علامتوں، تشبیہوں، تلازمات اور امیجز کے ذریعے ایک خیال کی تجسیم ہوتی ہے۔ یہ تجسیم ظاہری معنی کے ساتھ کئی باطنی معنی پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
پہلی بات پر واپس آتے ہیں۔ کسی بھی خیال کا شعری پیکر بحر یا مخصوص صوتی آہنگ سے جنم نہیں لیتا۔ اس کے لوازمات کچھ اور ہیں۔ آپ نے کہا کہ مذہبی صحائف بھی ایک خاص ردھم کی وجہ سے شاعری تسلیم کیے جاسکتے ہیں۔ معاملہ یہ ہے کہ روز مرہ کی زبان ہو، سرکس میں کرتب دکھانے والا مداری ہو، سبزی منڈی میں سبزی فروش ہو یا مسجد کے سپیکروں سے اُٹھتی ہوئی سریلی آواز ہو، سب ایک ردھم رکھتی ہیں۔ ان میں شعری ردھم سے زیادہ موسیقیت ہوتی ہے لیکن یہ شاعری نہیں قرار دی جا سکتیں۔ کیوں کہ شاعری میں استعاروں، علامتوں، تشبیہوں، تلازمات اور امیجز کے ذریعے ایک خیال کی تجسیم ہوتی ہے۔ یہ تجسیم ظاہری معنی کے ساتھ کئی باطنی معنی پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ شاعری میں موسیقیت لفظوں کو ایک خارجی زنجیر (بحر) میں باندھنے سے نہیں بلکہ خیال، لفظ اور لہجے کی ہم آہنگی اور تکرارِ اصوات سے پیدا ہوتی ہے جسے کچھ ناقدین زبان کا نامیاتی آہنگ کہتے ہیں۔ ہمارے ہاں نثری نظم اور نثر میں ہیئت کا دھوکہ کیوں پیدا ہوتا ہے جب کہ یہ آزاد نظم کے انداز میں لکھی جاتی ہے، اس پر آگے چل کر بات کرتے ہیں۔

 

جہاں تک معاملہ وجود اور شناخت کا ہے، اردو میں نثری نظم بھرپور انداز سے لکھی جا رہی ہے اور اس میں کئی شاندار نظمیں لکھی گئی ہیں۔ غزل ہو یا نظم، بری شاعری ہر جگہ موجود ہے۔ یہ سوال اب ختم ہو چکا ہے کہ اس کی شناخت یا وجود متنازع ہے۔ وہی لوگ اِس پر اٹکے ہوئے ہیں جن کے ہاں روایت کا تصور بہت محدود اور غلط ہے، اور ان کی یہ رجعت پسندی خوف اور علمی کمتری کے باعث ہے۔

 

تصنیف حیدر: آپ کیسے نثری نظم کو دوسری شعری اصناف سے علاحدہ کریں گے؟ اور کیا اب تک دوسری زبانوں یا اُردو میں بھی اسے کوئی بڑی شناخت حاصل ہو پائی ہے؟

 

زاہد امروز: بالکل اُسی طرح جس طرح آپ آزاد نظم کو دوسری اصناف سے علاحدہ کرتے ہیں۔ میرے نزدیک نثری نظم ایک گمراہ کن اصطلاح ہے اور آزاد نظم کو بہت محدود معنوں میں استعمال کیا گیا ہے۔ میں اِس غیر عروضی نظم کو بھی آزاد نظم ہی سمجھتا ہوں۔ دیکھئے، لفظ “آزاد” بہت وسعت کا حامل ہے۔ ہمارے ہاں آزاد نظم غزل سے پیدا نہیں ہوئی۔ اس سے پہلے یہاں کے مقامی ادب میں نظم کی ہیئتیں موجود تھیں۔ جوں جوں زمانہ بدلا، معروضی حالات تبدیل ہوئے تو شعری اظہار میں بھی تبدیلی آئی۔ نظم کے موضوعات، کرافٹ، الفاظ، لہجہ، ہیئت اور زبان مسلسل تبدیل ہوتے رہے ہیں۔ اس تبدیلی کا سب سے نمایاں رجحان موضوعات اوراس کی ہیئتی آزادی کا ہے۔ خیال کی وسعت کو سمونے کے لیے نظم نے قافیہ ردیف سے آزادی حاصل کی۔ پھر لہجے اور آہنگ کے امکانات بڑھے اور عروضی ارکان کی عددی بندش سے آزادی حاصل کی تو اسے آزاد نظم کہہ دیا گیا۔ پھر یہ محسوس کیا گیا کہ شاعری صرف خارجی آہنگ سے متعین نہیں ہوتی۔ بلکہ یہ ایک بوجھ بھی ہو سکتا ہے جو خیال کی تجسیم پرایک میکانکی رنگ مسلط کر دیتا ہے۔ خلیل بصری کے متعین کردہ عروض جو کلاسیکی عربی ادب اور پھر فارسی ادب کے ذریعے اُردو تک پہنچے، جدید اُردو کی شعری ضروریات اور صوتی آہنگ میں سہولت کی بجائے رکاوٹ پیدا کرتے ہیں۔

 

خیال کی وسعت کو سمونے کے لیے نظم نے قافیہ ردیف سے آزادی حاصل کی۔ پھر لہجے اور آہنگ کے امکانات بڑھے اور عروضی ارکان کی عددی بندش سے آزادی حاصل کی تو اسے آزاد نظم کہہ دیا گیا۔
خیال اپنے اظہار کے لیے ایک مخصوص لفظ کا انتخاب کرتا ہے۔ بعض اوقات تو یہ لفظ بحر کے صوتی دائرے پر پورا اُترتا ہے اور بعض اوقات نہیں اُترتا۔ تخلیقی عمل میں سب سے بنیادی شے احساس کا خیال میں ڈھلنا اور خیال کا لفظ کے لبادے میں تشکیل پانا ہے۔ یاد رہے کہ تخلیق وقوع پذیر ہی اس طرح ہوتی ہے کہ زندگی سے کشید کیے گیے تجربے اور مشاہدے ایک ایسا احساس پیدا کرتے ہیں جو بالکل نیا ہوتا ہے یا ایک نئی شکل میں سامنے آتا ہے۔ اس غیر مرئی احساس کو ہمارا ذہن مکمل خیال میں ڈھالتا ہے اور خیال کسی خارجی ڈھانچے (Text)میں ڈھل کر مجسم ہو جاتا ہے اور غیر طبعی حالت سے طبعی حالت میں آ جاتا ہے۔ اس ٹیکسٹ کی کوئی بھی شکل ہو سکتی ہے۔ ’لفظ‘ اُس کی محض ایک شکل ہے۔ خیال جب شعری پیکر میں ڈھلتا ہے تو منتخب کردہ لفظ میں مجسم ہوتا ہے۔ اس تخلیقی عمل میں سب سے زیادہ مقدم عنصر خیال ہے جو غیر طبعی حالت سے طبعی حالت میں منتقل ہوتا ہے۔ شعری خیال کو پُر تاثیر بنانے کے لیے ایک آہنگ دریافت کیا جاتا ہے۔ ممکن ہے کہ خیال ایک ایسے آہنگ میں مجسم ہو جوعربی کے متعین کردہ محدود عروض کے تابع نہ ہو۔ اگر شاعری کے لیے عروض کی شرط قایم رکھی جائے اور خیال کا لفظی پیکر اُس پر پورا نہ اترتا ہو تو اسے بدلنا پڑتا ہے۔ اس طرح شعر یا مصرعے کا تخیلاتی، جذباتی اور معنوی سرمایہ خسارے کا شکار ہو جاتا ہے اور اس کی جگہ ایسا لفظ لگانا پڑتا ہے جو اس ساری گہرائی اور تخلیقیت سے خالی ہوتا ہے۔ آزادی کی اگلی منزل میں نظم نے عروض سے بھی چھٹکارا حاصل کیا تو اِسے کم فہمی میں نثری نظم کہا گیا۔ اِس سے ایسی بحث شروع ہو ئی جس کا زیادہ تر حصہ بحث برائے بحث پر مشتمل ہے۔ حالانکہ نظم میں اراکین کی عددی بندش سے آزادی کو آزاد نظم کہا جا سکتا ہے تو پھر نظم میں عروضی جبر سے آزادی کو آزاد نظم کیوں نہ کہا جائے؟

 

دراصل اِس الجھن کی ایک بڑی وجہ اس ہیئت کے یہاں متعارف ہونے کے ابتدائی عرصے میں دئیے گیے ناموں میں ہی مضمر ہے۔ 1948ء میں اپنے رسالے ’خیال’ میں میرا جی نے بسنت سہائے کے فرضی نام سے جو چند نظمیں لکھیں انہیں نثری نظموں کا نام دیا۔ وہ بودلیئر سے متاثر تھے۔ کسی ادب میں جب کوئی بھی نیا شعری تجربہ کیا جاتا ہے تو اسے الگ شناخت دینے کے لیے ایک نام متعین کرنا پڑتا ہے۔ اگر یہ شعری تجربہ کامیاب ہو اور اتنا مختلف ہو کہ پہلے سے قایم ہیئتوں کی حدود کو توڑ دے تو ایک الگ ہیئت کے طور پر تسلیم کیا جاتا ہے۔ نثری نظم کے ساتھ اس مقام پر یہ معاملہ ہوا کہ جب فرانسیسی شاعری میں نثری نظمPoeme en prose کی صورت ایک نیا شعری رجحان شروع ہوا تویہ ایک انقلابی تبدیلی تھی جس نے روایتی شاعری کی دقیانوسیت کو منہدم کیا اور انسانی جذبے اور شاعری کو اظہار کی نئی راہ دکھائی۔ لیکن فرانس میں بودلیئر ، راں بو اور دوسرے نمائندہ شعراء نے نثری نظم Poeme en prose نثری پیرائے میں پیراگراف کی شکل میں لکھی گئی اور یہ شاعرانہ نثر poetic prose کی ارتقائی شکل تھی۔

 

نظم میں اراکین کی عددی بندش سے آزادی کو آزاد نظم کہا جا سکتا ہے تو پھر نظم میں عروضی جبر سے آزادی کو آزاد نظم کیوں نہ کہا جائے؟
اردو ادب میں شاعری کا یہ رجحان فرانسیسی ادب سے کسی حد تک تو متاثرہوا لیکن اس نے زیادہ اثر اور ہیئتی ساخت انگریزی ادب میں لکھی جانے والی نظم سے قبول کی۔ انگریزی میں نظم کی یہ ہیئتی آزادی، آزاد نظم(Vers Libre) کے نام سے بیسویں صدی کی دوسری دہائی میں شروع ہوئی جو فرانسیسی علامت نگاری اور جاپانی شعری ہیئتوں Tankaاور Haikai سے متاثر تھی۔ آزاد نظم(Vers Libre) کے بانیوں میں ایذراپاؤنڈ، ٹی ایس ایلیٹ اور ٹی ای ہولم کا بنیادی کردار ہے۔ اردو والوں نے انہیں زیادہ پڑھا اور ان کی جدیدیت کی پیروی کی۔ ایذرا پاؤنڈ اور ٹی ای ہولم نے کلاسیکی انگریزی شاعری سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لیے نامیاتی ہیئت(Organic Form) کی بات کی جسے انیس ناگی اور ساٹھ، ستر کی دہائی کے نثری نظم کے حامیوں نے نئی شاعری کے بنیادی جواز کے طور پر پیش کیا۔ وہی اصول جو پاؤنڈ نے آزاد نظم(Vers Libre) کے لیے متعین کیے، اردو نثری نظم نگاروں نے اپنائے۔ اسی لیے اردو نثری نظم تکنیکی اور ہیئتی اعتبار سے فرانسیسی نثری نظم (Poeme en Prose) سے زیادہ جدید انگریزی آزاد نظم(Vers Libre) کے قریب ہے۔ اور انگریزی آزاد نظم کے تین بنیادی اصولوں میں سے ایک یہ ہے کہ مصرعے میں ردھم پیدا کرنے کے لیے میٹر (Meter) جو اردو میں عروض کہلاتے ہیں کا سہارا لینے کی بجائے زبان کے نامیاتی آہنگ کو اپنایا جائے جو موسیقی کے زیادہ قریب ہے۔

 

تصنیف حیدر: غزل میں یا پابند و آزاد نظم میں بھی خیال کو پیش کرنے کے لیے جس سیدھے راستے کا تعین کیا جاتا ہے اس میں غیر تربیت یافتہ قاری کے لیے بھی کبھی کبھی غزل یا نظم میں موجود شعریت کی پہچان میں دیر نہیں لگتی، مگرنثری نظم میں لفظوں کی الٹ پھیر ہا اہمال و اشکال سے کبھی کبھی تربیت یافتہ قاری بھی الجھن کا شکار ہو جاتا ہے۔ کیا واقعی ایسی کوئی بات ہے؟

 

زاہد امروز: رہا سوال اِس کے اہمال و اشکال سے پیدا ہونے والی الجھن کا، تو اس کی وجہ یا توکسی نظم کا ناقص ہونا ہے یا پھر قاری کا کم فہم ہونا ہے۔ دونوں صورتیں ہو سکتی ہیں۔ یہ بھی ممکن ہے کہ شاعر جو کچھ نظم کی شکل میں لکھ رہا ہے، اس میں وہ صلاحیت نہ ہو اور نظم کے رموز کو سمجھنے اور برتنے میں کمزور ہو جس سے ایسی الجھن پیدا ہوتی ہے۔ اور یہ بھی ممکن ہے کہ قاری ایک خاص طرح کی شاعری پڑھنے کا عادی ہے اور اسے مختلف طرز کی شاعری پڑھنے کی تربیت نہیں ہے یا اُس کو ضرورت نہیں ہے۔ اچھی شاعری کسی بھی ہیئت میں ہو اگر قاری اس سے ہم آہنگ ہوجاتا ہے تو پھر الجھنیں خود ہی سلجھ جاتی ہیں ۔ ہر تحریر کا اپنا قاری ہوتا ہے۔ کسی پر غزل نہیں کھلتی، کسی پر نظم اور کسی کے لیے تو پوری شاعری ہی ایک نہ سمجھ آنے والی عجیب دنیا ہوتی ہے۔

 

تصنیف حیدر: کیا نثری نظم کے لیے کلوز ریڈنگ یا بین السطور کو جاننے یا سمجھنے کی کوشش دوسرے فن پاروں کے مقابلے میں ایک چیلنج کی حیثیت رکھتی ہے؟ نثری نظم کے ایک اہم شاعر کے طور پر آپ کا اپنا شعری تجربہ اور ادراک کیسے ممکن ہو پاتا ہے اور کیا آپ خیال کو اس طور پر نظم کرنے سے مطمئن ہو جاتے ہیں؟

 

زاہد امروز: میرے خیال میں ایسا نثری نظم کے لیے مخصوص نہیں ہے۔ کوئی بھی صنف یا ہیئت ہو، اگر اس میں خیال اور اظہار کی پیچیدگیاں موجود ہیں تو اس کی کلوز ریڈنگ یا بین السطور مطالعہ زیادہ توجہ کا طالب ہو گا۔ بہت سے افسانے، ناول اور کہانیاں ایسے علامتی نظام رکھتی ہیں کہ انہیں کئی بار پڑھنے کے بعد بھی پوری طرح سمجھنا نہایت مشکل ہوتاہے۔ غالب کے کئی اشعارکی آج تک مکمل تفہیم ممکن نہیں ہو سکی۔ سو بین السطور مطالعہ کی مشکلات کا دارو مدار محض ہیئت نہیں بلکہ فن پارے کے فکری اور تکنیکی نظام پر ہوتا ہے۔ بہت سی خوبصورت اور کامیاب نثری نظمیں (نثری نظم کا لفظ میں مجبوراً استعمال کر رہا ہوں کیونکہ یہ رائج ہو چکا ہے، لیکن میرے نزدیک اسے غلط العام سمجھنا چاہئے، میں اسے آزاد نظم ہی کہوں گا) نہایت سادگی سے کہی گئی ہیں جنہیں سمجھنے میں کسی الجھن اور مشکل کا سامنا نہیں کرنا پڑتا اور ان میں سحر انگیزی موجود ہوتی ہیں۔ ذی شان ساحل کی بہت سی نظمیں اس کی مثالیں ہیں۔

 

اگر آپ چاہتے ہیں کہ جدید نظم میں آج کی زندگی کے تضادات، مشکلات، تعقلات، الجھنیں اور کثیر جہتی سچائیاں پیش کی جانی چاہئیں، تو پھر نظم سیدھی سادی نہیں ہو سکتی۔
سوائے چند نظموں کے کراچی کے نثری نظم لکھنے والوں کے ہاں (میں اسے کراچی اسکول آف نثری نظم Karachi school of Prose Poem کہوں گا جنہوں نے قمر جمیل کی بیٹھک سے جدید نظم کی ترغیب حاصل کی) سارا شگفتہ نظموں اور عذرا عباس کی پہلی کتاب ’نیند کی مسافتیں‘ اور افضال احمد سیّد کی چند نظموں کے علاوہ عموماً نظم سیدھی سادی ہوتی ہے جس میں نہ کرافٹ کی پیچیدگی ہے اور نہ خیال کی کثیر جہتی کہ نظم سمجھ نہ آسکے۔ ان کی نظموں میں ایک متدرج استعارہ Progressional metaphor ہوتا ہے جس کے گرد پوری نظم تعمیر ہوتی ہے۔ اس کی مثالیں سعید الدین کی نظمیں ’کھرنڈ‘ اور’چیونٹیاں‘ ہیں۔ اِن شعراء کی شاعری نسبتاً سادہ اور سیدھی ہے جس میں وہ تخیلاتی اور لسانی پیچیدگی نہیں جو جدید نظم میں عموماً دیکھی جاتی ہے۔ یہ بات کسی حد تک درست ہے کہ جن نظموں میں علامتی، استعاراتی اور تشبیہات کا نظام پیچیدہ (Complex)اور گہرا ہوتا ہے انہیں سمجھنے کے لیے زیادہ کوشش درکار ہوتی ہے۔ کیونکہ ایسی نظم میں بہت سے استعارے، امیجیز، تمثالیں ا ور تشبیہیں استعمال ہوتی ہیں جو اس کو تہہ دار بنا دیتی ہیں۔ اگر شاعر اپنی نظم میں استعمال ہوئے اِن شعری لوازمات سے باخبر ہے اور استعارے اور علامتیں خیال کے تسلسل کے ساتھ مربوط ہیں تو پھر نظم کو سمجھنا مشکل نہیں۔ بس اِس کے لیے قاری کی دلچسپی کا ہونا لازمی ہے۔ نظم میں امیج اپنی کلّیت رکھتا ہو اورمصرعہ یا لائن پڑھتے ہوئے ایک واضح پُرکیف تصویر آنکھوں کے آگے تیر جائے۔ ورنہ دھندلا اور مبہم امیج خیال کے ادھورے پن کی وجہ سے بھی ہو سکتا ہے۔ اگر آپ چاہتے ہیں کہ جدید نظم میں آج کی زندگی کے تضادات، مشکلات، تعقلات، الجھنیں اور کثیر جہتی سچائیاں پیش کی جانی چاہئیں، تو پھر نظم سیدھی سادی نہیں ہو سکتی۔ اسے سمجھنے کے لیے اور ہم آہنگی پیدا کرنے کے لیے اپنے معروض سے وابستگی اور نئی شعری حساسیت و جمالیات ضروری ہیں۔

 

جس طرح زندگی لاتعداد امکانات کا نام ہے اور ہم اپنے ارد گرد ہی غور کریں تو سینکڑوں طرز کے نمونے دیکھنے کو ملتے ہیں۔ اسی طرح نظم یا شاعری بھی کسی بندھے ہوئے شعری سانچے تک محدود نہیں رہی۔ اس میں ہیئت، خیال کی پیش کش اور کرافٹ کے اُتتے ہی امکانات ہو سکتے ہیں جتنے انسانی ذہن اپنی تخلیقی اُپچ سے پیدا کر سکتا ہے۔

 

کچھ شعری لوازمات میرے لاشعور یا تخیل سے آتے ہیں اور کچھ میرا ذہن سامنے پڑی چیزوں سے اٹھا لیتا ہے اور ایک لڑی میں پروتے ہوئے مرکزی خیال تشکیل پاتا ہے۔ یہ سارا عمل کہیں سے بھی شروع ہو سکتا ہے۔
آپ نے پوچھا کہ میراشعری تجربہ اور ادراک کیسے نظم تخلیق کرتا ہے۔ تو اِس کے لیے میرے پاس کوئی فارمولا نہیں ہے۔کبھی کبھی کوئی احساس، کوئی خیال سوچ کی تہوں میں گونجتا رہتا ہے اور رفتہ رفتہ مصرعے میں ڈھلنے لگتا ہے۔ کبھی کسی لمحے کی شدت میں، کسی بات، مشاہدے یا تجربے کی بازگشت سے اچانک چنگاری کی طرح پیدا ہوتا ہے اور کبھی بالکل داخلی خاموشی میں لہر کی طرح نمایاں ہوتا ہے۔ کوئی بھی داخلی یا خارجی چیز اِسے جنم دیتی ہے۔ جیسے خیالات کسی سوچ کے بخارات ہوں اور آہستہ آہستہ الفاظ کی صورت جمنے لگیں۔ ایسی حالت میں کبھی تو میں بہت شانت ہوتا ہوں اور کبھی بہت بے چین۔ کبھی بالکل تنہائی، پتھر جیسی خاموشی درکار ہوتی ہے اور کبھی توکچھ فرق ہی نہیں پڑتا کہ کہاں بیٹھا ہوں۔ بازار میں چلتے ہوئے، کسی ڈھابے پر بیٹھے ہوئے یا گفتگو کے درمیان، کہیں سے کوئی اشارہ، کوئی نظر آ جانے والی معمولی چیز ایک تحرک پیدا کرتی ہے اور جیسے خیالات کی لینڈ سلائیڈنگ شروع ہوجاتی ہے اور نظم بنتی ہے۔ اس سارے عمل میں میَں کبھی نہیں سوچتا کہ مصرعہ کیسے موزوں کر رہا ہوں۔ کبھی یہ خود بہ خود کسی خارجی آہنگ میں آتا ہے اور کبھی اِس کا اپنا ہی ردھم ہوتا ہے۔ میں اسے زبردستی بدلنے کی کوشش نہیں کرتا۔ احساس کے خیال میں ڈھلنے اور پھر نظم کی صورت اختیار کرنے کے دوران میرے استعارے، تشبہیات اور علامتیں اپنے ارد گرد سے ہی آتی ہیں۔ اگر کوئی شے اُس خیال کی استعاراتی یا علامتی شکل بن رہی ہو تو میں اسے نظم میں برت لیتا ہوں۔ کچھ شعری لوازمات میرے لاشعور یا تخیل سے آتے ہیں اور کچھ میرا ذہن سامنے پڑی چیزوں سے اٹھا لیتا ہے اور ایک لڑی میں پروتے ہوئے مرکزی خیال تشکیل پاتا ہے۔ یہ سارا عمل کہیں سے بھی شروع ہو سکتا ہے۔ کسی خبر سے، کسی جذباتی کیفیت کے پیدا ہونے سے، کسی مشاہدے سے یا کبھی کچھ پڑھتے ہوئے۔

 

مثلاً آج کل میں جہاں رہتا ہوں اُس پلازے کی چھت پر کبوتروں کے چبوترے ہیں۔ شہر کے وسط میں ہر جانب پھیلی گنجان تنگ گلیوں کو پانچویں منزل سے دیکھتے ہوئے کسی سرکٹ کی طرح لگتی ہے۔ آسمان کو دیکھو تو ٹیلی کمیونیکیشن کمپنیوں کے ٹاور ہیں، ملٹی نیشنل کمپنیوں کی کثیر منزلہ عمارتیں ہیں۔ نیولبرل معیشت کے نمائندے، معاشی استحصال کے علاقائی مراکز ہر طرف پھیلے نظر آتے ہیں۔ یا پھر مسجدوں کے گونجتے ہوئے ان گنت مینار ہیں جو مذہبی استحصال اور جبر کو قایم رکھنے کے مراکز ہیں۔ نیچے گلیوں ، بازاروں میں پھرتی مجبو ر زندگی مخصوص قوتوں کے متعین کردہ معیا رات، اقدار اور خواہشات کی تکمیل کرتی ماری ماری بے بس پھر رہی ہے۔ ایک کتا سیاہ رنگ بکر ی کا سر چبا رہا ہے جو کسی نے بلائیں ٹالنے کے لیے صدقہ کر کے پھینکا ہے۔ ایک عورت جعلی چوٹ کا مکر کر کے زندگی کی بھیک مانگ رہی ہے۔ چھت کی منڈیر پر ایک دو بلیاں آتی ہیں اور کبوتروں کو تاڑ کر چلی جاتی ہیں۔ ایک تماشہ ہے، ایک جبر ہے جو مسلط ہے۔ یہی اس کا حسن ہے اور یہی اس کی بدصورتی۔ میں ایک شام چھت پر بیٹھا آسمان کی طرف دیکھ رہا تھا کہ خود بہ خودہی اِس احساس سے، اِس سوچ سے ایک اُداسی بھر گئی اور میں نظم لکھنے لگا۔ وہ نظم یہاں پیش کر رہاہوں تاکہ آپ جان سکیں کہ میرا شعری تجربہ کیسے نظم بنتا ہے۔

 

ہم شہر کی خفیہ جیب میں گر جاتے ہیں

 

اِن شہروں میں زندگیاں تو مرغی کاڈربہ ہیں
دن، جیسے دانوں کا ایک کٹورا
جس کو جیون بھرہم ختم نہیں کر سکتے

 

ڈربے سے باہر بھی توپھندے ہیں!
حِرص بھری بلیوں کے
بھوک زدہ چیلوں کے!

 

سورج کے پیچھے اُکھڑے پلستر کی دیوار سا بادل ہے
اُس کے آگے مسجد کے مینار ہیں
یا پھر ٹیلی فون کے ٹاور
اُس سے آگے جانے کی کوئی راہ نہیں ہے!

 

آسمان کے نیچے ہر جانب
چھتوں، محلوں اور گلیوں کا سرکٹ ہے
یوں لگتا ہے
دنیا ایک کروڑ مربع میل پہ پھیلا بجلی گھر ہے
اِس سے ہم بھاگ نہیں سکتے ہیں

 

جینے کی کوشش میں جب ہم جلدی کرتے ہیں
ننگی تار سے جھولتا کّوا بن جاتے ہیں
جس کو بچے پتھر مار گرا لیتے ہیں
حرص کی بلی جس کو
شہر کی خفیہ جیب میں چھپ کر کھا جاتی ہے

 

نظم لکھنے کے بعد میں اُس پر اسی طرح کام کرتا ہوں جیسے لوگ کہانی، افسانے یا غزل کی نوک پلک درست کرتے ہیں، مصرعے کاٹتے ہیں، کبھی کبھی کوئی لفظ بدل دیتا ہوں، اضافی لائنیں، الفاظ ختم کر دیتا ہوں۔ کوئی بات دوہرائی جا رہی ہو،غیر ضروری ہو، کم اہم ہو تو اسے ختم کر دیتا ہوں۔ لیکن نظم لکھنے کے بعد نظم کی کرافٹ کا عمل میکانکی نہیں ہونا چاہئے۔ اِسے کسی مضمون یا کسی دستاویز کی طرح پروف ریڈ نہیں کیا جانا چاہئے۔ کیونکہ کرافٹ کے عمل میں بھی ایک ایسی کیفیت درکار ہے جو تخلیقی لمحوں میں ہوتی ہے۔ ورنہ تو اِس میں وہی مصنوعیت در آئے گی جو شعری احساس کو آلودہ کر دیتی ہے۔

 

تصنیف حیدر: کیا اچھی نثر میں شاعرانہ خصوصیتیں موجود نہیں ہوتیں، اگر ہوتی ہیں یا ہو سکتی ہیں تو پھر نثری نظم کو اس سے علاحدہ کیوں تصور کیا جائے؟ اس صورت میں تو بہت سے بہترین ناول نثری نظم کے نمونے کے طور پر پیش کیے جا سکیں گے۔ معاف کیجیے گا کہ میں ایک دفعہ پھر ہیئت کی طرف آپ کا دھیان کھینچ لایا ہوں۔

 

شاعرانہ خصوصیات یا شعری عناصر محض نثر میں نہیں بلکہ فن کار کے تخلیقی ذہن میں موجود ہوتے ہیں جو ہر اُس صنف میں در آتے ہیں جنہیں وہ چھوتا ہے۔
زاہد امروز: اوپر سوالوں میں جتنی باتیں ہوئیں اس کے بعد نثری نظم کو آزاد نظم سے الگ کہنا جواز نہیں رکھتا۔ بہر حال آپ کا سوال کہ اچھی نثر میں شاعرانہ خصوصیتیں ہوتی ہیں تو اسے شاعری سے الگ کیوں کرنا چاہئے، پر ایک نظر ڈالتے ہیں۔ یہ سوال ہم آج اس لیے اٹھا رہے ہیں کہ ہمارا ادراک اور شعور اس سطح پر پہنچ چکے ہیں کہ اصناف کے تشکیلی عناصر کا کھوج لگا سکتے ہیں۔ دیکھو، شاعری کوئی بہشت کی نہر تو ہے نہیں کہ اسے صرف مخصوص مقام پر پہنچ کر ہی حاصل کیا جاسکتا ہے اور نہ یہ شجرِ مقدس ہے کہ صرف منتخب کردہ لوگ ہی اسے چھو سکتے ہیں۔ یہ تقدیسی نظریات اب بے معنی ہیں۔ شاعری تو ہر جگہ موجود ہوتی ہے۔ بس اسے دریافت کرنا پڑتا ہے۔ شاعرانہ خصوصیات یا شعری عناصر محض نثر میں نہیں بلکہ فن کار کے تخلیقی ذہن میں موجود ہوتے ہیں جو ہر اُس صنف میں در آتے ہیں جنہیں وہ چھوتا ہے۔ بعض لوگ عام گفتگو میں ایسے خوبصورت جملے بولتے ہیں یا کبھی ایسا لفظ یا خیال پیش کرتے ہیں کہ ہمیں کہنا پڑتا ہے کہ کیا شاعرانہ بات کہی۔

 

اگر توجہ کی جائے تو روز مرہ کے غیر شعری مقامات پر آپ کو شعری عناصر نظر آئیں گے۔ مثلاً آپ بازار سے گزر رہے ہیں تو پھل فروش آواز لگاتا ،شہد بھرے سیب، خربوزہ کھوئے ملائی والا وغیرہ۔ اب یہ عام بول چال میں شعری عنصر کی بہت سامنے کی مثال ہے۔ وسطی پنجاب میں جگت بازی عام ہے۔ ہر ہر بات کو گھما کر بلاواسطہ طور پر بیان کیا جاتا ہے کہ اس سے ذہن میں طرح طرح کی تصاویر بنتی ہیں اور لطیفے کی صورت پیدا ہوتی ہے۔ مثلاً ایک آدمی کہتا ہے تمہاری شکل ایسے ہے جیسے رضائی سے پاؤں باہر نکلا ہوا ہو۔ یا عام گفتگو میں ہم کہتے ہیں دیکھو فلاں اتنا موٹا ہے کہ تربوز بن گیاہے۔ اب یہ تشبیہات اور استعارے ہی ہیں جو شعری لوازمات ہیں۔ جیسے ابھی آپ نے اس سوال میں بولا کہ ’آپ کا دھیان کھینچ لایا ہوں‘۔ دھیان کھینچ لانا بھی شاعرانہ بات ہے۔ لیکن ہم انہیں شاعری نہیں کہتے۔ کیونکہ گفتگو میں ایسے عناصر کا استعمال محض کسی ایک نقطے کی طرف اشارہ کرنا ہوتا ہے۔ اس میں خیال کا کوئی مربوط شعری نظام قایم کرنا مقصود نہیں ہوتا۔ انسانی مشاہدے کے ذخیرے میں سے اٹھائی گئی مختلف اشکال کسی بات کی تفہیم وترسیل کے لیے استعمال میں لائی جاتی ہیں۔ شاعری میں بھی اسی ذخیرے کو ایک اور انداز سے برتا جاتا ہے۔ نثر میں بیانیہ غالب ہوتا ہے اور تشریحی لہجہ اپنایا جایا جاتا ہے جب کہ شاعری میں اس کے متضاد کیفیت ہوتی ہے۔ خیال کی شعری تجسیم اور غیر شعری تجسیم بالکل الگ طرح ہو تی ہیں۔ اس کا انحصار محض زبان کے نثری اور غیر نثری ہونے پر نہیں۔ ہر نثر غیر شاعری نہیں اور ہر شاعری غیر نثر نہیں۔

 

شاعری اور نثر میں کوئی اچھوت برہمن والی حد بندی نہیں۔ یہ خیال کے اظہار کی مختلف صورتیں ہیں۔ کچھ لوگ اسے سخت اصولوں میں بندھی ہوئی تصور کرتے ہیں اور کچھ سمجھتے ہیں کہ یہ ڈھیلی ڈھالی اور آزاد ہوتی ہیں۔
شاعری اور نثر میں کوئی اچھوت برہمن والی حد بندی نہیں۔ یہ خیال کے اظہار کی مختلف صورتیں ہیں۔ کچھ لوگ اسے سخت اصولوں میں بندھی ہوئی تصور کرتے ہیں اور کچھ سمجھتے ہیں کہ یہ ڈھیلی ڈھالی اور آزاد ہوتی ہیں۔ آج ہم آرٹ کی جس سطح پر کھڑے ہیں، ہماری جمالیات کلاسیکی آرٹ کے اصولوں سے مختلف ہے۔ ہمارے اِرد گرد رونما ہونے والی زندگی، اس کی پیچیدگیاں، مسائل، تہہ داری اور اس کی خوبصورتیاں اور بدصورتیاں بدل رہی ہیں۔ آرٹ ان سب تبدیلیوں سے لاتعلق نہیں رہ سکتا۔ وہ ان ہی عوامل سے وابستہ ہو کر انہیں اظہار میں لاتا ہے اوراسی معروض سے اپنی جمالیات پیدا کرتا ہے۔ اب ادبی ہیئتیں جامد نہیں بلکہ سیّال ہیں اور ایک دوسرے میں مدغم ہوتی جا رہی ہیں جن سے اظہار کے نئے امکانات پیدا ہوتے ہیں۔ ایک ناول کو شعری لہجے میں بھی لکھا جاسکتا ہے۔ ایک نظم کو پیراگراف میں ابواب کی صورت میں بھی لکھا جاسکتا ہے۔ یہ تجربات کوئی نئے نہیں، ہمیشہ سے ہوتے آئے ہیں۔ یہ سب فن کار کی اپنی ترجیحات اورفنی صلاحیتیوں پر منحصر ہے کہ وہ اپنا اظہار کرنے کے لیے کس صورت کا انتخاب کرتا ہے۔ اس کا فیصلہ تو قاری خود کرے گا کہ وہ اس فن پارے سے کیا حاصل کرتا ہے۔ فن کار اِس کا ذمہ دار نہیں۔ یہی ہیئتوں کا ارتقاء ہے اور تخلیقی اظہار کے نئے امکانات کی دلیل ہے۔
Categories
شاعری

میں تیری خوشی میں خوش ہو جاؤں

[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

میں تیری خوشی میں خوش ہو جاؤں

[/vc_column_text][vc_column_text]

میں تیری خوشی میں خوش ہو جاؤں
لیکن دنیا!
جب تو کووّں کی آواز میں گاتی ہے
چڑیوں کی چہکار کا رنگ
ترے کپڑوں پر مدہم پڑ جاتا ہے
تیرے چہرے کی جھریوں میں
مَیں کرنیں گوندھنے آتا ہوں
تو دھوکے سے جلتا سورج میری جیب میں رکھ دیتی ہے
مخمور ہوا کی دھیمی آہٹ میں جب شام ٹہلتی ہے
میں تیرے ساتھ لپٹ کر
تیرے جُوڑے میں مہکے مہکے پھول سجانا چاہتا ہوں
لیکن تو چہرے پہ غلاظت مل لیتی ہے
تو اپنی عیّار ہنسی سے
شفاف دلوں کی ننھی خوشیاں ڈس لیتی ہے

 

چم چم کرتی بھری بھرائی دنیا!
تیری سنگت بڑی ہی ظالم دشمن ہے
میں تجھ کو گلے لگا لوں لیکن
تیری قبا میں پوشیدہ ہے
سب چوری کا مال
تیری جھلمل سطح کے نیچے
پھیلا ہے مایا کا جال

 

اگر ترے سینے کی گولائیاں
گوتم کےَ سر جیسی ہوں
میں تیری خوشی میں خوش ہو جاؤں

[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]

Categories
شاعری

گلشن پارک میں ایسٹر

[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

گلشن پارک میں ایسٹر

[/vc_column_text][vc_column_text]

کتنی آوازیں روزانہ تمہیں بلاتی ہیں
کام میں گم
دفتر کی میزوں میں دھنسے ہوئے
تم ان کو سُن نہیں سکتے

 

زنگ آلودہ جھولوں کی چُر مُر چیخیں
بچوں کے دل میں گرتی رہتی ہیں
تم ان کو سُن نہیں سکتے

 

رات اور دن
زندگیوں کی یک طرفہ سڑکوں پرکھڑے درختوں کی مانند گزرتے ہیں

 

تم رُکتے ہو
بازاروں میں
گرجے میں
مسجد میں
یا روشن بورڈوں والے سینما گھروں کے باہر
لیکن بچوں کے پارک میں
ٹوٹی پینگ مرمت کرنے کبھی نہیں رکتے ہو

 

ٹی وی پر روزانہ خبریں سنتے ہو
زہر زدہ چہروں کی
اُڑے ہوئے خود کُش جسموں کی
اور کچرے میں بکھرے انسانی اعضاء کی
چائے کے وقفے سے بھی کم
تم کچھ لمحے ہی رکتے ہو
اجنبیوں کے مرنے اور اُن کو بھولنے میں
بس اِک کھانے کا وقفہ ہے

 

کتنے دن تک دفتر میں دل دُکھی دُکھی سا رہتا ہے
جب ٹیم کرکٹ ہارتی ہے
گری ہوئی درمیانی وکٹ
بچوں کے ٹوٹے دودھیا دانت سی لگتی ہے
تب تم بس لمحہ بھر کو سوچتے ہو

 

میٹرو پولیٹن شہروں کے شور میں ساری آوازیں دب جاتی ہیں
کتنی چیخیں تم تک بِن پہنچے ہی مر جاتی ہیں
گلشن پارک کے باغیچے سے خون کی سرخ لکیریں
اورنج لائن کی پٹڑی تک بِچھ جاتی ہیں

 

تم کہتے ہو
ایسٹر امیدوں کا دن ہے!
اور تم خوشیوں کی خواہش میں
میزوں پر انڈے رکھ دیتے ہو

 

اِس سال اے مرے دوست!
سارے انڈے تڑخ گئے ہیں

Image: Express Tribune
[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]

Categories
شاعری

آوازیں ہم کو شہرِ عدم تک لے جاتی ہیں

[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

آوازیں ہم کو شہرِ عدم تک لے جاتی ہیں

[/vc_column_text][vc_column_text]

آوازیں آتی ہیں
اَن جانی سمتوں سے اَن جان آوازیں آتی ہیں
روشنیوں کے دائرے ٹوٹتے رہتے ہیں

 

کہنے کو تو کتنا کچھ انسان کے دستِ بیش بہا میں ہے
کتنے سیّاروں کی روشنیاں اِن آنکھوں کی قید میں ہیں
کتنی دنیاؤں کی آوازیں اِن کانوں کے قفل میں ہیں
پھر بھی اَن جان آوازیں آتی ہیں

 

رات کے خالی برتن میں یہ کیسا شور بھرا ہے!
دن کی ٹانگیں کائنات کے رعب سے کانپتی رہتی ہیں
اِس لاغر، کانپتی ٹانگوں والے دن سے کون اُمید کرے
کون اِس دل کے چیختے ویرانوں کی گونج سنے

 

اَن جان آوازیں آتی ہیں
جیسے آفاق پہ کوئی دَیو دھاڑتا ہے
جس کی سانسیں سہمے سینوں میں پھنکارتی ہیں
جس کے دانت اِن جسموں کے پاتال سے پیوستہ ہیں
جس کے پنجے پُشت کی گہرائی تک اُتر گئے ہیں

 

آوازیں آتی ہیں
اَن جانی روشنیوں کے سائے
سورج کو گہنا دیتے ہیں
اور آوازوں کے تعاقب میں
ہم شہرِ عدم تک آجاتے ہیں

[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]

Categories
شاعری

آ ہم جسموں کا روزہ افطار کریں

آ ہم
جسموں کاروزہ افطار کریں

اور جب شہر کی گلیوں میں
رات کی زخمی لاش آگرتی ہے
سورج اپنی سرخی سے
کچھ قبروں کے کتبے لکھ جاتا ہے
دن کی بوسیدہ الماری سے
ٹڈیوں کے غول برآمد ہوتے ہیں
اور جگہ جگہ سے
اُجلی صبح کے خواب کتر جاتے ہیں

اِس موہوم سی حسرت پر
کہ ہم اندھی تقدیروں کے غار سے نکلیں
کوئی ہمیں جیون کی
دلدل میں کھینچتارہتا ہے
کوئی ہماری شریانوں میں
خوف کی بھاری زنجیریں چھنکاتا ہے
دنیا اِس جھنکار میں جکڑی جاتی ہے

جب محرومی کی ریت بدن میں اُڑتی ہے
ایسے میں بس ایک سہولت ہے
اپنے تالُوکی خشکی میں
میں تیرے لمس کی شیرینی چکھ لیتا ہوں
مجھ کو تیری طلب کا روزہ لگنے لگتا ہے

اس سے پہلے کہ یہ روزہ
موت کے برہم ہاتھ میں ٹوٹے
آہم اِس کو
اپنے جسم کے میٹھے پھل سے اِفطار کریں
رات کی زخمی لاش
!شہر پر گرنے سے پہلے
Categories
تبصرہ

کائناتی گرد میں عریاں شام

نام کتاب: کائناتی گرد میں عریاں شام (نظمیں)
مصنف: زاہد امروز
صفحات: ۱۱۰
قیمت: ۲۰۰ روپے
ناشر: سانجھ پبلیکیشنز، ۴۶/۲ مزنگ روڈ، لاہور

1491678_686282598099873_143798750396507084_n

اردو شاعری کے لیے یہ بات ایک نیک شگون ہے کہ شعراء کی نئی پود کافی حد تک غزل بمقابلہ نظم کے “موازنہ٫ انیس و دبیر” سے باہر آ گئی ہے اور نظم، اپنے نت نئے اسلوبیاتی تجربات کے ساتھ، غزل کی ساکھ کو متاثر کیے بغیر نئی تخلیقی آوازوں کے ہاں اپنے پورے قد کے ساتھ کھڑی ہے۔ اگر آپ بھی نظم کے کشتگان میں سے ہیں اور بَل دار طرز بیان، تازہ دم موضوعات اور شاعری میں نئے مصورانہ نقوش کی ٹوہ میں رہتے ہیں، تو زاہد امروز کی نظموں کا تازہ مجموعہ آپ کے لیے لکھا گیا ہے۔ اگر پابلو نیرودا کی نظموں کے تراجم کے مجموعے “محبت کی نظمیں اور بے بسی کا گیت” کو شمار نہ کیا جائے تو زیر نظر کتاب “کائناتی گرد میں عریاں شام” طبعزاد نظموں میں “خودکشی کے موسم میں” کے بعد زاہد امروز کا دوسرا شعری پڑاو ہے۔
اس تازہ شعری مجموعے میں زاہد امروز خود سے وابستہ سبھی اسالیبی، موضوعاتی، حسیاتی اور تخلیقی وعدے نبھاتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ یہ مجموعہ چوالیس مختلف نظموں پر مشتمل ہے۔ ان نظموں میں زاہد امروز کھڑکی میں کھڑا چائے کی چسکی میں اپنے باطن کی دقیق وارداتوں پر گفتگو کرتا ہوا نظر آتا ہے اور ساتھ ہی ساتھ اپنے اطراف کے معمولی اور غیرمعمولی مناظر کو مصوری کے شاہکاروں کی طرح ایک ایک کر کے اپنی سطروں کے بیچ پروتا چلا جاتا ہے۔ یوں نظم اپنا دائرہ مکمل کرنے تک شاعر کے ظاہر و باطن کی ایک باتصویر کہانی کی شکل میں قاری پر ظاہر ہو جاتی ہے۔
نظم “تم مسجد کے سائے میں سوکھ جاو گے” محرابوں کی فراری عافیت سے پرے زمین اور سماج کی کڑوی سچائیوں کو چکھنے اور نئے بہاریں پھول چننے کی دعوت دیتی ہوئی نظر آتی ہے۔ برکت اللہ کی چکی اپنے عصری شعور اور تازگی کے ساتھ کبیرے کی گمشدہ چکی کی بازیافت ہے۔ “رات اور چاند کی سنگت میں” میں شاعر نے قاری کو ایک خاموش رات کے اداس کر دینے والے ایک تجربے میں شریک کیا ہے۔ “زمین کے ہنکارے” دنیا کے ساتھ خیرخواہانہ بیزاری کے کامیاب ابلاغ کے ساتھ ساتھ منفرد بصری تاثرات کی حامل ہے۔ “غیر متوقع بچے کی متوقع موت” اپنے ہونے کا رزمیہ بھی ہے اور مرثیہ بھی۔ اسی طرح “اچھوت خواب کی برہمن آنکھیں” اسی ہونے کی پہچان کی ٹوہ میں ہیں۔ “طالب اور طلب کا خواب” ایک ڈراونے خواب کی چونکا دینے والی واردات ہے۔ “یک سمتی سڑک سے مکالمہ” اور “قدیم دُھن بالوں میں انگلیاں پھیر رہی ہے” ایک طرح سے صورتِ حال اور یادِ ماضی کے درمیانی کواڑ میں کھڑے ہو کر کہی گئی خوبصورت نظمیں ہیں۔
“حسین عورت کی خوشحال شادی” اپنے منفرد موضوع سے قطع نظر، اپنے آہنگ میں رخصتی کے گیت جیسی حزنیت اور یاس لیے ہوئے ہے۔ “دوسرے گوتم کا گیان” ایک جوگی، جسم کے روگی کے بادلوں کے سائے میں جنم لینے سے لے کر مُکت ہونے تک کی کتھا ہے۔ “قصہ ایک مینڈک کا” اپنے بیان میں ایک انفرادیت لیے ہوئے سماج کے ایک عمومی تجربے کو بیان کرتا ہے۔ “آوازوں کا عجائب گھر” ایک طویل نظم اپنے شاعرانہ محاسن کے ساتھ ساتھ ان گنت مسحور کن صوتی اور بصری تاثرات کی حامل ہے۔ صدر ہمیں گلے کیوں نہیں لگاتے، قحط زدہ بستی کا گیت، قومی قاتلوں کے لیے سپاس نامہ، جیسی نظمیں سماجی دردمندی اور دھرتی کے دکھوں پر گاہے حزنیہ، گاہے طنزیہ انداز میں اپنے موضوع کے ساتھ انصاف کرتی نظر آتی ہیں۔ تم محبت نہیں کرتے، اس محبت کا کیا مصرف، میں اسے خشک کپڑے پہننے سے پہلے ملوں، میں دشمن کو زخمی نہیں کر سکا، وہ مسکراہٹ میرے لیے نہیں، تم جا چکی ہو، اور “نارنجی چاند میں خزاں کا پھول” ایسی نظمیں محبت، وصل، فراق، مجاز، تنہائی اور جنسیت جیسے بسیط موضوعات پر بات کرتی ہیں لیکن زاہد کی جنسیت بیمارانہ نہیں ہے۔
زاہد امروز کی شاعری میں معنوی انحرافات نہایت سلیقے سے کیے گئے ہیں، وہ معنی کے مناسب چور دروازوں سے جگہ پا کر کئی ایک رنگ جوڑتا اور نہایت گنجلک استعارہ وضع کرتا ہے۔ اس کی نظموں میں استعاروں کی بھرمار ہے لیکن نثری نظم کا پاٹ اتنا چوڑا ہے کہ یہ سب استعارے پوری روانی کے ساتھ نظم میں بہتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ اس کے بصری تاثرات نظم کو ایک دیدہ زیب کولاج کا سا حسن دیتے ہیں، جسے وہ موضوع اور اپنے خارجی محل وقوع سے خوشنما رنگ چن کر وضع کرتا ہے۔
کتاب کا سرورق مناسب ہے اور کتابت و طباعت ہر اعتبار سے معیاری ہیں۔ مشمولات، طباعت کے معیار اور قیمت کے باہمی تناسب کو دیکھا جائے تو یہ مجموعہ بجا طور پر خرید کر پڑھے جانے کے لائق ہے۔