Categories
شاعری

مٹی میں دبا دل

[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

[/vc_column_text][vc_column_text]

بچھڑی زمین کے بھوت
ارد گرد منڈلاتے ہیں
وہ ناشتے کی میز سے
چھُری کانٹے اُچک لیتے ہیں
میں دیکھتا ہوں انہیں
لان کی گھاس میں چھُری کانٹے دفناتے ہوئے
آناً فاناً بارش ہونے لگتی ہے
گھاس میں آم کے نرمل، کومل اکھوے پھوٹ پڑتے ہیں

 

آنسو میں گُٹھلی نہیں ہوتی
لیکن وہ بہت دیر تک دبا رہے
تو پیڑ بن جاتا ہے
جس پہ دو آنکھیں آتی ہیں

 

ساون بھادوں کے ریلے میں
بھاگتے لڑکو، بالو
ہری دُوب میں آم کے اکھوے کھودتے
چُھری کانٹے سے بچنا

[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]

Categories
شاعری

بچہ اور بالغ

[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

بچہ اور بالغ

[/vc_column_text][vc_column_text]

ممکن ہے
ڈھلتے دن کی دھوپ میں
تم اسے ایک خالی میدان میں ملو
اور حیرت بھری امید سے
اس کے پاس اکڑوں بیٹھ کر
پھٹی جلد والا ہاتھ پھیلا دو
اور وہ اپنے بنٹے چھپا لے

 

ممکن ہے
گہری ہوتی شام میں
سِکوں سے بھری جیب میں ہاتھ ڈالے
اپنی قدیم شناسا گلی میں مڑتے
تم ایک اجنبی پتھر سے ٹھوکر کھاؤ
اور وہیں بیٹھ کر
پھوٹ پھوٹ کر رو دو

 

ممکن ہے
تم صبح کے الارم پر جاگو
تو الارم پر چھوٹا سا
پلاسٹک کا خرگوش بیٹھا ہو
اور وہ
تمہارے موٹے بوٹ پہن کر
تمہاری کدال اٹھائے جا چکا ہو

Image: Victoria Villasana and Zabou
[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]

Categories
شاعری

ایک تاریخی واقعہ

[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

ایک تاریخی واقعہ

[/vc_column_text][vc_column_text]

بہت لوگ نکلتے ہیں
پیالی میں بچا شوربہ چھوڑ کر
ہاتھ کا نوالہ رکھ کر
یا پیٹ پہ رکھا پتھر اٹھا کر
نعروں، خوابوں اور امید کے شور سے
پنڈال بھر جاتا ہے
پنڈال اغوا ہو جاتا ہے
سٹیج پہ کھڑا آدمی
ہائی جیکر نکلتا ہے
خواب دیکھنے والے
باسی شوربے کی پیالی میں گر جاتے ہیں
ایسا ہر چند برس بعد ہوتا ہے

Image: Paweł Kuczyński
[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]

Categories
شاعری

ہرکولیس اور پاٹے خاں کی سرکس

[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

ہرکولیس اور پاٹے خاں کی سرکس

[/vc_column_text][vc_column_text]

یہ بے ہنگم، بے ڈھب دنیا
ہر متناسب سوچ کو
پوجا کے پرشاد سے فربہ کر دیتی ہے
یا
تنگی کی چکی سے
وہ خوراک کھلاتی ہے
سوچ کی آنکھیں دھنس جاتی ہیں
کان لٹک جاتے ہیں

 

کسی سڈول خیال کو
محبوبہ نہیں ملتی
حاسد بھول بھلیاں اسے
جواں ہونے سے پہلے بوڑھا کر دیتی ہیں

 

ہرکولیس اور پاٹے خان کی
سرکس سے بچ کر
خالص دانش کے رستے پر
جوگنگ کرنے والا
سر کی رگ بھٹنے سے
راہی ءِ ملکِ عدم ہوا

 

بس اک شعبدہ باز ہے
جب وہ ہاتھ کی اک جنبش سے
بطنِ ہوا سے
سکہ پیدا کرتا ہے
تو بے ہنگم، بے ڈھب دنیا
تالیاں پیٹتے پیٹتے
ہاتھ سُجا لیتی ہے

[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]

Categories
شاعری

پھانسی گھاٹ

[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

پھانسی گھاٹ

[/vc_column_text][vc_column_text]

ایک آدمی نے
سرِ عام پھانسی کا حُکم دیا
اور شہر تماشہ دیکھنے کو اُمڈ آیا
بہت لوگ گرے
بیچوں بیچ بہتے گندے نالے میں
وہ آدمی مر چکا ہے
وہ لوگ بھی مر رہے ہیں
لیکن کندھوں پر اٹھائے ان کے بچے
آج بھی گندے نالے میں گر رہے ہیں

Image: Paweł Kuczyński
[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]

Categories
شاعری

ائیر پورٹ پر

[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

ائیر پورٹ پر

[/vc_column_text][vc_column_text]

میرے پاس صرف ایک گیت ہے
تلاشی لینے پر
نہیں ملے گا
میرے ساز کے پردے چاک کرنے پر بھی
تم اسے پہچان نہ پاؤگے
وہ تمہارے دل سے نکل گیا تھا
جب تم نے بندوق میں
پہلی گولی بھری تھی
۔۔۔۔۔
یوں بھی
تمہارے جہاز کی منزل
میری منزل نہیں
مجھے صرف ایک گیت کے پار اترنا ہے

Image: Kesa Vinyl
[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]

Categories
شاعری

قید

[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

قید

[/vc_column_text][vc_column_text]

کھُلے راستوں کو ہوا لے گئی
اور جنگل کا قیدی
گھُٹی سانس کے سرد پتھر پہ بیٹھا
درختوں کا ہذیان سنتا رہا
جن کے بھُورے تنوں پر وہ چاقو سے
اک دوسرے میں کھُدے دل بناتا رہا تھا
وہ اب شام کے ہاتھ میں ہاتھ ڈالے ہوئے
اس کو گھیرے کھڑے تھے
محبت
کھُلے بادباں کا بُلاوا ہے
لیکن ہوا
پانیوں پہ گزرتی ہوا
جنگلوں کو نکل جاتی ہے
بوڑھے ملاح کے قہقہے میں
بھنور ڈولتے ہیں

[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]

Categories
شاعری

اُڑتے خُلیے

[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

اُڑتے خُلیے

[/vc_column_text][vc_column_text]

سائیکل چلاتا ایک روبوٹ آتا ہے
اور چوک میں ریہڑی سے ٹکرا کر
پھٹ جاتا ہے
اس پھٹے لمحے میں
اس کی پھٹی سکرین پر
منجمد منظر چلتا ہے
۔باغ، ندیاں، عورتیں ۔
جس کے لیے اس نے روح کا سودا کیا
روبوٹ کے اُڑتے خُلیے
زندہ بچنے والوں کی کھال میں گھُس جاتے ہیں
اور ان کی روحوں کی رسولیاں بن جاتے ہیں
جن کا علاج
روبوٹ کا مالک اپنے ہسپتال میں کرتا ہے

Image: Joe Fenton
[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]