Laaltain

مٹی میں دبا دل

حسین عابد:
آنسو میں گُٹھلی نہیں ہوتی
لیکن وہ بہت دیر تک دبا رہے
تو پیڑ بن جاتا ہے
جس پہ دو آنکھیں آتی ہیں

بچہ اور بالغ

حسین عابد: ممکن ہے
وہ
تمہارے موٹے بوٹ پہن کر
تمہاری کدال اٹھائے جا چکا ہو

ایک تاریخی واقعہ

حسین عابد: نعروں، خوابوں اور امید کے شور سے
پنڈال بھر جاتا ہے
پنڈال اغوا ہو جاتا ہے
سٹیج پہ کھڑا آدمی
ہائی جیکر نکلتا ہے

پھانسی گھاٹ

حسین عابد: وہ آدمی مر چکا ہے
وہ لوگ بھی مر رہے ہیں
لیکن کندھوں پر اٹھائے ان کے بچے
آج بھی گندے نالے میں گر رہے ہیں

ائیر پورٹ پر

حسین عابد: میرے پاس صرف ایک گیت ہے
تلاشی لینے پر
نہیں ملے گا

قید

حسین عابد: محبت
کھُلے بادباں کا بُلاوا ہے
لیکن ہوا
پانیوں پہ گزرتی ہوا
جنگلوں کو نکل جاتی ہے

اُڑتے خُلیے

سائیکل چلاتا ایک روبوٹ آتا ہے
اور چوک میں ریہڑی سے ٹکرا کر
پھٹ جاتا ہے