Categories
شاعری

رزم و راہ اور دیگر نظمیں (جنید جازب)

[divider]رزمِ دروں[/divider]

اندر کہیں
گہرائیوں میں
ایک سپولا ہے
اور ایک نیولا، شاطر سا
دن رات، جو باہم
لڑتے بِھڑتے
کٹتے مرتے رہتے ہیں
اور اپنے
اِن افسونی تماشوں میں
روز کے
خونیں معرکوں میں
اندرون میرا
لہو لہان کیے جاتے ہیں
جاں کے معصوم احاطوں میں
ایک بحران کیے جاتے ہیں۔

[divider]نظم[/divider]

یہ بے نور
اور بے حدت سی
موسمی حرارتیں سہتے سہتے
اندر کے
یخ بستہ خزینے
پگھل نہ جائیں
کہیں بکھر نہ جائیں
کہ تم
زندگی سنوارنے کو
سروساماں ڈھونڈھنے میں رہو
اور
وقت کا چور دبے پاؤں آ کر
انگلیوں کی پوروں سے
جیون کی شادابی اڑا  لے جائے
اور بدلے میں
سپنسرہُڈ کا بے شکلا تحفہ
ہاتھوں میں تھما جائے

[divider]لاک ڈاون[/divider]

رابطے
راستے
سب منقطع تھے
سو میں نے آج
اپنا سارا وقت
اپنے ساتھ گزارا
دن اُبھرا
دوپہر ڈھلی
شام اتری
اور
اولِ شب یہ کھلا
کہ اندر
کوئی انجان سا شخص رہتا ہے
مہکتے، چہکتے جزیرے میں
ایک حیران سا شخص رہتا ہے

[divider] ایک عہد عنکبوتی کاحصار[/divider]

یہ جاں بدوش لمحے
جو، برسوں سے
میرا واحد رختِ سفر ہیں
اور جن کے نرم و نازک پروں پہ
میرے آئندہ سفر کی
ساری حکمتیں، سب راستے، کل اثاثے
کندہ ہیں
ان کا تحفظ
تمہارا بھی تو، مری جاں
فرضِ اولین تھا
پھر
ہواوں کے ہلکے سے جھٹکے نے
کیوں کر
اور کیسے
تمہاری مضبوط مٹھیوں سے
وہ لمحے گرا دیئے
یا پھر
تم نے ہی وہ
کہیں رکھ کر بھلا دیے ہیں

[divider] سراب، زندگی[/divider]

سرابوں کی بھیڑ سے
بچتے بچاتے
جو یہاں پہنچا ہوں
تو آگے
ایک سمندر ہے
پھر نئے سرابوں کا

[divider] وقت کے اس پار[/divider]

بیتے وقتوں کی
جب بہت یاد آتی ہے
تو
ہم لوگ
آوارگی کا دامن تھامے
مستقبل کی سیر پہ نکل جاتے ہیں
جہاں
ماضی کے
ان گنت آوارہ سپنے
بادلوں کی صورت
پھر سے
برسنے پہ آمادہ مل جاتے ہیں
اور
خوابوں کے
ایک نئے جلو میں سمٹے ہوئے
ہم لوگ
وقت کے
اس پار پھسل جاتے ہیں

Categories
شاعری

زِندگی جب نمو پاتی ہے (جنید جاذب)

جب شہر سو رہا تھا
دُور، ایک کوہ کے دامن میں
دریا نے مچل کر
دھرتی کے گُداز سینے میں انگڑائی لی
زمین جاگ اُٹھی
آسمان، مسکراتے ہوئے
اپنے بالائی ایوانوں سے اُتر آیا
بادلوں نے جُھک کر
چھتنار پیڑوں کا بوسہ لیا اور بے اختیار برس پڑے
شہر بے خبر تھا
آسمان و زمین کے
سب دیرینہ فاصلے،
قربتوں کی برکھا میں تحلیل ہو گئے
پیڑ گنگنا رہے تھے
چراگاہیں شبنَما گئیں
ہوا تھمنے لگی
فضا میں چارسُو روشنیاں کِھل اُٹھیں
تبھی ایک شور اُٹھا
زمیں سرشاری میں نہا گئی تھی
زِندگی،
نمو پا گئی تھی

Categories
فکشن

ہیلو مایا

للت منگوترہ
مترجم: جنید جاذب

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ کہانی کچھ یوں میرے من میں آئی جیسے کسی انجان جگہ سے کوئی ننھی منی، نازک سی چڑیا اڑتی ہوئی آئے اور صدیوں سے چپ چاپ کھڑے برگد کے اس پیڑ کی ایک ٹہنی پر آ ن بیٹھے۔ اور پھر، پل بھر کے لئے سارے ماحول میں شوخ رنگوں اور سریلی آوازوں کا جادو بکھیرکر، جھٹ سے کہیں اُڑ جائے۔۔۔۔۔کہیں دور،بہت دور۔ خیر،آپ کہانی سنئے!

کار سے اترکر آہستہ سےاس نے کار کا دروازہ بند کیا۔ آگے بڑھ ہی رہا تھا کہ وہ سامنےآگئی۔ایک ادھیڑ عمر خاتون جس کے گھنے کالے بالوں میں اب چاندی کی دھاریاں شامل ہو چکی تھیں۔وہ مسکرائی۔مسکراتے ہوئے اس کے لب ہلکے سے ایک جانب ڈھلک کر کچھ ترچھے سے ہو گئے۔ترچھے ہونٹوں کے پیچھے سے دانتوں کی سفید قطار چمکی۔اپنی یاداشت میں محفوظ یہ مسکراہٹ اس نے فوراً پہچان لی اور خود بھی مسکرادیا۔

“ہیلو مایا”
“ہیلو شیکھر”
“تم اگر مسکراتی نہیں تو میں تمھیں نہیں پہچانتا”
“تم بھی گاڑی سے اترکر سر کو یوں جھٹکا نہ دیتے جیسے بالوں سے پانی جھٹک رہے ہو تو میں بھی تمھیں نہ پہچان پاتی”

“کتنے سال ہوگئے ہوں گے”
“یہی کوئی تیس سال”
دونوں پھر ہنس دیے۔

جوانی کی یادوں کی خوشبو باہیں پھیلاتی ہوئی آس پاس بکھر گئی۔شیکھر نے سوال کیا،”کسی خاص کام سے جارہی ہو؟”
“نہیں بس ایسے ہی نکلی تھی۔ ایک مدت کےبعد یہاں آئی ہوں۔۔۔۔۔تم کدھر۔۔۔۔؟کسی کام سے جارہے ہوشاید؟”
کوشش کرنے کے باوجود شیکھر کو یاد نہیں آیا کہ وہ کس کام سے نکلاتھا۔”نہیں۔۔۔ میں ں ں فری ہوں،ایک پرندے کی طرح فری”اس نے بانہیں پھیلا دیں جیسے سچ مچ اڑنے لگا ہو۔مایا قہقہہ مار کر ہنس دی اور بولی “تو پھر چلو ہم دونوں اُڑتے ہیں۔۔۔۔ اس نیلے آسمان کی وسعتوں میں”۔

شیکھر نے سر اٹھاکر آسمان کی جانب دیکھا۔ آسمان واقعی کسی صوفی سنت کے ذہن کی طرح شفاف اور گہرا تھا۔من کو کسی انوکھی گہرائی کا احساس دلانے والا نیلا پن اس نے مدتوں بعد دیکھا تھا۔
” چلو اُڑتے ہیں۔۔۔مگر کہاں،کس طرف؟”
“کہیں بھی۔۔۔۔کسی بھی طرف چلو۔اڑنے کا لطف اڑان میں ہے کسی خاص طرف میں نہیں” مایا نے جواب دیا۔
شیکھر ہنس دیا”تو تشریف لائیے” کار کا اگلا دروازہ کھولتے ہوئے اس نے کہا۔

گاڑی ملائم سیدھی سڑک پر جیسے تیررہی تھی۔ڈرائیو کرتے ہوئے شیکھر نے مسکراکر مایا کی طرف دیکھا۔وہ سامنے سڑک پر دیکھ رہی تھی اور ساتھ ساتھ مسکرا رہی تھی۔”تمھیں یاد ہے جب میں نے پہلی بار اپنے پیار کا اظہار کیا تھا؟”
“وہ دن بھلا کوئی کیسے بھول سکتا ہے”مایا نے گہری نظروں سے اس کی طرف دیکھا۔

شیکھر یادوں میں کھو گیا۔اس دن اس نے کالج میں اپنے نئے دوستوں اور کچھ ہم جماعتوں کے لئے ایک پارٹی رکھی تھی۔جب سب لوگ آگئے تو اس نے بتایا کہ دراصل اس روز اس کا جنم دن تھا۔موقعہ ملتے ہی مایا کو اکیلا پاکر وہ پاس چلا گیا۔

“تم نے مجھے کوئی تحفہ نہیں دیا؟”شیکھر نے شرارت سے پوچھا تھا۔

“میں تو ایسے ہی چلی آئی تھی۔مجھے کیا پتہ آج تمھارا جنم دن ہے” وہ کچھ معصومیت سے بولی۔
“اب تو پتہ چل گیاہے”
“ٹھیک ہے۔تحفہ مل جائے گا”۔
اس کے بعد جب بھی وہ مایا سے ملتا پوچھ بیٹھتا”تحفہ نہیں دو گی؟” اور مایا مسکرادیتی”مجھے کیا پتہ تمھیں کیا پسند ہے”
اور یہ سلسلہ کئی روز تک چلتا رہا۔ ایک دن سیڑھیوں کے آخری زینے پہ کھڑی مایا نے اس کے روایتی سوال کے جواب میں کہا کہ مجھے کیا معلوم تمھاری پسند کیا ہے تو وہ چپ نہ رہا
“تیری پسند کیا ہے یہ مجھ کو نہیں خبر

میری پسند یہ ہے کہ مجھ کو ہے تو پسند” شیکھر نے بالی وڈ گانے کا سہارا لے لیاتھا۔
لیکن اتنا کہنے کے بعد وہ مایا کے چہرے پہ ابھرے تاثرات دیکھے بنا ہی فوراً پلٹا اور ایک بار بھی پیچھے دیکھےبغیر سیدھا آگے بڑھ گیا۔
اس نے ڈرائیو کرتے ہوئے وہی گانا گنگنایا۔

“تیری پسند کیا ہے یہ مجھ کو نہیں خبر
میری پسند یہ ہے کہ مجھ کو ہے تو پسند”
مایا پھر زور سے ہنس دی۔
“تمھیں مجھ سے ایسا کچھ سن کر کیسا لگا تھا؟”شیکھر نے بات چھیڑی۔

“تمھیں ایسا کچھ کہہ کر کیسا لگا تھا؟”مایا نے سوال کے جواب میں سوال داغ دیا۔شیکھر تھوڑی دیر تک خاموش رہا۔پھر بولا
“ہاں یہ بات بھی سوچنے کی ہے کہ یہ کہنا زیادہ رومانٹک ہے کہ میں تمھیں پیار کرتا ہوں یا جسے کوئی من ہی من میں چاہتاہو اس سے یہ سننا کہ وہ تمھیں پیارکرتا ہے؟”

“مگر تم نے بتایا نہیں کہ تمھیں یہ کہہ کرکیسا لگا تھا؟”مایا نے اصرار کیا۔

“ہاں۔۔۔۔اس وقت یہ کہتے ہوئے سوائے اپنے دل کی دھک دھک کے مجھے اور کچھ خاص محسوس نہیں ہوا تھا” کچھ دیر سوچتے ہوئے وہ پھر گویا ہوا۔
“دیکھا جائے تو جب کوئی چیز واقع ہورہی ہو ٹھیک اسی لمحے تم دکھ یا سکھ کے تجربے سے نہیں گزرتے۔حال اس قدر تیزرو ہوتا ہے کہ اس کا ‘ح” بولنے میں ہی یہ بیت کر ماضی میں گھُل مِل چکا ہوتا ہے۔اتنے مختصر اور اُتاولے لمحوں میں تم کچھ بھی محسوس نہیں کرسکتے۔اس پل کی مٹھاس یا کڑواہٹ کا احساس اس وقت ہوتا ہے جب وہ یادوں کے گُچھے کا حصہ بن چکا ہوتا ہے۔جب میں نے تمھیں یہ کہاتھا کہ میں تمھیں چاہتا ہوں اس وقت تو وہ پل بیت چکا تھا۔ لیکن اس کےبعد دیر تک میں اپنے کہے اس فقرے کے سرور میں غرق مست ہواؤں میں اڑتا آسمان کی بلندیوں میں گھومتا رہا”۔

شیکھر نے ایک ہوٹل کے باہر کار پارک کردی۔سیڑھیاں چڑھ کر وہ بالکونی میں لگی کرسیوں پر جا بیٹھے۔سامنے وسیع و عریض وادی اور اس میں مچلتا دریا،ہوا میں پھیلی نیلاہٹ بھری مخملی دھند کے اس پار پہاڑوں کی قطاریں دِکھ رہی تھیں۔شیکھر کے آرڈر پر گرما گرم کافی کے ساتھ چکن پیٹیز اور مایا کے پسندیدہ کرارے کرارے ساگ پکوڑے آ گئے تھے۔

شیکھر نے ایک طرف کھڑے لمبے قد کے گورے چٹے ویٹر کو پاس بلایا،” یار آج تو مزہ ہی اور ہے۔شیف بدل گیا یا ریسیپیز نئی ٹرائی کررہے ہو؟”
ویٹر،جس کا چہرہ مانو مسکرانے کے لئے ہی بنا تھا مسکراتے بولا،” نہیں سر،ایسا کچھ نہیں۔شیف بھی وہی ہے اور رسیپیز بھی وہی پرانی۔سب کچھ روز کی طرح کا ہی ہے سر”۔

مایا کی طرف دیکھتے ہوئے ویٹر کی مسکراہٹ مزید نکھر گئی جسے چہرے پر سجائے وہ اندر چلا گیا۔
میز پر ٹکے مایا کے ہاتھوں پر نرمی سے اپنے ہاتھ رکھتے ہوئے شیکھر نے پوچھا،”مایا تم بھی تو بتاؤ جب میں نے تمھیں کہا تھا کہ تم مجھے پسند ہو تو تمھیں کیسا لگا تھا؟”

مایا دھند کی چادر میں لپٹی وادی کو نہارتے ہوئے بولی،”یہ بتانے کے لئے کہ مجھے کیسالگا تھاالفاظ کم پڑ جائیں گے۔پر تمھیں یاد ہے جب تم نے یہ بات کہی تھی تب میں اپنے گھر کے دروازے کی پہلی سیڑھی پہ کھڑی تھی۔مگر سچ بتاؤں تو جب تم نے ایک بار اکیلے میں مجھ سے پوچھا تھا کہ مجھے کیسا انسان پسند ہے میں تبھی سمجھ گئی تھی کہ تم ایسا ہی کچھ کہنے والے ہو۔بلکہ اندر اندر سے تو میں اس کی منتظر بھی تھی۔اصل میں تم نے چاہے منہ سے نہیں بولا تھا لیکن تمھارا چہرہ،تمھاری آنکھیں اور تمھارا سارا وجود یہ سب پہلے ہی کہہ چکا تھا۔اوراس دن جب تم نے یہ کہا تھا، تو کہتے ہی جھٹ سے مڑ کر واپس چل دئے تھے۔میں کچھ دیر جوں کی توں کھڑی تمھیں جاتے دیکھتی رہی اورپھر اندر چلی گئی۔مجھے لگا تھاجیسے ہمارے گھر میں نئی سفیدی کی گئی ہو، جیسے گملوں میں رکھے پودوں کے پتے زیادہ ہرے اور تروتازہ ہوگئے ہوں اور پھولوں کے رنگ اور بھی گہرے ہو چلے ہوں۔میں نے محسوس کیاتھا جیسے وِوِدھ بھارتی کی بورنگ ٹیون اصل میں کتنی میٹھی اور سریلی ہے۔مجھے لگاتھا جیسے برتن مانجھتی کام والی باہگڑی لڑکی کی آنکھیں کتنی سندر اور چمک دار ہیں۔مجھے لگا کہ یہ زندگی کتنی حسین اور جینے لائق ہے۔

مایا نے چہرہ شیکھر کی طرف گھمایا اور اپنا دوسراہاتھ بھی اس کے ہاتھ پر رکھ دیا۔ ڈوبتے سورج کی سنہری کرنوں نہائی مایا کی چمکیلی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے شیکھر بولا،”جب تمھارے دل میں کسی کی محبت کاغنچہ پھوٹتا ہے تو اس کے توسط سے دراصل تم کائنات کے حسن کو اس کی آخری حدوں تک دیکھ اور محسوس کرنے کی اہلیت اور صلاحیت پا لیتے ہو۔میں نے بھی یہ محسوس کیا کہ تمھیں پیار کرنے کے بعد میں اپنی جان پہچان کے ہرانسان سے محبت کرنے لگا ہوں”

شیکھر نے کافی کا گھونٹ بھرا۔کسی پرانی یاد پہ وہ بے ساختہ ہنس دیا۔ہلکے سے مایا کا ہاتھ دباتے ہوئے بولا،”مایا تمھیں وہ یاد ہے ایک بار جب آدھی رات کو ہم چور کو ڈھونڈھنے نکلے تھے؟”
”کون سااااا۔۔۔۔؟” مایا نے ذہن پہ زور ڈالتے ہوئے پوچھا۔

”ارے وہی جب آدھی رات کو تمھارے آنگن میں ہوئی کھڑکھڑاہٹ سن کر تمھارے پڑوسی کے نوکر نے ہلہ مچا دیا تھا کہ تمھارے گھر میں چور گھس آیا ہے۔اور پھر سارے پڑوسی،جن میں میں بھی شامل تھا، ہاتھوں میں ٹارچیں لئے گھنٹہ ڈیڑھ گھنٹہ چور کو ڈھونڈھتے رہے۔چور خاک ملنا تھا۔وہ آواز تو مجھی سے ہوئی تھی،تمھارے کمرے کی کھڑکی سے کودتے ہوئے ” وہ زور سے ہنسا اور محلے والوں نے تو چوری کی واردات سے بچنے کے لئے محلہ چوکسی کمیٹی تک بناڈالی تھی۔کچھ یاد آیا؟”

مایا مسکرائی،”تمھیں کچھ دھوکہ ہورہا ہے۔نہ مجھے کوئی ایسا واقعہ یاد ہے اور نہ ہی تمھارا گھرہمارے پڑوس میں تھا”۔
”ارے نہیں تم بھول گئی ہو۔تم لوگوں نے خود اپنا گھر بدلا تھا اور ہمارے پڑوس میں آکر کرائے پر رہنے لگے تھے”
”کوئی اور آیاہوگا۔۔۔”مایا ہنس دی۔”ہم نے تو کبھی اپنا مکان نہیں بدلا”
شیکھر ایک قہقہ ہوا میں بکھیر دیا۔

”مایا تمھاری مذاق کی عادت اب تک گئی نہیں”۔
مایا مسکراتی رہی۔اسے اس طرح مسکراتا دیکھ کر شیکھر بول پڑا،”اب یہ نہیں بولنا کہ تمھیں وہ بھی یاد نہیں جب میں تمھارا ہاتھ مانگنے تمھارے پاپا کے پاس آیا تھا”

مایا کی مسکراہٹ میں شرارت سی شامل ہو گئی ”او کے۔۔۔تم بتاؤ پھرکیا ہواتھا۔ممکن ہے مجھے بھی یاد آ جائے”اس نے اتساہ سے شیکھر کی اور دیکھا۔شیکھر پہلے تو قہقہے مار مار ہنستا رہا پھر شرارت بھری نظروں سے مایا کو دیکھ کرگویا ہوا،” ان سے بات کرنے کی ہمت مجھ میں تھی نہیں۔میرے دوستوں، جوشی اور سلاتھیا،نے ایک راستہ نکالا۔تمھاری گلی کے باہر بازار میں ایک وائن شاپ ہوا کرتی تھی۔وہ مجھے وہاں لے گئے اور وہسکی کا ایک گلاس میرے حلق سے اتار کر مجھے تمھارے گھر کی طرف دھکیل دیا۔لیکن راستے میں میں پھر حوصلہ ہارگیا۔انھوں ایک اور پیگ پلایا اور پھرتمھارے گھر کی طرف موڑ دیا۔لیکن وہ بھی کام نہ آیا۔اس طرح تمھارے گھر پہنچنے سے پہلے میں سات پیگ اندر کرگیا تب جاکر کہیں تمھارے گھر تک پہنچ پایا۔لیکن اس حالت میں میں تمھارے اور تمھارے ہمسائے گھر کو پہچاننے کی پوزیشن میں نہیں رہا تھا۔سچ پوچھو تو اب ذہن ہی کام نہیں کررہاتھا۔بڑی ابتر حالت میں کسی طرح میں نے تمھارے گھر کی ڈور بیل پر ہاتھ رکھا۔تمھارے پاپ نے دروازہ کھولا۔انھیں سامنے پاکر،منصوبے کے مطابق، میں فوراً ان کے پاؤں چھونے کے لئے جھکا۔تمھارے پاپا نے مجھے اوپر اٹھانے کی کوشش کی لیکن میں تو نشے میں دھت تھا”شیکھر پھر ہنس دیا۔ مایا بھی ہنس دی۔

”مجھے آج تک پتہ نہیں کہ اس کے بعد تم پر کیا بیتی”
”مجھ پہ کیا بیتنی تھی”،مایا مسکرائی،”تمھیں دھوکا ہورہاہے۔تم کبھی اس طرح میرے گھر نہیں آئے۔اور ہاں میرے گھر کے آس پاس کہیں کوئی بار نہیں ہے”
”یہ کیسے ممکن ہے کہ میں تمھارے گھر نہیں آیاتھا؟” اس کا جوش ایک دم سے کچھ سرد پڑ گیا
موقعے کا مزہ لیتے ہوئے مایا ہنسی۔پھر بولی،”تم ضرور کسی اور کے گھر گئے ہوگے۔جس حالت میں تم تھے،تمھیں کیا ہوش کس کے پاپا کے پاؤں چھو رہے ہو”
شیکھر کے چہرے پر ہنسی کی جگہ حیرانی امڈ آئی۔
”اچھا کیا تمھیں وہ یاد ہے جب گوا میں تم نے بے ہوش ہو جانے کا ناٹک کیا تھا اور میں نے منہ سے منہ لگا کر تمھاری سانسیں بحال کی تھیں؟”۔
”نہیں مجھے یاد نہیں” مایا کا جواب تھا۔
”اور جب میں نے سینڈ وچ میں لپیٹ کر تمھیں خط دیا تھا جسے تم کھا گئی تھیں؟”
”نہیں”
”مایا تم سچ کہہ رہی ہو۔ سچ مچ تمھیں کچھ بھی یاد نہیں؟”شیکھر نےتعجب سے سوال کیا
”یہ میری یاد کا مسئلہ نہیں۔اس طرح کی کوئی بات کبھی میرے ساتھ نہیں ہوئی۔یہ سب ممکن ہے کسی اور لڑکی یا لڑکیوں کے ساتھ ہوا ہو۔مجھے کیسے یاد ہو گا؟”

شیکھر کی حیرانی تیزی سے بے چینی میں بدل رہی تھی۔
”لیکن شیکھر !کیا تم یہ سب سچ کہہ رہے تھے” مایا شیکھر کی الجھن صاف محسوس کرہی تھی۔
شیکھر نے اثبات میں سرہلایا،”یقیناًً”
”اگر تمھیں اتنا سب کچھ یاد ہے تو پھر اس سے فرق نہیں پڑتا کہ کسی دوسرے کو بھی کچھ یاد ہے یا نہیں۔تم اپنی یاد کے ساتھ جیو۔اگر یہ واقعی تمھاری یادداشت کا جز ہے تو یہی سچائی ہے۔تم بے فکر رہو”

شیکھر کو لگا مایا صحیح کہہ رہی ہے۔اس نے ایک نظر سامنے پھیلی وادی پرڈالی اور ایک گہری سانس بھرتے ہوئے گھاٹی کی ہوا کو محسوس کیا۔پھر بولا،”واہ کیا نظارہ ہے”

”تم روز یہاں آتے ہو؟”
”نہیں”
”کیوں نہیں آتے؟”مایا نے تعجب سے پوچھا
”دوسرے کاموں میں مصروف ہوتا ہوں”
مایا نے مزید حیرانی سے سوال کیا،” اس وادی کی بے پناہ خوب صورتی کا لطف لینے سے زیادہ اہم بھی کوئی کام ہو سکتاہے؟”
شیکھر کچھ حیرانی سے بولا،”شاید نہیں”
تھوڑے توقف کے بعد مایا نے کہا”ہمیں چھت پر جا کر اس کا نظارہ کرنا چاہیے۔نہیں؟”
شیکھر نے مسکراتے ہوئے ویٹر کو بلا کر چھت پر جانے کا راستہ پوچھا
” یہاں دیکھئے۔۔۔۔یہ آپ کے سامنے۔۔۔یہ سیڑھیاں اوپر جاتی ہیں” ویٹر نے ایک طرف اشارہ کرتے ہوئے پروفیشنل تابعداری کے ساتھ کہا۔ رنگ برنگی ریشمی رسیوں سے بنی سیڑھی ٹھیک ان کے سامنے لٹک رہی تھی۔شیکھر کی حیرت کو بھانپتے ہوئے ویٹر نے کہا،”یہ خاص طور سے ان مہمانوں کےلئے بنائی گئی ہیں جو چھت پرسےوادی کا نظارہ کرنا چاہتے ہیں”

دونوں اپنی اپنی کرسیوں سے اٹھے اور چھت پر جانے والی سیڑھی کی طرف بڑھ گئے۔مایا آگے اور اس کے پیچھے شیکھر۔وہ سیڑھی کو پکڑ کر اوپر چڑھنے لگی۔اس نے ابھی تین چار سیڑھیاں ہی چڑھی ہوں گی کہ ریشمی رسی پر سے اس کے ہاتھ پھسل گئے۔ چشم زدن میں سیڑھی اس کے ہاتھوں سے چھوٹ گئی۔مایا نیچے گر گئی۔مگر یہ کیا ؟وہ نیچے گرنے کے بجائے ہوا میں تیرتی ہوئی وادی کی طرف جیسے اڑنے لگی۔ اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے وہ کسی پرندے کی طرح اڑتی ہوئی وادی کے اوپر پھیلتی دھند میں روپوش ہوگئی۔شیکھر بس دیکھتا رہ گیا۔

شیکھر کو جھٹکا سا لگا۔ پاس سے بھاگتی ہوئی گاڑی کے تیز ہارن نے اسے واپس موڑا۔وہ ابھی اپنی کار کے ساتھ کھڑاتھا۔اس نے ابھی کار کا دروازہ بند کیا تھا بلکہ ایک ہاتھ ابھی بھی ہینڈل پہ ٹکا تھا۔ اسی جانی پہچانی مسکراہٹ کے ساتھ وہ ادھیڑ عمر عورت اس کی طرف آ رہی تھی۔

اس نے بڑھ کر کہا، ”ہیلو مایا”
‘ہیں ں ں ں؟” خاتون حیرت سے تکنے لگی۔
شیکھر تھوڑا جھجک گیا۔پھر مخاطب ہوا،”آ اآپ مایا ہیں نا؟”
”جی نہیں”
شیکھر نے عادتاً اپنا سر جھٹکا، لیکن خاتون نے، ”ہیلو شیکھر” نہیں کہا۔اس کی آنکھوں میں جان پہچان کی کوئی چمک نہیں کوندی۔

Categories
فکشن

افسانچے (جنید جاذب)

مزید مائیکرو فکشن پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔
عُریاں فاصلے

’’ بھائی تو پہلے سے ہی اس آفت کا مارا تھااب بہن کو بھی چسکا پڑ گیا ہے‘‘ رسوئی سے آواز آئی۔
’’پتھر بنے بیٹھے ہیں۔مجال ہے جو ایک دوسرے سے بھی کوئی بات کر لیں ‘‘رسوئی سے ملحق لِونگ ایریا سے تائیدی سا ردعمل آیا۔
لابی کے اس طرف والے کمرے میں،ایک دوسرے سے گزبھر کی دوری پہ بیٹھے،دونوں بہن بھائی اپنے اپنے فرضی ناموں سے، انٹرنیٹ پر چیٹنگ میں مصروف تھے۔
معروف کی دوستی نفیسہ سے تھی جب کہ عافیہ کسی ساحل سے پینگیں بڑھارہی تھی۔ بات آگے بڑھی تو اپنا اپناایڈریس بھی ایکسچینج کیا گیا۔ساحل کے ایڈرس میں اپنے ہی شہر کا نام دیکھ کر عافیہ کچھ جھجکی ضرور،کیوں کہ ایسے تعلقات میں شہربھر کی دوری کو ترجیح دی جاتی ہے،لیکن اس نے اپنے شہر کا نام کچھ اور بتادیااور چیٹ جاری رکھی۔فرضی ناموں سے چیٹنگ کا یہ فائدہ رہتا ہے کہ کتنا بھی کھُل جائو،ایک دفاعی پردا، یا ایک محفوط فاصلہ، ہمیشہ بنا رہتا ہے۔ کل کلاں بات بگڑ بھی جائے تو کم سے کم ایک دوسرے کو سرِعام گھسیٹنے کی نوبت نہیں آتی۔
ڈِسکشن کچھ کچھ ’ نان ویج‘ رنگ پکڑنے لگی توعافیہ اپنے کمرے میں جانے کے لئے اُٹھ کھڑی ہوئی۔ ایک نظر بھائی کی طرف دیکھا جو اِس کی موجودگی سے بے نیاز اپنے مصروف تھا۔وہ مسکرا کراپنے کمرے میں آ گئی۔دروازہ بند کیا اور چیٹ پہ بحال ہو گئی۔
’’اپنے روم میں آگئی‘‘
’’تو ابھی تک کہاں تھی‘‘
’’بھائی کے روم میں گئی تھی کسی کام سے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ڈونٹ وری، آئی ایم بیک اِن مائی روم ناو۔۔۔بولو کیا پوچھ رہے تھے۔۔۔۔۔۔۔۔‘‘
’’عافیہ۔۔۔۔۔۔یہ تم!!؟؟؟؟؟؟؟؟‘‘ میسج کے ڈیلیور ہوتے ہی دوسرے کمرے سے معروف چیخا۔

داغ

شادی کے چار سال بعدبھی بے اولادہونے کا صدمہ ہی کچھ کم نہیں تھا کہ اب بیوی بھی طلاق کا مطالبہ کر بیٹھی تھی۔ہزار سمجھانے بجھانے بلکہ منت سماجت تک کرنے کے باوجود وہ اپنی ہٹ دھرمی پہ اڑی رہی اور ایک دن اسے اور اس کے گھر کو لات مار کرچلی گئی۔دبے لفظوں میں لپٹا نامردی کے الزام کا جوگولہ وہ جاتے جاتے اس کی جانب داغ گئی تھی وہ ہائیڈروجن بم کی طرح پھٹ کراس کی انا اور اِمیج دونوں کے چیتھڑے اڑا گیا۔
گو یہ کام اتنا آسان نہیں تھا لیکن وہ کسی بھی طرح اس داغ کو مٹا کر اپنی ساکھ اور سکون بحال کرنا چاہتا تھا۔
والدین اور دوستوں کی رائے اور کوششوں سے بالآخر ایک نو عمر لڑکی کے ساتھ اس کی شادی ہو گئی۔لڑکی نے ڈیڑھ دو سال میں ہی اسے باپ بناکر اس پر لگے بھدے داغ کو دھو ڈالا۔لیکن اس کے اندرون میں جو ایک اور داغ پھیلتا جا رہا تھااسے سمجھ میں نہیں آرہاتھا کہ اس کا ازالہ وہ کیسے کرے۔

ضرورت

اس کے ساتھ قطع تعلق کرنے والوں میں سب سے آخری،لیکن سب سے شدید، اس کی بیوی تھی۔
’’میں آج سے اپنا کمرہ الگ کررہی ہوں اور تمھارے ساتھ کوئی واسطہ نہیں رکھنا چاہتی۔۔۔۔۔‘‘وہ روہانسی ہو گئی لیکن پھر فیصلہ کُن انداز میں بولی،’’۔۔۔۔ میں ایک دہریے کے ساتھ ایک بستر پہ کیسے سو سکتی ہوں۔۔۔۔۔ دہریت کے تمھارے اس اعلان کے ساتھ ہی شرعا ً ہم میں میاں بیوی کا رشتہ ختم ہوچکا ہے‘‘
وہ خود کماتی تھی اس لئے شوہر سے الگ ہونے کے باوجود اس نے تینوں بچوں کو دینی اوراعلیٰ عصری تعلیم دلوائی اور بہترین مسقبل کی خاطر بدیس بھیج دیا۔
برسوں بعدایک دن وہ اسے بازار میں مل گئی تو وہ اسے چھوڑنے گھرتک آگیا۔
’’ آئو۔۔۔۔۔‘‘
’’مگر۔۔۔۔۔۔۔‘‘ وہ جھجھک گیا۔
’’اوہم م م م مم م‘‘ اور وہ بازوسے پکڑکر اُسے اندر لے گئی۔
چائے اور سنیکس کے بعد وہ اٹھ کھڑا ہوا۔
’’کہاں جا رہے ہو۔۔۔۔۔ رک نہیں سکتے‘‘
’’مگر۔۔۔۔۔۔ شرعاً ایک مومنہ اور ایک دہریہ۔۔۔۔‘‘
’’ایک دہریہ دوسرے دہرئے کے ساتھ تو رہ سکتا ہے نا۔۔۔۔۔‘‘

ارتقا

’’۔۔۔۔اس طرح ان سب شواہد سے اب یہ بالکل واضح ہو چکا ہے کہ ہم انسان، یا یوں کہہ لو کہ زندگی،اپنی موجودہ شکل کوپہنچنے سے پہلے کئی مرحلوں سے گزری ہے۔۔۔۔۔‘‘ نئے تعینات ٹیچر نے بائیو کی اپنی پہلی کلاس میں ہی طلبا کو اپنا گرویدہ بنا لیاتھا۔ اپنی رائے رکھنے اور ٹاپک پر کھل کر تبصرہ کرنے کے لئے اس نے طلبا کی بہت حوصلہ افزائی کی۔
دوسری کلاس میں بھی اس نے نامیاتی ارتقا(EVOLUTION) پر ہی ڈسکشن آگے بڑھائی۔
’’خرد بینی اور یک خلیہ جانداروں سے آہستہ آہستہ بڑے جانداروں نے ترقی پائی۔۔۔سادہ ساخت جانوروں سے پے چیدہ ساخت والے جانوروں نے اور پھر ان سے انسان نے ترقی پائی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔دوسرے لفظوں میں ہم ایک لمبے پروسس کے بعد جانور سے انسان بنے ہیں اور پھر دھیرے دھیرے جنگلی اور وحشی انسان سے مہذب اور سماجی انسان‘‘
ایک بچہ جو ابھی تک صرف غور سے سن رہاتھا، پہلی بار کچھ پوچھنے کے لئے کھڑا ہوا، ’’سر یہ نامیاتی اِرتقا اب رِیورس (reverse) نہیں ہوسکتا ؟‘‘

گھرکا معاملہ

’’میں نے دروازے پہ کیمرو والی ڈور بیل نہیں لگوارکھی۔ دروازہ کھولنے کے لئے بھی میں زیادہ تر ریمورٹ کا استعمال نہیں کرتی۔ جب بھی کوئی دستک دیتا ہے میں دروازہ کھولنے سے پہلے کی ہول(keyhole) سے ایک نظر دیکھ لیتی ہوں۔آج جب دروازہ ٹھوکنے کی آواز آئی تو میں نے حسبِ معمول کیِ ہول سے باہرجھانکنا چاہا لیکن وہ بند تھا۔ کی ہول میں چابی ڈالے کوئی مسلسل گھمائے جارہاتھا۔میں نے پلٹ کر دیکھا میری چابیاں اپنی جگہ پر موجود تھیں۔
میں نے ہڑبڑاہٹ پر پوری طرح قابو پاتے ہوئے بلڈنگ کے سیکیورٹی گارڈ کا نمبر ڈائل کر دیا۔
دروازے کے باہر اچانک فون کی رِنگ ٹون گونجی اورکوئی ہڑ بڑا ہٹ میں چابی دروازے میں ہی چھوڑکر بھاگ گیا‘‘۔
انسپکٹرنے میرا بیان لکھوایا اور بولا’’ میڈم یہ تو آپ کا گھریلو معاملہ لگتا ہے۔۔۔ گھر کی بات گھر میں ہی نپٹا لو، باہر کیوں پھیلا رہے ہو‘‘

ثواب

’پاپا یہ قربانی کیا ہوتی ہے؟‘ چوں کہ بقر عید قریب آ رہی تھی، قربانی کی اصطلاح ننھا کہیں سکول میں سن کر آیا تھا۔
’بیٹے قربانی۔۔۔۔۔۔مطلب۔۔۔۔۔۔sacrifice۔یعنی خدا کی خوش نودی کے لئے اپنی کسی پیاری چیز کو قربان کردینا‘
’خدا کیوں چاہتا ہے کہ اس کے بندے اپنی عزیز چیز اُسے دے دیں‘
’نہیں بیٹا خدا کو بندوں سے کوئی چیز درکار نہیں ہوتی۔۔۔انسان اپنا یہ عہد تازہ کرنے کے لئے کہ وہ خدا کی رضا کے لئے کچھ بھی کر سکتا ہے،کچھ بھی چھوڑ سکتا ہے،حتیٰ کہ اپنی پیاری سے پیاری چیز بھی قربان کر سکتا ہے۔۔۔۔۔وہ قربانی کرتا ہے تاکہ ثابت کرے کہ وہ دنیوی چیزوں اور خواہشوں کا غلام نہیں بلکہ۔۔۔۔۔۔۔‘
’اچھا ‘ منا نے ایسے کہا جیسے ساری بات سمجھ کرمطمئن ہو گیا ہو۔
بقر عید کے دوسر ے روز مجھے پھر پکڑ لیا
’پاپا آپ کہتے تھے اپنی پیاری چیز قربان کرنا قربانی ہوتا ہے۔‘
ہاں تو‘
’مگر یہاں قربانی تو جانوروں نے دی اپنی پیاری جان کی۔۔۔۔اللہ کے بندوں نے توکچھ بھی قربان نہیں کیا۔۔۔۔مزے لے لے کے کھایا۔۔۔۔۔اب ثواب کس کو ملے گا جانوروں کو یا انسانوں کو؟‘
کیا جانوروں کو ثواب ملے گا‘