Categories
شاعری

پیچھے مُڑ کے مت دیکھنا!

اس وقت ناں کوئی تُمہارا باپ ہے
نہ بھائی
نہ کوئی سرپرست
ناں تُم کسی کی بیٹی ہو
نہ عزت

صحیفے طاق پہ دھرے ہیں
قانُون مر چُکا ہے
اور تُم صرف ایک ناہنجار عورت ہو

وہ عورت
جس نے آواز اُٹھائی ہے
احتجاج کرنے والی عورتوں کی
زہریلے لفظوں سے بے حُرمتی کرنا
ہمارے مُقدس سماج کا
سرمایہء افتخار یے

وہ دن دُور نہیں
جب تُمہارے ہی قبیلے کا کوئی جوانمرد
غیرت کے نام پہ
تُمہیں قتل کر کے
سرخُروئی کا تاج سر پہ رکھے
فخر سے سینہ تان کے چلے گا

اب ڈرنا نہیں بیٹی!
کہ تُمہارا پیچھے ہٹنا
تُمہاری قوم کی ہر بیٹی کی شکست ہے
ہر ماں کے مُنہ پہ طمانچہ ہے
مُقابلہ کرنے نکلی ہو تو سر پہ کفن باندھ لو
ہر روز مت مرنا
مرنا تو صرف ایک بار ہے
بُھول جاؤ کہ تُم کون ہو
صرف یہ یاد رکھو
کہ تُمہیں کسی کی کٹھ پتلی نہیں بننا !!!!

Categories
نقطۂ نظر

“اب وقت آ گیا ہے ہم اس موضوع پر بات کریں”

“اساتذہ کی جانب سے جنسی ہراسانی کے واقعات میں اضافہ اس بات کا متقاضی ہے کہ اس موضوع پر سنجیدگی سے بات کی جائے۔” کراچی یونیورسٹی کے شعبہ ابلاغیات میں ایک طالبہ کی جانب سے اپنے استاد پر جنسی ہراسانی کا الزام عائد کیے جانے کے بعد شعبہ کے سربراہ پروفیسر طاہر مسعود نے ذرائع ابلاغ سے بات کرتے ہوئے کہا۔ پروفیسر مسعود کے مطابق جنسی ہراسانی کے واقعات کے تدارک اور ایسے واقعات پرفوری کارروائی کے لیے ایک خصوصی سیل بنانے کی تجویز بھی دی۔ا ن کا کہنا تھا کہ اب یہ ضروری ہے کہ ایک ایسا سیل بنایا جائے جس میں ایسے اساتذہ شامل ہوں جن پر کسی بھی قسم کا کوئی الزام نہ ہو اور ان کی کوئی سیاسی وابستگی بھی نہ ہو جس سے شفاف تحقیقات اور درست فیصلے ہو سکیں گے۔
اساتذہ کی جانب سے جنسی ہراسانی کے واقعات میں اضافہ اس بات کا متقاضی ہے کہ اس موضوع پر سنجیدگی سے بات کی جائے۔
تفصیلات کے مطابق شعبہ ابلاغیات میں پڑھانے والے شعبہ اردو کے ایک مرد استادکے خلاف ان کی طالبہ نے جنسی ہراسانی کی تحریر ی درخواست جمع کرائی ہے جس پر کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے تاہم طلبہ کی جانب سے اس کارروائی پر عدم اعتماد کا اظہار بھی کیا گیا ہے،” شعبہ اردو کے ایک استادکو جنسی ہراسانی کا الزام ثابت ہوجانے کے باوجود گزشتہ برس انکوان کی نوکری پر بحال کردیا گیا تھا، یونیورسٹی انتظامیہ اساتذہ کا تحفظ کرتی ہے جس کے باعث طلبہ خصوصاً طالبات کے عدم تحفظ میں اضافہ ہوا ہے۔” کراچی یونیورسٹی کی ایک طالبہ نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا۔ لالٹین کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق اس سے پہلے ایسے ہی ایک واقعہ پر یونیورسٹی انتظامیہ نے متعلقہ استاد کے خلاف کارروائی کے دوران جرم ثابت ہونے پر ایک اور کمیٹی بنائی جس کے تحت متعلقہ استاد کو بے قصور قرار دے دیا گیا۔ سیاسی اور انتظامی اثرورسوخ کی بنیاد پر جنسی ہراسانی کے واقعات میں ملوث اساتذہ کی بحالی کا یہ پہلا واقعہ نہیں ، اس سے قبل پنجاب یونیورسٹی میں ڈاکٹر افتخار حسین بلوچ کو 2013 میں جرم ثابت ہونے کے باوجود بحال کردیا گیا تھا۔
Categories
اداریہ

خوف، شرمندگی اور احساس جرم۔۔۔ تعلیمی اداروں میں جنسی ہراسانی پر لالٹین کا خصوصی فیچر

یمین نقوی، قرۃ العین، ثنا شہاب

 

تعلیمی اداروں میں ملازمت کرنے والی خواتین اور تعلیم حاصل کرنے والی طالبات کی اکثریت کسی نہ کسی صورت میں جنسی ہراسانی کا شکار ہو تی ہے۔ تعلیمی اداروں میں جنسی ہراسانی کے زیادہ تر واقعات کا شکار طالبات ہوتی ہیں جنہیں ساتھی طلبہ، اساتذہ ، غیر تدریسی عملہ یا تعلیمی اداروں کے داخلی دروازوں پر موجود افراد کے ہاتھوں مختلف نوعیت کی جنسی ہراسانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے، لیکن ان میں سے زیادہ تر خواتین جنسی ہراسانی کے قوانین سے ناواقفیت ، بدنامی کے خوف یا معاشرتی دباو کے باعث ہراساں کرنے والوں کے خلاف کاروائی سے گریز کرتی ہیں۔
تعلیمی اداروں میں جنسی ہراسانی کے زیادہ تر واقعات کا شکار طالبات ہوتی ہیں جنہیں ساتھی طلبہ، اساتذہ ، غیر تدریسی عملہ یا تعلیمی اداروں کے داخلی دروازوں پر موجود افراد کے ہاتھوں مختلف نوعیت کی جنسی ہراسانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے، لیکن ان میں سے زیادہ تر خواتین جنسی ہراسانی کے قوانین سے ناواقفیت ، بدنامی کے خوف یا معاشرتی دباو کے باعث ہراساں کرنے والوں کے خلاف کاروائی سے گریز کرتی ہیں۔
جنسی ہراسانی (Sexual Harassment) کا شکار ہونے والی طالبات میں سے اکثر کے لئے یہ تجربہ خوف، شرمندگی اور احساس جرم کا باعث بنتا ہے۔ لالٹین سے بات کرنے والی طالبات کے مطابق ان واقعات کے بعد انہیں شدید نفسیاتی دباو کا سامنا کرنا پڑا اور بعض حالات میں تعلیم کا سلسلہ منقطع کرنے یا تعلیمی ادارہ تبدیل کرنے کا فیصلہ کرنا پڑا۔اپنے ہم جماعت طلبہ کے ایک گروہ کی جانب سے جنسی ہراسانی کا سامنا کرنے والی، نجی کالج کی ایک طالبہ نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا،” میرے لئے کالج جانا اور پڑھنا تقریباً نا ممکن ہو چکا تھا، ایسے لگتا تھا جیسے سارے کیمپس کے پاس اس کے سوا کوئی اور موضوع نہیں۔”
جنسی ہراسانی کا شکار ہونے والے افراد کو مختلف نفسیاتی اور سماجی مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔سر گنگا رام ہسپتال کی کلینکل سائیکالوجسٹ ڈاکٹر مِرت گل کے مطابق جنسی ہراسانی کا شکار خواتین ذہنی دباو، تناو، کم خوابی، بے سکونی اور اعتماد کی کمی کا شکار ہو سکتی ہیں۔ جنسی ہراسانی کا شکار خواتین ہراسانی کے واقعات دوسروں کو بتانے میں دقت محسوس کرتی ہیں جس کے باعث انہیں خود پر اعتماد نہیں رہتا اور اگر یہ سلسلہ زیادہ دیر تک چلتا رہے تو نفسیاتی اور جسمانی عوارض بھی لاحق ہو سکتے ہیں۔

 

“یہ توکہیں بھی ہو سکتا ہے”
کنیئرڈ کالج برائے خواتین کی طالبات کی اکثریت کو ادارے کے داخلی دروازہ کے باہر یا سڑک پار کرنے کے لئے بنائے گئےپُل پر کھڑے افراد کے نامناسب اور فحش رویہ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ گزشتہ کچھ عرصہ سے پنجاب یونیورسٹی اور کنیئرڈ کالج کے پُلوں پر ہراسانی کے واقعات میں اضافہ دہوا ہے۔
https://laaltain.pk/a-new-wave-of-fear-sexual-harassment-on-overhead-bridges-of-pu/
کنیئرڈ کالج کی طالبات کی جانب سے گزشتہ کچھ عرصہ سے سڑک پار کرنے کے پل پرایک برہنہ شخص کی موجودگی اور فحش حرکات کی شکایات بھی سامنے آئی ہیں،جسے طالبات کی شکایت پر گرفتار کیا گیا تھا۔۔پنجاب یونیورسٹی میں سماجی علوم کی ایک طالبہ میمونہ کے مطابق جنسی ہراسانی کے واقعات کہیں بھی ہو سکتے ہیں،”یہ تو کہیں بھی ہو سکتا ہے ، کلاس روم ، لائبریری ، بس، کیفے ؛ کوئی ایسی جگہ نہیں جہاں ایسا نہ ہوتا ہو ۔”
لالٹین سے بات کرنے والی طالبات کے مطابق اساتذہ اور عملہ کے افراد کی جانب سے جنسی ہراسانی کا سامنا کرنے والی طالبات کو امتحانی نتائج، بہتر گریڈز یا قواعدوضوابط میں نرمی کے عوض جنسی عمل پر آمادہ کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ مخلوط تعلیمی اداروں میں پڑھنے والی طالبات کی ایک بڑی تعداد کو ساتھی طالب علموں کی جانب سے موبائل فون پر پیغامات، فحش اشاروں اور جملہ بازی جیسے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ لالٹین تحقیق کے مطابق سرکاری تعلیمی اداروں میں جنسی ہراسانی کے واقعات کی شرح نسبتاً زیادہ ہے۔ اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور میں عارضی تدریس کے فرائض سرانجام دینے والی ایک خاتون استاد نے یونیورسٹی انتظامیہ کو ہراساں کرنے والے افراد کو تحفظ فراہم کرنے کا ذمہ دار قرار دیا ہے،” یونیورسٹی انتظامیہ بدنامی سے بچنے کے لئے ایسے واقعات کو چھپانے اورمعاملہ ختم کرنے کی کوشش کرتی ہے ۔ سرکاری یونیورسٹیوں میں ایسے واقعات زیادہ ہوتے ہیں کیوں کہ یہاں کے اساتذہ کی ملازمت کو زیادہ تحفظ حاصل ہوتا ہے اور انتظامیہ خواتین کے خلاف جرائم روکنے میں سنجیدہ نہیں ہوتی۔ “

 

قانون تو ہے مگر ۔۔
جنسی ہراسانی کے انسداد کا خصوصی قانون 2010 میں منظوری کے بعد نافذ کیا گیا تھا جس کے تحت ” جنسی ترغیبات، جنسی پیش قدمی، جنسی استدعا اور جنسی تذلیل کی تمام ناپسندیدہ صورتیں خواہ وہ تحریری ، زبانی یا جسمانی نوعیت کی ہوں قابل تعزیر جرم” قرار دی گئی ہیں۔ اس قانون کی موجودگی اور نفاذ کے باوجود تعلیمی اداروں میں جنسی ہراسانی واقعات پر شکایت درج کرانے اور سزا دینے کے واقعات نہ ہونے کے برابر ہیں۔ جنسی ہراسانی کی روک تھام کے لئے کام کرنے والی سماجی تنظیم آشا کے مطابق اس کی ایک اہم وجہ معاشرتی دباو اور معاشرے کی پدری اقدار ہیں۔
“یونیورسٹی انتظامیہ بدنامی سے بچنے کے لئے ایسے واقعات کو چھپانے اورمعاملہ ختم کرنے کی کوشش کرتی ہے ۔

http://aasha.org.pk/Women_Harassment_Docs/qaima%20committee.pdf

آشا سے وابستہ ڈاکٹر فوزیہ سعید کے مطابق جنسی ہراسانی کے واقعات کی بہت زیادہ شرح کے باوجود مقدمات درج کرانے اور سزا کی شرح بے حد کم ہے، ایک اندازے کے مطابق جنسی ہراسانی کے 90فی صد سنگین واقعات کی شکایت درج نہیں کرائی جاتی ۔ پنجاب یونیورسٹی میں تعلیم پانے والی طالبہ ثوبیہ اکرم کا کہنا تھا کہ شکایت کرنے کے باوجود ہراساں کرنے والے سزا سے بچ جاتے ہیں، اس لئے شکایت درج کرانے کی بجائے خاموش رہنا بہتر سمجھا جاتا ہے، ” جنسی ہراسانی کا شکاراکثر خواتین ایسے واقعات کی شکایت ہی درج نہیں کراتیں، اور اگر شکایت درج کرائیں تو موثر ثبوت نہ ہونے کی وجہ سے ہراساں کرنے والے افراد سزا سے بچ جاتے ہیں، چپ رہنے میں بدنامی بھی نہیں ہوتی۔” سماجی ماہرین کا کہنا ہے کہ جنسی ہراسانی پر خواتین کے سامنے نہ آنے کی اہم وجہ اس قانون سے ناواقفیت اور سماجی دباو ہے جس کے باعث خواتین ہراساں کرنے والوں کو نظر انداز کرنے یا ان واقعات کو چھپانے کی کوشش کرتی ہیں۔
جنوری 2014 میں قائد اعظم یونیورسٹی اسلام اباد میں پیش آنے والے جنسی ہراسانی کے واقعہ میں ناکافی ثبوت کی بنا پر سزا نہیں دی گئی تھی، جبکہ سیاسی اثرورسوخ کے حامل افراد سزا سے بچنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔2011 میں قائد اعظم یونیورسٹی کے ایک سینئر فیکلٹی ممبر کوجنسی ہراسانی کے الزام کے تحت معطل کیا گیا تھا ، تاہم اس وقت کے صدر آصف علی زرداری نے ان کی سزا معاف کر دی۔

 

تعلیمی اداروں کی صورت حال
جنسی ہراسانی کی روک تھام کے 2010 میں منظور ہونے والے قانون کے مطابق تمام سرکاری اور نجی تعلیمی ادارے جنسی ہراسانی کی روک تھام کے لئے ضابطہ اخلاق بنانے ، جنسی ہراسانی کے الزامات کی تحقیق کی خصوصی کمیٹی بنانے اور اس قانون کو نمایاں جگہ آویزاں کرنے کے پابند ہیں۔ مختلف تعلیمی اداروں میں کی گئی تحقیق کے مطابق پاکستان کے بیشتر تعلیمی اداروں میں اس قانون سے آگاہی کا کوئی انتظام نہیں کیا گیا۔ فارمین کرسچن کالج کے علاوہ زیادہ تر تعلیمی اداروں میں اس قانون کے حوالے سے آگاہی نہ ہونے کے برابر ہے۔ پنجاب یونیورسٹی کی طالبہ روبینہ مشتاق کے مطابق انہیں اس قانون کے حوالے سے آگہی تب بھی نہیں تھی جب انہیں جنسی طور پر ہراساں کیا گیا۔”میں نہیں جانتی تھی کہ اگر کوئی شخص ہمیں ہراساں کرے تو کیا کرنا چاہئے، اور اکثر اوقات یہ بھی پتہ نہیں ہوتا تھا کہ کیا چیز جنسی ہراسانی کے زمرے میں آتی ہے۔”
تعلیمی اداروں میں جنسی ہراسانی کے تدارک کے لئے ہائر ایجوکیشن کمیشن نے 2011 میں انسداد جنسی ہراسانی پالیسی کا اعلان کیا تھا ،تاہم ڈان اخبار کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان کے 138ڈگری ایوارڈنگ اداروں میں سے 98 اداروں میں تاحال جنسی ہراسانی کے تدارک کی پالیسی نہیں اپنائی گئی۔ طلبہ کے مطابق تعلیمی اداروں کی انتظامیہ جنسی ہراسانی کی روک تھام کے حوالے سے سنجیدہ نہیں ہے، لیکن تمام تر مشکلات کے باوجود 2010 میں قانون منظور ہونے کے بعد سے قائد اعظم یونیورسٹی، یونیورسٹی آف پشاور، انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی اور پنجاب یونیورسٹی کے اساتذہ کے خلاف کاروائی کی جا چکی ہے۔
http://www.hec.gov.pk/MediaPublication/News/Documents/Large%20Book.pdf
ایچ ای سی کے پاس جنسی ہراسانی کے واقعات اور شکایات کے مستند اعدادوشمار موجود نہیں تاہم 2013 میں یونیورسٹی ورلڈ نیوز نامی خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق اب تک 70 سے زائد شکایات درج کرائی جا چکی ہیں ، جن میں سے زیادہ تر سرکاری اداروں سے متعلق تھیں۔ ڈاکٹر فوزیہ سعید کے مطابق سماجی دباو ، ملازمت چلے جانے اور بدنامی کے خوف کے باوجود اس تعداد میں خواتین کا جنسی ہراسانی کے خلاف سامنے آجانا بھی نہایت اہم ہے۔

 

تعلیمی اداروں میں جنسی ہراسانی کے تدارک کے لئے ہائر ایجوکیشن کمیشن(ایچ ای سی) نے 2011 میں انسداد جنسی ہراسانی پالیسی کا اعلان کیا تھا ،تاہم ڈان اخبار کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان کے 138ڈگری ایوارڈنگ اداروں میں سے 98 اداروں میں تاحال جنسی ہراسانی کے تدارک کی پالیسی نہیں اپنائی گئی۔
جنسی ہراسانی؛ حل کیا ہے
مختلف نجی تعلیمی اداروں میں عمرانیات کی تدریس سے وابستہ ڈاکٹر صفدر علی نے جنسی ہراسانی کے واقعات کی بڑی وجوہ میں مردانہ برتری اور طاقت کا اظہار، صنفی امتیاز، عورتوں کو کم تر اور محض جنسی وجود سمجھنا اور اختیارات کی تقسیم میں عورت کی کم تر نمائندگی کو جنسی ہراسانی کی وجہ قرار دیا،”پدری اقدار کی وجہ سے عورت کم تر سماجی حیثیت قبول کرنے پر مجبور ہے، اسہی وجہ سے کہ اسے ایک Sex Object اور کم تر صنف تصور کیا جاتا ہے جس پر مرد اپنی حاکمیت اور طاقت کا اظہار جنسی ہراسانی اور تشدد کے ذریعہ کرتے ہیں۔” جنسی ہراسانی سے جڑے روایتی تصورات کو رد کرتے ہوئے انہوں نے ایسے تصورات کو شعور اور آگہی کی کمی قرار دیا،”لباس یا عورت کے رویہ کو جنسی ہراسانی کی وجہ سمجھنا غلط ہے۔اس کی اصل وجہ مردانہ برتری کا تصور ہے۔”
قانونی ماہرین نے جنسی ہراسانی کے واقعات کے حل کے لئے قانون کے نفاذ اور شعور و آگہی کو پھیلانے پر زور دیا ہے۔ خواتین کے خلاف جرائم سے متعلق ایک رپورٹ کے مطابق فرسودہ عدالتی نظام، انصاف تک عورتوں کی رسائی میں رکاوٹ، شہادت کے نامناسب قانون اور ان قوانین سے ناواقفیت کی وجہ سے خواتین کے خلاف ہونے والے جنسی جرائم کی روک تھام اور متاثرہ خواتین کو انصاف کی فراہمی ممکن نہیں ہوتی۔
Categories
اداریہ

قائد اعظم یونیورسٹی اسلام آباد؛ جنسی ہراسانی کا الزام، تحقیقات میں جنسی ہراسانی کے قوانین نظر انداز

قائد اعظم یونیورسٹی میں ایم بی اے ففتھ سمسٹر کی طالبہ کی جانب سے ایک اسسٹنٹ پروفیسر پر جنسی ہراسانی کا الزام عائد کیا گیا ہے۔طالبہ کی جانب سے وائس چانسلر قائد اعظم یونیورسٹی کو دی گئی درخواست میں ملزم اسسٹنٹ پروفیسر کو امتحانی نتائج درست کرنے کے لئے جانے پر جنسی پیش قدمی کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ طالبہ کے بیان کے مطابق اس کی شکایت کو جان بوجھ کر نظر انداز کیا گیا اور سکول آف مینجمنٹ سائنسز کے اسسٹنٹ پروفیسر نے ایسے وقت اپنے کمرے میں طلب کیا جب دوپہر کے کھانے کا وقفہ تھا۔ ذرائع ابلاغ کو دستیاب تفصیلات کے مطابق طالبہ مڈٹرم امتحان کے نتائج کے غلط اندراج کی شکایت لے کر ادارے کے سربراہ کے پاس گئی تھی، جہاں مبینہ طور پر طالبہ کو جنسی پیش قدمی کا سامنا کرنا پڑا ۔
جنسی ہراسانی سے تحفظ کی تنظیم آشا کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں جنسی ہراسانی کی زیادہ تر شکایات سرکاری اداروں سے متعلق موصول ہوتی ہیں، قائد اعظم یونیورسٹی کے اساتذہ اس سے قبل بھی جنسی ہراسانی کے الزامات کی زد میں رہی ہے۔
متعلقہ اسسٹنٹ پروفیسر نے الزام کی صداقت سے انکار کیا اور اسے خود کو بدنام کرنے کی سازش قرار دیا۔ اسسٹنٹ پروفیسر کے مطابق وہ تیس برس سے تدریس سے منسلک ہیں لیکن کبھی ان سے متعلق ایسی شکایت سامنے نہیں آئی۔ یونیورسٹی وائس چانسلر ڈاکٹر اعتزاز احمد نے اس الزام کی صحت پر شبہ کا اظہار کیا ہے۔ پروفیر اعتزاز احمدکے مطابق شکایت کنندہ کے خلاف مبینہ واقعہ سے قبل یونیورسٹی قواعد کے مطابق انضباطی کاروائی کی جارہی تھی، یہ الزام دباو ڈالنے کی کوشش بھی ہو سکتا ہے۔
الزام کی تحقیقات کے لئے قائم کی گئی تین رکنی کمیٹی میں فارمیسی ڈیپارٹمنٹ کے پروفیسر گل مجید، فزکس ڈیپارٹمنٹ کے پروفیسر کاشف صبیح اور انوائرمینٹل سائنسز کی پروفیسر راحت نسیم شامل ہیں۔ یونیورسٹی انتظامیہ 2010 کے جنسی ہراسانی سے تحفظ کے ایکٹ کی بجائے نے 1973کےDiscipline rules Efficiency and کے تحت کاروائی کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔درخواست گزار طالبہ نے متعلقہ پروفیسر کو تحقیقات کے دوران سکول آف مینجمنٹ سائنسز کے سربراہ کے عہدے سے علیحدہ کرنے کی درخواست بھی کی ہے تاہم وائس چانسلر قائد اعظم یونیورسٹی نے اس سلسلے میں فوری طور پر کوئی اقدام اٹھانے سے گریز کیا ہے۔
جنسی ہراسانی سے تحفظ کی تنظیم آشا کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں جنسی ہراسانی کی زیادہ تر شکایات سرکاری اداروں سے متعلق موصول ہوتی ہیں، قائد اعظم یونیورسٹی کے اساتذہ اس سے قبل بھی جنسی ہراسانی کے الزامات کی زد میں رہی ہے۔