Categories
اداریہ

شعبہ لسانیات قائد اعظم یونیورسٹی کی بندش پر طلبہ کا احتجاجی مظاہرہ

campus-talksقائد اعظم یونیورسٹی میں معدوم ہو جانے کے خطرے سے دوچار زبانوں اور کلینیکل لسانیات کی تدریس کا واحد شعبہ بند کیا جارہا ہے۔ یہ شعبہ اس نوعیت کے مضامین پڑھانے کا واحد پاسکتانی شعبہ ہے۔ شعبہ لسانیات قائداعظم یونیورسٹی کی بندش کا فیصلہ سنڈیکیٹ سے منظور ہونے پر شعبہ کے اساتذہ اور طلبہ نے وائس چانسلر کے دفتر کے باہر احتجاجی مظاہرہ کیا اور دھرنا دیا۔ اس فیصلے کے خلاف سو سے زائد طلبہ نے 4 دسمبر کو مظاہرہ کرتے ہوئے شعبہ لسانیات کو بحال رکھنے کا مطالبہ کیا ہے۔ سنڈیکیٹ قائد اعظم یونیورسٹی کے مطابق شعبہ لسانیات کو مرحملہ وار بند کیا جائے گا تاکہ پہلے سے داخل شدہ طلبہ اپنی ڈگریاں مکمل کر سکیں۔ یونیورسٹی نے یہ فیصلہ اس شعبے کے “معاشی بوجھ” بن جانے کی وجہ سے کیا ہے۔

 

قائد اعظم یونیورسٹی میں معدوم ہو جانے کے خطرے سے دوچار زبانوں اور کلینیکل لسانیات کی تدریس کا واحد شعبہ بند کیا جارہا ہے۔ یہ شعبہ اس نوعیت کے مضامین پڑھانے کا واحد پاسکتانی شعبہ ہے۔
مظاہرے میں شریک طلبہ کے مطابق مرحلہ وار بند کیے جانے کی وجہ سے وہ اپنی موجودہ ڈگریاں تو مکمل کر سکیں گے لیکن مزید تعلیم حاصل کرنے کے لیے انہیں دیگر اداروں کا رخ کرنا پڑے گا۔ ایک اور طالب علم علی کے مطابق یہ ادارہ بند کیا جانا مقامی زبانوں کی تدریس اور لسانی علوم کی ترویج کے لیے نقصان دہ ہے،”یہ واحد ادارہ ہے جو مقامی زبانوں سمیت لسانیات کے درسی اور عملی ہر دو طرح کے مضامین میں اعلیٰ تعلیم کے کورسز پڑھا رہا ہے۔” ان کا کہنا تھا کہ بجائے اس کے کہ یونیورسٹی ان مضامین میں ایم فل اور پی ایچ ڈی پروگرام شروع کرتی انتظامیہ نے اس ادارے کو بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ طلبہ کا کہنا تھا کہ یونیورسٹی اساتذہ بھی اس کے حق میں نہیں لیکن اس شعبے کو ایک بوجھ قرار دے کر بند کیا جا رہا ہے۔ اطلاعات کے مطابق شعبہ لسانیات کی بندش کے فیصلے کے خلاف 200 اساتذہ کے دستخطوں کے ساتھ ایک پٹیشن بھی صدر پاکستان کے ہاں جمع کرائی ہے۔

 

مظاہرین نے فیصلے کے دوران انتظامیہ پر بے قاعدگی کا الزام بھی عائد کیا۔ مظاہرین کے نزدیک وائس چانسلر نے یہ معاملہ اکیڈمک کونسل میں نہیں اٹھایا جو کسی تدریسی پروگرام کے اجراء یا بندش کا مقررہ انتظامی فورم ہے جس کی تجویز پر اکیڈمک کونسل فیصلہ کرتی ہے۔ قائد اعظم یونیورسٹی اکیڈمک کونسل کے صدر سعیدالحان نیازی کے مطابق اس فیصلے کے لیے اکیڈمک کونسل سے رابطہ نہیں کیا گیا۔ ان کے مطابق اپریل میں اس معاملے کے سامنے آنے کے بعد ایک کمیٹی قائم کی گئی تھی جس نے اس شعبے کے تدریسی پروگراموں کو دیگر سعبہ ہائے تدریس میں شامل کرنے یا ان کی نوعیت بدلنے کی تجویز دی تھی لیکن سنڈیکیٹ اراکین نے اس کے برعکس اس شعبے کو بند کرنے کا فیصلہ کیا۔
وائس چانسلر قائد اعظم یونیورسٹی ڈاکٹر جاوید اشرف کے مطابق شعبہ لسانیات کی بندش کا فیصلہ دو ماہ قبل کیا گیا تھا جس پر اب احتجاج معاملے کو سیاسی رنگ دینے کی کوشش ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ تاثر غلط ہے کہ اس شعبے کو معاشی بوجھ ہونے کی وجہ سے بند کیا گیا ہے بلکہ “اس حوالے سے تمام ضروری امور اور پہلووں کا جائزہ لیا گیا تھا۔ ” انہوں نے بدانتظامی کے تاثر کو بھی رد کیا اور کہا کہ یونیورسٹی سنڈیکیٹ انتظامی امور پر فیصلہ سازی کے لیے اعلیٰ ترین ادارہ ہے۔

 

اپریل میں اس معاملے کے سامنے آنے کے بعد ایک کمیٹی قائم کی گئی تھی جس نے اس شعبے کے تدریسی پروگراموں کو دیگر سعبہ ہائے تدریس میں شامل کرنے یا ان کی نوعیت بدلنے کی تجویز دی تھی لیکن سنڈیکیٹ اراکین نے اس کے برعکس اس شعبے کو بند کرنے کا فیصلہ کیا۔
شعبہ لسانیات کی موجودہ سربراہ ڈاکٹرعمیمہ کامران نے مطالبہ کیا ہے کہ اس شعبے کی اہمیت کا تقاضا ہے کہ اسے بند کرنے کی بجائے اس میں ایم فل اور پی ایچ ڈی کی کلاسیں شروع کی جائیں، انہوں نے کہا کہ یہ سوچ غلط ہے کہ لسانیات کی کوئی عملی یا معاشی اہمیت نہیں۔ لسانیات کی عمرانی علوم میں اہمیت مسلم ہے۔
انگریزی روزنامے دی نیشن پر اس حوالے سے چھپنے والی اسماء غنی کی ایک رپورٹ میں شعبہ لسانیات قائد اعظم یونیورسٹی کے بانی سربراہ ڈاکٹر طارق رحمان کی ای میل کا حوالہ موجود ہے جنہوں نے لسانیات کے شعبے کی بندش پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔ ڈاکٹر طارق رحمان کے مطابق معاشی بنیادوں پر علوم کو جانچنے کی بناء پر زیادہ تر علمی ورثہ ‘بے کار’ قرار دے دیا جائے گا۔ ان کا کہنا ہے کہ گویائی کے نقائص، مشینی ذہانت پر تحقیق اور زبانوں کی پیمائش کے لیے علوم لسانیات اہم ہیں۔ انہوں نے اطلاقی اہمیت کے علاوہ لسانیات کو سماج، سیاست اور شخصیت کو سمجھنے کے لیے اہم قرار دیا ہے۔

 

قائد اعظم یونویرسٹی میں لسانیات کا شعبہ 2012 میں قائم کیا گیا تھا جس میں اس وقت 118 طلبہ زیر تعلیم ہیں اور معدوم ہو جانے کے خطرے سے دوچار زبانوں، عملی لسانیات اور مقامی زبانوں سمیت دیگر مضامین میں ماسٹرز تک تعلیم دی جا رہی ہے۔ یہ شعبہ معروف دانشور ڈاکٹر طارق رحمان کی 20 سالہ کوششوں کے بعد قائم کیا گیا تھا۔
Categories
اداریہ

قائد اعظم یونیورسٹی اسلام آباد؛ جنسی ہراسانی کا الزام، تحقیقات میں جنسی ہراسانی کے قوانین نظر انداز

قائد اعظم یونیورسٹی میں ایم بی اے ففتھ سمسٹر کی طالبہ کی جانب سے ایک اسسٹنٹ پروفیسر پر جنسی ہراسانی کا الزام عائد کیا گیا ہے۔طالبہ کی جانب سے وائس چانسلر قائد اعظم یونیورسٹی کو دی گئی درخواست میں ملزم اسسٹنٹ پروفیسر کو امتحانی نتائج درست کرنے کے لئے جانے پر جنسی پیش قدمی کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ طالبہ کے بیان کے مطابق اس کی شکایت کو جان بوجھ کر نظر انداز کیا گیا اور سکول آف مینجمنٹ سائنسز کے اسسٹنٹ پروفیسر نے ایسے وقت اپنے کمرے میں طلب کیا جب دوپہر کے کھانے کا وقفہ تھا۔ ذرائع ابلاغ کو دستیاب تفصیلات کے مطابق طالبہ مڈٹرم امتحان کے نتائج کے غلط اندراج کی شکایت لے کر ادارے کے سربراہ کے پاس گئی تھی، جہاں مبینہ طور پر طالبہ کو جنسی پیش قدمی کا سامنا کرنا پڑا ۔
جنسی ہراسانی سے تحفظ کی تنظیم آشا کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں جنسی ہراسانی کی زیادہ تر شکایات سرکاری اداروں سے متعلق موصول ہوتی ہیں، قائد اعظم یونیورسٹی کے اساتذہ اس سے قبل بھی جنسی ہراسانی کے الزامات کی زد میں رہی ہے۔
متعلقہ اسسٹنٹ پروفیسر نے الزام کی صداقت سے انکار کیا اور اسے خود کو بدنام کرنے کی سازش قرار دیا۔ اسسٹنٹ پروفیسر کے مطابق وہ تیس برس سے تدریس سے منسلک ہیں لیکن کبھی ان سے متعلق ایسی شکایت سامنے نہیں آئی۔ یونیورسٹی وائس چانسلر ڈاکٹر اعتزاز احمد نے اس الزام کی صحت پر شبہ کا اظہار کیا ہے۔ پروفیر اعتزاز احمدکے مطابق شکایت کنندہ کے خلاف مبینہ واقعہ سے قبل یونیورسٹی قواعد کے مطابق انضباطی کاروائی کی جارہی تھی، یہ الزام دباو ڈالنے کی کوشش بھی ہو سکتا ہے۔
الزام کی تحقیقات کے لئے قائم کی گئی تین رکنی کمیٹی میں فارمیسی ڈیپارٹمنٹ کے پروفیسر گل مجید، فزکس ڈیپارٹمنٹ کے پروفیسر کاشف صبیح اور انوائرمینٹل سائنسز کی پروفیسر راحت نسیم شامل ہیں۔ یونیورسٹی انتظامیہ 2010 کے جنسی ہراسانی سے تحفظ کے ایکٹ کی بجائے نے 1973کےDiscipline rules Efficiency and کے تحت کاروائی کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔درخواست گزار طالبہ نے متعلقہ پروفیسر کو تحقیقات کے دوران سکول آف مینجمنٹ سائنسز کے سربراہ کے عہدے سے علیحدہ کرنے کی درخواست بھی کی ہے تاہم وائس چانسلر قائد اعظم یونیورسٹی نے اس سلسلے میں فوری طور پر کوئی اقدام اٹھانے سے گریز کیا ہے۔
جنسی ہراسانی سے تحفظ کی تنظیم آشا کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں جنسی ہراسانی کی زیادہ تر شکایات سرکاری اداروں سے متعلق موصول ہوتی ہیں، قائد اعظم یونیورسٹی کے اساتذہ اس سے قبل بھی جنسی ہراسانی کے الزامات کی زد میں رہی ہے۔