Categories
شاعری

پیچھے مُڑ کے مت دیکھنا!

اس وقت ناں کوئی تُمہارا باپ ہے
نہ بھائی
نہ کوئی سرپرست
ناں تُم کسی کی بیٹی ہو
نہ عزت

صحیفے طاق پہ دھرے ہیں
قانُون مر چُکا ہے
اور تُم صرف ایک ناہنجار عورت ہو

وہ عورت
جس نے آواز اُٹھائی ہے
احتجاج کرنے والی عورتوں کی
زہریلے لفظوں سے بے حُرمتی کرنا
ہمارے مُقدس سماج کا
سرمایہء افتخار یے

وہ دن دُور نہیں
جب تُمہارے ہی قبیلے کا کوئی جوانمرد
غیرت کے نام پہ
تُمہیں قتل کر کے
سرخُروئی کا تاج سر پہ رکھے
فخر سے سینہ تان کے چلے گا

اب ڈرنا نہیں بیٹی!
کہ تُمہارا پیچھے ہٹنا
تُمہاری قوم کی ہر بیٹی کی شکست ہے
ہر ماں کے مُنہ پہ طمانچہ ہے
مُقابلہ کرنے نکلی ہو تو سر پہ کفن باندھ لو
ہر روز مت مرنا
مرنا تو صرف ایک بار ہے
بُھول جاؤ کہ تُم کون ہو
صرف یہ یاد رکھو
کہ تُمہیں کسی کی کٹھ پتلی نہیں بننا !!!!

Categories
شاعری

ہائے ماں

youth-yell

ہائے ماں
ہائے ماں دُنیا کتنی ظالم ہے
ہائے ماں کیوں میں ایک لڑکی ہوں

جانے اُس روز کیا ہُوا تھا ماں
سوچتی ہوں تو دل دہلتا ہے

ہلکا ہلکا ابھی اندھیرا تھا
جب میں مسجد چلی گئی تھی ماں
میں نے جھاڑو دیا تھا مسجد میں
پانی رکھا تھا وُضُو خانے میں
جانمازیں بھی ساری تہہ کی تھیں
ہاتھ میں میرے میرا قُرآں تھا
مُلا جی نے بُلا کے مُجھ سے کہا
آج حُجرے میں بیٹھ کے پڑھ لے

اتنا تو یاد ہے مُجھے اے ماں
پر مُجھے یہ خبر نہیں کیسے
حُجرے سے گھر تلک میں پہنچی تھی
کیوں میرا جسم ٹوٹا پُھوٹا تھا
کیوں میرے کپڑے داغدار تھے ماں
کیوں میں رو رو کے سر پٹکتی تھی
کس لئے کانپتی تھی ڈڑ ڈر کے
کیوں کسی کے قریب آتے ہی
مُجھ کو لگتا تھا کوئی پھر سے مُجھے
ایک تنگ و تاریک حُجرے میں
بند کرکے ہلاک کر دے گا

پر مُجھے صرف یہ پتہ ہے ماں
اب میں جب بھی سپارا کھولتی ہوں
مُجھ کو پھر سے ڈراتا ہے وہ خواب
جُونہی سُنتی ہوں میں اذاں کی آواز
مُلا جی کا ڈراؤنا چہرا
بھُوت بن کے ڈرانے لگتا ہے
تیرا ماتم سُنائی دیتا ہے
میری چوٹوں میں درد ہوتا ہے

کس طرح میں پڑھوں قُرآن بتا؟
کس طرح میں نماز کو اُٹھوں؟
کس طرح سر اُٹھا کے دیکھوں تُجھے؟
کس سے میں اپنا بچپنا مانگوں؟

ہائے ماں دُنیا کتنی ظالم ہے
ہائے ماں کیوں میں ایک لڑکی ہوں
Categories
شاعری

Cyber Sex

[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

Cyber Sex

[/vc_column_text][vc_column_text]

میں اُس کو غور سے
حیرت سے سُنتی ہوں
بڑے سے
ہر سہولت سے سجے گھر میں
وہ اپنے ساتھ رہتی ہے
وہ کہتی ہے

 

“کسی بھی شام کے بھیگے اندھیرے میں
وہ اپنی شدت پسند جذبات سے
بہکی ہوئی آواز میں
مُجھ سے یہ کہتا ہے
” میں آ جاؤں؟”
تو سر سے پاؤں تک
میں اک سحر آلود سی مستی میں
یکدم ڈُوب جاتی ہوں
میں اپنے نرم تکیوں میں
اُسے محسُوس کرتی ہوں
میری جلتی ہوئی آنکھوں کو بند کر کے
فقط آواز سُنتی ہُوں
میرے دن بھر کی وحشت سے
تھکے ٹُوٹے بدن پہ
اُس کے میٹھے لفظ
اک جادُو جگاتے ہیں
اُسے معلُوم ہوتا ہے
کہ میری کیا ضرورت ہے
وہ میرے درد کو
ساری تھکن کو
بھوک کو
لفظوں سے ایسے ڈھانپ لیتا ہے
کہ میں اُس رات خُود کو
پھر سے زندہ سا سمجھتی ہوں
وہ مُجھ کو زندگی دیتا ہے
مُجھ سے کُچھ نہیں لیتا “

 

میں حیرت سے پھٹی آنکھوں سے
کانوں میں دھڑکتے دل کی گہرائی سے
اُس کی بات سُنتی ہُوں
سماجی دائروں
پابندیوں
کی قید سے آزاد ہو کر
سوچتی ہوں کہ
اگر تنہائی کے مارے
بدن کی بھوک کا روزہ
کسی آواز کی دُنیا میں جا کر کھولتے ہیں تو
بھلا اس میں بُرا کیا ہے؟

Image: Kasey Mcmahon
[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]

Categories
شاعری

ماؤں کا بُڑھاپا سہما دیتا ہے

[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

ماؤں کا بُڑھاپا سہما دیتا ہے!

[/vc_column_text][vc_column_text]

آنسُوؤں سے بھری آنکھیں
بے چارگی سے ٹمٹمائیں
ضبط کے سارے بند توڑتے ہوئے
اک سیلابِ بے بسی نے
میری رُوح کو جھنجھوڑ کر
مجھے ماضی کے سمندر میں جا پٹکا
جہاں میں ششدر کھڑی
اپنی ماں کو دیکھتی تھی

 

وہ دن جب سکول سے واپسی پہ
گھر کی چوکھٹ نے
کھانے کی خُوشبُو سے مہکتے ہوئے
میری قدم بوسی کی
میں بےقراری سے کچن کی طرف لپکی
اور سُن کھڑی کی کھڑی رہ گئی

 

میری ماں
وہ صحت مند عورت
جس نے دس بچوں کو جنم دیا
جو کبھی بیمار نہیں پڑی
اُس دن
کچن کیبنٹ سے
مصالحے کا ڈبا اُٹھانے کے لئے
چھوٹی سی چوکی پہ کھڑا ہونے کی کوشش میں ہلکان تھی
میری آہٹ پہ پلٹی
اپنی ناکامی پہ تاسُف زدہ
شرمندہ سی مُسکراہٹ کے ساتھ بولی
“ثمینہ تیری ماں بُوڑھی اور کمزور ہو گئی ہے”
مجھے لگا جیسے میں مر سی گئی ہوں

 

اور آج سیڑھیاں چڑھتے ہوئے
پہلی بار
بے تحاشا تھکن سے گھبرا کر
میں اس دکھ سے سہمی کھڑی ہوں
میری بیٹی کو بھی یہ دُکھ جھیلنا پڑے گا !!!

[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]