Categories
اداریہ

قائد اعظم یونیورسٹی ؛ فیسوں میں اضافہ کے خلاف طلبہ کا مظاہرہ

قائد اعظم یونویرسٹی اسلام آباد کے ایم فل اور پی ایچ ڈی پروگرامز کے طلبہ نے ہاسٹل واجبات میں اضافہ کے خلاف وائس چانسلر ڈاکٹر اعتزاز احمد کی رہائشگاہ کے باہر احتجاج کرتے ہوئے فیسوں میں اضافہ واپس لینے کا مطالبہ کیا۔ یونیورسٹی سنڈیکیٹ کی جانب سے منظور کی گئی نئی پالیسی کے تحت ایم فل کے چار سمسٹرز اور پی ایچ ڈی کے آٹھ سمسٹرز کے بعد طلبہ سے ہاسٹل خالی کرا لئے جائیں ۔ نئی پالیسی کے نفاذ کے بعد مقررہ سمسٹرز میں اپنا کام مکمل نہ کرنے والے مزید قیام کے خواہش مند طلبہ سے مزید فیس وصول کی جائے گی۔
احتجاج کرنے والے طلبہ نے ذرائع ابلاغ سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ یونیورسٹی انتظامیہ مقررہ سمسٹرز کے بعد ہاسٹل میں چھ ماہ کے قیام کے لئے 12000 روپے فیس وصول کررہی ہے۔ بعض طلبہ نے نئی پالیسی قبول نہ کرنے والے طلبہ کو جرمانہ کئے جانے کا بھی انکشاف کیا۔ ایم فل کے ایک طالب علم نے نام نہ بتانے کی شرط پر بتایا کہ ایسے طلبہ جو نئی پالیسی سے اختلاف رکھتے ہیں، کو تیس سے چالیس ہزار روپے تک جرمانہ کیا گیا ہے۔ یونیورسٹی کے اس فیصلہ سے 350 کے قریب طلبہ متاثر ہوئے ہیں۔
وائس چانسلر قائد اعظم یونیورسٹی ڈاکٹر اعتزاز احمد نے طلبہ مظاہرین سے یہ معاملہ یونیورسٹی سنڈیکیٹ کے سامنے پیش کرنے کا وعدہ کیا، واجبات میں اضافہ یونیورسٹی سنڈیکیٹ نے کیا ہے ، اور اسے ختم کرنے کا معاملہ بھی سنڈیکیٹ ہی طے کرے گا۔ وائس چانسلر کے مطابق نئی پالیسی کا مقصد طلبہ کو وقت پر اپنا تحقیقی کام مکمل کرنے کی ترغیب دلانا تھا تاکہ نئے آنے والے طلبہ کے لئے ہاسٹل میں جگہ بنائی جا سکے۔
Categories
اداریہ

قائد اعظم یونیورسٹی اسلام آباد؛ جنسی ہراسانی کا الزام، تحقیقات میں جنسی ہراسانی کے قوانین نظر انداز

قائد اعظم یونیورسٹی میں ایم بی اے ففتھ سمسٹر کی طالبہ کی جانب سے ایک اسسٹنٹ پروفیسر پر جنسی ہراسانی کا الزام عائد کیا گیا ہے۔طالبہ کی جانب سے وائس چانسلر قائد اعظم یونیورسٹی کو دی گئی درخواست میں ملزم اسسٹنٹ پروفیسر کو امتحانی نتائج درست کرنے کے لئے جانے پر جنسی پیش قدمی کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ طالبہ کے بیان کے مطابق اس کی شکایت کو جان بوجھ کر نظر انداز کیا گیا اور سکول آف مینجمنٹ سائنسز کے اسسٹنٹ پروفیسر نے ایسے وقت اپنے کمرے میں طلب کیا جب دوپہر کے کھانے کا وقفہ تھا۔ ذرائع ابلاغ کو دستیاب تفصیلات کے مطابق طالبہ مڈٹرم امتحان کے نتائج کے غلط اندراج کی شکایت لے کر ادارے کے سربراہ کے پاس گئی تھی، جہاں مبینہ طور پر طالبہ کو جنسی پیش قدمی کا سامنا کرنا پڑا ۔
جنسی ہراسانی سے تحفظ کی تنظیم آشا کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں جنسی ہراسانی کی زیادہ تر شکایات سرکاری اداروں سے متعلق موصول ہوتی ہیں، قائد اعظم یونیورسٹی کے اساتذہ اس سے قبل بھی جنسی ہراسانی کے الزامات کی زد میں رہی ہے۔
متعلقہ اسسٹنٹ پروفیسر نے الزام کی صداقت سے انکار کیا اور اسے خود کو بدنام کرنے کی سازش قرار دیا۔ اسسٹنٹ پروفیسر کے مطابق وہ تیس برس سے تدریس سے منسلک ہیں لیکن کبھی ان سے متعلق ایسی شکایت سامنے نہیں آئی۔ یونیورسٹی وائس چانسلر ڈاکٹر اعتزاز احمد نے اس الزام کی صحت پر شبہ کا اظہار کیا ہے۔ پروفیر اعتزاز احمدکے مطابق شکایت کنندہ کے خلاف مبینہ واقعہ سے قبل یونیورسٹی قواعد کے مطابق انضباطی کاروائی کی جارہی تھی، یہ الزام دباو ڈالنے کی کوشش بھی ہو سکتا ہے۔
الزام کی تحقیقات کے لئے قائم کی گئی تین رکنی کمیٹی میں فارمیسی ڈیپارٹمنٹ کے پروفیسر گل مجید، فزکس ڈیپارٹمنٹ کے پروفیسر کاشف صبیح اور انوائرمینٹل سائنسز کی پروفیسر راحت نسیم شامل ہیں۔ یونیورسٹی انتظامیہ 2010 کے جنسی ہراسانی سے تحفظ کے ایکٹ کی بجائے نے 1973کےDiscipline rules Efficiency and کے تحت کاروائی کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔درخواست گزار طالبہ نے متعلقہ پروفیسر کو تحقیقات کے دوران سکول آف مینجمنٹ سائنسز کے سربراہ کے عہدے سے علیحدہ کرنے کی درخواست بھی کی ہے تاہم وائس چانسلر قائد اعظم یونیورسٹی نے اس سلسلے میں فوری طور پر کوئی اقدام اٹھانے سے گریز کیا ہے۔
جنسی ہراسانی سے تحفظ کی تنظیم آشا کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں جنسی ہراسانی کی زیادہ تر شکایات سرکاری اداروں سے متعلق موصول ہوتی ہیں، قائد اعظم یونیورسٹی کے اساتذہ اس سے قبل بھی جنسی ہراسانی کے الزامات کی زد میں رہی ہے۔