Categories
نان فکشن

انقلاب کا لازمی مگر بھولا سبق

سماجی بہتری اور طبقاتی فرق کا خط مستقیم ازل سے ہی پریشان چلا آیا ہے۔جاگیر دارانہ نظام ہو یا کلیسا کی بالا دستی کا سماں،سر پھرے اذہان معاشرتی تبدیلی کا خواب آ نکھوں میں سجائے صوت ہزار کا موسم دیکھنے کے منتظر ہوتے ہیں لیکن کبھی پنوشے تو کہیں ڈیگال آڑے آ تا ہے۔انقلاب کے دنوں کی مصروفیت اور ہوتی ہے، سکون کی اور۔۔۔ لیکن اس تمام عمل کے دوران بنیادی اسباق کو ذہن نشین رکھنا چاہیئے تا کہ سمت کے تعین میں دشواری پیش نہ آئے۔ تاریخ زمانہ نے کئی آسمانی اور زمینی انقلابات کا مشاہدہ کیا ہے لیکن جو انقلابی فضا پاویل ولاسوف اور اس کی بستی میں تشکیل پاتی ہے،دنیا کا کوئی بھی انقلاب اس کی مثال پیش کرنے سے قاصر ہے۔

میکسم گو رکی کی شہرہ آفاق تصنیف ماں ڈکنز کے الفاظ میں تبدیلی قلب کا ایک ایسا نمونہ ہے جو کسی بھی انقلابی تحریک کا منشور اعظم ہے۔ باپ کے انتقال کے بعد واڈکا کے نشے سے لڑکھڑاتا نوجوان یکا یک کس طرح دنیا بھر کے مزدوروں کا نمائندہ بن جاتا ہے؟ کیوں اس کی ماں نیلو ونا روایتی تہذیب میں رہتے ہوئے ایک غیر روایتی کردار ادا کرتی ہے ؟اس کی ازسر نو تفہیم آج کل کی وسائل سے لبریز دنیا کے محروموں کے لئے ایک سبق ہے کیونکہ بر صغیر پاک و ہند سامراجیت کے خاتمے میں مارکسزم اور سوشلزم سے مدد لے سکتا تھا مگر ہمارے دانشور شاید مقامی زبانوں کے ساتھ ساتھ عالمی منشور انقلاب سے بھی نہ جڑ سکے اور نتیجہ استحصالی قوتوں کے حق میں برآ مد ہوا۔

انقلابی بیٹوں کے علاوہ ماں کا مطالعہ ہماری ماؤں کے لئے بھی لازم ہے کیونکہ نیلوونا کا کردار دراصل پو رے ناول پر حاوی ہے۔وہ نہ صرف انقلابیوں کی جدوجہد کا حصہ بنتی ہے بلکہ انقلابی لٹریچر کی بحافظت ترسیل بھی اس کی ذمہ داری ہے جسے اس نے بخوبی سر انجام دیا۔صداقت کا جو سفر ایک کمرے سے شروع ہوا تھا اسے ماں کے اخلاص اور غیر معمولی محنت نے ہی بام عروج پر پہنچایا۔ماں کا حاصل مطالعہ صرف کمیونسٹ دوستوں کے لئے کارآمد نہیں بلکہ یہ ایک عالمی تصنیف ہے جس کا شاید نعم البدل ملنا ممکن نہ ہو۔ اسی لئے تو گو رکی کا ہر شارح اور سماجی مفکر متفق علیہ ہے کہ پا ویل کے ساتھیوں کا ماں کو اپنی ماں کہنا اور سمجھنا اس خواب کی تعبیر تھا جو ایک انصاف، برابری اور ترقی پسند معاشرے کی صورت میں دنیا کے ہر محنت کش نے دیکھا تھا۔

پیشہ ورانہ تربیت کا کو ئی بھی نصاب گورکی کے ناول ماں کا مقابلہ نہیں کر سکتا اور عصر حاضر میں جہاں مارکیٹ اکانومی نے ماں باپ کو یکساں مصروف کر دیا ہو ،بچے عدم تو جہ اور جنسی ہراسانی کا شکار ہوں وہاں ایسا ادب ہی ہے جو ہمارے ذہنو ں کی تطہیر کر سکتا ہے کیونکہ عالمی اقدار کا پھیلاؤ ماں کا اولین مقصد ہے۔

ہمت،لگن ،انصاف اور سماجی تربیت اگر انسانی شکل میں مجسم ہو کر سامنے آ جائیں تو نیلوونا کی ہی شبیہ بنتی نظر آتی ہے۔اس کی گرفتاری کا منظر ہو یا اس کے بیٹے کی، شفیق مسکراہٹ اور حوصلہ اس کے آس پاس رقص کرتے ہیں کیونکہ 110 سال سے جوان ماں تا قیامت زندہ رہنے والی کتاب ہے اور اس کو ہم سب کے سرہانے موجود ہونا چاہیئے۔

Categories
نقطۂ نظر

انقلاب؛ کب، کیوں اور کیسے؟

ایک جانب جہاں معاشرے کی اکثریت سیاست سے بیزار، بدظن اور لاتعلق ہو چکی ہے وہیں ایک متضاد کیفیت یہ ہے کہ تقریباً ہر فرد اس بات سے متفق ہے کہ اس معاشرے کو تبدیل ہونا چاہیئے۔
“انقلاب کب آئے گا؟ کشمیر کا مسئلہ کب حل ہو گا؟ تبدیلی کیوں نہیں آتی؟ نصف صدی سے زیادہ عرصہ ہو چکا ہے اب تک کچھ بھی نہیں بدلا، آگے بھی کچھ نہیں بدلے گا ۔” اس قسم کی گفتگو اور تبصرے زبان زد عام ہیں۔ عام آدمی ہی نہیں بلکہ آزادی اور انقلاب کی جدوجہد کرنے والے کارکنان اور قائدین بھی نجی محفلوں میں اسی قسم کی گفتگو کرتے پائے جاتے ہیں۔ کسی حد تک یہ بات درست بھی ہے کہ آزادی اور انقلاب کی جدوجہد کسی نہ کسی شکل میں سات دہائیوں سے جاری ہے پھر بھی آج یہ جدوجہد (بظاہر) منزل سے کوسوں دور نظر آتی ہے یہی وجہ ہے کہ صرف ایسی سیاست کو کار آمد سمجھا جاتا ہے جس کے ذریعے فوری ذاتی یا اپنے حامیان کے مقاصد یا مفادات کا حصول ممکن ہو۔ مفاد پرستی اور موقع پر ستی سیاست میں کامیابی کے رہنما اصول بن چکے۔ نظریاتی اور انقلابی سیاست پہلے تو ناپید ہوئی، اور چند دیوانے جو ابھی تک اس قسم کی سیاسی جدوجہد کرتے نظر آتے ہیں انہیں پاگل سمجھا جاتا ہے۔ حقیقی آزادی اور انقلاب کی بات کرنے والے کو خیالوں کی جنت میں رہنے والا ایسا فرد سمجھا جاتا ہے جس کا حقیقت سے دور تک کوئی تعلق نہ ہو۔

 

ایک جانب جہاں معاشرے کی اکثریت سیاست سے بیزار، بدظن اور لاتعلق ہو چکی ہے وہیں ایک متضاد کیفیت یہ ہے کہ تقریباً ہر فرد اس بات سے متفق ہے کہ اس معاشرے کو تبدیل ہونا چاہیئے۔ مہنگائی، بےروزگاری، غربت، لوڈشیڈنگ، تعلیم اور علاج کا مہنگا ہوتا ہوا کاروبار، اور حکمرانوں کی لوٹ مار جیسے بے شمار مسائل ہیں جن کے خاتمے کی خواہش سب کے ذہنوں میں موجود ہے لیکن ان مسائل کے خاتمے کی عملی جدوجہد میں شمولیت اختیار کرنے کے سوال پر لوگوں اور نوجوانوں کی اکثریت بے عملی کا رویہ اختیار کیے ہوئے ہے۔ تبدیلی کی عملی جدوجہد میں شمولیت جتنی کم ہے، تبدیلی کی خواہش اور ضرورت اتنی ہی بڑھتی جا رہی ہے۔ سیاست سے عمومی بے زاری کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ اب تک جن طریقوں سے یہ جدوجہد کی جاتی رہی، ان طریقوں کے غلط ہونے کی وجہ سے مسلسل ناکامیوں نے لوگوں کو سیاست سے دور کر دیا۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ مروجہ سیاست میں تبدیلی اور انقلاب کے نعروں پر لوگوں کو مسلسل دھوکے دئیے گئے ہیں، چہرے بدل بدل کر غداریاں کی گئیں اور ذاتی مفادات کے حصول کے لیے لوگوں کو استعمال کیا گیا اس لیے کسی حد تک نوجوانوں اور عام لوگوں کا سیاست سے نفرت اور بیزاری کا رویہ جائز اور بجا ہے۔ لیکن سیاست سے دوری اختیار کرنے کے باوجود تبدیلی کی خواہش اور ضرورت نہ صرف اپنی جگہ موجود ہے بلکہ مسلسل بڑھتی جا رہی ہے۔

 

یہ سوال درست ہے کہ اب تک اتنی طویل مدت جدوجہد کے باوجود کوئی تبدیلی کیوں نہیں آسکی؟ لیکن اس سوال کا درست جواب تلاش کرنا زیادہ ضروری ہے ناکہ ا س سے یہ نتائج اخذکرنا کہ اگر اب تک تبدیلی نہیں آئی تو آگے بھی نہیں آ سکتی۔
اچھی تعلیم، معیاری صحت کی سہولیات اور روزگار کے حصول میں مشکلات، معاشی ناآسودگی اور اس سے پیدا ہونے والی ذاتی اور خانگی پریشانیاں، لوڈ شیڈنگ، دہشت گردی اور قدرتی آفات کی صورت میں ناکافی امداد سمیت ہر قسم کے مسائل کا تعلق سیاست سے ہے۔ اس لیے سیاست سے بیزاری اور نفرت کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ یوں یہ مسائل ختم ہو جائیں گے یا تمام لوگوں اور نوجوانوں کو کبھی بھی سیاست میں دوبارہ دلچسپی لینے اور مداخلت کرنے کی ضرورت ہی نہیں پیش آئے گی۔ عام لوگوں اور نوجوانوں کی مروجہ سیاست سے نفرت جائز اوردرست ہے، چونکہ یہ سیاست چند بڑے لوگوں کا کاروبار بن چکی ہے۔ مروجہ سیاست عام لوگوں سے اس قدر لاتعلق ہے کہ اس سے بیزاری لوگوں کے پسماندہ شعور کی بجائے بلند شعوری معیار اور سمجھ بوجھ کی عکاس ہے۔ لیکن اہم نکتہ یہ ہے کہ مروجہ سیاست کے مزاج سے بیزاری اور لاتعلقی کافی نہیں بلکہ اس مفاد پرستانہ سیاست کے خلاف سیاست میں متحرک ہو کر ہی اس کا خاتمہ کیا جا سکتا ہے۔ دوسرا اہم نکتہ یہ ہے کہ سیاست سے مکمل لاتعلقی حکمرانوں کے مختلف دھڑوں کو مکمل چھوٹ دینے کے مترادف ہے کہ وہ ہمارے مسائل حل کرنے کی بجائے ہمارے وسائل کی سر عام لوٹ مار کرتے رہیں اور ہم محض تماشائی بنے رہیں، بے بس اور لاچارتماشائی جو کچھ بھی نہیں کر سکتے۔ یہ سوال درست ہے کہ اب تک اتنی طویل مدت جدوجہد کے باوجود کوئی تبدیلی کیوں نہیں آسکی؟ لیکن اس سوال کا درست جواب تلاش کرنا زیادہ ضروری ہے ناکہ ا س سے یہ نتائج اخذ کرنا کہ اگر اب تک تبدیلی نہیں آئی تو آگے بھی نہیں آ سکتی۔

 

اگر اب تک تبدیلی نہ آسکنے سے یہ نتیجہ اخذ کیا جائے کہ آئندہ بھی تبدیلی نہیں آئے گی تو ہم مایوس، شکست خوردہ، ناکام اور مزید بے اختیار ہو جائیں گے اور ہمارے حکمران بھی ایسا ہی چاہتے ہیں۔ اب تک جن نظریات اور طریقوں کے ذریعے تبدیلی کی جدوجہد کی گئی ہے اگر ان نظریات اور طریقوں کے ذریعے تبدیلی کا حصول ممکن نہیں ہو سکا تو بھی یہ جدوجہد رائیگاں نہیں گئی بلکہ اس کے ذریعے ہم تک عملی جدوجہد کے یہ اسبا ق پہنچے ہیں کہ ان نظریات میں کیا خامیاں اور کمزوریاں ہیں۔ ہم ان تجربات سے اسباق سیکھتے ہوئے اپنی جدوجہد کو زیادہ درست بنیادوں پر استوار کر سکتے ہیں۔ اس کے لیے تاریخ سے ہزاروں مثالیں دی جا سکتی ہیں لیکن سب سے دلچسپ مثال علم کیمیا کی تاریخ میں ہے۔ قرون وسطیٰ اور اس سے پہلے کے ادوار میں کئی صدیوں تک پارس پتھر دریافت کرنا اور کم قیمت دھاتوں کو سونے میں تبدیل کرنے کا طریقہ معلوم کرنا ‘الکیمیا’ کا واحد مقصد رہا۔ اس پتھر کے ساتھ ایسی خصوصیات منسوب کی گئی تھیں کہ یہ ہر دھات کو سونے میں تبدیل کر دے گا۔ کئی صدیوں تک بے شمار تجربات کیے جاتے رہے اور صدیوں کی لاحاصل تحقیق کے بعد یہ نتیجہ اخذ کیا گیا کہ ایسا کر نا ممکن نہیں لیکن اس کی دریافت کی خاطر جو تحقیق کی گئی اس کے ذریعے دھاتوں کی خصوصیات جاننا ممکن ہوا اور ان کی کیمیائی ساخت کے بارے میں بے شمار معلومات جمع کی گئیں جو جدید علم کیمیا کی بنیاد بنیں۔ یوں ایک ناممکن کے حصول کی بظاہر غیر ضروری جدوجہد اپنی ناکامی کے باوجود اگلی نسلوں کے لیے سائنس کی ایک انتہائی اہم شاخ اور شعبے کے قیام کے بنیادی لوازم فراہم کر گئی۔ اسی طرح ماضی کی تمام ناکام جدوجہدیں رائیگاں نہیں ہوتیں بلکہ مستقبل کی کامیاب جدوجہد کے لیے اسباق اور بنیادیں فراہم کر جاتی ہیں۔ ہم انقلاب اور تبدیلی کے اب تک نہ آنے سے دو قسم کے نتائج اخذکر سکتے ہیں، ایک مایوسی اور ناکامی کا اور دوسرا ان کوششوں کے تنقیدی تجزیے سے مزید جدوجہد کے لیے خام مال اور نظریات اخذ کرتے ہوئے کوشش جاری رکھنے کا۔

 

ہم انقلاب اور تبدیلی کے اب تک نہ آنے سے دو قسم کے نتائج اخذ کر سکتے ہیں، ایک مایوسی اور ناکامی کا اور دوسرا ان کوششوں کے تنقیدی تجزیے سے مزید جدوجہد کے لیے خام مال اور نظریات اخذ کرتے ہوئے کوشش جاری رکھنے کا۔
اگر ہم تبدیلی کی جدوجہد کو درست بنیادوں پر استوار کرنے کے لیے متحرک ہوں گے تو ہم نہ صرف اب تک تبدیلی کے نہ آسکنے کی سائنسی وجوہ کا کھوج لگانے میں کامیاب ہوں گے بلکہ اس سوال کا بھی درست سائنسی جواب بھی ڈھونڈ نکالیں گے کہ انقلاب کب اور کیسے آئے گا؟ جس معاشرے میں ہم نے جنم لیا ہے یہ ہمیں پہلے سے بنا بنایا اور تاریخی ارتقاء کے ذریعے نشو ونما پا کر موجود ہ مرحلے پر اس کیفیت میں ملا ہے۔ ہم اس کے مستقبل کے بارے میں درست طور پر صرف اس بنیاد پر سمجھ بوجھ حاصل کر سکتے ہیں جب ہم سماجی ارتقاء اور تاریخ کے ان بنیادی قوانین کو جاننے کی کوشش کریں گے جن کے تابع سماج ترقی کرتا ہے۔ انہیں قوانین کے ذریعے ہم یہ سمجھ سکتے ہیں کہ سماج میں تبدیلی کیسے، کب اور کیوں کر جنم لیتی ہے اور ہم اس میں کیا کردار ادا کر سکتے ہیں؟ عموماً کسی بھی معاشرے میں انقلابی تحریکیں روز روز نہیں جنم لیا کرتیں بلکہ ہر معاشرے میں طویل عرصہ تک بظاہر جمود اور معمول حاوی رہتا ہے۔ کئی دہائیوں تک سماج معمول کے ارتقائی مراحل سے گزرتا رہتا ہے جس کے دوران چھوٹی چھوٹی تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں جنہیں مقداری تبدیلیاں کہا جاتا ہے۔ یہ مقداری تبدیلیاں مجتمع ہو کر ایک خاص مرحلے پر ایک معیاری تبدیلی یعنی انقلاب یا دھماکہ خیز تبدیلی کو جنم دیتی ہیں۔ اس لیے جب تک اس معیاری تبدیلی کے مرحلے کا آغاز نہیں ہوجاتا ہر سماج بظاہر ایسے ہی دکھائی دے رہا ہوتا ہے جیسے کچھ بھی تبدیل نہیں ہو رہا۔ ایسے ہی جمود کے ادوار ہوتے ہیں جیسا کہ اس وقت ہمارے معاشرے کا ہے جس میں وہ تمام افراد جو سماجی تبدیلی کے بنیادی قوانین سے بے بہرہ ہوتے ہیں وہ یہ سمجھنا شروع کر دیتے ہیں کہ کوئی تبدیلی نہیں آسکتی۔ در حقیقت تبدیلی کائنات کا سب سے بنیادی قانون ہے۔ اس کائنات کی ہر چیز ہر لمحہ تبدیل ہو رہی ہے۔ تبدیلی کے دو مراحل ہیں، پہلا مقداری تبدیلی کا جس کے دوران تبدیلی اتنی چھوٹی ہوتی ہے کہ بظاہر لگتا ہے کہ کچھ بھی نہیں بدل رہا، اور دوسرا مرحلہ وہ ہوتا ہے جب یہ چھوٹی چھوٹی تبدیلیاں ایک معیاری تبدیلی کو جنم دیتی ہیں جسے انقلاب کہا جاتا ہے۔

 

تبدیلی کے دو مراحل ہیں، پہلا مقداری تبدیلی کا جس کے دوران تبدیلی اتنی چھوٹی ہوتی ہے کہ بظاہر لگتا ہے کہ کچھ بھی نہیں بدل رہا، اور دوسرا مرحلہ وہ ہوتا ہے جب یہ چھوٹی چھوٹی تبدیلیاں ایک معیاری تبدیلی کو جنم دیتی ہیں جسے انقلاب کہا جاتا ہے۔
ہم اگر آج کی دنیا سے مثالیں پیش کریں تو مصر میں 59سال تک کوئی بڑا واقعہ رونما نہیں ہوا تھا۔ حسنی مبارک کی حکومت بظاہر بہت طاقتور نظر آرہی تھی لیکن 59سال بعد فروری 2011ء میں چند نوجوانوں کے احتجاجی مظاہرے نے اتنی بڑی تحریک کو جنم دیا جس نے حسنی مبارک کا تختہ الٹ دیا۔ 59سال میں جو کچھ نہیں ہوا تھا وہ 2011ء میں ہو گیا لیکن یہ بھی تبدیلی کا مکمل عمل نہیں تھا چونکہ حقیقی تبدیلی محض کسی انقلابی تحریک کے ابھار کے ذریعے ممکن نہیں ہوتی۔ انقلابی تحریک کو اگر درست نظریات، پروگرام اور راہنمائی فراہم کرنے والی انقلابی تنظیم میسر آجائے تب اس انقلابی تحریک کی طاقت سے صرف حکمرانوں کے تخت نہیں گرائے جاتے بلکہ اس کے ساتھ حکمرانوں کے نظام کو بھی اکھاڑ کر پھینکا جاسکتا ہے۔ اکتوبر 1917 کے سوویت انقلاب کے معمار لیون ٹراٹسکی نے لکھا تھا “ایک انقلاب کی سب سے بنیادی اور ناقابل تردید خصوصیت عوام کی اکثریت کی تاریخی عمل میں پرزور اور فیصلہ کن مداخلت ہوتی ہے”۔

 

آج دنیا بھرمیں انقلابی تحریکیں ابھر رہی ہیں، ان تحریکوں کو کامیابی سے ہمکنار کرنے کے لیے انقلابی نظریات پر مبنی ایک انقلابی تنظیم تعمیر کرنا ہو گی جو اس استحصالی نظام کو جڑ سے اکھاڑ کر پھینک سکے۔ چونکہ انقلابی تحریکیں اگر نظام کو تبدیل کرنے میں ناکام رہتی ہیں تو پھر رد انقلاب ان معاشروں کو برباد ی سے دوچار کر دیا کرتے ہیں۔ تحریکیں سماجی قوانین کے تابع ابھرتی ہیں لیکن ان کو کامیابی سے ہمکنار کرنا باشعور انقلابیوں کا فریضہ ہوتا ہے۔
Categories
نقطۂ نظر

!پاکستانی کروم ویل

Nara-e-Mastana-ajmal-jami

انداز ہ کیجیے ایک شخص اپنے مریدین کو پارلیمنٹ ہاوس کے گھیراو کا حکم دیتا ہے اور کہتا ہے کہ “کوئی شخص نہ اندر جائے نہ باہر آئے ، اور اگر کوئی باہر نکلنے کی کوشش کرے تو اسے تمہاری لاشوں سے گزرنا ہو گا۔” ارے صاحب کارکنوں کی لاشوں پر سے کیوں ،آپ کی لاش پر سے کیوں نہیں؟ یہ وہی شخص ہے جو رات شہادت پروف ائر کنڈیشنڈ کنٹینر میں گزارتا ہے،چند لمحوں کے لیے باہر آتا ہے اور مریدین کو ورغلانے کے بعد دوبارہ ٹھنڈے کنٹینر میں جا گھستا ہے۔ کارکن سڑکوں پر دندناتے ہیں، پارلینٹ ہاوس کا گھیراو کرتے ہیں اور یہ شخص کنٹینر میں بیٹھ کر کسی نئی چال کا جال بننے میں مصروف ہو جاتا ہے۔ قبلہ اگر خود آگے بڑھ کر مریدین کے ہمراہ پارلیمنٹ کا گھیراو کرتے تو میں یقیناقادری صاحب کو کسی حد تک داد کا مستحق قرار دیتا،لیکن آپ جناب نے کنٹینر میں پناہ لینے میں ہی عافیت جانی،اس پر مستزاد یہ کہ اندر بیٹھے سنتے رہے ” ہمت اور بہادری طاہر القادری “۔
قبلہ کا انقلاب تب کہاں تھا جب پاکستان پر مشرف حکمران تھا؟ ایک آمر کے دور میں انہوں نے نہ صرف انتخابات میں حصہ لیا بلکہ اسمبلی تک رسائی حاصل کی،مستعفی ہوئے اور وطن کو خیر باد کہہ دیا۔ کاش یہ حضرت کسی آمر کے دور میں بھی اسی جوش خطابت سے انقلاب کی بات کرتے اور شہادت پروف کنٹینر میں دھرنا دیتے۔
قبلہ نے اس سب کو انقلاب کا نام دے رکھا ہے۔ یہ وہی طاہر القادری ہیں جن کے جملہ اوصاف پر لکھنے کے لیے ہزاروں اوراق درکار ہیں۔ یہ کمال زبان کاہے تو کیا ہم کسی بس میں سوار منجن بیچنے والے کو یا صدر کراچی اور آزادی چوک لاہور میں پاکستان کے “سب سے بڑے مسئلے کا حل بیچنے والے” کو اپنا حکمران بنالیں ؟ اسے بھی مجمع سنتا ہے سر دھنتا ہے اور اس کی سن کر اپنی جیب ڈھیلی بھی کرتا ہے ۔ اور بعد میں پتہ چلتا ہے کہ جیب کٹ چکی تو کیا ہم اپنی قومی جیب کسی جیب کترے کو پیش کردیں ؟
فن خطابت کے ماہر یہ صاحب شاید بھول گئے ہیں کہ جس نظام کو یہ مسترد کر رہے ہیں اسی کے تحت انہیں ایسے مجمعے لگانے کی آزادی میسر ہے، جس حکومت کو گرانے کی بات کی جا رہی اس کی سیاسی نااہلی سے قطع نظر یہی حکومت ہے جس کے تحمل کے باعث یہ مجمع مارچ کرتے کرتے پارلیمنٹ ہاوس تک جا پہنچا ہے۔یہ اسی نظام کے ثمرات ہیں کہ قبلہ لاہور سے ہوتے ہوئے وفاق میں شاہراہ سہروردی پر ڈیرے ڈالے بیٹھے ہیں اور کاروبار حیات کو اپنے گھنٹوں طویل خطابات سے کئی روزسےمفلوج کئے ہوئے ہیں۔ کہنے کا مقصد یہ ہے کہ کیا اعلیٰ حضرت یہ انقلاب کسی ڈکٹیٹر کے دور میں برپا کر سکتے تھے؟ قبلہ کا انقلاب تب کہاں تھا جب پاکستان پر مشرف حکمران تھا؟ ایک آمر کے دور میں انہوں نے نہ صرف انتخابات میں حصہ لیا بلکہ اسمبلی تک رسائی حاصل کی،مستعفی ہوئے اور وطن کو خیر باد کہہ دیا۔ کاش یہ حضرت کسی آمر کے دور میں بھی اسی جوش خطابت سے انقلاب کی بات کرتے اور شہادت پروف کنٹینر میں دھرنا دیتے۔
سانحہ ماڈل ٹاون یقینا حکومتی نا اہلی اور بربریت کی بد ترین مثال ہے جس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔ حکومت کی جانب سے سنجیدہ اقدامات نہ کئے جانے کے باعث بظاہر قبلہ قادری کا حالیہ انقلاب اسی سانحے سے شروع ہوتا ہے۔ لیکن اس سانحے کے بعد سے آپ دن بھر میں آٹھ آٹھ بار سکرینوں پر جلوہ گر ہوتے رہےلیکن ایک بار بھی ان شہدا کی قبرو ں پر نہ گئے ۔ اس انقلاب کی انقلابیت جانچنے کے لیے فقط یہ جاننا ہی کافی ہے کہ چوہدری برادران آپ کے مکمل ہمنوا ہیں اور شیخ رشید صاحب ہیں بھی اور نہیں بھی کے مصداق انقلاب کا حصہ ہیں بھی اور نہیں بھی۔
کرومویل کی عوالی پارلیمنٹ کا انجام تو تاریخ کے صفحات میں درج ہے مگر قادری صاحب کی عوامی پارلیمنٹ کا انجام کیا ہوگا یہ جاننے کے لیے شاید تھوڑے صبر کی ضرورت ہے۔
قبلہ قادری کا دعویٰ ہے کہ پاکستان میں موجودہ جمہوری نظام اور پارلیمنٹ صحیح کام نہیں کررہے اس لئے اب ملک کے سیاسی مستقبل کا فیصلہ ان کے مریدین پر مشتمل عوامی پارلیمنٹ کرے گی۔1649تا 1653 برطانوی فوجی ولیم کرومویل نے انقلاب برپا کرتے ہوئے اقتدار پرقبضہ کرکے اپنی مرضی کے اراکین پر مشتمل پارلیمنٹ قائم کی جسے تاریخ رمپ پارلیمنٹ کے نام سے یاد کرتی ہے ۔ کرومویل اس پارلیمنٹ کو صرف چار سال تک چلاسکا اوراس دوران اس نے برطانیہ کے بادشاہ چارلس اول کے موت کے پروانے پر بھی دستخط کئے۔رمپ پارلیمنٹ کےاس بانی کی طبعی موت 1658 میں ہوئی اور اس کے بعد ملک میں ایک بار پھر سے بادشاہت بحال ہوئی۔ اور پھر تاریخ شاہد ہے کہ کس طرح کرامویل کی قبر کھود کر اس کی لاش باہر نکالی گئی ،اسے پھانسی دی گئی۔ یہی نہیں بلکہ اس کے بعد خود ساختہ عوامی پارلیمنٹ کے بانی کا سر کاٹ کر اسے کیچڑ میں پھینک دیا گیا۔ برطانوی سرکار نے فقط انہی اقدامات پر ہی اکتفا نہ کیا بلکہ کرومویل کے چار سالہ اقتدار کو ملکی تاریخ سے ہی خارج کر دیا۔ کرومویل کی عوالی پارلیمنٹ کا انجام تو تاریخ کے صفحات میں درج ہے مگر قادری صاحب کی عوامی پارلیمنٹ کا انجام کیا ہوگا یہ جاننے کے لیے شاید تھوڑے صبر کی ضرورت ہے۔
پس تحریر: گزارش ہے کہ حکومت ابھی تک تو دونوں انقلابی دھڑوں کو کسی سیاسی حل تک لانے میں ناکام رہی ہے،حالات کس کو “نواز” دیں گےفی الحال کچھ کہنا مشکل ہے، لیکن اس بات کا دھڑکا ہے کہ حکمران کوئی “شریف” ہی ہو گا۔ کسی “ایک” کی قربانی لازم ٹھہر چکی ہے کیونکہ قبلہ قادری اور خان صاحب کو خالی ہاتھ واپس بھیجنا اب ناممکن ہو چکا ہے۔
Categories
نقطۂ نظر

احتجاج کا حق اور سڑکوں کی سیاست

یورپ میں شخصی حکم رانی کے تحت قائم سلطنتوں میں بادشاہ اوراس کے حواری جاگیرداروں کی اقتدار پر قائم اجارہ داری کے خلاف ابھرتے ہوئے تاجر ، صنعت کار اور دانشور طبقہ کی جانب سے پر ہجوم عوامی تحریکوں کے ذریعہ انقلاب برپا کرنےکی کوششوں کے باعث جس جمہوری طریقہ انتخاب و انتقال اقتدار کا آغاز ہوا ،وہ نوآبادیاتی دور میں مقبوضہ علاقوں تک بھی پہنچا ۔ یورپ میں تشکیل پانے والے جمہوری نظام کی بنیاد انقلاب فرانس اور اشتمالی تحریکوں کی عوامی طاقت کے اس خوف پربھی رکھی گئی ہے جو کسی بھی ریاست کو انتشار کا شکار کرتے ہوئے مختلف طبقات کے مفادات اور ریاستی اداروں کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا نے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ جمہوری اداروں کے قیام کی اساس عوامی اقتداراعلیٰ، بنیادی حقوق اور آزادیوں تک یکساں رسائی اور ریاست، حکومت، معاشرے اور فرد کے مابین طاقت اور اقتدار کی شراکت کے عمرانی معاہدوں پر رکھی گئی تھی تاکہ متشدد انقلابات اور ہجوم کے ہاتھوں تبدیلی کا راستہ روکا جا سکے ۔ ریاست کی سطح پر تشکیل پانے والے عمرانی معاہدے جہاں حکومت کو ریاستی طاقت استعمال کرنے کا محدود حق دیتے ہیں وہیں عوام یا مختلف طبقات کو احتجاج کا جمہوری حق بھی دیتے ہیں۔ یورپی جمہوری نظام کا ارتقاء بتدریج ریاست میں بسنے والے مختلف گروہوں کو سیاسی نظام اور ریاستی اداروں میں نمائندگی اور شراکت دینے کا بتدریج عمل تھا جس کے تحت اقلیت اور اکثریت کے مابین منصفانہ توازن کے قیام کی مختلف جمہوری صورتیں رائج ہوئیں۔
سڑکوں کی سیاست کے ذریعہ حکومتوں کی تبدیلی کی کوششوں کے دوران یہ نقطہ ہمیشہ فراموش کیا گیا ہے کہ احتجاج کرتے ہجوم سے تمام تر ہمدردی کے باوجود مظاہرین کے مطالبات صرف احتجاج کی شدت ، مظاہرے میں شریک افراد کی تعداد اور عوامی حمایت کی بنیاد پر جائز، آئینی اور قانونی تسلیم نہیں کئے جا سکتے ۔
نوآبادیاتی مقبوضہ جات خصوصاً ہندوستان میں یورپی اقوام کے ہاتھوں پہنچنے والے جمہوری نظام کے تحت شروع ہونے والے محدود سیاسی عمل نے جلد ہی عوامی سطح پراقتدار میں شمولیت اور بعد ازاں مکمل آزادی کے مطالبے کی شکل اختیار کر لی۔ ہندوستانیوں نے ریاست پر قابض استعماری ممالک کے قبضہ کے خلاف بیسویں صدی میں اقتدار کی مقامی افراد کو منتقلی اور خودمختار آزاد ریاستوں کے قیام کے لئے جو تحریکیں چلائیں ان میں ریاست استعماری قوتوں کی نمائندہ تصور کی گئی اور ریاستی اداروں کے خلاف سول نافرمانی سمیت احتجاج کرنے کے تمام جمہوری اور غیر جمہوری طریقےاستعمال کئے گئے۔ آزادی کی ان تحریکوں میں ریاست اور اس کے اداروں کو دشمن سمجھنے کی سوچ کسی حد تک آج کے پاکستانی انقلابیوں اور علیحدگی پسندوں میں بھی نظر آتی ہے، جو ریاست یا کم سے کم حکومت کو جبر اور استحصال کا ایک ذریعہ سمجھتے ہیں۔
پاکستان کی تاریخ میں احتجاج کے بنیادی انسانی حق کو ریاست کے اداروں کے خلاف من پسند نتائج کے حصول کے لئے استعمال کرنے کی بیسیوں مثالیں یہ ظاہر کرتی ہیں کہ آج بھی بیشتر سیاسی جماعتیں اور فشاری گروہ ریاستی اداروں جیسےپارلیمان، پولیس اورعدالتوں کو ظلم، جبر اور استحصال کا نمائندہ سمجھتے ہوئےان کے خلاف متشدد احتجاج کو نہ صرف جائز سمجھتے ہیں بلکہ اسے اپنا جمہوری حق تصور کرتے ہیں۔ اس تاثر کی ایک اہم وجہ فوجی آمریتوں اور نوے کی دہائی کی جمہوری حکومتوں کے خلاف چلنے والی تحریکوں کے دوران فوجی اور سول حکمرانوں کی طرف سے پولیس اور عدالتوں کو اپنے اقتدار کے تحفظ اور احتجاج کو دبانے کے لئے استعمال کیا جا نا ہے۔ایک اور اہم وجہ ریاست اور حکومت کی جانب سے احتجاج کرنے والوں سے معاملات طے کرنے کی اہلیت کا نہ ہونا ہے۔ ریاستی سطح پر بھی احتجاجی اور مزاحمتی تحریکوں کو نوآبادیاتی نقطہ نظر سے دیکھا جاتا ہے اور ان کے خلاف طاقت کے استعمال کو ریاستی سلامتی کے لئے جائز سمجھا جاتا ہے؛جیسےایم آرڈی کی تحریک ، بلوچ مزاحمتی تحریک اور عدلیہ بحالی کی وکلاء تحریک،جن کے دوران حکومتوں کی جانب سے احتجاج اور مزاحمت کرنے والوں کے ساتھ معاملات کو جمہوری طریقوں سے حل کرنے کی صلاحیت اور اہلیت نہ ہونے کے باعث ریاستی طاقت کے استعمال کو جائز سمجھ کر کارکنوں کی گرفتاری سمیت ہر قسم کے سیاسی و غیر سیاسی حربے جائز سمجھے گئے ہیں ۔ ریاست کی جانب سے جمہوری اور آئینی احتجاج کو طاقت کے استعمال سے روکنے کی وجہ سے ریاست ، حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے خلاف متشدد عوامی تحریکوں کے جواز کے لئے وہی دلائل استعمال کئے گئے ہیں جو نوآبادیاتی استعمار سے آزادی کے وقت برطانوی تسلط سے آزادی کے لئے برتے گئے تھے۔ احتجاجی مظاہروں کو پر تشدد بنانے کی اہم وجہ حکومت کی جانب سے پسماندہ طبقات کے مسائل کے حل کے لئے ریاستی وسائل کو استعمال کرنے میں مسلسل ناکامی اور ذرائع ابلاغ کی جانب سے تشدد اور توڑ پھوڑ کو نمایاں کوریج دینا ہے۔ پاکستان میں حکومتیں احتجاج کو ریاستی طاقت سے دبانے کی کوشش کرتی ہیں جس سے مظاہرین مشتعل ہوتے ہیں اور اس اشتعال کی ترویج براہ راست کوریج کے ذریعہ گھر گھر کی جاتی ہے۔
حکومت یا ریاست سے ناراض گروہوں کا مطالبات کی عدم تکمیل پر حکومت کو دباو میں لانے کے لئے تشدد اور توڑ پھوڑ کرنا اس بنیادی جمہوری فلسفہ کے ہی خلاف ہے جس کے تحت سیاسی گروہوں اور جماعتوں کو احتجاج اور اختلاف رائے کا حق حاصل ہے۔ منتخب حکومتوں کی تبدیلی کے لئےمسلح بغاوتیں، انقلابی تحریکیں ،سڑکوں کی سیاست اور دھرنے انتقال اقتدار کے اس پورے نظام فکرکی نفی کرتے ہیں جس کے تحت پرامن اور جمہوری طریقوں سے عوامی نمائندگی اور رائے دہندگی کے تحت حکومتیں وجود میں آتی ہیں۔ پرامن احتجاج کے حق کا غلط استعمال نہ صرف ریاست کے لئے طاقت کے استعمال کاجواز بنتا ہے بلکہ دیگر شہریوں، گروہوں اور جماعتوں کے بنیادی حقوق کو متاثر کرنے کا بھی باعث ہے۔
حکومت گرانے اور بنانے کے لئے سڑکوں کی سیاست پاکستان کے لئے نئی نہیں،نوے کی دہائی میں مسلم لیگ (ن)اور پیپلز پارٹی دونوں ایک دوسرے کی منتخب حکومتوں کے خلاف سڑکوں کی سیاست کرتی رہی ہیں۔ سڑکوں کی سیاست اور احتجاجی مظاہروں کے ذریعہ حکومتوں کی تبدیلی کے پیچھے نہ صرف غیر جمہوری سیاسی اقدار تھیں بلکہ پس پردہ وردی اور بوٹوں کی دھمک بھی تھی ۔ منتخب حکومتوں کو اپنی مدت پوری کرنے سے پہلے ہٹانے کی غیر جمہوری کوشش کے تحت ایسے حالات کا قیام جس میں فوج کو مداخلت کا موقع ملے پاکستان کی جمہوری تاریخ میں سیاسی جماعتوں اور موجودہ قیادت کے دامن کا سب سے بدنما داغ ہے۔ سڑکوں کی سیاست کے ذریعہ حکومتوں کی تبدیلی کی کوششوں کے دوران یہ نقطہ ہمیشہ فراموش کیا گیا ہے کہ احتجاج کرتے ہجوم سے تمام تر ہمدردی کے باوجود مظاہرین کے مطالبات صرف احتجاج کی شدت ، مظاہرے میں شریک افراد کی تعداد اور عوامی حمایت کی بنیاد پر جائز، آئینی اور قانونی تسلیم نہیں کئے جا سکتے ۔ مظاہرین کی جانب سے پیش کئے مطالبات بیشتر صورتوں میں نہ تو پوری قوم کی اور نہ ہی اس کی اکثریت کی نمائندگی کر رہے ہوتے ہیں، بلکہ عوامی طاقت کی حامل جماعتوں، طبقات اور گروہوں سے مخصوص ہوتے ہیں۔
موجودہ حکومت کے خلاف جاری تحریک انصاف کی جانب سے لگائے جانے والے الزامات اور احتجاجی تحریک سے پیدا ہونے والا سیاسی بحران تحریک انصاف سمیت تمام پارلیمانی جماعتوں کی شمولیت سے تشکیل پانے والے ایک اور میثاق جمہوریت کا متقاضی ہے ، تاکہ موجودہ حکومت اپنی آئینی مدت پوری کر سکے اور آئندہ انتخابات میں پرامن انتقال اقتدار کو یقینی بنایا جا سکے۔
مظاہرین کی جانب سے اشتعال انگیزی اور ریاستی اداروں کی جانب سے طاقت کے استعمال کے درمیان حد فاصل کہاں کھینچی جائے گی اس کا دارومدار ہمیشہ کسی ریاست میں جمہوری اداروں کی مضبوطی اور تسلسل پر ہے۔جمہوری اقدار اور اداروں کی موجودگی میں سیاسی نوعیت کے مسائل تشدد اور توڑ پھوڑ کے بغیر بھی حل کرنے کی گنجائش موجود ہوتی ہے۔ تاہم انتخابات 2013کے دوران مبینہ دھاندلیوں کے حوالے سے مستند ثبوتوں کی عدم فراہمی کے باوجود سیاسی نظام میں انتخابی شکایات نپٹانے کی اہلیت نہ ہونے کی وجہ سے تحریک انصاف کو پورے نظام کے حوالے سے شکوک و شبہات پیدا کرنے کے جواز ملا ہے۔ تحریک انصاف کا آزادی مارچ اور پاکستان عوامی تحریک کا انقلاب مارچ احتجاج کے جمہوری حق کو اپنے مفادات کے لئے استعمال کرنے کی نمائندہ مثال بن چکے ہیں۔
موجودہ سیاسی بحران کے دوران پارلیمان کا غیر موثر ہونا اور نظام میں احتجاج کرنے والوں کو انصاف فراہم کرنے میں حکومت اور حزب مخالف دونوں کی سیاسی اہلیت پر سوالیہ نشان ہے۔ آئینی مسائل کا پارلیمان کی بجائے سڑکوں پر عوامی طاقت کے مظاہروں سے حل کیا جانا 2009 میں عدلیہ بحالی تحریک کے دوران کئے جانے والے احتجاجی مظاہروں کی طرح، پارلیمانی جماعتوں کی جانب سے جمہوری فراخدلی ظاہر نہ کرنے کی نشاندہی کرتا ہے۔ حکومت تبدیل کرنے، انتخابی اصلاحات کرنے، نظام بدلنے سمیت تمام مسائل پارلیمان میں حل کئے جانے چاہئیں تاہم ان مسائل کو ذرائع ابلاغ اور عوامی طاقت کے مظاہروں سے حل کیا جانا اس وقت جمہوری نظام کے مستقبل کے لئے سب سے بڑا خطرہ ہے۔2006 میں سابق آمر پرویز مشرف کے دور حکومت میں جمہوریت کی بحالی کے لئے کیا جانے والا میثاق جمہوریت پاکستانی سیاست کا درخشاں باب ہے جس کے تحت نہ صرف ایک فوجی آمر سے اقتدار جمہوری حکومت کو منتقل ہوا بلکہ پہلی بار ایک جماعت اپنی حکومت کی مدت مکمل کرنے میں کامیاب ہوئی۔2013 کے انتخابات کے بعد جہاں یہ محسوس ہونے لگا تھا کہ جمہوریت مستحکم ہو چکی ہے اور سول ملٹری تعلقات میں سول برتری بھی قائم ہونے کو ہے، تب صرف ایک برس تحریک انصاف اور عوامی تحریک کے لامگ مارچ کے باعث جمہوری اداروں کی کمزور بنیادیں مزید کم زور ہو گئی ہیں۔موجودہ حکومت کے خلاف جاری تحریک انصاف کی جانب سے لگائے جانے والے الزامات اور احتجاجی تحریک سے پیدا ہونے والا سیاسی بحران تحریک انصاف سمیت تمام پارلیمانی جماعتوں کی شمولیت سے تشکیل پانے والے ایک اور میثاق جمہوریت کا متقاضی ہے ، تاکہ موجودہ حکومت اپنی آئینی مدت پوری کر سکے اور آئندہ انتخابات میں پرامن انتقال اقتدار کو یقینی بنایا جا سکے۔
Categories
نقطۂ نظر

انقلاب کے موسم میں

ملک آج کل پھر سیاسی ہلچل سے دوچار ہے، کہیں انقلاب کی آمد آمد ہے تو کہیں جمہوریت کو درپیش خطرات کا واویلا مچایا جا رہا ہے۔آزادی کے چھیاسٹھ سال بعد حکومت کو ایک نہیں بلکہ “دو دو مارچوں ” کا سامنا ہے اور حکومت کی برخاستگی کی نوید سنائی جارہی ہے۔ویسے تو حکومت کے خاتمے کی تاریخیں آنا پاکستان میں کوئی اچھنبے کی بات نہیں، اور جب حکومت بھی میاں محمد نواز شریف کی ہوجو پہلے ہی دو بار اپنی منتخب شدہ جمہوری حکومت کا خاتمہ دیکھ چکے ہیں۔ یہ بات نہ تو پاکستان کے لئے نئی ہے اور نہ خود حکومت کے لے ۔
میاں صاحب کی تیسری حکومت جانے کی باتیں زبان زد عام ہیں اور حکومت اس شخص کی طرح بوکھلاہٹ کی شکار ہے جس کا گھر تیسری بار ٹوٹنے کو ہے اور وہ اپنے اس ٹوٹتے گھر کو بچانے کے لے پاپڑ بیل رہا ہے۔ آصف علی زرداری جن کو میاں شہباز شریف لاہور کی سڑکوں پر گھسیٹنا اور بھاٹی چوک میں الٹا لٹکانے کے آرزو مند تھے وہ بھی ایک ایسی حکومت کو بچانے کے لئے میدان عمل میں اتر چکے ہیں جس کی “رخصتی “کی تاریخ “مبینہ” طور پر طے کی جاچکی ہے۔ ان کی خدمات شاید اس لئے حاصل کی گئی ہیں کہ وہ ایسی حکومت چلانے کے ماہر ہیں جو نہ تو خود چلنا چاہتی ہواور نہ بیان بازسیاستدان اس کو چلتے دیکھنا چاہتے ہوں۔ لہذا آصف زرداری فون پر فون گھما کر بڑے بھائی کی حکومت کو دوام بخش رہے ہیں ۔ اور “پہلے آپ کی باری پھر ہماری باری “والے وعدے کو پوری طرح نبھا رہے ہیں حالانکہ زرداری صاحب کے وعدے “قرآن یا حدیث ہرگز نہیں ہوتے”۔
عمران خان شاید دھاندلی پر خاموش ہی بیٹھے رہتے اور بات محض جلسوں سے آگے نہ بڑھ پاتی ، اگر نواز شریف اپنی حکومت گرانے کی بجائے اسے چلانے پر ذرا سا بھی دھیان دیتے ، مہنگائی کم کرنے کے لئے اقدامات کرتے اور لوڈشیڈنگ ختم نہیں تو کم ہی کرتے دکھائی دیتے۔
ان کے علاوہ جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق بھی “درمیانی راستہ “نکالنے کے لئے کوشاں ہیں گو کہ وہ خودبھی ملک میں انقلاب برپا کرناچاہتے ہیں اور ایک انقلابی ایجنڈے کا اعلان کرنے ہی والے تھے کہ “ناگزیر وجوہات” کی بناء پر ایجنڈے کا اعلان نہیں کیا گیا۔ کہا گیا کہ جماعت کے رہنماؤں سے مشاورت کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا لیکن ان کی اس پریس کانفرنس کے دوران پشت پر لگے فلیکس پر لکھا گیا “عوامی ایجنڈا “چیخ چیخ کر کہہ رہا تھا کہ ملک میں آتے دو انقلابوں سے نمٹنے کے لیئے “خصوصی درخواست” کے بعد ہی یہ ایجنڈا ملتوی کیا گیا، اور ایسا یقیناًبہترین “ملکی مفاد “کو مدنظر رکھ کر ہی کیا گیا جس کی جماعت اسلامی ہمیشہ سے” امین” رہی ہے۔ تب سے مختلف رہنماء سراج الحق صاحب سے بھی مسلسل رابطے میں ہیں حالانکہ اسی حکومت کے وزیر عابد شیر علی چند ماہ پہلے ہی سراج الحق کو دماغی مریض قرار دے چکے ہیں۔ اور سراج الحق بھی حکومت کے بھرپور ناقد رہے ہیں ، لیکن اب ان کا کہنا ہے کہ حکومت چلنی چاہیے ، چاہے اس کے اقدامات سے عوا م کا” کچومر” ہی کیوں نہ نکل جائے۔ حکومتی پریشانی صرف آصف زرداری اور سراج الحق کی حالیہ دنوں میں سرگرمیوں سے ہی عیاں نہیں ہے بلکہ اضطراب کا یہ عالم ہے کہ پاکستان بھر میں جشن آ زادی کے لیئے الٹے پاکستانی پرچم لہرا دیئے گئے۔
عمران خان یا طاہر القادری حکومت گرانے میں سنجیدہ ہوں یا نہ ہوں نواز لیگ کی حکومت کی گھر جانے سے متعلق سنجیدگی پر کسی کو چنداں شک نہیں ہونا چاہیے کیوں کہمنتخب ہونے کے بعد سے اب تک نواز شریف حکومت نے کوئی ایسا موقع ہاتھ جانے ہی نہیں دیا۔ مسلم لیگ ن نے حکومت میں آنے سے پہلے عوام کو”سبز باغ “دکھائے اور حکومت میں آتے ہی “سبز جھنڈی” دکھا دی، اورکچھ آسرادینے کی بجائے مزید قربانی مانگ لی۔ پہلے ہی مہینے میں لوڈشیڈنگ پر فیصل آباد میں احتجاج کرنے والوں کے گھروں میں گھس گھس کر ایسا پیٹا گیا کہ اسی روز عوام کو اندازہ ہو گیا کہ” ہاتھی کے دانت کھانے کے اور دکھانے کے اور” ہیں۔ حکومت کے غیر جمہوری رویہ اور پولیس کے ذریعہ سیاسی مسائل کے حل کا عمل صرف مظاہرین پر تشدد تک ہی محدود نہیں بلکہ اب یہ نوبت ماڈل ٹاؤن میں عوام پر پولیس کی فائرنگ کے نتیجے میں ہلاکتوں تک آ پہنچی۔
عمران خان شاید دھاندلی پر خاموش ہی بیٹھے رہتے اور بات محض جلسوں سے آگے نہ بڑھ پاتی ، اگر نواز شریف اپنی حکومت گرانے کی بجائے اسے چلانے پر ذرا سا بھی دھیان دیتے ، مہنگائی کم کرنے کے لئے اقدامات کرتے اور لوڈشیڈنگ ختم نہیں تو کم ہی کرتے دکھائی دیتے۔ کشکول بھلے توڑتے نہ ہی سہی مگر ملکی تاریخ کا سب سے بڑا قرضہ لے کر اپنی ناکام معاشی پالیسیوں کا برملا اعلان تو نہ کرتے ۔طالبان سے بے نتیجہ طویل مذاکرات ، فوج سے بلاوجہ کی چپقلش اور آپریشن متاثرین کی امداد میں ناکامی کے ذریعے قوت فیصلہ کے فقدان کا اعتراف کرنے سے اجتناب برتتے۔ ملکی مسائل سے نمٹنے کے لئے اخبارات میں محض اشتہار بازی سے بڑھ کر ہی کچھ کرتے۔ حکومت نے اپنی بھرپور کوششوں سے عمران خان کو مجبور کیا کہ وہ ہر جلسے میں اگلے جلسے کی تاریخ کا اعلان کرنے کی بجائے حکومت کے خاتمے کی تاریخ کا اعلان کریں۔
طاہر القادری اور عمران خان بھی شاید حکومت گرانے کے اعلانات پر نظر ثانی کرتے اور کسی درمیانی راستے پر آسانی سے مان جاتے اگر حکومت کی جانب سے ان کے احتجاج سے نمٹنے کے لیئے دو ہفتوں پر محیط جشن آزادی کی تقریبات ، عین لانگ مارچ کے دن اسی مقام پر فوجی پریڈ کے انعقاد اور دارلحکومت میں آئین کی دفعہ دوسوپینتالیس کے ذریعے فوج کو تعینات کرنے سے گریز کیا جاتا۔ گویا اقتدار کی کرسی پر تیسری بار براجمان میاں محمد نوازشریف حکومت چلانا نہیں سیکھ سکے مگر اپنی حکوت گرانا خوب سیکھ چکے ہیں اور ان کی کوششیں محض ایک سال بعد ہی رنگ لاتی دکھائی دے رہی ہیں ،اب دیکھنا یہ ہے کہ عمران خان اور علامہ طاہر القادری کی حکومت کے خاتمہ کی کوششوں کو پس پردہ خاکی وردی والوں کی تائید حاصل ہوتی ہے یا نہیں اور جمہوری قوتیں جمہوریت کو نقصان پہنچانے کی کوششوں کو ناکام بنانے میں کس حد تک کامیاب ہو پاتی ہیں۔
Categories
نقطۂ نظر

مسلمانو ! لگاؤ ۔۔۔

رمضان میں شیطان اور انقلاب کے منصوبے دونوں بند ہیں ۔شیطان کو اللہ نے جکڑ دیا ہے اور انقلاب کو رمضان اور گرمی نے ۔ شیطان کے چیلے البتہ اپنے کمالات دکھارہے ہیں اور عوام کو لوٹنے کا سلسلہ جاری ہے ۔انقلاب کو ابھی اگست تک کولڈاسٹوریج میں رکھا گیا ہے لیکن انقلابیوں کے ہرکارے تذکروں سے اس کی تجلیاں عوام تک پہنچارہے ہیں ۔ رمضان کے بعد روزے داروں کو عید کا تحفہ ملے گا اور عید کے بعد انقلاب کی تیاری ہوگی ۔ اس سے پہلے رمضان ہے جس سے کچھ مسلمان اپنے مطلب کی برکت سے مستفید ہورہے ہیں ۔
یہ برکت دکانوں پر اپنا سامان بیچنے والوں کو مل رہی ہے تو ٹی وی پر دوسروں کا سامان بیچنے والوں کو وہ بھی مفت میں ۔ بس خریداروں سے مطالبہ ایک ہی ہے کہ مسلمانو! لگاؤ تکے ۔ لوگوں کو تکے تکے میں موٹر سائیکل مل جاتی ہے تو کبھی تکے میں سونا ۔ کبھی تکے میں کار تو کبھی تکے میں جوتے ۔
ہم جس قدر مہذب اور منظم قوم ہیں ہمیں سب کچھ تکے میں ہی ملتا ہے ۔ تکے میں ہمیں کرکٹ ورلڈ کپ ملا۔ہم تو فنڈز کی کمی کے مارے ہوئے لوگ بھیجنے کو بھی تیار نہ تھے مگر بھلا ہو چندہ دینے والوں کا کہ تکے میں ہمیں اسنوکر چیمپین محمد آصف ملا ۔ تکے میں ہمیں پتہ چل گیا کہ شمالی وزیر ستان آپریشن دو ہزار دس میں ہوجانا چاہیے تھا مگر اک ’’ خاص ہچکچاہٹ ‘‘ تھی کہ یہ ’’ بڑا آپریشن‘‘ نہیں ہوا ورنہ امن کی پیدائش بہت پہلے ہی ہوجاتی ۔ ایک تکا جنرل مشرف کا لگا اور میاں صاحب نے سینئرز کی چھٹی کرتے ہوئے جنرل صاحب کو ’’ جنرل صاحب ‘‘ بنا دیا اور پھر مشرف صاحب نے جنرل بن کر دکھا یا اور اس کے بعد کئی تکے لگائے ۔ قاف لیگ کا تکا لگا اور پھر جمالی صاحب کا تکا لگا ۔ پنجاب میں چوہدری پرویز الہی صاحب کا تکا لگا اور اس کے بعد مرکز میں چوہدری شجاعت کا ایک ’’مہا عبوری تکا‘‘ لگا ۔ اس دور میں تکوں کی ایک تاریخ ہے ۔
ایک تکا لگا ایک لفٹ آپریٹر کا تو وہ دریا پارکراتے کراتے خون کے دریا بہانے لگا اور نوبت یہاں تک آن پہنچی کہ حکومت کو لفٹ آپریٹر کو مذاکرات تک کی لفٹ کرانا پڑی ۔ غور کریں تو ہر تکے کے پیچھے ’’بے تکے‘‘ اقدام نظر آئیں گے ۔ ماڈل ٹاؤن لاہور میں بھی سترہ جون کو ایک بے تکا اقدام کیا گیا بے چارے غریبوں کے بچے مارے گئے اور قادری صاحب کا حکومت کو للکارنے کا تکا لگ گیا ۔ قادری صاحب کا ایک تکا دوہزار تیرہ کے الیکشن سے پہلے لگا اور انہوں اسے کنٹینر کے اندر تکے سے بے تکے میں بدل دیا ایک بار پھر قادری صاحب بے تکے انقلاب کے تکے لگانے کے دعوے کررہے ہیں تو موقع ہے کہ پوری قوم کو دعوت دی جائے مسلمانو ! لگاؤ تکے ۔
پہلا سوال یہ ہے کہ قادری صاحب نے دوہزار تیرہ کا اسلام آباد دھرنا دیا کیوں تھا ؟ مسلمانو ! لگاؤ تکے ۔
سوال تو یہ بھی ہے کہ قادری صاحب نے حکومت کو مجبور کرنے کے باوجود کیا حاصل کیا ؟ مسلمانو ! لگاؤ تکے ۔
قادری صاحب بین الاقوامی حلفیہ اقرار کے تحت کس کے وفادار ہیں ؟ مسلمانو ! لگاؤ تکے ۔
قادری صاحب کے اپنے فرمان کے مطابق ان کو کس جوتیاں پہنانے والے کی خدمت کی ’’ حیا ‘‘ زندگی بھر رہے گی ؟ مسلمانو!۔۔۔۔۔۔۔
قادری صاحب نے میاں صاحب کے کاندھوں پر سوار ہوکر کس مبارک سفر کا ذکر کیا تھا ؟ مسلمانو ۔۔۔۔۔۔۔۔
قادری صاحب نے جہاز میں ایک مطالبے سے دست بردار ہوکر دوسرا مطالبہ پیش کرنے میں کتنی دیر لگائی تھی ۔ مسلمانو۔۔۔۔۔۔۔۔
قادری صاحب کے گھر کے پھیرے لگاتے ہوئے کون سی دو شخصیات بھول گئی ہیں کہ
قدر کھودیتا ہے ہر روز کا آنا جانا
مسلمانو! لگاؤ تکے ۔
لگاؤ تکا اور بتاؤ کہ قادری صاحب کینیڈا سے کتنے بیگز میں انقلاب بھر کر لائے ہیں ؟
مسلمانو یہ تکا بھی لگاؤ کہ قادری صاحب کی اے پی سی میں جو ’’چالیس بڑی ‘‘ جماعتیں شامل تھیں ان میں سے چھ کے نام کیا ہیں ؟
تکا لگاؤ اور گلا پھاڑ کے بولو کہ وہ کون سا گلا ہے جو کبھی بیٹھ نہیں سکتا ؟
وہ کون سا سابق وفاقی وزیر ہے جو اگست میں حتمی طور پر انقلاب کی دو میں سے کسی ایک ٹرین کا ٹکٹ لینے پر مجبور ہوجائے گا؟ مسلمانو! لگاؤتکے ۔
لندن میں جن’’دو شخصیات ‘‘ کے درمیان بیٹھ کر طاہر القادری نے شریف خاندان کو خاندانی سیاست کو طعنہ دیا تھا ان کا آپس میں کیا تعلق ہے ؟ مسلمانو ! لگاؤ تکے ۔
خالی جگہ پر کرنے کے لیے تکا لگاؤ مسلمانو اور بتاؤ کہ طاہر القادری شہادت سے نہیں ڈرتے مگر انہیں پھر بھی ۔۔۔۔۔ کی سیکیورٹی چاہیے ۔
سترہ جون کو وہ کون سا پولیس والاتھا جو پولیس میں ہوکر بھی پولیس میں نہیں تھا ؟ مسلمانو! لگاؤ تکے ۔
گلو بٹ ، طاہرالقادری اور رانا ثنائ اللہ میں گزشتہ مہینے کی میڈیا پرسنالٹی آف دی منتھ کون رہی ؟ مسلمانو! لگاؤ تکے ۔
آپ کے ہر لگنے والے تکے کا انعام سوشل میڈیا پر اس ناچیز کو ایک ۔۔۔۔ کی صورت میں ملے گا ؟ آپشن نمبر ایک تالی ، آپشن نمبر دو تھالی اور آپشن نمبر تین تالی اور تھالی کے وزن پر۔۔۔۔ تو مسلمانو! لگاؤ تکے ۔
اگر کوئی تکا لگ گیا تو طاہر القادری کا انقلاب ان کے اپنے فرمودات کے مطابق دوہزار چودہ ہی میں آئے گا اور اگر نہیں لگا تو قادری صاحب بیگز بھر کر آئے ہیں شہریت ترک کرکے نہیں ، بنا بے آبرو ہوئے وہ ہمارے کوچے سے نکل جائیں گے لیکن ان کا انقلاب اور انقلاب سے نمٹنے کا حکومت کا انتظام کہیں پھر تکے کو بے تکا کرتے ہوئے غریبوں کے بچے نہ کچل دے ۔ اب اس بے تکے تکے کے کالم سے اجازت اس اپنے پن کے ساتھ کہ انقلاب سے پہلے، اس کے دوران اس کے بعد بھی اپنا بہت خیال رکھیے گا ۔ السلام و علیکم و رحمتہ اللہ۔
Categories
نان فکشن

فکرِ فیض اور نوجوان نسل

خیال و شعر کی دنیا میں جان تھی جن سے
فضائے فکر و عمل ارغوان تھی جن سے
وہ جن کے نور سے شاداب تھے مہ و انجم
جنون عشق کی ہمت جوان تھی جن سے
وہ آرزوئیں کہاں سو گئی ہیں میرے ندیم

 

فیض جو برصغیر کے ترقی پسند ادب کا سب سے معتبر حوالہ ہیں، فی زمانہ ان کے ساتھ نژاد نو کے فکری اور نظری تعلق کی تجدید آج کے ترقی پسندوں کی نہایت اہم ذمہ داری ہے۔ اگرچہ ہر دور اپنے زمانے کی حجت خود پیدا کرتا ہے، اور محض اسلاف کی باقیات کو “حسبنا الکتاب” کہہ کر سینے سے لگائے رکھنا ترقی پسندی نہیں ہے، لیکن اس حقیقت کا ادراک بھی ناگزیر ہے کہ فیض جیسے نوابغ کے بعد کا خلا پر کرنے کے لیے صدیوں کا انتظار درکار ہے، اور فیض اپنی وفات کے ربع صدی بعد بھی بدستور ترقی پسندوں کے لیے حجت کا درجہ رکھتے ہیں۔ اور آج بھی ہم ترقی پسند ادب کے زمانۂ فیض سے ہی گزر رہے ہیں۔ اسد مفتی کے بقول، “فیض اپنے عہد کی آواز نہیں، بلکہ عہد ان کی آواز بن گیا ہے”۔
ایک خوش مذاق نوجوان کے ذہن کو متاثر کرنے کی جتنی صلاحیت فیض کے کلام میں ہے، رواں اور گزشتہ صدی کے کسی اور شاعر کے کلام میں نہیں ہے۔ وہ اپنے رومانوی اور انقلابی مضامین کے مخصوص امتزاج پردہ در پردہ ایک نوجوان پر وا ہوتے ہیں۔
فیض نے جن زمانوں میں لکھا، یہ خطہ تب ایک انقلابی دور سے گزر رہا تھا۔ اور یقینا فیض کے فن کو نکھارنے میں اس زمانے کے سیاسی و سماجی معروض کا بھی بہت بڑا ہاتھ تھا۔ ہمارے معاشرے کے بہت سے بزرگ اس عہد کی آخری چند جھلکیوں کے عینی شاہد ہوں گے، جب ہمارے سماج کے ہر طبقے کے پاس استحصال اور انصاف، آزادی اور بربریت اور رجعت اور انقلاب میں سے ایک کے انتخاب کے لیے ایک واضح موقف تھا۔ بین الاقوامی سطح پر طاقتوں کا توازن موجود تھا، تیسری دنیا میں قومی آزادی کی تحریکیں فیصلہ کن ادوار سے گزر رہی تھیں۔ الغرض وہ کشمکش کے عروج کا زمانہ تھا۔ شعراء اور دانشوروں نے انصاف، آزادی اور انقلاب کا ساتھ دیا۔ فیض اسی قبیلے کے سرخیل تھے۔ اور یونہی سماج کے دوسرے طبقوں کی طرح نوجوان بھی اس مورچے میں آ کر صف آراء ہوئے۔ یہاں سے نوجوانوں پر فیض کی فکری اثراندازی کا آغاز ہوتا ہے۔
میری رائے یہ ہے کہ ایک خوش مذاق نوجوان کے ذہن کو متاثر کرنے کی جتنی صلاحیت فیض کے کلام میں ہے، رواں اور گزشتہ صدی کے کسی اور شاعر کے کلام میں نہیں ہے۔ وہ اپنے رومانوی اور انقلابی مضامین کے مخصوص امتزاج پردہ در پردہ ایک نوجوان پر وا ہوتے ہیں۔ جمال لب و رخسار اور محبوب کی پیرہن آرائی کی سطحی رنگینی اسے ایک دم اپنی طرف مائل کرتی ہے، اور وہ فیض شناسی کے پہلے زینے پر قدم رکھتا ہے، رفتہ رفتہ وہ ان مفاہیم کی اساس کو جا لیتا ہے اور اپنی روایتی رومانوی حدوں کو پھلانگ کر لیلائے رطن کو اسی رنگ میں چاہنے لگتا ہے جس رنگ میں فیض نے چاہا تھا۔ راقم الحروف خود انہی نوجوانوں میں سے ایک ہے جو رومانوی ادب کے دروازے سے ترقی پسند ادب اور ترقی پسند تحریک تک پہنچے ہیں۔ ایک عمومی نوجوان پر یہ کھلنے میں دیر نہیں لگتی کہ “حسن آفاق” کے نام انتساب اور “نائب اللہ فی الارض دہقاں کے نام” میں فیض کے ہاں کوئی تضاد نہیں۔ بس ذرا بات کا ڈھنگ مختلف ہے۔
فیض کے بعد کا زمانہ پے بہ پے غیر متوقع تبدیلیوں کا دور تھا۔ سن 84ء میں ان کا انتقال ہوا، اور بقول عارف
ایک درویش خوش اقبال کے جانے کی تھی دیر
پھر تو وہ دھوپ کا بوجھ آیا کہ دیوار گری
فیض جیسے نوابغ کے بعد کا خلا پر کرنے کے لیے صدیوں کا انتظار درکار ہے، اور فیض اپنی وفات کے ربع صدی بعد بھی بدستور ترقی پسندوں کے لیے حجت کا درجہ رکھتے ہیں۔ اور آج بھی ہم ترقی پسند ادب کے زمانۂ فیض سے ہی گزر رہے ہیں۔ اسد مفتی کے بقول، “فیض اپنے عہد کی آواز نہیں، بلکہ عہد ان کی آواز بن گیا ہے”۔
ضیا کی ظلمت کا بدترین دور، سوویت روس کی تحلیل اور اغیار کے بقول تاریخ کا اختتام، رجعت پسندوں کا سنبھلنا، ترقی پسندوں کا زوال، نو گیارہ کا واقعہ اور پھر واقعات کا ایک پورا باب۔ ہماری پود اس نئے منظرنامے میں پیدا اور جوان ہوئی ہے۔ رجعت پسندی، سماجی شکست و ریخت اور نئی طبقاتی شیرازہ بندیوں کی اس سنگ باری میں کہا جا سکتا ہے کہ ہماری پود بالعموم فکری بانجھ پن اور نظریاتی بیماریوں کے بدترین تجربے سے گزر رہی ہے۔ آج کا جوان اگر کسی نصابی مجبوری کی بنا پر “نسخہ ہائے وفا” کی ورق گردانی کر بیٹھتا ہے تو اس کی تفہیم، پیراہن اور زلف لہرانے کے استعاروں کی سطحی رنگ و بو سے آگے نہیں بڑھ پاتی۔
یہاں آغاز مضمون میں کہی گئی بات کو دہراؤں گا کہ اب فیض کے ساتھ نئی نسل کے فکری تعلق کی تجدید ناگزیر ہے۔ اس نسل کو اپنی فرد عمل سنبھالنے کی دعوت دینے کے لیے اب پھر اسی دبنگ آواز کی ضرورت پڑ رہی ہے جو انہیں کوئے یار سے مقام دار کے فاصلے انگلی تھما کر طے کروائے۔
جہاں تک ترقی پسند نوجوانوں اور بالخصوص ترقی پسند طلباء کا تعلق ہے، اس روایت کے بیس سال کے تعطل اور خلا کے بعد اب ہمارا کام پھر صفر سے شروع ہونا ہے۔ اس بابت ہمیں اپنی ذمہ داریوں کا احساس ہے۔ نسخہ ہائے وفا جیسی باقیات صالحات ہمارے لیے نظریاتی خام مال کا درجہ رکھتی ہیں اور اپنی مٹھی بھر افرادی قوت پر ہمیں اعتماد ہے۔
آخر میں فیض کی ایک غزل کے چند اشعار اپنے ہم کار اور ہم نژاد ترقی پسند طلباء کے لیے؛
اب بھی خزاں کا راج ہے لیکن کہیں کہیں
گوشے رہ چمن میں غزل خواں ہوئے تو ہیں
ٹھہری ہوئی ہے شب کی سیاہی وہیں مگر
کچھ کچھ سحر کے رنگ پر افشاں ہوئے تو ہیں
ان میں لہو ہمارا جلے کہ خون دل
محفل میں کچھ چراغ فروزاں ہوئے تو ہیں
ہے دشت اب بھی دشت، مگر خون پا سے فیض
سیراب چند خار مغیلاں ہوئے تو ہیں

[spacer color=”B2B2B2″ icon=”Select a Icon” style=”1″]

(یہ مضمون انجمن ترقی پسند مصنفین کے زیراہتمام فیض احمد فیض کی پچیسویں برسی پر ترقی پسند طلبہ کی نمائندگی کرتے ہوئے پڑھا گیا)