Categories
نان فکشن

اگرچہ بت ہیں جماعت کی آستینوں میں – چوتھی قسط

[blockquote style=”3″]

جماعت اسلامی کی سیاسی تاریخ اور ارتقاء پر ڈاکٹر عبدلمجید عابد کا یہ مضمون اس سے قبل معروف سہ ماہی ادبی جریدے ‘آج’ میں بھی شائع ہو چکا ہے۔ لالٹین پر اسے بعض اضافوں کے ساتھ قسط وار شائع کیا جا رہا ہے۔

[/blockquote]

اس سلسلے کی بقیہ اقساط پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

پنجاب کے ایک سیاست دان نے 1951ء کے انتخابات کے دوران تقریر کرتے ہوئے کہا، ‘مسلم لیگ کے مخالفوں میں سب سے بلند آہنگ جماعت اسلامی ہے۔ اس جماعت کا کہنا ہے کہ پاکستان ایک اسلامی مملکت ہے اس لئے اس کا آئین جماعت اسلامی کو بنانا چاہئے۔ میں پوچھتا ہوں کہ جس وقت حصول پاکستان کی جدوجہد جاری تھی تو مولانا مودودی کیا کر رہے تھے۔ وہ پاکستان کی مخالفت اسلام کے نام پر کر رہے تھے۔ آج اس اسلام کو وہ پاکستان میں قائم کرنا چاہتے ہیں۔ ہر سمجھدار آدمی اس نتیجے پر پہنچا ہے کہ یا تو یہ ’اسلام‘ مودودی صاحب کے اپنے دماغ کی اختراع ہے، یا پھر مولانا مودودی محض ابن الوقت ہیں’۔

 

احرار نے معاشی مسائل کے ساتھ مذہب کے اونٹ کو بھی سیاست کے خیمے میں داخل کیا اور یہ موقف اختیار کیا کہ مسلمانوں نے اپنا ملک بنانے کے لیے قربانیاں دیں لیکن اس شجر کا پھل احمدی حاصل کر رہے ہیں
سنہ 1952ء میں قحط اور مہنگائی کے مسئلوں پر خاکسار تحریک نے حکومت مخالف مظاہرے شروع کیے۔ اس موقعے پر جماعت نے موچی گیٹ کے مقام پر آٹے کی قیمت میں اضافے کے خلاف جلوس نکالا لیکن وہ جلوس ہنگامے کی صورت اختیار کر گیا۔ خاکسار تحریک کے سربراہ علامہ مشرقی کی گرفتاری کے بعد اس تحریک کا علم مجلس احرار نے سنبھالا۔ احرار نے معاشی مسائل کے ساتھ مذہب کے اونٹ کو بھی سیاست کے خیمے میں داخل کیا اور یہ موقف اختیار کیا کہ مسلمانوں نے اپنا ملک بنانے کے لیے قربانیاں دیں لیکن اس شجر کا پھل احمدی حاصل کر رہے ہیں۔

 

ان حالات میں جماعت کی شوریٰ نے احرار اور دیگر مذہبی جماعتوں پر مشتمل متحدہ مجلس عمل میں شرکت کا فیصلہ کیا لیکن احرار کے طریق کار سے سطحی اختلاف ظاہر کیا۔ اگست سن 1952 ء کے ترجمان القرآن میں احمدیوں کو اسلام کے دائرے سے خارج کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔ جنوری سن 1953 ء میں کل پاکستان علماء کنونشن نے وزیر اعظم خواجہ ناظم الدین سے اس مسئلے پر قابو پانے میں ناکامی کے باعث استعفی طلب کیا۔ 5مارچ 1953 ء کو مولانا نے اپنی کتاب ’قادیانی مسئلہ‘ شائع کی جس میں احمدیوں کی تکفیر کے حق میں دلائل جمع کیے گئے تھے۔ احمدی مخالف ہنگاموں نے پنجاب کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا تھا۔ اس ہنگامے کو ہوا دینے میں صوبائی مسلم لیگ کے سربراہ ممتاز دولتانہ نے مرکزی کردار ادا کیا۔ مارچ 1953ء میں پنجاب میں جزوی مارشل لاء نافذ کر دیا گیا۔

 

مسئلہ قادیانیت میں جماعت کے کردار پر ڈاکٹر اسرار نے لکھا:

 

“ایک تو یہ مسئلہ کوئی آج کی پیداوار نہیں تھا بلکہ گزشتہ صدی کے اواخر ہی سے اس کے بارے میں مسلمانوں میں بے چینی کے آثار پیدا ہونے شروع ہو گئے تھے۔ لیکن اپنی تاسیس کے دن سے سنہ 52 ء تک جماعت اسلامی نے بحیثیت جماعت یا اس کے اکابرین نے بحیثیت افراد اس پر کوئی عملی اقدام تو کجا زبان سے ایک حرف تک نہ نکالا، بلکہ ایک اصولی اسلامی جماعت کی حیثیت سے اپنے دور اول میں اس نے ایسی باتیں کہیں کہ جن سے قادیانیوں کی تکفیر کی براہ راست نہ سہی بالواسطہ ضرور ہمت شکنی ہوتی ہے۔

 

جماعت اسلامی کے اکابرین نے نجی محفلوں میں قادیانیوں اور ان کے خلاف احرار کی تحریک کے بارے میں کیے گئے سوالات کے مندرجہ ذیل جواب دیئے:

 

اس تمام بحث کا آخری نتیجہ یہ ہے کہ شیعہ، سنی، دیوبندی، اہل حدیث اور بریلوی لوگوں میں سے تو کوئی بھی مسلم نہیں اور اگر مملکت کی حکومت ایسی جماعت کے ہاتھ میں ہو جو دوسری جماعت کو کافر سمجھتی ہے
1۔ ختم نبوت لازمی طور پر جزو ایمان ہے اور اس کا منکر کافر، لیکن تکفیر کا کام کسی فرد یا کسی گروہ کے کرنے کا نہیں بلکہ اسلامی ریاست کا کام ہے۔
2۔ ’قادیانیت‘ مسلمان قوم میں دین حق سے لگاؤ میں انحطاط آ جانے کی وجہ سے پیدا ہونے والی اور بہت سی گمراہیوں میں سے ایک گمراہی ہے۔ اس کا اصل سبب یہ ہے کہ دین کی اصل تعلیمات واضح نہیں ہیں۔ اور اس کا علاج منفی طور پر اس کی مخالفت اور بیخ کنی سے نہ ہو گا بلکہ اس طرح ہو گا کہ دین کی اصل تعلیمات کو واضح اور عام کیا جائے۔
3۔ قادنیوں کی مخالفت جس طرز سے ہو رہی ہے، وہ ان کو کوئی نقصان پہنچانے کے بجائے ان کی تقویت کا موجب ہو رہی ہے۔ اگر ان کا ابطال کرنا ہی ہے تو چاہیے کہ سنجیدہ علمی طریقے سے ان پر تنقید کی جائے اور عوام کو ان کے غلط عقائد سے خبردار کیا جائے۔

 

لیکن جب سنہ 52 ء میں زعمائے مجلس احرار نے اسے واقعی ایک مسئلہ بنا لیا اور عوام کے جذبات کو مشتعل کیا تو اصول پرستی کا تقاضا یہ تھا کہ یہی باتیں علی الاعلان کہی جاتیں اور لوگوں کو بتایا جاتا کہ تم خوامخواہ مشتعل کیے جا رہے ہو، نہ یہ مسئلہ اتنی اہمیت رکھتا ہے اور نہ اس کے حل کی وہ صورت ہے جو اختیار کی جا رہی ہے۔جماعت اسلامی نے البتہ اپنی اصول پسندی اور اصول پرستی کو ذبح کر کے ’حق گوئی‘ سے کتراتے ہوئے جو طرزعمل اختیار کیا، وہ بے اصولے پن اور عوام خوفی کی عملی تصویر ہے۔ مجلس عمل کے ساتھ تعاون شروع کر دیا گیا اور ان لوگوں کی قیادت قبول کر لی گئی جن کے پاس بیٹھتے ہوئے بھی بقول بزرگان جماعت، جماعت کے زعماء کو گھن آتی تھی۔”

 

مئی سنہ 1953 ء میں خصوصی عدالت نے مولانا عبدالستار نیازی اور مولانا مودودی کو سزائے موت سنا دی۔
قادیانی مسئلے کی تحقیقات کے لیے ایک خصوصی عدالتی کمیشن مقرر کیا گیا، جس کی مرتب کردہ رپورٹ ‘رپورٹ تحقیقاتی عدالت برائے تحقیقات فسادات پنجاب 1953’ یا عرف عام میں ‘>منیر رپورٹ’ کے نام سے مشہور ہے۔ مذہب اور سیاست کے بے جوڑ رشتے کے خلاف اس رپورٹ سے زیادہ مضبوط دلیل ہماری تاریخ میں موجود نہیں۔ رپورٹ کے صفحہ نمبر 334 پر علماء کے مابین بنیادی اصطلاحات پر اختلاف کی جو تصویر نظر آتی ہے، ملاحضہ کریں:

 

[scribd id=142423710 key=key-2479yqcxfhvtp93hru8v mode=scroll]

“ہم نے اکثر ممتاز علماء سے یہ سوال کیا ہے کہ وہ ‘مسلم’ کی تعریف کریں۔ اس میں نکتہ یہ ہے کہ اگر مختلف فرقوں کے علماء احمدیوں کو کافر سمجھتے ہیں تو ان کے ذہن میں نہ صرف اس فیصلے کی وجوہ بالکل روشن ہوں گی بلکہ وہ ‘مسلم’ کی تعریف بھی قطعی طور پر کر سکیں گے، کیونکہ اگر کوئی شخص یہ دعوی کرتا ہے کہ فلاں شخص یا فلاں جماعت دائرہ اسلام سے خارج ہے تو اس سے لازم آتا ہے کہ دعویٰ کرنے والے کے ذہن میں اس امر کا واضح تصور موجود ہو کہ ‘مسلم’ کس کو کہتے ہیں۔”

 

عام آدمی پاکستان کو ایک اسلامی مملکت سمجھتا ہے، حالانکہ ایسا نہیں ہے۔ اس عقیدے کو اس مسلسل چیخ وپکار سے تقویت پہنچی ہے جو اسلام اور اسلامی مملکت کے متعلق قیام پاکستان کے وقت سے اب تک مختلف حلقوں کی طرف سے مچائی جا رہی ہے۔
تحقیقات کے اس حصے کا نتیجہ بالکل اطمینان بخش نہیں نکلا اور اگر ایسے سادہ معاملے کے متعلق بھی ہمارے علماء کے دماغوں میں اس قدر ژولیدگی موجود ہے تو آسانی سے تصور کیا جا سکتا ہے کہ زیادہ پیچیدہ معاملات کے متعلق ان کے اختلافات کا کیا حال ہو گا‘۔ اس کے بعد مولانا ابوالحسنات قادری،مولانا احمد علی، مولانا مودودی، غازی سراج الدین منیر، مفتی ادریس، حافظ کفایت حسین، مولانا عبدالحامد بدایونی، مولانا محمد علی کاندھلوی اور مولانا امین احسن اصلاحی نے ’مسلم‘ کی تعریف اپنے علم کے مطابق بتائی۔ اس پر جسٹس منیر نے تبصرہ لکھا: ‘ان متعدد تعاریف کو جو علماء نے پیش کی ہیں، پیش نظر رکھ کر کیا ہماری طرف سے کسی تبصرے کی ضرورت ہے؟ بجز اس کے کہ دین کے کوئی دو عالم بھی اس بنیادی امر پر متفق نہیں ہیں، اگر ہم اپنی طرف سے مسلم کی کوئی تعریف کر دیں جیسے ہر عالم دین نے کی ہے اور وہ تعریف ان تعریفوں سے مختلف ہو جو دوسروں نے پیش کی ہے، تو ہم کو متفقہ طور پر دائرہ اسلام سے خارج قرار دیا جائے گا۔ شیعوں کے نزدیک تمام سنی کافر ہیں اور اہل قرآن متفقہ طور پر کا فر ہیں، یہی حال آزاد مفکرین کا ہے۔ اس تمام بحث کا آخری نتیجہ یہ ہے کہ شیعہ، سنی، دیوبندی، اہل حدیث اور بریلوی لوگوں میں سے تو کوئی بھی مسلم نہیں اور اگر مملکت کی حکومت ایسی جماعت کے ہاتھ میں ہو جو دوسری جماعت کو کافر سمجھتی ہے تو جہاں کوئی شخص اگر عقیدے کو بدل کر دوسرا اختیار کرے، اس کو اسلامی مملکت میں لازمی موت کی سزا دی جائے گی’۔

 

منیر رپورٹ کے کچھ الفاظ اس قابل ہیں کہ انہیں قومی نصاب میں داخل کیا جائے:

 

“عام آدمی پاکستان کو ایک اسلامی مملکت سمجھتا ہے، حالانکہ ایسا نہیں ہے۔ اس عقیدے کو اس مسلسل چیخ وپکار سے تقویت پہنچی ہے جو اسلام اور اسلامی مملکت کے متعلق قیام پاکستان کے وقت سے اب تک مختلف حلقوں کی طرف سے مچائی جا رہی ہے۔ آج مسلمان یاد ماضی کا لبادہ اوڑھے صدیوں کا بھاری بوجھ اپنی پشت پر لادے مایوس ومبہوت ایک دوراہے پر کھڑا ہے اور فیصلہ نہیں کر سکتا کہ دونوں میں سے کس موڑ کا رخ کرے۔ دین کی وہ تازگی اور سادگی جس نے ایک زمانے میں اس کے ذہن کو عزم مصمم اور اس کے عضلات کو لچک عطا کی تھی، آج اس کو حاصل نہیں ہے۔ اس کے پاس نہ فتوحات حاصل کرنے کے وسائل ہیں نہ اہلیت ہے اور نہ ہی ایسے ممالک موجود ہیں جن کو فتح کیا جا سکے۔ مسلمان بالکل نہیں سمجھتا کہ جو قوتیں آج اس کے خلاف صف آراء ہیں، وہ ان قوتوں سے بالکل مختلف ہیں جس سے اس کو ابتدائے اسلام میں جنگ کرنی پڑی تھی اور اس کے اپنے آباؤ اجداد ہی کی راہنمائی سے ذہن انسانی نے ایسے کارنامے انجام دیے ہیں جن کو سمجھنے سے وہ قاصر ہے۔ لہذٰا وہ اپنے آپ کو عجیب بے بسی کی حالت میں پاتا ہے اور انتظار کر رہا ہے کہ کوئی آئے اور اسے اس بے یقینی اور ژولیدگی کی دلدل سے باہر نکالنے میں مدد کرے، لیکن وہ برابر یونہی انتظار کرتا رہے گا اور اس انتظار کا کوئی نتیجہ نہیں نکلے گا۔ صرف ایک ہی چیز ہے جو آج اسلام کو ایک عالمگیر تصور کی حیثیت سے محفوظ رکھ سکتی ہے، اور وہ یہ ہے کہ اسلام کی نئی تاویل و تشکیل دلیرانہ کی جائے جو زندہ حقائق کو مردہ تصورات سے الگ کر دے’۔
منیر رپورٹ اور جج حضرات کے طریقہء استفسار سے اختلاف کیا جا سکتا ہے (اور مودودی صاحب نے اس رپورٹ کے مطابق یہی نقطہ نظر استعمال کیا) کیونکہ مذہبی پیشواؤں اور مغربی قانون کے ماہر ججوں کے مابین علم کی وسیع خلیج موجود تھی اور مذہبی قانون کی مروجہ قانون سے فرق کے باعث دونوں فریقین اپنے اپنے نقطہ ہائے نظر پر ڈٹے رہے۔ نتیجہ علماء کو پھانسی اور قید کی سزاؤں میں نکلا۔

 

(جاری ہے)

 

کتابیات
تعبیر کی غلطی، مولانا وحیدالدین خان
تحریک آزادیء ہند اور مسلمان(حصہ اول و دوم)
مولانا مودودی اور میں، اسرار احمد
’قائد اعظم، نظریہ پاکستان اور اسلامی نظام: ابوالاعلی مودودی کی نظر میں‘، مولانا محمد اشفاق
روداد جماعت اسلامی
تحریک جماعت اسلامی: ایک تحقیقی مطالعہ، اسرار احمد
پاکستان کی سیاسی تاریخ: ترقی اور جمہوریت کو روکنے کے لئے اسلامی نظام کے نعرے، زاہد چوہدری
جماعت اسلامی کی انتخابی جدوجہد
منیر رپورٹ، ترجمہ بشکریہ ماہنامہ ’نیا زمانہ’
مودودی حقائق، محمد صادق قادری
پردہ، ابوالاعلی مودودی
محاصرے کا روزنامچہ، وجاہت مسعود
طلبہ تحریکیں، جلد اول، سلیم منصور خالد
میں نے ڈھاکہ ڈوبتے دیکھا، صدیق سالک
مشاہدات، میاں طفیل محمد
پاکستان میں طلباء تحریک، پروفیسر عزیزالدین
جماعت اسلامی پر ایک نظر، شیخ محمد اقبال

Sayyid Abul A’ala Maududi & his thought,Masud ul Hasan
The Vanguard of Islamic Revolution, Vali Nasr
Mawdudi and Making of Islamic Revivalism, Vali Nasr
Magnificient Delusions, Husain Haqqani
Islam and the secular State. Abdulllah An’naim
The 1974ouster of the heretics: What really happened?
NADEEM F. PARACHA

Image: Khuda Bux Abro for Dawn.com

Categories
نقطۂ نظر

عورتوں کے ووٹ اور جماعت اسلامی کی شکست

دیر میں خواتین کو ووٹ کے حق سے محروم رکھنے کا سلسلہ کئی عشروں سے جاری ہے، ضلع میں سیاسی جماعتوں اور حکومت کی جانب سے خواتین کی انتخابی عمل میں حصہ لینے کو یقینی بنانے کےلیے کبھی سنجیدہ کوششیں دیکھنے میں نہیں آئیں۔
دیر پاکستان کا ایک خوبصورت کوہستانی خطہ ہے جو چترال اور پشاور کے درمیان سوات کے قریب واقع ہے۔دیر کو گندھاراتہذیب میں تاریخی حیثیت حاصل ہے جس کے ثبوت دیر عجائب گھر میں موجود ہیں۔ دیر پاکستان میں ضم ہونے سے پہلے ایک نوابی ریاست تھی۔ پاکستان میں انضمام کے بعد دیر کی پوری ریاست موجودہ خیبر پختونخوا کا ضلع بنادی گئی۔ بعد ازاں 1992ء میں اسے مزید دو ضلعوں زیریں دیر اور بالائی دیر میں تقسیم کر دیا گیا۔منگل 15 ستمبر 2015ء کو بالائی دیر میں صوبائی اسمبلی کی حلقے “پی کے 93” کے لیے ضمنی انتخاب ہوا۔ حقوق انسانی کے لیے کام کرنے والی ایک تنظیم دیہی، اجتماعی اور ترقیاتی سوشل ورکرز کونسل کے مطابق دیر میں 1970ء اور 1977ء کے عام انتخابات میں خواتین نے ووٹ ڈالے تھے، جس کے بعد خواتین کسی بھی انتخابی عمل میں شریک نہیں رہیں تاہم اس بار خواتین کے لیے چھ پولنگ اسٹیشن قائم کیے گئے۔ ماضی میں یہاں سیاسی جماعتوں اور مقامی رہنماؤں کی ایما پر غیر اعلانیہ طور پر خواتین کو اس جمہوری حق سے محروم رکھا جاتا رہا ہے۔
امیر جماعت اسلامی نے فرمایا کہ یہ ضروری نہیں کہ عورتیں ووٹ ڈالیں، انہیں اور بھی کام ہوتے ہیں، کھانا پکانا ہوتا ہے، بچوں کی دیکھ بھال کرنی ہوتی ہے، اپنے شوہر کے کام کرنے ہوتے ہیں، دوسرے یہ پشتو روایت بھی ہے
دیر میں خواتین کو ووٹ کے حق سے محروم رکھنے کا سلسلہ کئی عشروں سے جاری ہے، ضلع میں سیاسی جماعتوں اور حکومت کی جانب سے خواتین کی انتخابی عمل میں حصہ لینے کو یقینی بنانے کےلیے کبھی سنجیدہ کوششیں دیکھنے میں نہیں آئیں۔ غور طلب بات یہ ہے کہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے ذریعے پیسے تقسم کرنے کا معاملہ ہو تو پھر انہی خواتین کو گھنٹوں قطاروں میں کھڑا رکھا جاتا ہے، پھر نہ جرگہ ہوتا ہے نہ مقامی روایات آڑے آتی ہیں لیکن جب خواتین کی رائے کا معاملہ ہو تو پھر ان پر پابندی لگائی جاتی ہے۔ اس علاقے میں عام طور پر مقامی سطح پر منعقد ہونے والے جرگوں میں خواتین کے ووٹنگ پر پابندی کے معاہدے کئے جاتے ہیں جس میں بعض اوقات سیاسی امیدوار بھی شریک ہوتے ہیں تا ہم پی کے 95 زیریں دیر کےانتخابات کے بعد الیکٹرانک ، پرنٹ اور سوشل میڈیا پراحتجاج کے بعد اس بار پی کے 93 بالا دیر میں ایسا کوئی معاہدہ نہیں کیا جاسکا۔ یہی وجہ ہے کہ اس دفعہ خواتین کی بڑی تعداد نے انتخابات میں حصہ لیا اور ووٹ ڈالے ہیں۔
اس نشست پرمئی 2013ء کے عام انتخابات میں جماعت اسلامی کے بہرام خان کامیاب ہوئے تھے لیکن بہرام خان کی ڈگری جعلی ثابت ہونے پر الیکشن کمیشن نے انہیں نا اہل قرار دے دیا تھا۔ ضمنی انتخابات میں اس نشست کے لیے چار امیدوار تھے جن میں بہرام خان کے بیٹے ملک اعظم خان بھی شامل تھے۔ پی کے 93 کےضمنی انتخابات میں غیرسرکاری نتائج کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدوار صاحبزادہ ثنا اللہ 18 ہزار 823 ووٹ لےکر کامیاب قرار پائے ہیں جبکہ جماعت اسلامی کے اعظم خان 15 ہزار 816 ووٹوں کے ساتھ دوسرے نمبر رہے۔ اس حلقے میں کل رجسٹرڈ ووٹوں کی تعداد ایک لاکھ 48 ہزار 76 ہے جن میں مردوں کے تعداد 90 ہزار 368 جبکہ خواتین کے 57 ہزار 708 ووٹ ہیں۔
جماعت اسلامی کے فاتح امیدوار اعزاز الملک نے فخریہ انداز میں کہا ہے کہ خواتین کا ووٹ نہ ڈالنا کوئی نئی بات نہیں۔ 1985 سے یہی ہوتا چلا آیا ہے۔
صوبہ خیبر پختونخوا میں سات مئی کو حلقہ پی کے 95 زیریں دیر میں ضمنی انتخابات منعقد ہوئے، اُس سےکچھ دن پہلے 23 اپریل کوکراچی کے حلقہ این اے 246 میں بھی ضمنی انتخابات ہوئے تھے، ان دونوں انتخابات میں ایک چیز مشترک تھی وہ تھی جماعت اسلامی، جس نے دونوں حلقوں میں اپنے امیدوارکھڑئے کیے تھے لیکن دونوں حلقوں میں جماعت اسلامی کا طرزسیاست بالکل مختلف تھا۔ کراچی میں جماعت اسلامی کے امیدوارراشدنسیم کی ضمانت ضبط ہوگئی جبکہ زیریں دیر میں جماعت اسلامی کے امیدوار اعزازالملک 19827 ( کل ووٹوں کے صرف 14.08 فیصد) ووٹ لے کر کامیاب ہو ئے ۔ حلقہ پی کے 95 زیریں دیر میں ضمنی انتخابات میں ووٹر کی کل تعداد 140747 تھی جس میں مرد ووٹروں کی تعداد 86930 (61.76 فیصد) اور خواتین کی تعداد53817 (38.24 فیصد) تھی۔ 53817 خواتین میں سے کسی ایک خاتون نے بھی ووٹ نہیں ڈالا، اس میں سراج الحق اور جماعت اسلامی کے امیدوار اعزازالملک کے گھرانے کی خواتین بھی شامل تھیں۔ عام خواتین ووٹر کی کیا بات کریں امیدواروں کی بیویاں بھی ووٹ ڈالنے نہیں آئیں۔ اے این پی کے رہنما زاہد خان نے کہا کہ پی کے 95 کےضمنی انتخاب میں خواتین کوووٹ ڈالنے سے روکنے پر الیکشن کمیشن میں جائیں گے۔ زاہد خان کا کہنا تھا کہ خواتین کے ووٹ ڈالنے پر پابندی کے جرگہ میں اگر اے این پی کا کوئی نمائندہ بیٹھا تو اسے جماعت سے نکال دیا جائے گا۔
ایک بھی خاتون کے ووٹ نہ ڈالے جانے پر میڈیا نے سوالات اٹھائے اور اس بات کی نشاندہی کی کہ ایسا سیاسی جماعتوں کی ملی بھگت سے ہوا ہے۔ پی کے 95 زیریں دیر وہی حلقہ ہے جس کے بارے میں 11مئی 2013ء کے انتخابات کے بعد بھی یہ شکایت سامنے آئی تھی کہ یہاں سیاسی جماعتوں نے ایک غیر قانونی معاہدہ کرکے خواتین کو ووٹ ڈالنے سے روکا تھا۔ کچھ اخبارات نے تو اس سلسلے میں سیاسی جماعتوں کے درمیان ایک معاہدے کی بھی نشان دہی کی تھی۔ امیر جماعت اسلامی سراج الحق سے جب پوچھا گیا کہ کیا وجہ ہے کہ 53817 خواتین میں سے کسی ایک خاتون نے بھی ووٹ نہیں دیا ، یہاں تک کہ کسی امیدوار کے گھرانے کی خاتون نے بھی ووٹ نہیں ڈالا تو سراج الحق کا جواب تھا کہ خیبرپختونخوا کے ضمنی الیکشن میں خواتین کو ووٹ دینے سے کسی نے منع نہیں کیا۔ امیر جماعت اسلامی نے فرمایا کہ یہ ضروری نہیں کہ عورتیں ووٹ ڈالیں، انہیں اور بھی کام ہوتے ہیں، کھانا پکانا ہوتا ہے، بچوں کی دیکھ بھال کرنی ہوتی ہے، اپنے شوہر کے کام کرنے ہوتے ہیں، دوسرے یہ پشتو روایت بھی ہے ۔ کراچی اور زیریں دیر کے انتخابات سے ایک بات یہ پتہ چلی کہ جماعت اسلامی نے زیریں دیر میں خواتین کو ووٹ ڈالنے سے روکا جبکہ کراچی میں ووٹ حاصل کرنے کےلیے خواتین کا ایک بڑا جلسہ کیا،گویا جماعت اسلامی کے نزدیک زیریں دیر میں خواتین کا ووٹ دینا حرام جبکہ کراچی میں خواتین کا ووٹ دینا حلال تھا ۔
غور طلب بات یہ ہے کہ پی کے 93 کےضمنی انتخابات میں بظاہر شکست تو جماعت اسلامی کو ہوئی ہے اور جیت پیپلز پارٹی کی، لیکن اگر آپ سنجیدگی سے اس کا تجزیہ کریں تو خواتین کے ووٹ ڈالنے سے یہ شکست قدامت پسندوں اور دہشت گردوں کو ہوئی ہے۔
پی کے 95 زیریں دیر میں جو ضمنی انتخابات ہوئے تھے دو جون 2015ء کوچیف الیکشن کمشنر نے اُسے خواتین کی عدم شرکت کی وجہ سے کالعدم قرار دےکر دوبارہ انتخابات کرانے کا حکم دےدیاتھا ۔ لیکن بعد میں پشاور ہائی کورٹ نے دوبارہ انتخابات کرانے کے حوالے سے الیکشن کمیشن کے احکامات معطل کرتے ہوئے اعزازالملک کو ان کی نشست پر بحال کر دیا۔ پی کے 95 زیریں دیر کےانتخابات کے بعد الیکٹرانک میڈیا، پرنٹ میڈیا اور سوشل میڈیا نےکافی شور مچایا، اخبارات اور پرنٹ میڈیا میں کافی مضامین لکھے گئے، لکھنے والوں میں خواتین کی اکثریت تھی۔ خواتین لکھاریوں میں سابق امیرجماعت اسلامی مرحوم قاضی حسین احمد کی صابزادی محترمہ ڈاکٹر سمیعہ راحیل قاضی نے “عورت، انتخابات اور پشتون روایات” کے نام سے ایک مضمون تحریر کیا ہے جس میں انہوں نے اس بات کی صفائی دینے کی کوشش کی ہے کہ دیرکی خواتین نے تو کبھی ووٹ ڈالا ہی نہیں۔ یہ تو سب کو معلوم کہ مشرف کی بانٹی ہوئی ریوڑیوں سے ڈاکٹر سمیعہ راحیل قاضی اورمنور حسن کی بیگم عائشہ منور جب 2002ء میں رکن قومی اسمبلی بنیں تو انہوں نے خواتین کے حقوق کے بل کی شدیدمخالفت کی تھی۔ خاتون مصنف لبنیٰ ظہیراپنے ایک مضمون ‘دیر کے انتخابات اور خواتین’ میں لکھتی ہیں کہ “اگرچہ سیاسی جماعتیں تسلیم نہیں کرتیں لیکن مقامی اخبار نویسوں کا کہنا ہے کہ ضمنی انتخابات میں حصہ لینے والی جماعتوں نے پس پردہ ایک غیر تحریری معاہدہ کر لیا تھا کہ کسی بھی خاتون کو ووٹ کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ جماعت اسلامی کے فاتح امیدوار اعزاز الملک نے فخریہ انداز میں کہا ہے کہ خواتین کا ووٹ نہ ڈالنا کوئی نئی بات نہیں۔ 1985 سے یہی ہوتا چلا آیا ہے۔ اگر یہ بات درست ہے تو اس صورتحال کو نرم سے نرم لفظوں میں شرمناک ہی کہا جاسکتا ہے۔”
محترمہ کشور ناہید نےاپنے مضمون’خواتین کے حقوق اور قومی اداروں کی تنزلی’ میں لکھا ہے کہ پاکستان میں زیریں دیر میں الیکشن ہوئے۔ جماعت اسلامی اس لیے جیتی کہ خواتین کو ووٹ ڈالنے نہیں دیا گیا۔ جب کہ الیکشن کمیشن نے حکم نامہ جاری کیا تھا کہ خواتین کو ووٹ ڈالنے سے نہ روکا جائے۔ اس حکم نامے کے باوجود ہوا کیا، خواتین کے ووٹنگ بوتھ بنے ہوئے تھے مگر خواتین کو گھروں سے نکلنے نہیں دیا گیا ۔ ایک اور خاتون مصنف مسزجمشیدخاکوانی نے اپنے فیس بک اکاونٹ پر کچھ یوں لکھا تھا کہ ‘ اپنی خواتین کو برقعے کے پیچھےچھپاکررکھو اُنہیں ووٹ کا حق بھی نہ دو لیکن جب کراچی میں جلسہ کرو تو سندھیوں، مہاجروں، بلوچوں اورکشمیریوں کی ماں، بہنوں اور بیٹیوں کو جلسے میں شرکت کی دعوت دو، اپنے کارکنوں کو خواتین کو جلسوں میں لانے کی ترغیب دو! یہ کہاں کا اسلام ہے؟کیا اسلام خیبر پختونخوا اور کراچی میں الگ الگ ہوتا ہے؟ واہ رے منافقت تیرا ہی آسرا’۔
غور طلب بات یہ ہے کہ پی کے 93 کےضمنی انتخابات میں بظاہر شکست تو جماعت اسلامی کو ہوئی ہے اور جیت پیپلز پارٹی کی، لیکن اگر آپ سنجیدگی سے اس کا تجزیہ کریں تو خواتین کے ووٹ ڈالنے سے یہ شکست قدامت پسندوں اور دہشت گردوں کو ہوئی ہے۔ یہ شکست اُنہیں ہوئی ہے جو بچیوں کی تعلیم کے خلاف ہیں، یہ شکست اُن کی بھی ہے جو جرگوں میں بیٹھ کر خواتین کے بنیادی حقوق پر ڈاکہ ڈالتے ہیں اور اُنہیں ووٹ ڈالنے سے بھی روکتے ہیں۔ یہ شکست اُس سوچ کی بھی ہے جو معاشرے کو آگے بڑھنے سے روکتی ہے۔پی کے 93 کےضمنی انتخابات کے نتائج کے بعد یہ بات بالکل واضح ہوگئی ہے کہ اگر آپ نے اس ملک کو ترقی دینی ہے تو قدامت پسندوں اور دہشت گردوں کو شکست دینا لازمی ہے۔ملک کی تمام خواتین اور بچیوں کو یکساں حقوق دینے ہوں گے، ملک کی خواتین کو بھی ملکی معاملات میں برابر کا حصہ دار بنانا ہوگا،تاکہ اُ س سوچ کو شکست دی جاسکے جو ملکی ترقی میں رکاوٹ ہے۔
Categories
نقطۂ نظر

!! مولانا کے نام ایک پریم پَتر۔۔

شہادت کی بات ہو تو ہمارے ‘ملاوں’ نے ‘دلیل و منطق اور فہم و فراست ‘کی آخری حدووں کو کامیابی سے عبور کر تے ہوئے، حکیم اللہ محسود کو شہیدقرار دے ڈالا۔ بھانت بھانت کی بولیوں کے بیچ ایک آواز ہمارے عزیزم قبلہ حجازی کی بھی تھی، جملہ بہت دلچسپ اور معنی خیز تھا۔ عزیزم حجازی مولانا فضل الرحمان کے حالیہ بیان کہ”امریکا اگر کسی کتے کو بھی مارے گا تو اسے شہید کہوں گا” پر کہنے لگے، “تو گویا جنرل ضیا الحق کی شہادت کا تاریخی معمہ حل ہو گیا۔” مولانا کی سیاسی قلا بازیوں کو دیکھتے ہوئے ناچیز عموماً اعلٰی حضرت کے بیانات کو زیادہ سنجیدگی سے نہیں لیتا، لیکن شہادت جیسے عظیم رتبے کے تقدس کو جسطرح انہوں نے پامال کیا ہے اس پر راقم خاموش رہنے سے قاصر رہا۔
یہی وجہ ہے کہ فقیر،مولانا اور امیر جماعت اسلامی کے روبرو عقیدت اور محبت کے پھول نچھاور کرنے کے بعد، گستاخی معاف کے استعجابیے کے ساتھ چند ایک سوالات کرنے کی جسارت کرناچاہتا ہے۔ گذارش ہے کہ شہادت کی اسی تعریف کی رو کیا “افغان جنگ” میں مارے جانے والے روسی فوجی بھی شہید کہلائیں گے؟ کیونکہ وہ فوجی بھی تو بالواسطہ یا بلاواسطہ امریکہ نے ہی مروائے تھے۔ ہیں جیاور ان جہادیوں بارے کیا خیال ہے جنہوں نے امریکہ کی شہ (مع ڈالر اور دیگر لوازمات) پر روسیوں کے خلاف جہاد کیا؟

کیا “افغان جنگ” میں مارے جانے والے روسی فوجی بھی شہید کہلائیں گے؟ کیونکہ وہ فوجی بھی تو بالواسطہ یا بلاواسطہ امریکہ نے ہی مروائے تھے۔

کیا کہتے ہیں علمائے جمیعت بارے ان تمام ‘اہل ایمان’ کے جو حکیم اللہ محسود کی ہلاکت سے پہلے مختلف ڈرون حملوں یا پاک فوج کے ساتھ لڑائی میں مارے گئے ؟ کیا وہ بھی شہید کہلائیں گے؟ تو اسی رو سے پھر چالیس ہزار سے زائد عام پاکستانی شہری جو حکیم اللہ محسود شہید جیسے مومنین کے ہاتھوں جان سے ہاتھ دھو بیٹھے، وہ پسماندگانِ خاک کیا کہلائیں گے؟

اور یقیناً گذشتہ ایک دہائی میں جو پانچ چھے ہزار پولیس، فوج اور دیگر عسکری اداروں کے اہلکار قربان ہوئے ان کے بارے تو آپ کا نقطہ نظر بہت واضح ہو گا، وہ تو بلا شبہ آپ کی فہم کے مطابق شہدا کی کیٹیگری میں نہیں آتے۔ کیا ایسا نہیں ہے؟

ویسے قبلہ!! آپ دانستہ یا غیر دانستہ ایک قبیح گناہ کے مرتکب ضرور ہوئے ہیں، پوچھیے کیسے؟
یعنی آپ نے شرعی طور پر ‘جاہل’ عوام پر واضح کر دیا کہ حکیم اللہ ‘شہید’ ہے، اور آپ نے شہید کی غائبانہ نماز جنازہ ہی ادا نہ کی؟

استغفراللہ! یعنی ستم ظریفی کی انتہا ہو گئ۔ ہمیں یاد پڑتا ہے کہ شہداء کشمیر کی تو غائبانہ نماز جنازہ ادا کی جاتی تھی، لیکن یہ کیا؟

بے چارے ، معصوم حکیم اللہ کی غائبانہ نماز جنازہ ہی ادا نہ کی گئی، کیا ہی اچھا ہوتا اگر مولانا ڈیرہ اسماعیل خان میں، اور امیر جماعت ، کراچی کے ایم اے جناح روڈ یا لاہور کے مال روڈ پر لاکھوں فرزندان توحید کی موجودگی میں سپوتِ ملت، مجاہدِ اسلام، شانِ اسلاف اورحکیم الامت حضرت مولانا حکیم اللہ محسود شہید کی غائبانہ نماز جنازہ ادا کرتے تا کہ پوری دنیا یہ جان لیتی کہ ہمارے شہید کون ہیں اور ان کی کیا شان ہے۔ ہیں جی!اور سن لیجیے گا پلیز! ابھی تک امریکی بمباری سے کسی ‘کتے’ کے سرکاری طور پر مارے جانے کی تصدیق نہیں ہوئی۔۔ اگر آپ کے حالیہ فتوے کے بعد کسی دن کوئی کتا ہلاک ہو گیا تو کیا اس کی تدفین بھی ‘اہتمام’ کے ساتھ کی جائے گی؟

حضرت! مدعا یہ بھی ہے کہ جہاں ایک طرف آپ کے تاریخی فتوے نے بہت سے کنداور تاریک ذہنوں میں روشنی پھونکی ہے وہیں بہت سے اہل ایمان مزید کنفیوز بھی ہو گئے ہیں۔ اب یہ کتے کی ہلاکت اور اس کی تدفین کا معاملہ ہی لے لیجیے۔ از راہ کرم! اس معاملے پر ایک ‘کتا بچہ’ جلد شائع کروائیں تاکہ اہل اسلام کے ہاں پائی جانے والی کنفیوژن کا تدارک کیا جاسکے۔ باقی تاریخ شاہد ہے کہ آپ کی سیاست تو 73 کے آئین کے تناظر میں گزری ہے، اور مختلف شقوں کو ملا کر ہمیشہ نئی شعبدہ بازی دکھانے میں آپ کا دور دور تک کوئی ثانی نہیں رہا۔ لیکن حیرت ہے کہ آپ نے ایک ایسے شخص کو شہید قرارد ے دیا جو ‘تہتر’ کے آئین کا باغی ہے۔ چلیں اسلامی نقطہ نظر سے ہی واضح فرما دیجیے کہ کیا ‘سٹیٹ ود ان سٹیٹ’ کی اجازت ہے؟ ویسے آپ جناب نے تو آج دن تک کبھی جھوٹے منہ بھی ‘خود کش’ حملوں کو حرام قرار نہیں دیا ، لہذا یہ سب سوال بھی شاید ‘توہین ‘ کے زمرے میں آئیں۔ اور مولانا صاحب! کتے کا امریکیوں کے ہاتھوں مرنے کے بعد کیا مقام ہو گا، چھوڑئیے اس بات کو، آپ برینڈن برائینٹ نامی ڈرون آپریٹر کے بارے تھوڑا سا جان لیجیےگا۔

ویسے تو سوالات ابھی بہت سے باقی ہیں لیکن کیا کروں، رہی سہی اخلاقیات آڑے آر ہی ہے، انشااللہ ذاتی حیثیت میں اگلی نشست میں معروضات پیش کر دوں گا۔فی الحال نہ جانے کیوںرہ رہ کہ پطرس بخاری یاد آرہے ہیں، اور وہ بھی صرف ایک مضمون کے حوالے سے۔اب بھلا ناچیز اس بارے کیا عرٖ ض کرےخود پڑھ لیجیے۔

آپ کی سیاست تو 73 کے آئین کے تناظر میں گزری ہے، اور مختلف شقوں کو ملا کر ہمیشہ نئی شعبدہ بازی دکھانے میں آپ کا دور دور تک کوئی ثانی نہیں رہا۔ لیکن حیرت ہے کہ آپ نے ایک ایسے شخص کو شہید قرارد ے دیا جو ‘تہتر’ کے آئین کا باغی ہے۔ چلیں اسلامی نقطہ نظر سے ہی واضح فرما دیجیے کہ کیا ‘سٹیٹ ود ان سٹیٹ’ کی اجازت ہے؟ ویسے آپ جناب نے تو آج دن تک کبھی جھوٹے منہ بھی ‘خود کش’ حملوں کو حرام قرار نہیں دیا ، لہذا یہ سب سوال بھی شاید ‘توہین ‘ کے زمرے میں آئیں۔

“اور پھر ہم دیسی لوگوں کے کتے بھی کچھ عجیب بد تمیز واقع ہوئے ہیں۔ اکثر تو ان میں ایسے قوم پرست ہیں کہ پتلون کوٹ کو دیکھ کر بھونکنے لگ جاتے ہیں۔ خیر یہ تو ایک حد تک قابل تعریف بھی ہے۔ اس کا ذکر ہی جانے دیجئےاس کے علاوہ ایک اور بات ہے یعنی ہمیں بار ہا ڈالیا ں لے کر صاحب لوگوں کے بنگلوں پر جانے کا اتفاق ہوا ، خدا کی قسم ان کے کتوں میں وہ شائستگی دیکھی ہے کہ عش عش کرتے لوٹ آئے ہیں۔ جو ں ہی ہم بنگلے کے اندر داخل ہوئے کتے نے بر آمدے میں کھڑے کھڑے ہی ایک ہلکی سی “بخ” کر دی اور پھر منہ بند کر کے کھڑا ہو گیا۔ ہم آگے بڑھے تو اس نے بھی چار قدم آگے بڑھ کر ایک ناز ک اور پاکیزہ آواز میں پھر”بخ” کر دی۔ چوکیداری کی چوکیداری موسیقی کی موسیقی۔ ہمارے کتے ہیں کہ نہ راگ نہ سُر، نہ سر نہ پیر۔ تان پہ تان لگائے جاتے ہیں، بیتالے کہیں کے نہ موقع دیکھتے ہیں، نہ وقت پہچانتے ہیں، گل بازی لئے جاتے ہیں۔ گھمنڈ اس بات پر ہے کہ تان سین بھی تو اسی ملک میں پیدا ہوا تھا۔ جب تک اس دنیا میں کتے موجود ہیں اور بھونکنے پر مُصر ہیں سمجھ لیجیےکہ ہم قبر میں پاوں لٹکائے ٹھے ہیں (قارئین کرام کی خدمت میں عرض ہے کہ اگر ان کا کوئی عزیز و محترم کتا کمرے میں موجود ہو تو یہ
مضمون بلند آواز سے نہ پڑھا جائے مجھے کسی کی دل شکنی مطلوب نہیں۔) حضرت پطرس کے مضمون سے لیے گئے ان ٹکڑوں پر تبصرہ جاری تھا کہ رفیق خاص جواد احمدصدیقی نے قصہ مختصر کر دیا ، کہنے لگے کہ “کتا ایک کیفیت کا نام ہے۔” اسی اثنا میں دیرینہ دوست رحمان اظہر بھی آن ٹپکے اور معاملہ ان کی نئی اختراع کے بعد دم توڑ گیا۔ فرمایا “کتے “کو کتے سے راہ ہوتی ہے۔

کتوں کے ذکر ِخیر کے بعد ایک درفنتنی بھی سنتے جائیے۔ ابھی ابھی خبر ملی ہے کہ نیٹو سپلائی بند کرنے کا منصوبہ بنیادی طور پر خان صاحب کی ایک سوچی سمجھی ‘سازش ‘ہے جس کا مقصد طالبان کا دیوالیہ نکالنا ہے۔ گو کہ ان کے ذرائع آمدن بے شمار ہیں لیکن نیٹو کنٹینرز ایک اہم ذریعہ معاش تصور کیا جا تاہے اور اگر سپلائی ہی بند ہو گئی تو پھر کیا ہو گا؟ جی ہاں! اس کے دہرے اور دور رس فائدے ہیں۔طالبان کنٹینرز کی تلاش میں ان علاقوں کا رخ کریں گے جہاں سے ان کا گزر ہو گا، جو یقینا کے پی کے علاقے نہیں ہوں گے۔ دوسرا فائدہ یہ کہ خیبر پختونخواہ سے سپلائی بند ہونے کی صورت میں حملے بھی کم ہو جائیں گےجس کے بعد پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت امن و امان کی صورتحال بہتر کرنے کی دعوے دار ٹھہرے گی، اور یوں اگر جناب عمران خان صاحب کی نیٹو سپلائی بند کرنے کی سازش کامیاب ہو گئی تو پھر طالبان بھی معاشی اور اقتصادی طور پر ایسے ہی ٹکڑے ٹکڑے ہو جائیں گے جیسے ایک عرصے سے امریکہ ہو رہا ہے۔ ہیں جی!