Categories
شاعری

کیا اب تک اوس پڑتی ہے (ایچ-بی-بلوچ)

ہم نے گمراہ ستاروں کی
کہانی لکھنی تھی
لیکن اس سے پہلے یہ سوچنا تھا
ستاروں سے آگے
اور جہانوں کا ذکر کون کرتا ہے

یہ کون ہے جو
بے نشاں رات کے نقشے کھینچتا ہے
جو رتجگوں کے سنگلاخ سناٹے میں
قوموں کے انقلابی گیت لکھتا ہے

یہ کون ہے جو سمندر سے
حسین سفر کے رنگ نچوڑ لیتا ہے
جو خاموش درختوں سے
ٹپک ٹپک کر بہنے والی بارش میں
پرندوں کو پھڑپھڑانے کے لیے اکساتا ہے

ہمیں شام کے
سر ٹکراتے ہوئے سایوں سے
اک چاپ کے نشاں سوچنے تھے

مگر اس سے پہلے یہ پوچھنا تھا
کہ تاریخ کے اس پار
امن کے قافلے کہاں تک پہنچے ہیں

کیا اب تک جنون زلیخا
وحشت برادر پہ بھاری ہے
کیا منصور اب بھی سنگ باری میں جیتا ہے
کیا لوگ اب تک مونا لیزا کی مسکان پر اتراتے ہیں
یا جون آف آرک کے جواں سالہ خون پر تلملاتے ہیں

کیا اب تک اوس پڑتی ہے
راہوں پر
باتوں پر
آسوں پر
ہر منظر بیک ورڈ ہوجاتا ہے
سچ کہنے پر
آسمان بے ستون ہو جاتا ہے

ہم نے چلتی ٹرین کی زنجیر کو کھیچنا تھا
مگر اس سے پہلے
اک بے نام آزادی کے لیے
مجسم قوس قزح کے بھید بھی کھولنے تھے.!

Categories
شاعری

انتظام (سلمان حیدر)

ہماری گردنوں سے لپٹے ہوئے مفلر
ہمارا گلا گھونٹتے ہیں تو بڑھی ہوئی کھردری شیو میں الجھ جاتے ہیں
ہماری پتلیاں پپوٹوں کے بند دروازوں کے پیچھے موت کے انتظار میں بے چین ٹہل رہی ہیں
گلے آخری ہچکی کی ریہرسل کرتے سوکھ چکے
اپنے سوگواروں کے سیاہ لبادے لٹکانے کو کھونٹیاں ہم نے تابوت سے بچی ہوئی لکڑی سے بنائیں
اور انہیں راہدری کی طویل دیواروں چرچ کی کرسیوں کی طرز پر ترتیب دیا
کرسیاں جن کی ٹکٹکی پر ہم سے زیادہ زندہ رہنے والوں کو اذیت دی جائے گی
آتش دان میں جلتی کھپچیاں ہماری ہڈیوں کی طرح چٹختی ہیں
کچھ دیر میں یہ شور اس سلگتی ہوئی بھنبھناہٹ میں بدل جائے گا
جو اشلوک دہرانے کے عادی بوڑھوں کے پاس سے اٹھتی ہے
ہماری انگلیاں پٹ سن کی گرہیں کھولتے بے تابی کے تشنج کا شکار ہیں
ہم اپنے پھندے کی رسی بنتے ہوئے اس خدا کی حمد گائیں گے جس نے ہمیں زندگی دی۔۔۔
Image: Ma Desheng