کیا اب تک اوس پڑتی ہے (ایچ-بی-بلوچ)

ہم نے گمراہ ستاروں کی کہانی لکھنی تھی لیکن اس سے پہلے یہ سوچنا تھا ستاروں سے آگے اور جہانوں کا ذکر کون کرتا ہے یہ کون ہے جو بے نشاں رات کے نقشے کھینچتا ہے جو رتجگوں کے سنگلاخ سناٹے میں قوموں کے انقلابی گیت لکھتا ہے یہ کون ہے جو سمندر سے حسین […]
انتظام (سلمان حیدر)

ہماری گردنوں سے لپٹے ہوئے مفلر ہمارا گلا گھونٹتے ہیں تو بڑھی ہوئی کھردری شیو میں الجھ جاتے ہیں ہماری پتلیاں پپوٹوں کے بند دروازوں کے پیچھے موت کے انتظار میں بے چین ٹہل رہی ہیں گلے آخری ہچکی کی ریہرسل کرتے سوکھ چکے اپنے سوگواروں کے سیاہ لبادے لٹکانے کو کھونٹیاں ہم نے تابوت […]