Categories
نقطۂ نظر

زہریہ ٹاون

[blockquote style=”3″]

جعفر حسین کا یہ فکاہیہ مضمون اس سے قبل ان کے اپنے بلاگ حالِ دل پر بھی شائع ہو چکا ہے۔ قارئین کی دلچسپی کے لیے اسے لالٹین پر دوبارہ شائع کیا جا رہا ہے۔ اس تحریر کا مقصد محض تفریح طبع کا سامان کرنا ہے، کسی بھی فرد کی دل آزاری قطعاً مقصود نہیں۔

[/blockquote]

میں دل شکستہ ہو چکا تھا۔ مایوسی میرے رگ و پے میں سرایت کر کے کانوں سے دھوئیں کی شکل میں نکل رہی تھی۔ جس سے میری عینک کے شیشے بار بار دھندلا رہے تھے۔ میرا دل چاہ رہا تھا کہ اپنی عینک دیوار پر دے ماروں لیکن پھر خیال آتا تھا کہ یہ بھی ٹوٹ گئی تو کھمبوں سے ٹکراتے ٹکراتے کیسے گھر پہنچوں گا۔ جونہی میں کمرے سے باہر نکلنے لگا تو اشرف قصائی نے میرے کندھے پر ہاتھ رکھا۔ اسے تھپتھپایا۔ اور سرد لہجے میں یاددہانی کراتے ہوئے بولا،”چوہدری صاحب دس ہزار روپے ہو چکے ہیں، اگلے ہفتے تک ادا ہو جانے چاہیئں”۔ میرا جی چاہا کہ جھنگ روڈ پر جا کے این ایل سی کے ٹرالے کے سامنے کود جاوں۔ مجھے پتہ تھا کہ اگلے ہفتے تک، دس تو کیا، میں ایک ہزار کا بھی بندوبست نہیں کر سکتا۔ تنخواہ ملنے میں ابھی بیس دن باقی تھے اور کوئی مجھے ادھار دینے کی غلطی نہیں کر سکتا تھا۔ مجھے اللہ دتے کی وہ حالت یاد آ گئی جو پچھلے مہینے اشرف قصائی کے بیٹوں کے ہاتھوں ہوئی تھی اگرچہ وہ صرف پانچ سو کا ہی مقروض تھا۔ انہی سوچوں میں غلطاں میں جوئے کے اڈے سے باہر نکلا۔ ابھی دس قدم چلا ہوں گا کہ گلی کی نیم تاریکی سے ایک سایہ نمودار ہوا۔ یہ ملک نیاز تھے!!!

 

میں دل شکستہ ہو چکا تھا۔ مایوسی میرے رگ و پے میں سرایت کر کے کانوں سے دھوئیں کی شکل میں نکل رہی تھی۔ جس سے میری عینک کے شیشے بار بار دھندلا رہے تھے۔
انہوں نے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے تاریکی میں پارک کیے ہوئے ستر ماڈل ویسپے کے پاس لے آئے۔ کک مار کر اسے سٹارٹ کیا اور مجھے بیٹھنے کا اشارہ کیا۔ میں بادلِ نخواستہ پچھلی سیٹ پر براجمان ہو گیا۔ ملک صاحب، مہارت سے ویسپا ڈرائیو کرتے ہوئے منڈی کوارٹر کی طرف رواں دواں ہو گئے۔ منڈی کوارٹر کے ایک خستہ حال مکان کے سامنے جا کر انہوں نے ویسپا روکا۔ مجھے اترنے کا اشارہ کیا اور ویسپے کو سٹینڈ پر لگا کر مخصوص انداز میں دروازے پر تین بار دستک دی (پینی۔۔۔ پینی۔۔۔۔۔۔۔۔ پینی۔۔۔۔) دروازہ ایک درمیانی عمر کی پختہ کار عورت نے کھولا اور ہماری طرف دیکھ کر خوف صورت انداز میں مسکرائی۔ ملک صاحب میرا ہاتھ پکڑ کر جلدی سے اندر گھس گئے۔ بیٹھک میں دو کرسیاں، ایک میز جس کا پایہ ٹوٹا ہوا تھا اور اس کو ایڈجسٹ کرنے کے لیے اینٹیں بھی نہیں رکھی گئی تھیں، اور ایک جھلنگا سی چارپائی تھی جس پر ایک میلا سا گدا بچا ہوا تھا۔ دس منٹ بعد ملک صاحب تشریف لائے۔ ان کے چہرے پر “نور” معمول سے کچھ زیادہ تھا۔ انہوں نے چارپائی پر نیم دراز ہوتے ہوئے سگریٹ سلگایا تو چرس کی مسحور کن خوشبو پوری بیٹھک میں پھیل گئی۔ دو کش لگا کر انہوں نے مجھے واری لگانے کی دعوت دی جو میں نے شکریے کے ساتھ قبول کر لی۔ سگریٹ ختم ہونے کے بعد ملک صاحب نے کھنگورا مار کر گلا صاف کیا اور یوں مخاطب ہوئے۔

 

“دیکھ باؤ چوہدری! تو حیران ہو رہا ہو گا کہ میں تجھے یہاں کیوں لے کر آیا ہوں۔ بات یہ ہے جگر، کہ مجھے تیرے حالات کا پتہ چلا ہے کہ تو کافی قلتِ زر کا شکار ہے اور اشرف قصائی، آئی ایم ایف بن کر تیرا خون چوسنے کا پروگرام بنا رہا ہے اور اپنے بیٹوں کو نیٹو کی طرح تیری طبیعت صاف کرنے پر لگانے والا ہے۔ باؤ میں تجھے پسند کرتا ہوں۔ تو حق کا پرچارک اور راست گو لکھنے والا ہے۔ میں نہیں چاہتا کہ سربازار تیری پھینٹی لگے اور لوگوں کو پتہ لگے کہ تو جواء کھیلتا ہے اور اتنا برا کھیلتا ہے کہ ہمیشہ ہار جاتا ہے”۔ ملک صاحب دم لینے کو ایک لحظہ رکے اور مجھے پہلو بدلتا دیکھ کر میسنے انداز میں زیرِ مونچھ مسکرائے اور دوبارہ سلسلہ کلام جوڑا۔ “ہاں تو میں کہہ رہا تھا کہ رزق کا وعدہ تو رب نے کیا ہے لیکن جوئے، شراب اور عیاشی کا نہیں۔ لہٰذا یہ سب چیزیں چاہیئں تو مجھ سے تعاون کر۔ تجھے جو چاہیئے ملے گا۔” ملک صاحب نے بات ختم کر کے لوفرانہ انداز میں مجھے آنکھ ماری اور نیا سگریٹ سلگانے لگے۔

 

دس منٹ بعد ملک صاحب تشریف لائے۔ ان کے چہرے پر “نور” معمول سے کچھ زیادہ تھا۔ انہوں نے چارپائی پر نیم دراز ہوتے ہوئے سگریٹ سلگایا تو چرس کی مسحور کن خوشبو پوری بیٹھک میں پھیل گئی۔
میں نے نروس انداز میں ملک صاحب کی طرف دیکھا۔ عینک اتار کر اس کے شیشیوں پر پھونک ماری، قمیص کے دامن سے انہیں صاف کیا اور دوبارہ ناک پر ٹکا کر ملک صاحب سے استفسار کیا، “سو واٹ ایگزیکٹلی یو وانٹ می ٹو ڈو، دین؟ (So what exactly do you want me to do then?)” ملک صاحب نے ایک طویل قہقہ لگایا۔ میز پر پڑے گندے جگ سے منہ لگا کر پانی پیا اور مجھے تسلی دیتے ہوئے کہنے لگے، “ڈرو مت باؤ، تجھے صرف میرے حق میں خبریں لگانی ہیں۔ جس میں بتایا گیا ہو کہ میں کتنا بڑا سماجی کارکن ہوں، اور غریب غرباء کا کتنا درد میرے اس متاثرہ جگر میں ہے۔ تجھے تو پتہ ہے کہ دنیا کتنی حسد ہے۔ ایک سجن سو دشمن۔ بس تو مجھے ایک دیالو، ان داتا لکھ اور لکھ لُٹ امیج دے، میں تیرے قرضے، خرچے، جوئے، سب اٹھالوں گا۔ کسی اشرف قصائی جیسے کن ٹُٹے کی جرات نہیں ہو گی کہ تیرا ہوا ول وی تک جاوے۔ آہو۔”

 

میں اٹھا، ملک صاحب کے گھٹنوں کو چھوا۔ اور الٹے قدموں سے چلتا ہوا کمرے سے باہر نکل آیا۔
میری دنیا بدل چکی تھی۔

Image: Fieca

Categories
نقطۂ نظر

جاوید چوہدری کا ایک فرضی کالم

[blockquote style=”3″]

ادارتی نوٹ: ثاقب ملک کا یہ فکاہیہ مضمون ان کے بلاگ پر بھی شائع ہو چکا ہے۔ ان کی اجازت سے اسے لالٹین کے قارئین کے لیے دوبارہ شائع کیا جارہا ہے۔ اس تحریر کا مقصد محض تفریح طبع کا سامان کرنا ہے، کسی بھی فرد کی توہین یا دل آزاری قطعاً مقصود نہیں۔

[/blockquote]

حسن نثار اور زید حامد کے فرضی کالم پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔
ایک دن میں پورے آٹھ گھنٹے، چار سو اسی منٹ اور تیس ہزار سیکنڈ سونے کے بعد صبح دس بجے اٹھا۔ اٹھنے کے بعد میں نے قہقہہ لگایا اور کھڑکی کھول کر باہر دیکھنے لگا۔ ٹھنڈی فرحت بخش ہوا، جیسے دیو سائی کے میدانوں سے آ رہی تھی۔ میں نے واپڈا کے کھمبے پر بیٹھا ایک کوا دیکھا۔ کوے نے میری طرف دیکھا، قہقہہ لگایا اور اپنی ٹائیں ٹائیں کرتی زبان میں بولا “جاوید صبح لیٹ اٹھنے والے کبھی ترقی نہیں کر سکتے” میں نے کوے کی یہ بات اپنی گرہ سے باندھ لی۔ وہ دن ہے اور آج کا دن میں صبح چھ بجے اٹھ جاتا ہوں۔ ورزش کرتا ہوں، نہاتا ہوں، نماز پڑھتا ہوں اور اس طرح پورا دن تروتازہ رہتا ہوں۔ میں حکومت کو تجویز دوں گا کہ وہ ہر گھر کے سامنے والے کھمبے پر ایک عدد کوے کا بندوبست کرے تاکہ لوگ اس کی نصیحت سن کر صبح جلدی اٹھ سکیں، اس طرح لوگ مطمئن رہیں گے اور ان میں رواداری اور برداشت بڑھے گی۔
میں نے واپڈا کے کھمبے پر بیٹھا ایک کوا دیکھا۔ کوے نے میری طرف دیکھا، قہقہہ لگایا اور اپنی ٹائیں ٹائیں کرتی زبان میں بولا “جاوید صبح لیٹ اٹھنے والے کبھی ترقی نہیں کر سکتے” میں نے کوے کی یہ بات اپنی گرہ سے باندھ لی۔ وہ دن ہے اور آج کا دن میں صبح چھ بجے اٹھ جاتا ہوں۔
میں صبح اٹھنے کے بعد آئینہ بھی دیکھتا ہوں، میں آئینے میں عجیب عجیب شکلیں بنا کر ہنستا ہوں۔ ایک دن میں آئینہ دیکھ رہا تھا کہ دفعتاً میری ریڑھ کی ہڈی میں سردی کا احساس ہوا۔ ایسے لگا جیسے سیاچن گلیشیر کی برف میری پشت سے آن لگی ہو۔ میری رگ و پے میں خنکی کی ایک لہر دوڑ گئی۔ میں نے اپنے آپ کو روس میں سائبیریا کے برفیلےمیدانوں میں کھڑا محسوس کیا۔ مجھے احساس ہوا کہ دوزخ ٹھنڈا بھی ہو سکتا ہے۔ اچانک پیچھے سے میرے ملازم کی آواز آئی اس نے قہقہہ لگایا اور کہا کہ سر اب برف ہٹا لوں؟ دراصل میں اپنی کمر کی ٹکور کے لیے صبح صبح یہ ٹھنڈی مالش کرواتا ہوں۔ میں حکومت کو تجویز دوں گا کہ وہ ہر گھر میں ایک ایسے ملازم کا بندوبست کرے جو گھر کے ہر فرد کی پشت پر برف کے ٹکڑے سے ٹکور کرے۔ اس سے لوگوں میں برداشت بھی بڑھے گی، لوگ خوش بھی رہیں گے اور رواداری بھی پیدا ہو گی۔ یورپ کے اکثر ممالک میں لوگ صبح اسی طرح کرتے ہیں اسی وجہ سے وہ ترقی کر گئے ہیں اور ہم پیچھے ہیں۔ ہم صبح اٹھ کر نہاریاں، سری پائے، پراٹھے، مکھن اور ملائیاں کھاتے ہیں جب کہ وہ قومیں ڈبل روٹی کا ایک سلائس، کافی اور ایک ٹکڑی برف سے کام چلاتی ہیں۔ ہم نے اگر ترقی کرنی ہے تو ناشتے کے انداز کو بدلنا ہو گا۔ میری حکومت سے استدعا ہے کہ پاکستان میں حلوہ پوری، سری پائے، نان چنے اور پراٹھے سے ناشتے بلکہ سرے سے ناشتے پر ہی پابندی لگا دے اس طرح لوگوں میں بھوک برداشت کرنے کی صلاحیت پیدا ہو گی اور گھی کی بچت بھی ہو گی۔
میرے غسل خانے کی کہانی بھی دلچسپ ہے۔ اس کا سیمنٹ بالفورس کی ریت سے بنا ہے، ٹائلز اٹلی سے آئی ہیں، صابن اور باڈی واش فرانس سے آئے ہیں، ٹب اسپین کے ہیں، ٹوٹیاں اور نل انگلینڈ کے ہیں ،پانی ہمالیہ کا ہے اور پردے ایران کے۔ .یہ غسل خانہ مجھے زیادہ سے زیادہ وقت غسل خانے میں گزارنے کی ترغیب دیتا ہے۔ میں حکومت کو تجویز دوں گا کہ وہ ہر گھر میں ایسے ہی غسل خانے بنا دے اس سے لوگ بری صحبت سے بچ جائیں گے۔
میرے غسل خانے کی کہانی بھی دلچسپ ہے۔ اس کا سیمنٹ بالفورس کی ریت سے بنا ہے، ٹائلز اٹلی سے آئی ہیں، صابن اور باڈی واش فرانس سے آئے ہیں، ٹب اسپین کے ہیں، ٹوٹیاں اور نل انگلینڈ کے ہیں ،پانی ہمالیہ کا ہے اور پردے ایران کے۔
غسل خانے سے باہر نکلا تو میں نے قہقہہ لگایا اور خواجہ صاحب کے گھر پہنچ گیا۔ خواجہ صاحب ایک با کمال انسان ہیں، یہ دلوں کے بھید ٹھیک اڑھائی سیکنڈ میں جان لیتے ہیں، یہ اہل علم بھی ہیں اور اہل نظر بھی۔ میں نے خواجہ صاحب سے پوچھا کہ میں سکون حاصل کرنا چاہتا ہوں مجھے سکون کیسے ملے گا؟ خواجہ صاحب اس وقت سگریٹ کے دھوئیں سے مرغولے بنا بنا کر دیکھ رہے تھے، انہوں نے میری طرف دیکھا، قہقہہ لگایا اور کہا جاوید تم گٹر میں منہ ڈال کر عطر کی خوشبو کی توقع کر رہے ہو، تم منہ میں سٹرا ڈال کر سگریٹ پی رہے ہو، تم ہاتھی کے کانوں کو کبوتر کے پر سمجھ کر چوم رہے ہو، تم اپنے منہ پر لوگوں کی تھوکیں مل کر شیو کر رہے ہو، تمہیں ایسے سکوں نہیں ملے گا۔
میں نے قہقہہ لگایا اور پوچھا تو پھر میں کیا کروں؟ خواجہ صاحب نے میری طرف دیکھا مسکرائے اور کہا تم اپنے تنگ جوتے اتار پھنکو، اپنی تنگ پتلون بھی اتار پھینکو، اب تم سخت گلے والا یہ قمیص بھی اتار پھینکو۔۔۔۔۔ اب تمہیں سکون مل جائے گا۔ میں نے خواجہ صاحب کی طرف دیکھا اور کہا ‘لیکن اس طرح تو میں برہنہ ہو جاؤں گا؟’
‘نہیں’، خواجہ صاحب نے قہقہہ لگاتے ہوئے کہا، ‘اس طرح تم نیچر کے قریب ہو جاؤ گے۔ اب تم باہر نکلو اوردنیا کا سامنا کرو’۔
آخر ہم کب تک پکوڑوں پر شہد لگا کر کھاتے رہیں گے ؟ کب تک ہم، پٹرول کی ربڑی بنا کر پیتے رہیں گے ؟ کب تک ہم اپنی مونچھوں سے دیواروں پر تصویریں بناتے رہیں گے؟ ہمیں سکون حاصل کرنا ہو گا ورنہ فرعون کی لاش کی ممیوں کی طرح ہماری بھی ممیاں بن جائیں گی۔
‘لیکن اس طرح تو بھونکتے کتے میرے پیچھے پڑ جائیں گے؟’ میں نے سوال داغا۔
خواجہ صاحب نے سگریٹ کا کش لگایا، پھر دوسرا کش لگایا، پھر قہقہہ لگایا اور بولے جب تم بھونکتے کتوں کی بھونک برداشت کرنا سیکھ جاؤ گے تو تمہیں سکون مل جائے گا۔ میں اس دن سے اس نصیحت پر عمل پیرا ہوں .میری حکومت سے گزارش ہے کہ وہ لوگوں پر بھونکتے کتے چھڑوائے اس طرح لوگوں میں برداشت بھی پیدا ہو گی، ان میں رواداری بھی بڑھے گی، علم اور کلچر کا بھی فائدہ ہو گا۔ آخر ہم کب تک پکوڑوں پر شہد لگا کر کھاتے رہیں گے ؟ کب تک ہم، پٹرول کی ربڑی بنا کر پیتے رہیں گے ؟ کب تک ہم اپنی مونچھوں سے دیواروں پر تصویریں بناتے رہیں گے؟ ہمیں سکون حاصل کرنا ہو گا ورنہ فرعون کی لاش کی ممیوں کی طرح ہماری بھی ممیاں بن جائیں گی۔
Categories
نقطۂ نظر

اونچی شلوار اور تاریخ کا ٹھنڈا گوشت

ابھی دفتر پہنچا ہی تھا کہ ظفر بھائی (ظفر معراج ) کا ایس ایم ایس آیا ۔لکھا تھا “جاوید چوہدری کا کالم پڑھو”۔ کالم پڑھا عنوان تھا “الٹی شلواریں ٹھنڈے گوشت “۔کالم پر بات کرنے سے پہلے اور اپنا تبصرہ آپ کی خدمت میں پیش کرنے سے پہلے جاو ید چودھری کے ایک ٹی وی شو کو آپ کے سامنے رکھنا چاہوں گا۔ ایکسپریس ٹیلی وژن پر اپنے پروگرام “کل تک “کا ایک پروگرام ہمارے ممدوح نے اس بات سے شروع کیا کہ ایک وقت تھا جب دنیا میں پاکستانی پاسپورٹ کو بڑی عزت اور قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا ۔ ثبوت کے طور پر انہوں نے انیس سو اکسٹھ میں صدر ایوب کے دورہ امریکہ کی ویڈیو فٹیج چلائی اور کہا کہ دیکھیں کس طرح امریکی صد رجان ایف کینڈی خود صدر ایوب کا استقبال کرنے ایر پورٹ پر آیا تھا ۔اس سارے تبصرے میں انہوں نے ایک بار بھی اس بات کا ذکر کرنا مناسب نہیں سمجھا کہ اس وقت پاکستان سوویت یونین کے خلاف امریکہ کا اتحادی تھا اور امریکہ کو سرخ خطرے کے خلاف لڑنے کے اپنی خدمات کی بار بار یقین دہانی کروانے کے بعد اس مقام تک پہنچا تھا ۔بہار انیس سو اکسٹھ میں امریکی نائب صدر جانسن نے پاکستان کا دورہ کیا تو صد ر ایوب نے فوجی امداد لینے کے جانسن کو یہاں تک کہہ دیا تھا کہ پاکستان امریکہ کو سوویت یونین کے مقابلے میں ناکام ہوتا نہیں دیکھ سکتا اور امریکہ کا دشمن پاکستان کا دشمن ہے ۔ یہاں زیادہ تفصیل کی گنجائش نہیں ہے کیونکہ ہم اپنے اصل موضوع سے ہٹ جائیں گے ۔مزید تفصیل کے لیے حسین حقانی کی کتاب Magnificent Delusions دیکھی جا سکتی ہے ۔موصوف نے تاریخ کو نہ تو پڑھنے کی زحمت کی اور نہ ہی اسے سمجھنے اور تجزیہ کرنے کی کوشش یا شاید ریٹنگ کے چکر میں آپ نے اس بات پر غور ہی نہیں کیا کہ قوم اس سے گمراہ ہو گی ۔لیکن جس شخص کو آپ شرابی کہتے ہیں اس نے چچام سام کے نام اپنے چوتھے خط میں صدر ایوب کے دورہ امریکہ سے کوئی دس سال پہلے امریکی امداد اور اس کے مضمرات کا تجزیہ کر دیا تھا آپ بھی ملاحظہ کر لیں شاید کہ کچھ کام آ جائے
افسوس کہ جاوید چودھری صاحب کوئی فکر انگیز تبصرہ پیش کرنے کی بجائے تاریخ کی ایک من گھڑت تشریح کرنے میں جت گئے

 

” آپ پاکستان سے فوجی امداد کو معاہدہ ضرور کریں گےاس لیے آپ کو اس دنیا کی سب سے بڑی اسلامی سلطنت کے استحکام کی بہت زیادہ فکر ہے اور کیوں نہ ہو اس لیے کہ یہاں کا ملا روس کے کمیونزم کا بہترین جوڑ ہے فوجی امداد کا سلسلہ شروع ہوگیا تو آپ سب سے پہلے ان ملاﺅںکو مسلح کیجئے گا ان کے لئے خالص امریکی ڈھیلے ، خالص امریکی تسبیحیں اور خالص امریکی جائے نمازیں روانہ کیجیئے گا استروں اور قینچییوں کو سرفہرست رکھیے گا ، خالص امریکی خضاب لاجواب کا نسخہ بھی اگر آپ نے ان کو مرحمت کردیا تو سمجھیے پو بارہ ہیں فوجی امداد کا مقصد جہاں تک میں سمجھتا ہوں ان ملاﺅں کو مسلح کرنا ہے”۔
افسوس کہ جاوید چودھری صاحب کوئی فکر انگیز تبصرہ پیش کرنے کی بجائے تاریخ کی ایک من گھڑت تشریح کرنے میں جت گئے۔ کچھ ایسا ہی انہوں نے فلم منٹو دیکھنے کے بعد منٹو کے ساتھ کیا۔اس کی ایک وجہ تو سمجھ آتی ہے کہ فلم سے کچھ ایسا ہی تاثر ملتا ہے کہ منٹو ایک شرابی آدمی تھا جس نے بیٹی کی دوائی پر اپنی شراب کو ترجیج دی ۔ فلم منٹو کو جس انداز میں پیش کرتی ہے اس سے جاوید چودھری جیسا شخص یہی نتیجہ نکال سکتا تھا کہ
“ہمیں یہ حقیقت ماننا ہو گی، سعادت حسن منٹو خود اپنی ذات کے ولن تھے، منٹو کو کسی دوسرے شخص نے نہیں مارا، منٹو کو خود منٹو نے قتل کیا، منٹو کی ذات میں چھپا شرابی، ضدی، بے حس اور فحش سعادت حسن دنیا کے عظیم افسانہ نگار سعادت حسن منٹو کا قاتل تھا، منٹو کو سماج، فسادات اور چوہدری محمد حسین جیسے محب وطن لوگوں نے پریشان نہیں کیا، اسے شراب اور ضد پی گئی اور یہ اردو کے اس عظیم ادیب کی کہانی کا وہ پہلو ہے جس سے ملک کے ہر اس دانشور، ادیب اور صحافی کو عبرت پکڑنی چاہیے جو اپنی سستی، کاہلی، ضد، بے حسی اور نشے کو ادب ثابت کرنے کی لت میں مبتلا ہے”۔
چودھری محمد حسین اور ان کے پشت پناہی کرنے والوں کے ذہن میں جس طرح کا پاکستان موجود تھا اور وہ جس طرح کا معاشرہ تشکیل دینا چاہتے تھے اس کی عکاسی مولانا اختر علی کے اس بیان بخوبی ہوتی ہے کہ “نہیں نہیں اب ایسا ادب پاکستان میں نہیں چلے گا”۔

 

مجھے اس نتیجے سے کوئی حیرانی نہیں ہوئی کیونکہ یہ نتیجہ اس منافقانہ ذہنیت کی عکاسی کرتا ہے جس کی بنیاد ان لوگوں نے رکھی تھی جنہوں نے بانی پاکستانی کی گیارہ اگست کی تقریر کو نہ صرف سنسر کیا بلکہ طویل عرصے تک اس تقریر کو ایک شجر ممنوعہ بنائے رکھا ۔یہ اونچی شلواروں والی وہی ذہنیت تھی جس نے پاکستان کو ایک سخت گیر مذہبی ریاست بنانے کی سرتوڑ کوشش کی ۔جاوید چودھری لکھتے ہیں کہ وہ(چودھری محمد حسین ) پنجاب کی پریس برانچ میں ملازم تھے، وہ منٹو کو فحش نگار سمجھتے تھے اور وہ ہر اس رسالے پر پابندی بھی لگا دیتے تھے جس میں منٹو کا افسانہ چھپتا تھا۔

 

بھائی چودھری صاحب محمد حسین صاحب خود سے فیصلہ کرنے والے کون ہوتے تھے کہ کیا فحش ہے اور کیا نہیں ۔ منٹو پر فحش نگاری کے الزامات اور پابندیاں عائد کرنے کی بجائے چودھری محمد حسین اور ان لوگوں کی ذہنیت کا تجزیہ ضروری ہے جو منٹو پر فحاشی کا الزام لگا کر ایک تنگ نظر معاشرہ تشکیل دینا چاہتے تھے ۔چودھری محمد حسین اور ان کے پشت پناہی کرنے والوں کے ذہن میں جس طرح کا پاکستان موجود تھا اور وہ جس طرح کا معاشرہ تشکیل دینا چاہتے تھے اس کی عکاسی مولانا اخترعلی کے اس بیان بخوبی ہوتی ہے کہ “نہیں نہیں اب ایسا ادب پاکستان میں نہیں چلے گا “۔یہ وہ بیانیہ تھا جس نے اسٹیبلشمنٹ کو بعد ازاں دانشوروں کے خلاف ایک جواز مہیا کر دیا کہ پاکستان میں ایسا نہیں ہوسکتا اور یہ پاکستان میں نہیں چل سکتا۔اس بیانیے نے پاکستانی معاشرے میں مذہب کے نام پر طاقت میں حصہ بٹورنے کے لیے ایک نئے طبقے کو آگے بڑھنے کو حوصلہ دیا جو اب گلیوں میں دندناتا پھر رہا ہے ۔آج بھی ہر وہ شخص جو مروجہ نظریات کے خلاف آواز بلند کرتا ہے اسے یہی کہہ کر چپ کروایا جاتا ہے کہ ایسا پاکستان میں نہیں چل سکتا (دائیں بازو کے ایک اخبار کے مدیر محترم نے جو اب ایک نوجوان میزبان کے ساتھ ٹی وی پروگرام کرتے ہیں، ڈاکٹر مبارک علی کو ایک ٹاک شو میں کہا تھا کہ یہاں یہ نہیں چل سکتا آپ پھر ہندوستان چلے جائیں) ۔
منٹو کے خلاف مقدمات میں اگر عدلیہ اپنا وزن دائیں بازو میں نہ ڈالتی توآج سخت گیر مذہبی نظریات رکھنے والے قاتلوں اور دہشت گردوں کے خلاف فیصلے سنانے میں اتنی مشکلات نہ پیش آتیں جتنی اب آ رہی ہیں ۔اور جج فیصلہ کرے بیوی بچوں سمیت ملک سے باہر نہ جاتے۔
اگر ہم نے منٹو ٹھیک وقت پر اپنے بچوں کو پڑھنے کے لیے دیا ہوتا تو شاید ہم راولپنڈی کے انٹرنیٹ کیفے اور قصور جیسے سکینڈ لوں کا سامنا نہ کرتے اور خود سے منہ نہ چھپاتے پھرتے
جاوید چودھری صاحب نے چودھری محمد حسین کی جو خدمات گنوائیں ہیں وہ ساری اقبال اور ان کی اولاد کے گرد گھومتی ہیں ۔ ان خدمات کا پاکستانی معاشرے کی تشکیل اور اس کی ذہنی آبیاری سے کیا لینا دنیا۔ ہاں انہوں نے سرکاری ملازم ہونے کے ناطے جو کیا اس نے پاکستان معاشرے میں گھٹن کی فضا کو ضرور جنم دیا ۔اس گٹھن زدہ معاشرے میں جو Social Depressionپیدا ہورہا تھا اس سے فرار منٹو کے پاس شراب کی صورت میں تھا۔ وہ منافق نہیں تھااس نے اس گھٹن کو بے نقاب کیا نا کہ اس پہ تصوف کا لبادہ اوڑھانے ور اشاروں کنایوں میں بات کرنے کی کوکوشش کی ۔یہ وہی گھٹن کی فضا ہے جس میں آج اقبال کے خطبات” تشکیل جدیدالہیات اسلامیہ” کو شائع کرنا محال ہوچکا ہے ۔ اس گھٹی ہوئی فضا کا کرشمہ ہے کہ یاتو ہماری نوجوان نسل نظریاتی الجھنوں کا شکار ہو رہی ہے یاپھر مولویوں کے ہاتھوں “مس گائیڈڈ مزائل “بن کر پھٹ رہی ہے ۔
انہوں نے چودھری صاحب کے ایک خدمت یہ بھی گنوائی ہے کہ
“علامہ صاحب کا مقبرہ بھی چوہدری صاحب نے بنوایا تھا، مقبرے کے لیے ہندوستان، افغانستان اور ایران سے آرکی ٹیکٹ بلائے گئے تھے چوہدری صاحب انھیں فکر اقبال کی روشنی میں ڈیزائن تیار کرنے کی ہدایت دیتے تھے یہاں تک کہ موجودہ مقبرے کا ڈیزائن تیار ہوا، چوہدری صاحب نے خود دھوپ میں کھڑے ہو کر مقبرہ تیار کروایا”۔

 

“اقبال کا مزار فکر اقبال کی روشنی میں “کیا خوب اس بات کی کسر رہ گئی تھی سو وہ بھی پوری ہو گئی ۔اب کوئی نہ کوئی اقبالیات کا شعبہ اس موضوع پر بھی تحقیقی مقالہ یا تو قبول کر لے گا یا پھر اس پر تحقیق کروائے گا ۔ویسے جاوید چودھری اگر خود پہل کریں اور اس موضوع پر مقالہ تحریر فرما دیں تو شاید انہیں ڈاکٹریٹ کی ڈگر عطا کر دی جائے ۔
چودھری صاحب کالم کے آخر میں لکھتے ہیں کہ
“آپ الٹی شلوار یا ٹھنڈا گوشت نکالیے اور اپنی بہن اور بیٹی کو پڑھنے کے لیے دے دیجیے”۔

 

بہتر ہوتا کہ کالم تحریر کرنے سے قبل منٹو پر کچھ تحقیق کر لیتے اور فرحانہ صادق کی تحریر کو منٹو کے سر نہ تھوپتے۔ جناب عالی صرف اس قدر عرض کرنا چاہتا ہوں کہ ٹھنڈا گوشت necrophilia سے متعلق ہے ۔اگر اہم نے اس موضوع پر کام کر لیا ہوتا ، اس کی وجوہ جاننے کی کوشش کی ہوتی تو شاید کراچی اور دیگر شہروں میں قبرستانوں میں لاشوں کے ساتھ جنسی بدسلوکی کو روک لیا جاتا لیکن افسوس کہ یہ واقعات بھی ٹاک شوز کی سنسنی خیزی کی نظر ہوگئے ۔برنارڈ شاہ نے ٹھیک ہی کہا تھا کہ ایک صحافی ایک سائیکل کے حادثے اور تہذیب کے انہدام میں تمیز نہیں کر سکتا۔اگر ہم نے منٹو ٹھیک وقت پر اپنے بچوں کو پڑھنے کے لیے دیا ہوتا تو شاید ہم راولپنڈی کے انٹرنیٹ کیفے اور قصور جیسے سکینڈ لوں کا سامنا نہ کرتے اور خود سے منہ نہ چھپاتے پھرتے۔اور اگر کوئی کہتا ہے کہ منٹو کے افسانے پڑھ کے اس پر جنس سوار ہوجاتی ہے تو اس کے لیے مشورہ ہے کہ اشفاق احمد صاحب کے گرو اور قدرت اللہ شہاب کے پیر ممتاز مفتی کو نہ پڑھے کیونکہ ہو سکتا ہے کہ وہ اس کی تاب نہ لا سکے ۔