اپاہج خواب اور آنکھوں کی بیساکھیاں

تم ہمارے حصے کی اینٹیں
اپنی آنکھو ں میں ڈال کر
کوئی ایسا مکان بنا سکتے ہو؟
جس میں ہمارے خواب قیا مکر سکیں
اس رات تک
اپنی آنکھو ں میں ڈال کر
کوئی ایسا مکان بنا سکتے ہو؟
جس میں ہمارے خواب قیا مکر سکیں
اس رات تک
خدا ہم سے ملنا چاہتا تھا

جس دن خودکشی کرنے والوں کا دن منایا گیا
ہم نے دنیا بھر کی گھڑیوں سے
دو، دو منٹ نکال دیے
ہم نے دنیا بھر کی گھڑیوں سے
دو، دو منٹ نکال دیے
خدا یہاں تو نہیں ہے

جسم سجدے تان کر لیٹا ہے
مگر
خدا یہاں تو نہیں ہے
مگر
خدا یہاں تو نہیں ہے
خدا ان کے نقشے نہیں بناتا؟

سیڑھیاں ختم ہو نے سے پہلے پہلے
ضائع کی جا چکی ہوں گی
تمام کاربن کاپیاں
ضائع کی جا چکی ہوں گی
تمام کاربن کاپیاں
خُدا اپنا لباس نہیں بدلتا

کون پڑھتا ہے زندگی کو تمہاری مو جودگی میں
اور کسے لکھنا آ جا تا ہے لفظ “موت ”
تمہارے بغیر
اور کسے لکھنا آ جا تا ہے لفظ “موت ”
تمہارے بغیر
انصاف کی بات کرو بھائی

میں اپنی نظموں کی کلائیاں کاٹ کر
ان میں صمد بانڈ بھر دیتا ہوں
یہ ہواؤں میں سر مار کر لہولہان ہوجاتی ہیں
ان میں صمد بانڈ بھر دیتا ہوں
یہ ہواؤں میں سر مار کر لہولہان ہوجاتی ہیں
شہر اب ہم سے مخاطب نہیں ہوتا

ہم۔۔۔۔ اپنے آپ کو شہر میں چھپانے کی کوشش کرتے ہیں
تو۔۔۔ ہمیں تلاش لیتی ہے
کوئی نہ کوئی سڑک!!
تو۔۔۔ ہمیں تلاش لیتی ہے
کوئی نہ کوئی سڑک!!
