Laaltain

نولکھی کوٹھی — گیارہویں قسط

علی اکبر ناطق: ولیم کا حکم پا کر بیر داس نے ایک سکھ سنتری کو اشارہ کیا۔ سنتری اشارہ پاتے ہی آگے بڑھا اور پکار کر بولا،بھائیو، صاحب سے ڈرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ صاحب آپ کا کھیل دیکھنے کے لیے یہاں رُکے ہیں۔

نعمت خانہ — چوتھی قسط

خالد جاوید: میری یادداشت ایک معجزہ ہے۔ مجھے سب یاد ہے بس شرط یہ ہے کہ جو بھی میں نے دیکھا ہو، شاید بصری یادداشت اسی کو کہتے ہیں۔

نولکھی کوٹھی — دسویں قسط

علی اکبر ناطق: وہ اس سب کچھ سے بے نیاز نئی دنیا دیکھنے کے لیے بے تاب اور خوش خوش سفر کو آمادہ، جی ہی جی میں سوچ رہا تھا کہ وہ ایسی جگہ جا رہاہے جہاں دن کا رنگ ہرا ہرا ہوتا ہے اور راتوں کو جگمگ کرتے تارے کوٹھوں کی چھتوں پر آجاتے ہیں۔

نولکھی کوٹھی — نویں قسط

علی اکبر ناطق: غلام حیدر نے رفیق پاولی کی طرف دیکھ کر بلا کسی تمہید کے کہا،جو رات کی نسبت کافی ہشاش بشاش نظر آ رہا تھا، چاچا رفیق آپ ایسا کرو، بندوں کو لے کر آج واپس جلال آباد چلے جاؤ اور دونوں گاؤں کے معاملات پر پوری نظر رکھو۔ دشمن کسی بھی طرف سے دوبارہ شرارت کر سکتا ہے۔

نعمت خانہ — تیسری قسط

خالد جاوید: لوہے کے پرانے زنگ لگے نل کو بائیں ہاتھ سے پکڑے، وہ اِسی جگہ ساکت و جامد کھڑاتھا اور اُس کا بایاں پیر گیلی لیس دار مٹّی میں پنڈلی تک اس طرح دھنسا ہوا تھا، جیسے اُس پر پیلی مٹّی کا سخت اور مضبوط لیپ چڑھایا گیا ہو اور ٹوٹی ہوئی ہڈی ہِل جُل نہ سکتی ہو

نعمت خانہ — دوسری قسط

خالد جاوید: ہوا جانتی تھی کہ سارے گناہوں کو، سارے چٹورپن اور ساری بدنیتی کو اُدھر ہی جانا ہوتا ہے چاہے وہ سب بچپن کے کھیل ہی کیوں نہ ہوں۔

نولکھی کوٹھی — آٹھویں قسط

علی اکبر ناطق: مولوی کی جھجھک اب کچھ دور ہو چکی تھی اس لیے کھل کر تیزی سے بولا،سرکار فَرفَر پانی کی طرح لکھتا ہوں۔ آپ کا غلام مولوی کرامت یہ کام تو بڑے ڈھنگ سے کر سکتا ہے اور سرکار میری خوش خطی کی دھوم توقصور شہر تک ہے۔دو قُرآ ن میں نے اپنے ہاتھ سے لکھے ہیں۔ بہشتی والد نے نستعلیق، نسخ، خطِ کوفی، ہر طرح کی اِملا سکھا دی تھی۔

نعمت خانہ — پہلی قسط

خالد جاوید: ہوا ہی وہ چشم دید گواہ تھی جس نے دیکھا کہ وہ اپنے ہی گھر میں ایک اکیلے مگر اُداس کالے چور کی طرح داخل ہوا۔ گھر پتہ نہیں بن رہاتھا یا گر رہا تھا یا کہ کھنڈر بن رہاتھا۔ یہ بھی کوئی نہیں جانتا، صرف ہوا جانتی تھی۔

نولکھی کوٹھی — ساتویں قسط

علی اکبر ناطق: صاحب بہادر سکھوں پہ بہت غصے میں تھا، رحمت علی دوبارہ اپنی کہانی کی طرف لوٹا، کہہ رہا تھا، میں سودھا سنگھ کو چوراہے کے بیچ پھانسی نہ دوں تو ولیم نام نہیں۔ ہماری سرکار میں یہ ظلم نہیں ہو سکتا۔

سرخ شامیانہ۔ ساتویں قسط

حسین عابد: شرم نہیں آتی، شراب پیتے ہو؟ شکل سے تو مسلمان لگتے ہو”، پستول بردار نے بوتل پر قبضہ کرتے ہوئے شدید نفرت اور غصے سے راشد کے جبڑے پر پستول کا دستہ رسید کیا۔

نولکھی کوٹھی — چھٹی قسط

علی اکبر ناطق: سردارسودھا سنگھ گفتگو کے اس اُلٹ پھیر کے انداز سے بالکل واقف نہ تھا اور نہ ہی اسے یہ پتا چل رہا تھا کہ ولیم اِس طرح باتیں کیوں کر رہا ہے۔کس لیے سیدھی سیدھی واردات اس پر نہیں ڈال دیتا جبکہ ولیم سودھا سنگھ کو ذہنی طو رپر اذیت پہنچانا چاہتا تھا۔

سرخ شامیانہ — چھٹی قسط

حسین عابد: سنٹر پر نئے ڈاکٹر کی آمد کی خبر دور دراز تک پھیل چکی تھی، اپنے کوارٹر کے دروازے پر شب خوابی کے پاجامے میں ملبوس شاہد نے دیکھا، وہ مریض خواتین و حضرات شاید سورج کے ساتھ ہی گھروں سے نکل پڑے تھے اور جوق در جوق ڈسپنسری کے صحن میں جمع ہو رہے تھے۔

نولکھی کوٹھی-پانچویں قسط

علی اکبر ناطق: جودھا پور والوں کی نظر میں اب غلام حیدر کے ساتھ سودھا سنگھ کا نام لینا بھی غلام حیدر کی توہین تھی۔اُن کی نظر میں اب سودھا سنگھ محض ایک دیسی بدمعاش اور دو ٹکے کا غنڈہ تھا۔ جبکہ غلام حیدر کے تعلقات نئی دلی سے لے کر ملکہ تک پھیلے ہوئے تھے۔

نولکھی کوٹھی-چوتھی قسط

علی اکبر ناطق: گاؤں میں پردے کا کوئی رواج نہیں تھا اس لیے مولوی کا گھر بھی گاؤں والوں کی طرح ہر لحاظ سے کھلا تھا۔نہ کسی کو تانک جھانک کی عادت تھی اور نہ ہی اس طرح کا ابھی خیال پیدا ہوا تھا۔ جو جب چاہتا ہر گھر میں اپنے ہی گھر کی طرح داخل ہو سکتا تھا۔

سرخ شامیانہ — پانچویں قسط

حسین عابد: ڈسپنسری تین کمروں پر مشتمل تھی، ایک گرد آلود میز، کرسی، معائینے کا سٹول، چند زنگ خوردہ اوزار، ایک بستر جس کے سپرنگ پینڈولم کی طرح لٹک رہے تھے اور دوائیوں کی ایک الماری اس کا کل اثاثہ تھے۔