تم جانتے ہو

عارفہ شہزاد:
میں اس خوبصورت عورت کی طرح کیوں بننا چاہتی ہوں؟
تم جانتے ہو
میں اس خوبصورت عورت کی طرح کیوں بننا چاہتی ہوں؟
تم جانتے ہو
لمس جھوٹا نہیں

عارفہ شہزاد: وہ تھل کی ریت اڑاتا ہے
تو ذرے ہونٹوں پر چپک جاتے ہیں
تو ذرے ہونٹوں پر چپک جاتے ہیں
ایک دلاسہ جو ہم پر تهوکا گیا

سلمان حیدر: لیکن تکلیف تسلی کے ان لفظوں سے ہوتی ہے
جو بارود تھوک دینے والی گولی کے خول کی طرح
ہر قتل کے بعد زمین پر لڑھکتے ہیں
جو بارود تھوک دینے والی گولی کے خول کی طرح
ہر قتل کے بعد زمین پر لڑھکتے ہیں
ٹیک

سوئپنل تیواری: تیری روح پہ اک دن جاناں
میرا روغن لگا ملے گا
میرا روغن لگا ملے گا
میں کسی جزیرے پر نہیں جانا چاہتا

حسین عابد: میں کسی جزیرے پر نہیں جانا چاہتا
میں کہیں نپہیں جانا چاہتا
تمہاری طلب کی انگیٹھی پر
ہاتھ تاپتے
میں کہاں جا سکتا ہوں
میں کہیں نپہیں جانا چاہتا
تمہاری طلب کی انگیٹھی پر
ہاتھ تاپتے
میں کہاں جا سکتا ہوں
عصا بیچنے والو

علی اکبر ناطق: عصا بیچنے والو آؤ میرے شہر آؤ
کہ لگتی ہے یہاں پر عصاؤں کی منڈی
ہرے اور لچکیلے بانسوں کے، شیشم کی مضبوط لکڑی کے عمدہ
عصا بک رہے ہیں
کہ لگتی ہے یہاں پر عصاؤں کی منڈی
ہرے اور لچکیلے بانسوں کے، شیشم کی مضبوط لکڑی کے عمدہ
عصا بک رہے ہیں
قبروں پر بارش

افتخار بخاری: بارش گرتی ہے
مٹیالی قبروں پر بارش گرتی ہے
حد نظر تک جل تھل
سیلا سیلا خواب مسلسل
مٹیالی قبروں پر بارش گرتی ہے
حد نظر تک جل تھل
سیلا سیلا خواب مسلسل
ہوا موت سے ماورا ہے

نصیر احمد ناصر: اگر میرے سینے میں خنجر اتارو
تو یہ سوچ لینا
ہوا کا کوئی جسم ہوتا نہیں
تو یہ سوچ لینا
ہوا کا کوئی جسم ہوتا نہیں
لعوقِ عشق و عرقِ آگہی

حسین عابد: تجسس کی ہوا لگتے ہی ایسا عارضہ لاحق ہوا
کوچہ بہ کوچہ مانگتا ہوں وہم کی خیرات
رہ چلتوں کی جیبوں سے ڑا لیتا ہوں سکے بے یقینی کے
جھپٹ کر چیل کی منقار سے شک کا نوالہ چھین لیتا ہوں
کوچہ بہ کوچہ مانگتا ہوں وہم کی خیرات
رہ چلتوں کی جیبوں سے ڑا لیتا ہوں سکے بے یقینی کے
جھپٹ کر چیل کی منقار سے شک کا نوالہ چھین لیتا ہوں
زوالِ عمر

تبسم کاشمیری:نیند اب ایک ایسی چیز ہے
جو صرف بچے کی آنکھ میں ہے
طالب علم کی جیب میں ہے
یا پرندے کے گھونسلے میں
جو صرف بچے کی آنکھ میں ہے
طالب علم کی جیب میں ہے
یا پرندے کے گھونسلے میں
گیلیلو کو سمجھوتہ نہیں کرنا چاہیے

ثروت زہرا: پھر سے سچ کو
منصور کی سولی کی رسیوں میں پڑی گرہیں
کھولنے کی ضرورت پڑ گئی ہے
منصور کی سولی کی رسیوں میں پڑی گرہیں
کھولنے کی ضرورت پڑ گئی ہے
Mercy Killing

نسرین انجم بھٹی: ماں گنگا نے بتایا!
شیردل بڑابیٹا تھا۔۔۔مست سندھو
جو صدیوں کو خاطر میں نہیں لاتا تھا پر اب
ریت اُس پر چل دوڑی ہے
شیردل بڑابیٹا تھا۔۔۔مست سندھو
جو صدیوں کو خاطر میں نہیں لاتا تھا پر اب
ریت اُس پر چل دوڑی ہے
ممتاز حسین کی ایک نظم

ممتاز حسین: دریائے سندھ کی تہذیب
ٰعجاہب گھر میں رکھے ہوئے
نفاق کے پیالے میں
بخارات میں تحلیل ہو جاتی ہے
ٰعجاہب گھر میں رکھے ہوئے
نفاق کے پیالے میں
بخارات میں تحلیل ہو جاتی ہے
مرتد جولاہے کی سزا

حاشر ارشاد: پھر اک دن وہ تاگہ ٹوٹا
پنا پھسلا، ہاتھ سے لڑھکا
میں نے پہلا گنجل دیکھا
پنا پھسلا، ہاتھ سے لڑھکا
میں نے پہلا گنجل دیکھا
کھڑکیاں

نصیر احمد ناصر: کھڑکیاں صدیوں کے خوابوں کی کہانی ہیں
فصیلوں، آنگنوں، اجڑے مکانوں کی گواہی ہیں
فصیلوں، آنگنوں، اجڑے مکانوں کی گواہی ہیں