غلامانِ غلاماں ہیں

ثروت زہرا: ہمیں کوئی بھی ڈھانچہ دو گے
پل لیں گے
ہمیں کوئی بھی کھانچہ دو گے
ڈھل لیں گے
پل لیں گے
ہمیں کوئی بھی کھانچہ دو گے
ڈھل لیں گے
اٹلس گلوب رکھ دو

نوازش ملک: ٹنل سے باہر جہاں زندگی ہے اسے جیو
گہرا سانس لو
ہوا چلتی دیکھو
اٹلس گلوب رکھ دو
گہرا سانس لو
ہوا چلتی دیکھو
اٹلس گلوب رکھ دو
بھکارن

نور الہدیٰ شاہ: بس نقلی نوٹ کی سی اک نگاہِ محبت عطا ہو جائے
جو کسی سستے سے ڈھابے پر ہی چل جائے
مرتے عشق کو گدلے پانی کا اک قطرہ مل جائے
مرتے عشق کا حلق بس ذرا سا تَر ہو جائے
جو کسی سستے سے ڈھابے پر ہی چل جائے
مرتے عشق کو گدلے پانی کا اک قطرہ مل جائے
مرتے عشق کا حلق بس ذرا سا تَر ہو جائے
بیرنگ نیتیں

رضی حیدر: کہاں کی نیت کی بات کرتے ہو؟ پاکبازوں کی نیَتوں کی ؟
مرے سرہانے تو اس طرح کی کسی بھی نیت کے بت نہیں ہیں!
مرے سرہانے تو اس طرح کی کسی بھی نیت کے بت نہیں ہیں!
سمندر ہی زمانے خلق کرتا ہے

عمران ازفر: سمندر کوکھ سے اپنی زمانے خلق کرتا ہے
جہاں نظمیں، مری نظمیں
فضا میں رقص کرتی ہیں
جہاں نظمیں، مری نظمیں
فضا میں رقص کرتی ہیں
تماشا

علی زیرک: ہمیں لجلجاتے چناروں سے آگے تساہل بھری کھیتیوں سے گزر کر
فصیلوں کی فصلوں میں چھپنے سے پہلے
دھوئیں کی لچکدار دیوار کو چاٹنا ہے
فصیلوں کی فصلوں میں چھپنے سے پہلے
دھوئیں کی لچکدار دیوار کو چاٹنا ہے
محبت کے بغیر ایک نظم

نصیر احمد ناصر: سچ ہے
آسمان سے سفارتی تعلقات استوار کیے بِن
شاعری ہو سکتی ہے
نہ زمین پر رینگنے کے حقوق مِلتے ہیں!
آسمان سے سفارتی تعلقات استوار کیے بِن
شاعری ہو سکتی ہے
نہ زمین پر رینگنے کے حقوق مِلتے ہیں!
اب کوئی آواز آتی نہیں

وجاہت مسعود: جوانی کے کچھ بعد
کان بہت تیز ہو جاتے ہیں
بس ناک اور کان کے بیچ
جھولتا ہوا پل
منہدم ہو جاتا ہے
اور کوئی آواز نہیں آتی
کان بہت تیز ہو جاتے ہیں
بس ناک اور کان کے بیچ
جھولتا ہوا پل
منہدم ہو جاتا ہے
اور کوئی آواز نہیں آتی
میں کیا اوڑھوں؟

عارفہ شہزاد: اردگرد کی دیواروں کا
اندازہ نہیں کیا جا سکتا
جب تک ان کے درمیان کے راستے پر
بار بار پاوں نہ دھرے جائیں
اندازہ نہیں کیا جا سکتا
جب تک ان کے درمیان کے راستے پر
بار بار پاوں نہ دھرے جائیں
وہ بھی تم ہو گے

ابرار احمد: اور وہ بھی تم ہو گے
جو کبھی ۔۔۔ بارشوں سے دھڑکتی کھڑکی کے شیشے سے
اپنی نمناک آنکھوں سے
میری جانب دیکھو گے
جب میں
دنیا کی خوبصورتی برداشت کرنے سے
انکار کرنے والا ہوں گا
جو کبھی ۔۔۔ بارشوں سے دھڑکتی کھڑکی کے شیشے سے
اپنی نمناک آنکھوں سے
میری جانب دیکھو گے
جب میں
دنیا کی خوبصورتی برداشت کرنے سے
انکار کرنے والا ہوں گا
رستے میں کھو جانے والا اعتبار

ثاقب ندیم: چشمِ دشت میں وحشت دیکھ کر بھی
وہ ڈرتا نہیں
کہ دشت اور شہر ترازو میں
ہم وزن ہو چکے ہیں
وہ ڈرتا نہیں
کہ دشت اور شہر ترازو میں
ہم وزن ہو چکے ہیں
ہمارے لیے صبح کے ہونٹ پر بددعا ہے

سرمد صہبائی: سنو شہر والو
کہاں ہے ہمارے لہو کی بشارت
ہمارے پراسرار خوابوں کا موسم
کہاں ہے ہمارے لہو کی بشارت
ہمارے پراسرار خوابوں کا موسم
اچانک مر جانے والے لوگ

سید کاشف رضا: موت ایک اہم کام ہے
اسے یکسو ہو کر کرنا چاہیئے
یا سارے کام نمٹا کر
اسے یکسو ہو کر کرنا چاہیئے
یا سارے کام نمٹا کر
روٹی کے ٹکڑے کے لئے ایک جنگ

سدرہ سحر عمران: جب بارود کا دن آتا ہے
لاشیں گنتی میں بدل جاتی ہیں
لاشیں گنتی میں بدل جاتی ہیں
عریاں بدن کا مستور چہرہ

حسین عابد: وہ عورت
جو سڑک پر اپنا بدن بیچتی ہے
اس کے کئی چہرے ہیں
جو سڑک پر اپنا بدن بیچتی ہے
اس کے کئی چہرے ہیں