غالب اور موجودہ عہد

موجودہ عہد کیا ہے؟ اور غالب کون ہے؟ یہ دو بنیادی سوال ہیں جن کا جواب آسان بھی ہے اور مشکل بھی۔ غالب ایک اردو کا شاعر ہے جو اس عہد سے دو صدی قبل پیدا ہوا اور دیڑھ صدی قبل گزر گیا۔ اس نے اردو ،فارسی میں شاعری بھی کی اور خطوط بھی لکھے۔ […]
متاعِ خانۂ زنجیر جز صدا، معلوم

ستیہ پال آنند: میں سوچتا ہوں کہ اس میں نہیں کوئی مہلت
رہائی اس سے فقط مرگِ مفاجات میں ہے!
رہائی اس سے فقط مرگِ مفاجات میں ہے!
سب کو مقبول ہے دعویٰ تری یکتائی کا

ستیہ پال آنند: ہاں، یہی آئینہ ہے دیکھنے والے کے لیے
اس کی خود اپنی ہی تخلیق ہے، جس میں ہر جا
وہی یکتا ہے کہ جو آئینہ سیما بھی ہے
اور خود اپنا نظارہ بھی وہی کرتا ہے
اس کی خود اپنی ہی تخلیق ہے، جس میں ہر جا
وہی یکتا ہے کہ جو آئینہ سیما بھی ہے
اور خود اپنا نظارہ بھی وہی کرتا ہے
بے سبب ہوا غالب دشمن آسماں اپنا

ستیہ پال آنند: بے تصنع، سادہ دل، وہ اگر سمجھتا ہے
آسمان دشمن تھا، تو اسے سمجھنے دو
آسمان دشمن تھا، تو اسے سمجھنے دو
پکڑے جاتے ہیں فرشتوں کے لکھے پر ناحق

ستیہ پال آنند: میں ایک نا خواندہ شخص
تقدیر کے محرر سے پوچھتا ہوں
مرے گناہوں کی لمبی فہرست آپ کے سامنے رکھی ہے
تقدیر کے محرر سے پوچھتا ہوں
مرے گناہوں کی لمبی فہرست آپ کے سامنے رکھی ہے
کہتے ہو “کیا لکھا ہے تری سرنوشت میں”

ستیہ پال آنند:یہ یادگار میرے ہی سجدوں کی ہے، حضور
سجدے صنم پرستی کی جو باقیات ہیں
سجدے صنم پرستی کی جو باقیات ہیں
کس پردے میں ہے آئنہ پرواز اے خدا!

ستیہ پال آنند: ہے یہ کمالِ فن کہ تجسس بھی ہے بہت
لیکن یہ عذرِ لنگ بھی حاضر ہے اے خدا
رحمت ہو مجھ پہ میرا لب ِ بے سوال ہے
غالب، کمال ہے!!
لیکن یہ عذرِ لنگ بھی حاضر ہے اے خدا
رحمت ہو مجھ پہ میرا لب ِ بے سوال ہے
غالب، کمال ہے!!
محفلیں برہم کرے ہے گنجفہ بازِ خیال

ستیہ پال آنند: محفلیں برہم کرے ہے گنجفہ بازِ “خیال”
طے ہوا ۔۔۔۔ ‘برہم کنندہ’ ذہن میں بیٹھا ہوا ہے
ایک ایسا فکرِِفی نفسہ ہے جو آفت کا پرکالہ ہے۔۔۔
نا فرمان ہے، زندیق، کافر !
طے ہوا ۔۔۔۔ ‘برہم کنندہ’ ذہن میں بیٹھا ہوا ہے
ایک ایسا فکرِِفی نفسہ ہے جو آفت کا پرکالہ ہے۔۔۔
نا فرمان ہے، زندیق، کافر !
کر گئی وابستہ ءِ تن میری عریانی مجھے

ستیہ پال آنند: جسم تو آراستہ تھا آپ کا۔۔۔۔ پر
خوش لباسی سے مبّرا
جسم، کے اندر کہیں تھی
ایک انترآتما؟ سہمی ہوئی، ننگی بُچی سی؟
خوش لباسی سے مبّرا
جسم، کے اندر کہیں تھی
ایک انترآتما؟ سہمی ہوئی، ننگی بُچی سی؟
جاں کیوں نکلنے لگتی ہے تن سے دمِ سماع

ستیہ پال آنند: موسیقیت ‘صدا’ بھی ہے اور راگ رنگ بھی
یہ ‘کُن’ کی صوت بھی ہے اور سکراتِ مرگ بھی
یہ ‘کُن’ کی صوت بھی ہے اور سکراتِ مرگ بھی
اسد کو بت پرستی سے غرض درد آشنائی ہے

ستیہ پال آنند: نہاں ہیں نالہِ ناقوس میں در پردہ۔۔۔۔۔۔” کیا؟ دیکھیں، ذرا سمجھیں
وہی آواز، لا اللہ ال اللہ۔۔۔ یقیناً جو اذانوں کی صدا بھی ہے
وہی آواز، لا اللہ ال اللہ۔۔۔ یقیناً جو اذانوں کی صدا بھی ہے
جس کے جلوے سے زمیں تا آسماں سرشار ہے
ہیں زوال آمادہ اجزا آفرینش کے تمام

آفرینش کب تھی غالب؟ عالمِ علوی میں کیا؟
یا کہیں باغِ جناں میں، آدم و حوّا کے بیچ؟
یا کہیں باغِ جناں میں، آدم و حوّا کے بیچ؟
بدن اور ملبوس ۔ بہم دگر متصادم (فارسی عروض اور اردو شاعری)

کئی بار خود سے یہ سوال پوچھنے کی جرات کرتا رہا ہوں کہ آج تک، یعنی اکیسویں صدی کی ایک دہائی گزرنے کے بعد بھی، اردو کا نظم گو شاعر غزل کی روایت کے اس مکروہ اثر سے کیوں آزاد نہیں ہو سکتا کہ وہ اپنی سطروں کی تراش خراش میں رن آن لاینز کے چلن کو روا رکھ سکے۔
دونوں جہان دے کے وہ سمجھے یہ خوش رہا

لیکن ادائے خاص ہے اک دیکھنے کی چیز
کہتا ہے ذرا جھینپ کر اک صوفیانہ بات
“یاں آ پڑی یہ شرم کہ تکرار کیا کریں!
کہتا ہے ذرا جھینپ کر اک صوفیانہ بات
“یاں آ پڑی یہ شرم کہ تکرار کیا کریں!