میکنائزیشن
یوں تو سنا کرتے ہیں کہ “حق سچ” کے زمانوں میں جانور بھی انسانوں کی طرح بات کر سکتے تھے، لیکن ہر جگہ پر حق سچ کے زمانے کی طوالت ایک جیسی نہ تھی۔
سپاہی تنویر حُسین کی ڈائری — 9 دسمبر 1971- بُری خبریں

آج کپتان صاحب اپنے دفتر میں ہی رہے۔اُنہوں نے کوت والے کو باہر بھیج دیا۔میں بھی شام تک اُن کے ساتھ رہا۔لکھنے کاکافی سارا کام اُنہوں نے مُجھ سے کروایا۔
سپاہی تنویر حُسین کی ڈائری — 8 دسمبر 1971- پُنّوں کی سُپاری
فجر کی نماز کے بعد لنگر کمانڈر سے ملا۔اُس نے بتایا کہ ابھی جے کیوُ صاحب اور کیپٹن صاحب کی بات ہوئی ہے، آج تمام نفری کو ناشتہ ملے گا لیکن دوپہر کے کھانے کا مسئلہ درپیش ہے۔
سپاہی تنویر حُسین کی ڈائری — 7 دسمبر 1971- سچ یا جھوٹ
آج سارا دن ہم لوگ سٹینڈ ٹُو رہے لیکن کسی موو کا حکم ملا نہ کوئی ناگوار واقعہ ہوا۔ پُنّوں میرے پاس رہا۔بے چارہ گزشتہ چند روز کے واقعات سے بہت گھبرایا ہوا تھا، مُجھ سے اپنے خوف کا اظہار کرکے رونے لگا۔