Laaltain

دیار و دشت کے پسِ پردہ سے ایک پرچھائی

شہرِ مدفون، ہمراہی اور چاچا ایلس کدوری جیسی کہانیوں میں آپ کو جس دنیا کی جھلک ملتی ہے، اسی نے مجھے اور ذکی صاحب دونوں کو بنایا بھی ہے اور بگاڑا بھی۔

دو جرنیل اور ایک دیہاتی

دیہاتی نے کشتی کے پیندے میں ہنس راج کے پر بچھائے اور ان پر جرنیلوں کو بٹھا دیا، ان پہ مقدس صلیب کا نشان بنایا اور سفر کا آغاز کر دیا۔

منگول — ذکی نقوی

وہ منگول تھا تو ہرگز نہیں مگر یہ دونوں لڑکے اسے منگول ہی کہتے تھے جس کی وجہ اُس کی شکل و صورت، قد قامت، ایک پر اسرار سی اجنبیت جو وہ بظاہر ہر کسی سے روا رکھتا تھا اور اس پہ طُرہ اس کی کھردری شخصیت تھی جس سے بہادری اور بے باکی ٹپکتی تھی۔

سلیم خوش تھا! (منظوم افسانہ) — ذکی نقوی

سلیم خوش تھا! سلیم نے مصطفیٰ کے چہرے پہ ایک سگریٹ کا پف بکھیرا، وہ کہہ رہا تھا “کہ زوبیہ مجھکو چھوڑ کر جا چکی ہے لیکن…” تو مصطفیٰ نے یہ دل میں ہی مسکرا کے سوچا، “خبیث وہ تیرے پاس کب تھی کہ چھوڑ جاتی..” سلیم بولا ‘میں مانتا ہوں کہ میری پونجی سوائے […]

ریگِ دیروز (ذکی نقوی)

چچا کبیر علی خان سیال کچہری میں ماخوذ ہوئے تو اُنہوں نے دو چار دفعہ مجھ سے رابطہ کیا کہ شاید میرا رُسوخ اور عہدہ اُن کے کام آ سکے

زنجیر ( ایک کہانی ڈائجسٹ کے رنگ میں) — ذکی نقوی

ذکی نقوی:
تصور نے گود میں سوئی کم سن بیٹی کو سہلاتے ہوئے آہستہ سے سونیا کی طرف دیکھ کر کہا۔ سونیا نے کچھ جواب نہ دیا، بس ہاتھ کا اشارہ کیا جس کا مطلب تھا کہ سارہ کو اس کے برابر لٹادیا جائے۔ تصور نے ننھی سارہ کو اس کی ماں کے پہلو میں لٹا دیا۔ سونیا نے چہرہ گھما کر سوئی ہوئی بیٹی کی طرف دیکھنا شروع کر دیا اور مسکرانے لگی۔

امام باڑے والے زیدی صاحب (زکی نقوی)

یہ خاکہ ایک شیعہ سید زادے کی یاد میں لکھا گیا ہے جنہیں میں کبھی نہ سمجھ سکوں گا کہ آپ کی دیوانگی کی فرزانگی کے مقابلے میں کیا قدروقیمت تھی۔ سید پناہ حسین زیدی کا وطن مالوف اُتر پردیش تھا۔ میر اخیال ہے یُو پی میں آگے فیض آباد (لکھنئو) کے تھے۔ تقسیم سے […]

کُکریؔ کی رات۔۔۔ (ذکی نقوی)

(۹ دسمبر ۱۹۷۱ کا ایک شاندار ایکشن) حرفِ آغاز: تاریخِ عالم کی جنگوں میں ہونے والی ہر بحری لڑائی کسی نہ کسی طور سے تاریخ ساز ثابت ہوئی ہے۔ اگرچہ تمام جنگو ںکی فیصلہ کن لڑائیاں زمین پر لڑی گئیں لیکن بحری مبارزہ اکثر عامہۃ الناس کی نظروں سے اور، بوجوہ ،تصور سے بھی اوجھل […]

جیفری ڈگلس لینگلینڈز۔۔۔پاکستان کا مسٹر چپس (ذکی نقوی)

تحریر: ذکی نقوی چترال کے دور دراز علاقے میں پبلک اسکولنگ کی بنا ڈالنے والے بزرگ استاد اور چترال کے پہلے انٹرمیڈئیٹ کالج کے بانی پرنسپل میجر جیفری ڈگلس لینگلینڈز حال ہی میں اپنے عہدے سے ریٹائرڈ ہو گئے ہیں۔اور پاکستان کے قیام سے کہیں پہلے کے وقت سے جاری اپنی خدمات سے سبکدوشی کے […]

قومی شناختی کارڈ

ذکی نقوی: گونگا مصلّی اب تو کچھ نیم پاگل سا بھی لگنے لگا ہے۔ کسی نے بتایا ہے کہ لفظ ‘شناختی کارڈ’ سن کر وہ آپے سے باہر ہو جاتا ہے اور اپنی گونگوں کی بولی میں بہت گالیاں بکتا ہے۔

لیزلی حیات خان (اپنے فرضی ہم شکل کا حقیقی خاکہ)

ذکی نقوی:لونڈو!! اگر قابل اور لائق لوگ ہو اور دماغ کی بتی روشن ہے اور طبیعت میں تلون، تو اپنی جوانی فوج کو نہ دینا! لڑنے والے لوگ مستقل مزاج لیکن نیم خواندہ ہوتے ہیں۔ تُم کام کے لوگ بنو! اِس قوم کو قابل اُستادوں، شریف ڈاکٹروں، سچے صحافیوں اور دردِ دل رکھنے والے سماجی کارکنوں کی ضرورت سپاہیوں کی نسبت کہیں ذیادہ ہے۔

بھولا گُجر شہید

ذکی نقوی: شام کے وقت علاقے میں کرفیو کا سماں رہنے لگا۔ ہمارے محلے کے دوچوراہوں کے تھڑوں پر سرِ شام جمنے والی نوعمر طلباء کی بیٹھک بھی سیکیورٹی کے نام پر حکماً برخاست کردی گئی اور رات گئے تک چہل قدمی کے سارے شوقین ‘آوارہ گردی’ کی دفعہ میں ایک ایک بار حوالات میں رات گزارنے کے بعد خانہ نشیں ہوگئے۔

شکست

ہم فوجیوں نے، دونوں طرف کے فوجیوں نے جو پاگل پن، توہین، بدبودار یادیں، زخم، شرمندگی، بے عزتی، ضمیر کی خلش اور سب کچھ پایا۔۔۔ اس کا میزان ایک لفظ ‘شکست’ میں سما سکتا ہے.