Laaltain

بچہ اور بالغ

حسین عابد: ممکن ہے
وہ
تمہارے موٹے بوٹ پہن کر
تمہاری کدال اٹھائے جا چکا ہو

سرخ شہر اور دوسری کہانیاں

شین زاد: اس نے محسوس کیا اس کا قد مسلسل بڑھ رہا ہے اور پھر چند ہی دہائیوں میں دیکھتے دیکھتے اس کا سر آسمان سے جا لگا وہ جب چاہتا آسمان کی دوسری طرف جھانک سکتا تھا

میر واہ کی راتیں- چوتھی قسط

رفاقت حیات: نورل نے اپنی باتوں سے اپنے دوست کے دل میں مایوسی کو گھر بنانے نہیں دیا۔ وہ اچھی طرح جانتا تھا کہ ہر نوجوان عاشق کا دل قنوطی ہونے کے باوجود کبھی بھی بے آس نہیں ہوتا وہ ہمیشہ کسی نہ کسی معجزے کی رونمائی کا منتظر رہتا ہے۔

میرواہ کی راتیں- تیسری قسط

رفاقت حیات: نذیر کے بھائی اور والد اسے کبھی شہربدر نہ کرتے اگر وہ میرپور ماتھیلو کے چکلے کی بدنامِ زمانہ رنڈی زوری کی زلفوں کا اسیر نہ ہو جاتا۔

پھیری والا چڑیا گھر

ڈاکٹر احمد حسن رانجھا: گلے میں چھتروں کا ہار اور منہ پر کالک مل کر پورے میلے میں پھیرایا گیا۔ لوگ انہیں مڑ مڑ کر ایسے دیکھ رہے تھے جیسے وہ پھیری والے چڑیا گھر کے بندر ہوں۔ یہ تماشہ تو انہیں دس روپے کے ٹکٹ کے بغیر ہی میسر آگیا تھا۔

آنکھ بھر اندھیرا

ابرار احمد: ادھر کوئی دیوار گرتی ہے
شاعر کے دل میں
وہیں بیٹھ جاتا ہے
اور جوڑتا ہے یہ منظر
اندھیرے سے بھرتی ہوئی آنکھ میں

عبادت کا سچ

شارق کیفی: تھکن اب اِس قدر حاوی ہے مجھ پر
کہ وہ اسٹول میرے خواب میں آنے لگا ہے
سہارا دے كے بٹھاتا ہوں میں جس پر
مریضوں کو برابر ڈاکٹر كے

میرواہ کی راتیں- دوسری قسط

رفاقت حیات: پلیٹ فارم پر ٹرین کے رکتے ہی لوگوں نے اس پر سوار ہونے کے لیے کوششیں شروع کر دیں کیونکہ ٹرین مسافروں سے کھچاکھچ بھری ہوئی تھی۔ ہر بوگی کے دروازے پر لوگ آلتی پالتی مارے ہوئے بیٹھے تھے۔

دو کیشیئرز

جمیل الرحمان: جسم کے الاؤ میں
خواب کے بہاؤ میں
اک پرانی حسرت کے
گھاٹ پر اُترنے تک
نظم اُس نے کہنی تھی

دکانداری اور دوسری کہانیاں

آلوک کمار ساتپوتے: ہڑتال کے دوران دکانیں جبراً بندکرائی جاتی تھیں اور اخباروں میں شائع کرایاجاتاتھاکہ ہڑتال دکانداروں کی رضامندی سے ہوئی۔

جہنم

اسد رضا: ذرا سوچو وہ کیا شے تھی جو تمہیں یہاں لے کر آئی ورنہ تم یہاں تک پہنچنے کی اہلیت ہرگز نہ رکھتے تھے۔ یہ وہ راز ہے جو تم نے اپنے جسموں سے پرے بویا تھا۔

پستان-پانچویں قسط

تصنیف حیدر: مجھ میں اور تم میں ایک عجیب و غریب فرق شاید یہی پایا جاتا ہو، کہ تمہیں کسی نے زبردستی چھوا، نوچا کھروچا تب بھی تمہیں خوشی حاصل ہوئی۔لیکن میں ایسا محسوس نہیں کرپاتی۔مجھے صرف اور صرف ایک تمہارے جسم کی دستک پر اپنے بدن کے دروازے کھولنے کی خواہش ہوئی ہے ۔

پستان-چوتھی قسط

مجھے اپنے بندھے ہوئے ہاتھ پاوں سے سن ہوتے ہوئے بدن اور کانٹے چبھوتی ہوئی شریانوں کے باوجود ایسا محسوس ہوا جیسے میرا پورا بدن گوشت کی دلدل میں دھنسا ہواہو، ایک نرم ، ہوا ابلتے ہوئے، گرم گوشت کی دلدل میں۔

کتھا کالے رنگ کی

ایک دوسرا انکشاف جو اُس پر ہوا ہو یہ تھا کہ لڑائی کے دوران ہی مخلف گروپوں کے تما شائیوں کے ایک گروہ سے ایک لڑکا اور دوسرے گروہ سے ایک لڑکی اس جنگلے سے اوپر اُٹھ کر ایک دوسرے کا بوسہ لیتے اور پھر واپس نیچے جُھک کر نعرے لگانے لگتے