دکانداری اور دوسری کہانیاں

آلوک کمار ساتپوتے: ہڑتال کے دوران دکانیں جبراً بندکرائی جاتی تھیں اور اخباروں میں شائع کرایاجاتاتھاکہ ہڑتال دکانداروں کی رضامندی سے ہوئی۔
میرواہ کی راتیں- قسط نمبر 1

رفاقت حیات: وہ واقعہ جو پینتالیس روز قبل پیش آیا تھا، آج اسے اس کا پھل ملنے والا تھا۔ وہ بالکل نہیں جانتا تھا کہ آج کی شب اس کی امیدوں کو بر آنا تھا یا انھیں ہمیشہ کے لیے نیست و نابود ہونا تھا۔
جہنم

اسد رضا: ذرا سوچو وہ کیا شے تھی جو تمہیں یہاں لے کر آئی ورنہ تم یہاں تک پہنچنے کی اہلیت ہرگز نہ رکھتے تھے۔ یہ وہ راز ہے جو تم نے اپنے جسموں سے پرے بویا تھا۔
جبلت

ثاقب ملک: دفعتاً چادر والے شخص کے جسم کے روئیں روئیں سے اس عورت پر قابو پانے کی خواہش ابھرنے لگی۔ اس کی آنکھوں کے سامنے جھکڑ چل رہے تھے، اسے وہ عورت اپنے پاس آتی نظر آ رہی تھی۔
لکھاری اور رہگیر

جنیدالدین: تم لوگ کہاں سے ایسی باتیں نکال لیتے ہو؟ اور یہ سگریٹ تم ادیبوں کی سلاجیت ہوتی ہے کہ سلگائی اور باتیں پیدا کرنا شروع ہو گئے
تجربہ

سنہری دھوپ پرندے کے سفید پروں پر پڑتی اور وہ روپہلے ہو جاتے۔ پرندہ آج بہت خوش تھا۔
