یورینیم کے خواب

رضی حیدر: بدھا کے لاشے پے بین کرتا، درخت پیپل کا سڑ گیا تھا
وہیں پہ اندو ندی کا اژدر زمیں کی گردن پہ چڑھ گیا تھا
وہیں پہ اندو ندی کا اژدر زمیں کی گردن پہ چڑھ گیا تھا
کب تک۔۔۔۔۔ آ خر کب تک

ثروت زہرا: تمہیں معلوم ہے؟
ہمارے بندھے ہوئے پروں کی پھڑپھڑاھٹ
وقت کی سانسوں کو پھکنیوں کی طرح پھونک پھونک کر
شعلوں میں تبدیل کرتی جا رہی ہے
ہمارے بندھے ہوئے پروں کی پھڑپھڑاھٹ
وقت کی سانسوں کو پھکنیوں کی طرح پھونک پھونک کر
شعلوں میں تبدیل کرتی جا رہی ہے
ایک نظم اپنے اداس شہر پر

تنویر انجم: ٹیڑھی کمزور دیواروں سے دور بیٹھوں
اونچی نیچی سڑکوں پر قدم نہ رکھوں
کھڑکیاں بند کر لوں
تو لکھ سکوں ایک نظم
اپنے اداس شہر پر
اونچی نیچی سڑکوں پر قدم نہ رکھوں
کھڑکیاں بند کر لوں
تو لکھ سکوں ایک نظم
اپنے اداس شہر پر
پُرسہ

علی زیرک: خبروں میں ان تابوتوں کی گنتی کرنا
جن میں ٹھونکی جانے والی میخیں
مریم کے بیٹے کے خون پہ اتراتی ہیں
جن میں ٹھونکی جانے والی میخیں
مریم کے بیٹے کے خون پہ اتراتی ہیں
تیری بیلیں تیرے پھول

علی اکبر ناطق: دُھول گگن کا رہنے والا، گلے میں غم کا ہار
دھوپ کے سائے میں بُنتا ہے دن کے روشن تار
شام تھکے تو آ جاتا ہے پورب دیس کے پار
دھوپ کے سائے میں بُنتا ہے دن کے روشن تار
شام تھکے تو آ جاتا ہے پورب دیس کے پار
وقت

علی محمد فرشی: تین چڑیلیں
ککلی کھیلیں
گھوم گھوم کے
جھوم جھوم کے آئیں
آدم زادوں کو بہکائیں
ککلی کھیلیں
گھوم گھوم کے
جھوم جھوم کے آئیں
آدم زادوں کو بہکائیں
میرا نازک موتی

تنویر انجم: ایک ہی موتی ملا ہے مجھے
مسلسل چمکانے کے لیے
میرا اپنا نازک سا موتی
مسلسل چمکانے کے لیے
میرا اپنا نازک سا موتی
تقریرکرنے والوں کے ہونٹوں پر

ممتاز حسین: تقریر کرنے والوں کے ہونٹوں پر
ہم اپنی ضرورتوں کی جمع بندی
رکھ دیتے ہیں
ہم اپنی ضرورتوں کی جمع بندی
رکھ دیتے ہیں
راندۂ درگاہ

کے بی فراق: چنالی : گوادر کے جنوب میں پہاڑی کے بالکل ساتھ ہی واقع ایک تاریخی جگہ کا نام جہاں چیچک زدہ لوگوں کو رکھا جاتاتھا۔
پتھر کی زنجیر

ناصرہ زبیری: کیسے چھیڑوں ہاتھوں سے میں
چیخوں کا یہ ساز
شاہی در پر کیا اپناؤں
فریادی انداز
چیخوں کا یہ ساز
شاہی در پر کیا اپناؤں
فریادی انداز
وقت کے کینوس پر ہماری تصویریں

عذرا عباس: وقت کا کیا ہے
وہ تو چلتا بنے گا
لیکن ہم اپنے چہرے کی تلاش میں مارے مارے پھریں گے
وہ تو چلتا بنے گا
لیکن ہم اپنے چہرے کی تلاش میں مارے مارے پھریں گے
ڈر

نسرین انجم بھٹی: اس سے پہلے کہ بسنتی بوچھاڑیں آئیں اور گزرجائیں
بادل سے کوئی قسم لے لو
تاروں کوکوئی جنم دے دو
بادل سے کوئی قسم لے لو
تاروں کوکوئی جنم دے دو
کتابوں میں زندگی تلاش کرنا بے سود ہے

نصیر احمد ناصر: کتابوں میں چھپے ہوتے ہیں
خود کش بمبار
جو اچانک نکل کر سامنے آ جاتے ہیں
خود کش بمبار
جو اچانک نکل کر سامنے آ جاتے ہیں
مرے چراغ

علی اکبر ناطق: مرے چراغ بجھ گئے
میں تیرگی سے روشنی کی بھیک مانگتا رہا
ہوائیں ساز باز کر رہی تھیں جن دنوں سیاہ رات سے
میں تیرگی سے روشنی کی بھیک مانگتا رہا
ہوائیں ساز باز کر رہی تھیں جن دنوں سیاہ رات سے
الاؤ

نصیر احمد ناصر:
ایک جھماکا ایسا ہو گا
سڑکیں اور فٹ پاتھ جلیں گے
مرنے والے، مارنے والے
سب اک ساتھ جلیں گے
ایک جھماکا ایسا ہو گا
سڑکیں اور فٹ پاتھ جلیں گے
مرنے والے، مارنے والے
سب اک ساتھ جلیں گے