Laaltain

پل بھر کا بہشت

سرمد صہبائی: ہم دونوں آدم اور حوا
پَل کے بہشت میں رہتے ہیں

مجھے اپنے خدا کے خواب سننا ہیں

ثاقب ندیم: میں اب ایک خدا خریدوں گا
جو خود خواب دیکھتا ہو
ایسے خواب جن میں
صرف شانتی ہو اور محبت
اور وہ روزانہ مجھے اپنے خواب سنائے
کیونکہ مجھے اپنے بھیجے کا بم نہیں بنانا

موزارت سوناتا نمبر11

ستیہ پال آنند: مرتے مرتے یہ آلاپ اب
انتم سانس میں
مجھ کو بھی
چُپ چاپ سمادھی کی حالت میں چھوڑ گیا ہے!

سرکاری ہسپتال اور دیگر عشرے

رحمان راجہ: ﮨﺭ کسی ﮐﯽ ﺯﺑﺎﻥ ﭘﺭ ﭘﮭﺭ سے
ﻭﮨﯽ روایتی سے جملے ﮨﯿﮟ
مرنے ﻭﺍﻟﻮﮞ ﮐﮯ ﻭﺍﺭﺛﻮﮞ ﮐﮯ لیے
ﺍﯾﮏ ﺁﺩﮬﺍ خالی ﭼﯿﮏ بھر لیا ہو گا
حاکم شہر نے افسوس تو کر لیا ہو گا

اسکیچ اور سایہ

سرمد بٹ: مرد کی آنکھ میں عورت کا اسکیچ ہے
عورت کے دل میں مرد کا سایہ ہے
مرد دیوار چاٹ رہا ہے
عورت سائے میں لیٹی ہوئی ہے

عشرہ // ماں

ادریس بابر:
میں جو تیری عورت آنکھوں کا پہلا خواب تھا
کیوں نہیں پورا ہوا، پوری طرح؟
میرے سوال میں میرا جواب تھا

مائے

علی زریون:
خدا کے نام لیواوں کو اک ” ماں” کی ضرورت ہے
جو ان کو نرم کر پائے
جو ان کو یہ بتا پائے
خدا ظالم نہیں ہوتا

کوئی ہونا چاہیے

حسین عابد: اور آن پہنچیں جب ہم
تاریک سرنگ کے آخر پر
وقت کے ایک نئے قطعے پر
چندھیائے ہوئے، ہکا بکا
کوئی ہونا چاہیے جو پکار اٹھے
“یہ روشنی ہے”

عشرہ // دل ڈھونڈتا ہے

حماد نیازی: ایک منظر جو کسی بھی آنکھ نے دیکھا نہ ہو
ایک دریا جس کے اندر کوئی بھی ڈوبا نہ ہو
ایک لمحہ جو رواں ہو اور کبھی گزرا نہ ہو
ایک دن جس دن سے پہلے رات کا سایہ نہ ہو

دریا مرتا جاتا ہے

عمران ازفر:
گرتے پڑتے یگ میں تم بھی
شام ڈھلے تک آ جانا کہ اس سے پہلے
چرخہ کاتتے، ریشم بنتے، خواب سجاتے
ہاتھوں میں جب چھید پڑیں تو
بوڑھا دریا کچی مٹی کے پہلو میں
لحظہ لحظہ مرتا جائے

پینے لوپیا

زید سرفراز: پینے لوپیا!
اتلس کی بیٹی تم سے زیادہ خوبصورت نہیں ہے.
اتھینہ ہمالیہ سے لوٹے گی
اولمپس پر زیوس اس کی بات پر کان
دھرے گا
بس ریت مٹھی سے پھسلنے نہ پائے

پھول تمہارے ساتھ ہیں

اسرمد بٹ: تم بھڑوں کے چھتے میں
ایک شہد کی مکھی ہو
تمہیں وحی کو پرفارم کرنا ہے
وحی جو تم پر کی گئی ہے