Laaltain

دکھ گوتم سے بڑا ہے

نصیر احمد ناصر: دکھ برگد سے گھنا ہے
دھیان کی اوجھل تا میں
گوتم کو عمر بھر پتا نہ چلا
کہ دکھ کا انکھوا عورت کی کوکھ سے پھوٹتا ہے

دیہاتیوں کا گیت

نصیر احمد ناصر:
ہم دیہاتی لوگ ہیں
ہم جانتے ہیں
دھرتی ہم سے اور کچھ نہیں
ہمارے کالبوت واپس مانگتی ہے!

دریا مرتا جاتا ہے

عمران ازفر:
گرتے پڑتے یگ میں تم بھی
شام ڈھلے تک آ جانا کہ اس سے پہلے
چرخہ کاتتے، ریشم بنتے، خواب سجاتے
ہاتھوں میں جب چھید پڑیں تو
بوڑھا دریا کچی مٹی کے پہلو میں
لحظہ لحظہ مرتا جائے

پھول تمہارے ساتھ ہیں

اسرمد بٹ: تم بھڑوں کے چھتے میں
ایک شہد کی مکھی ہو
تمہیں وحی کو پرفارم کرنا ہے
وحی جو تم پر کی گئی ہے

بلڈ پریشر

رضی حیدر: “بام فردوس سے کودیں گے حشیشین ابھی !
منہ میں دابے ہوئے طوماروں پہ پیغامِ خدا!
برہنہ حرف معانی کے لبادے اوڑے
اک گرانڈیل سے سائے کی طرح رقصاں ہیں
آتشِ خرد کے، الحاد کے گرد
اک پریزاد کے گرد ۔۔۔”

مٹھی بھر جہنم

سدرہ سحر عمران: تم نے مذہب کو گولی سمجھا
اور
ہمارے جنازوں پہ دو حرف بھیج کر
اسلحہ کی دکانیں کھول لی

میری تاریخ کا لنڈا بازار

سرمد صہبائی:
اس تاریخ کے میلوں پھیلے بازاروں میں
میرے ناپ کا کوئی کوٹ نہیں ہے
شاید میرے قد کا کوئی سورما نہیں ہے

کاری

ناصرہ زبیری: اندھے، بہرے، مردہ، بے چہروں کی اس بستی کے بیچ
زندہ ہے پھر بھی دیکھو
میری صاف بصارت بھی
میری تیز سماعت بھی

ایک باپ کے آنسو

عذرا عباس: ایک باپ کے آنسو
ہم ٹشو پیپر میں رکھ چھوڑیں گے
اور اسے کبھی سوکھنے نہیں دیں گے

Mob the Omnipotent

سرمد بٹ: آدم باغ سے نکل کر ہجوم بن گیا تھا
ہجوم آدمی ہے
ہجوم کچھ بھی کر سکتا ہے

جبر کی دنیا

سلمان حیدر: زندگی کا ہیولہ سرچ ٹاور پر گھومتے سورج کی طرح
سیاہ پٹی سے ڈھکی آنکھوں کے سامنے
رات جیسے دن میں کئی بار گزرتا ہے

تم مجھے پڑھ سکتے ہو

سید کاشف رضا: تم
مجھے پڑھ سکتے ہو
جو لکیریں میں کاغذ پر نہیں کھینچ سکتا
میرے جسم پر ابھر آتی ہیں

چودھویں صدی کی آخری نظم

افتخار بخاری: یہ بھی لکھنا
کہ چودہ صدیوں سے ہانڈیوں میں
ابُلتے پتھر گلے نہیں تھے
ہماری ماوں نے اپنے بچوں کو
دہشتوں میں حنوط کر کے
جنم دیا تھا