قصیدہ ماہِ بہمن کے انسان کا
احمد شاملو کی نظم
(فارسی سے ترجمہ)
__________________
تجھے کیا پتہ بڑے پن کی چنگھاڑ کیا ہے،
وہ کیا پہاڑ ہے،
جو توڑ کر بکھیر دینے والے شکنجے میں بھی روتا تک نہیں
تجھے کیا پتہ جب خوف کی حاکم آنکھ اندھی ہو جائے
تو محکوم کی بے جھپک آنکھوں کا اطمینان،
کیسا دریا ہوتا ہے!
تجھے کیا خبر کہ مرنا کیا ہے،
جب آدمی نے موت کو ہرایا ہے،
تو کیسا ہوتا ہے جینا
تجھے کیا پتہ کہ جینا کیا ہوتا ہے، جیتنا کیا ہے،
تجھے کیا پتہ کہ ایرانی کون ہوتا ہے!
تجھے کیا پتہ
جس وقت تو نے مٹی کی کھال اور پکی اینٹوں کی ہڈیوں سے
اس کی قبر کو پُر کیا
اور تیرے ہونٹوں پر سکون بھری ہنسی آئی
اور ایک قہقہے کے دھماکے نے تیرا گلا پھاڑ دیا
جس وقت تو نے سمجھا کہ اس کی زندگی کا گوشت
اس کے تن کی ہڈیوں سے الگ ہو چکا،
کیسے اس کی زندگی کا سرخ ڈھول گونج اٹھا تھا،
زمین کے نیچے بہتی کاریزوں کی رگوں سے،
شہرِ آبادان کے سینے سے
اور اس کے طوفانی رزمیے نے نظم کہنی شروع کی
تین منہ سے، سو منہ سے، ہزار منہ سے
تیس ہزار منہ سے
خون کے قافیے سے
انسان کے لفظ سے، حرکت کے لفظ سے، تیز چلنے کے لفظ سے
آنے والے کل کی اس تھاپ پر
جو چلتی رہتی ہے
جو گرتی ہے پھر اٹھتی ہے
جو اٹھتی ہے، اٹھ جاتی ہے، گر پڑتی ہے
جو اٹھتی ہے، اٹھ جاتی ہے،
جس کی چال
رگوں سے پھوٹ نکلنے والے لہو کی سی تیز ہے
جو تاریخ کی پگڈنڈی پر ڈگ بھرتی ہے
چین میں،
ایران میں، یونان میں
انساں، انساں، انساں، انساں ہا
اور جو دوڑتی ہے لہو کی طرح، تیز ڈگ سے
تاریخ کی رگ میں، ویتنام کی رگ میں، آبادان (2) کی رگ میں
انساں، انساں، انساں، انساں، انساں ہا!
اور ایسے سیلاب کی مانند جو
اپنی تاریخ کے عظیم مصرعوں میں دیوار کے اوپر سے گزر جاتا ہے
ہزاروں قافیوں کی دیوار سے:
چوری چھپنے کا قافیہ
اندھیرے کا قافیہ
اوجھل ہو نے کا قافیہ
جرم کا قافیہ
انسان کے برابر میں زندان کا قافیہ
اور قافیہ جسے چھوڑ دیا وہ ہے،
ایڈولف رضا خان کا قافیہ
اور ہر مصرعے کے آخر پہ وہی “نون”
ایک چپکتا ہوا قافیہ
قافیۂ خون!
اور سیلاب کی تھاپ
جو ہزاروں خونی قافیوں کی دیوار پر سے گزر گئی:
خوں، انساں، خوں، انساں
انساں، خوں، انساں۔۔۔
اور ہر انسان سے خون کا ایک سیلاب
اور ہر قطرے سے ہزاروں انسانوں کا سیلاب:
امَر انسان
ماہِ بہمن (1) والا انسان
پولیتزر (3) والا انسان
ژاک دوکور (4) والا انسان
چِین والا انسان
انسانیت والا انسان
ہر دل کا انسان
کہ اس دل میں، ہر خون
کہ اس لہو میں، ہر قطرہ
قطرہ قطرہ آدمی
کہ اس قطرے کے دم سے، ہر تپش
کہ اس تپش کے دم سے، ہر زندگی
مطلق انسانیت ہے
اور ہر انسان کی زندگی کی نظم
جو ایک خون کے لال قافیے پر ختم ہو
ایک تاریخ میں تا ابد سُولی پہ لٹکا ہوا ایک مسیح ہوتی ہے
اور وہ انسان جو بیڑیوں میں بندھے پَیروں کے ساتھ
اپنے لہو کے ڈھول کی تھاپ پر اپنی تاریخ گاتے ہیں
ایک ہی دین کے عالمگیر اصحاب ہیں
اور ہر پھانسی کے منہ سے اگلتی ہر خون کی قے سے
کسی تاناشاہ کی مرضی مرجھا جاتی ہے
ایک جنت کے دروازے پہ اُگے کنیر کے پودے کے پاس ہی۔۔۔
اور میرے برابر کھڑے ہر انسان کے ہر خون کا قطرہ قطرہ
ایک سیلاب ہے
جو تاریخ کے تیز بھاگتے ہووں کے عقب میں
ایک پُل کو توڑتی رہتی ہے
اور ہر جسم پر گولی کا ہر چھید
ایک ایسا دروازہ ہے کہ تین بندے، سو بندے، ہزار بندے
کہ تیس لاکھ بندے
آنے والے کل کے زمردی بُرج کی جانب رواں
اس میں سے گزر جاتے ہیں
اور ماس سے آر پار ہر گولی کی گزرگاہ
ایک ایسے کتے کا منہ ہوتی ہے
جو کسی بادشاہ کے دبدبے کو
کسی معذور خانے میں پڑا چبا جائے
ہر وہ جس کے پاس کچھ نہیں،
اس کے جنازے کے کھلے منہ کا لقمہ ہے۔۔۔ بادشاہ
رضا خان
یہ ہے ایک بادشاہ کا شرف
جس کے پاس کچھ بھی تو نہیں
اور وہ جس کے ایک قبا تن پہ ہے اور تین صندوق میں
اور وہ جس کے ایک نوالہ منہ میں ہے اور تین روٹیاں ہتھیلی پر
اور وہ جس کے ایک گھر شہر میں ہے اور تین گھر گاؤں میں
تاریخ کی قبا، روٹی، اور گھر کے ساتھ کیا ایسے کیا جاتا ہے
جیسا کہ تو نے کیا رضا خان
اسے انسان مت کہو
نہیں، اسے انسان مت کہو، انسان نہیں وہ
مجھے نہیں پتہ وہ کیا ہے
سوائے ایک سلطان کے۔۔۔
البتہ ایرانی کے خون سے ایک سر سبز بہار
اور معذور خانے کے کتے کے منہ میں شرمندگی کی ہڈی!
اور اس کی زندگی کی نظم، اس کے خون کے قافیے کے ساتھ
اور میری نظم کی زندگی
اس کے قافیے کے خون کے ساتھ
اور کتنا ہی زیادہ
ان کی زندگیوں کی نظموں کی بیاضوں کا گردپوش
ایک خون کے لال کفن سے مجلّد ہوا
اور کتنا ہی زیادہ
ان کی یرغمال زندگیاں لی گئیں
تاکہ ان کی سرداری کی تاریخ جنم لے سکے
موت کے ایک ساز کے ساتھ، ایک لورکا (5) کے گٹار کے ساتھ
انہوں نے اپنی زندگیوں کی نظم یوں گائی
جیسے وہ میری طرح شاعر ہی تھے
اور نظم ان کی زندگیوں سے الگ نہیں تھی
اور انہوں نے اپنی سرخ نظموں کے رزم ناموں میں
ایسی تاریخ گائی
کہ جس میں
دنیا کے بادشاہ
کسی گھوڑے کی ہوَنق سی ہنہناہٹ کے ساتھ
تخت پر نہیں آن بیٹھے
اور وہ کہ جنہوں نے انسانوں کو
اپنے انصاف کے ترازو کی کنڈی سے پھانسی پہ لٹکایا
اور منصف کہلائے
ان کی نظم ان کی زندگی سے الگ نہ تھی
اور اس میں کوئی دوسرا قافیہ نہ تھا
ماسوائے انسان کے
اور جس وقت ان سے ان کی زندگیاں چھینی گئیں
ان کی نظموں کا رزمیہ پہلے سے بڑھ کر طوفانی ہو رہا
خون کے قافیے میں
ایک نظم تین منہ سے، سو منہ سے، ہزار منہ سے
تیس ہزار منہ سے
ایک نظم خون کے قافیے والی
انسان کے لفظ والی
آنے والے کل کے مارچ کی دھمک کے ساتھ
ایک نظم جو چلتی ہے، گر پڑتی ہے، اٹھتی ہے، اٹھ دوڑتی ہے
زندگی کے ایک لحظے میں ایک نبض کے دھماکے کی سی تیزی کے ساتھ
تاریخ کی ڈگر پر چلتی رہتی ہے، انڈونیشیا میں، ایران میں
اور خون کی طرح پھڑکتی اور دھڑکتی ہے
تاریخ کے دل میں، آبادان کے دل میں
انساں انساں انساں انساں۔۔۔ انساں ہا۔۔۔
اور ان سارے لفظوں، اور اس ساری زندگی کے کاروان سے پرے
تیرا معذور خانے والا کتا دم توڑ دیتا ہے
شرمندگی کی ہڈی منہ میں لیے
حرص کی ہڈی
تن کی ایک قبا اور بکسے کی تین قباؤں کی ہڈی
منہ کے ایک نوالے اور بغل کے تین نوالوں کی ہڈی
شہر میں ایک گھر اور جہنم میں تین گھروں کی ہڈی
بے تاریخ ہونے کی ہڈی
__________________
(1) ماہِ بہمن: ایرانی تقویم کا گیارہواں مہینہ۔ ایرانی سال 1357 شمسی میں اس ماہ کی بائیس تاریخ کو ایران کی عوامی طاقت نے شاہِ ایران کا تختہ الٹا۔ جو بعد میں ایران کا اسلامی انقلاب 1979ء کہلایا۔
(2) آبادان: ایران کا مشہور صنعتی شہر۔ انقلابِ بہمن کے دوران یہ تیل کی صنعت کا مرکز ہونے کے ساتھ ساتھ مزدور تحریکوں کا گڑھ شمار ہوتا تھا۔
(3) پولیتزر: یورپی انقلابی، مادی فلسفہ و نفسیات کا مفکر جارجی پولیتزر۔ (1903 – 1942)
(4) ژاک دوکور: (1896–1975) فرانسیسی انقلابی سیاستدان۔
(5) لورکا: ہسپانوی شاعر ڈرامہ نگار، اور مصور فریدریکو گارسیا لورکا (1898 – 1936)


