وہ مجھ سے ہمیشہ تیس روپے زیادہ لیتا ہے اور دیگر نظمیں
شام ڈھلنے تک میرا دروازہ گلی کا سب گندہ پانی اپنی طرف کھینچتا رہتا ہے
شام ڈھلنے تک میرا دروازہ گلی کا سب گندہ پانی اپنی طرف کھینچتا رہتا ہے
ایک گیت تمہیں گھیر لیتا ہے ایک گیت جو تم نے سن رکھا ہے ایک گیت جو تم کبھی نہیں…
تمہاری وجہ سے میں ایک خلا نورد نہیں بن سکا میرے مجسمے کسی چوک پر نصب نہیں ہوئے میرے نام…
میں نے اک گیت لکھا اور اس نے اپنی نبضیں کاٹ لیں میں نے اک نظم کہی اور وہ چھت…
فیثا غورث: ایک دن اپنے ہاتھوں سے میں ایک رسی بُنوں گا اور اس رسی کے ایک سرے سے خود…
میں نے میں نے حیرت کو قتل کیا اورتحیر کی لاش دریافت ہونے تک میں خود کو محفوظ خیال کر…
ہمیں زندہ رہنے کا معاوضہ نہیں دیا گیا نہ قسطوں میں، نہ پیشگی کچھ اور نہ کام مکمل ہوجانے پر
خدا کے ترازو کے آس پاس داڑھیوں، مسواکوں، تسبیحوں، مصلوں، برقعوں،صحیفوں، کھجوروں، تلواروں، ٹخنے سے اونچی اور ٹخنے سے نیچی…