Laaltain

اچھا! تو بتاو کہ پہلی کہانی کا جنم کیسے ہوا؟ اس نے ہلکی سی کپکپاتی ہوئی آواز میں پوچھا۔

فضا میں کسی قدر خُنکی تھی۔ وہ بالکل میرے سامنے بیٹھی تھی۔ اس نے دونوں ہاتھوں سے کافی کا کپ تھاما ہوا تھا جس کی بھاپ ہولے ہولے سے اس کی سُرخ ہوتی ناک کے سامنے رقص کر رہی تھی۔ اس نے سر پر اونی ٹوپی چڑھائی ہوئی تھی اور دونوں کہنیاں میز پر ٹکائے اشتیاق سے مجھے دیکھ رہی تھی۔اس کے سوال نے مجھے الجھن میں ڈال دیا۔میں نے بائیں طرف موجود شیشے سے باہر گلی میں دیکھا دھند میں گزرتے لوگ مجھے کسی خواب میں تیزی سے بدلتے سایوں جیسے لگے۔ میں نے سوچا اس سے کہیں آسان تھا کہ وہ مجھ سے نئی کہانی سننے کی فرمائش کرتی۔ میں نے ایک نظر اس کے چہرے کی طرف دیکھا معصوم ذہانت میں ڈوبی نگاہیں جیسے جادوگر کی ٹوپی سے نکلنے والے کبوتر کی منتظر تھیں۔ میں نے جیب سے سگریٹ نکال کر سلگایا۔ اس نے سر جھکا کر کافی کا گھونٹ بھرا اور پھر سے مجھے تاکنے لگی۔ میں بولا

میں ٹھیک سے بتا نہیں سکتا کہ میں جاگنا چاہتا تھا مگر نیند دھیرے دھیرے میرے کمبل سے میری آنکھوں کی طرف سرک رہی تھی۔ یا شاید میں سونا چاہتا تھا مگر پسینے اور لمس کی گرمی سے بوجھل مبہم ممنوعہ بـُو میرے وجود کو جکڑ رہی تھی۔ سرگوشی میں تھرتھراتی کچھ ہونکتی آوازیں میرے کانوں میں ہلکی چاپ پیدا کر رہی تھی۔ کبھی کوئی شناسا لفظ پل بھر کو ذہن کی تختی پر اُبھرتا مگر معنی کا لباس پہننے سے پہلے ہی لاشعور میں غوطہ لگا جاتا اور میرا دماغ اس تھامنے کی کوشش میں ہلکان ہو جاتا۔ کچھ غلط مگر دلچسپ ہو رہا ہے مگر میں اسے سمجھ نہیں پا رہا اور شاید سمجھنا بھی نہیں چاہ رہا کیونکہ سمجھنے کا مطلب اس منظر سے باہر ہو کر ناظر بننا تھا۔ منظر سمجھنا ہے یا بُننا ہے یا بدلنا ہے یا اس کا حصہ بننا ہے یا پھر محض سونا ہے۔ ایسے میں نیند سے بوجھل مگر کھوجتے ذہن نے ڈوبتے لفظوں، ممنوعہ لمس کے خود سے دور مگر کسمساتے احساس اور نیند کے درمیان پہلی کہانی سوچی۔ یہ کہانی تو نہیں تھی کیونکہ اس کے اندر بہت کم لفظ تھے شاید کچھ آوازیں تھی، ایک ڈوبتا لمحہ تھا، کچھ بُو تھی، آنکھوں کے اندر اور باہر مدہم ہوتے سائے تھے۔ کہانی شروع نہیں ہوئی بلکہ میرا کہانی کے عین بیچ میں جنم ہوا اور کہانی چلی بھی نہیں وہ بس تھوڑا سا فضا میں لہرائی، چھونے کی کوشش کی اور تحلیل ہو گئی۔ مگر شاید وہ تحلیل نہیں ہوئی جذب ہو گئی۔ میں سو چکا تھا۔

صبح میں جاگا تو میرا وجود کچھ بھاری اور گرم تھا، یوں لگ رہا تھا میں کسی گرم کوکھ سے ابھی ابھی دنیا میں آیا ہوں۔ ایک ایسی اداسی تھی جیسے کچھ کھونے کا احساس ہے مگر یاد نہیں کہ کیا کھویا ہو شاید اپنا کوئی حصہ گُم ہو گیا ہو۔ میں نے خود کو ٹٹول کر دیکھنا چاہا مگر بس لبوں پر ایک پھیکی سی ہنسی اُبھری اور معدوم ہو گئی۔ اُس دن میں نے پہلی دفعہ اپنے ایک کلاس فیلو کے بیگ سے عمرو عیار کی کہانی کی ایک کتاب چوری کی۔ چوری کرنے کا تجربہ بہت دلچسپ تھا خوف، سنسنی اور وہی کچھ غلط ہونے کا بوجھل احساس۔ پھر گھر آ کر واش روم میں چُھپ کر ایک طلسماتی کہانی پڑھنے کا احساس بہت ہی شاندار رہا۔ مجھے لگا کہ ایک سُرنگ سے ہوتے ہوئے کسی نئی دنیا میں آباد ہو گیا ہوں۔ مگر مجھے پھر اصل دنیا میں لوٹنا پڑا لیکن پھر میرے وجود کا ایک حصہ اس طلسماتی دنیا میں رہ گیا اور اس دنیا کا احساس میرے وجود میں کُھب گیا۔ مجھے شدت سے احساس ہو رہا تھا کہ مجھے اور کہانیاں پڑھنی ہیں۔ کلاس فیلو کا بیگ بہت چھوٹا تھا اور عمروعیار کی دنیا بہت وسیع۔ میں نے ایک بُک شاپ ڈھونڈی جہاں رش کے وقت میں میں چپکے سے کہانیوں کی کتابیں اپنی پینٹ کے اندر چُھپا کر لاتا اور واش روم کی تنہائی میں اُسی دنیا میں کھو جاتا۔ ایک دن دکاندار نے مجھے کتاب چھپاتے پکڑ لیا۔ میں خوف سے کانپ رہا تھا۔ اس نے مجھے اپنے پاس بٹھا لیا۔ اب وقت جیسے رُک سا گیا۔ میں اس کے فیصلے یا کسی سزا کا منتظر تھا مگر وہ گاہکوں کے ساتھ مصروف ہو گیا۔ میرا دل چاہا کہ کاش میرے پاس بھی ایک سُلیمانی ٹوپی ہوتی جسے پہن کر میں غائب ہو جاتا۔ انتظار طویل ہوتا گیا، سزا سے زیادہ سزا کا انتظار تکلیف دہ ہوتا ہے۔ جب دُکان تقریباً خالی ہو گئی اس نے دوکان کا شٹر نیچے کیا اور میری طرف آنے لگا۔ ڈر سے میرا وجود کپکپا رہا تھا۔ دوکان میں ہلکا ہلکا اندھیرا ہو گیا تھا اور وہ مجھے کسی سائے کی طرح لرزتا ہوا لگ رہا تھا۔ اس نے مجھے میرے دونوں ہاتھوں سے پکڑا اور پاس پڑے ایک اسٹول پر بیٹھا دیا۔ میرے ہاتھ سُلگ رہے تھے۔ مساموں سے پسینہ رسنا شروع ہو گیا تھا۔ وہ مجھ سے کچھ پوچھ رہا تھا مگر مجھے اس کی بات کہیں دور سے آ رہی تھی جیسے میں کسی کمبل میں تھا اور مجھے کپکپاتا لمس اپنے وجود پہ رینگتا محسوس ہونے لگا۔ میرا دماغ نامعلوم کو معلوم اور نامانوس کو مانوس بنانے کی الجھن میں جا چکا تھا۔ پسینے اور لمس کی بُو میرے نتھنوں سے میرے دماغ کی طرف بہنے لگی۔ میرا دماغ کسی کہانی کو بُننا چاہتا تھا مگر چوری کی سنسنی، کھونے کا خوف، تجربے کی گندلی بے چینی نے دماغ کی تختی پر اُبھرتی کہانی پر سیاہ چھینٹے اچھال دئیے۔

وہ بے چینی سے میری طرف دیکھ رہی تھی۔ اس کی کافی اس کے ہاتھوں میں ہی ٹھنڈی ہو چکی تھی۔ اس نے اپنی کہنیاں ٹیبل سے ہٹا لی تھیں۔ مجھے اس کی آنکھیں کُچھ سُرخ لگنے لگی۔ اس نے کپ ٹیبل پر رکھا۔ اپنی دونوں ہتھیلیوں کو رگڑا۔ دانتوں سے نچلے ہونٹ کو ہلکا سا چبایا۔ یوں لگ رہا تھا کہ اس کے من میں میرا ہاتھ تھامنے کی شدید ترین خواہش ہے مگر وہ کسی خوف کے تابع باہر جھانکنے لگی اور پھر یوں بولی جیسے وہ جان بوجھ کر اپنے انداز کو غیر رسمی بنا رہی ہو:

“مگر تم نے ابھی تک بتایا نہیں کہ تم نے اپنی پہلی کہانی کب لکھی؟”

“کبھی نہیں” میں نے کہا اور جیب سے سگریٹ نکال کر سلگا لی۔ باہر دھند آہستہ آہستہ سب کچھ نگلتی جا رہی تھی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *