Categories
شاعری

آج اسی خوشی میں بم بانٹو

زیادہ چاٹو یا کم چاٹو
جب بھوک لگے تو بم چاٹو
زیادہ پہنو یا کم پہنو
کپڑوں کی جگہ بهی بم پہنو
زیادہ چاٹو یا کم چاٹو
جب بھوک لگے تو بم چاٹو
زیادہ پہنو یا کم پہنو
کپڑوں کی جگہ بھی بم پہنو
زیادہ ہو یا کم بانٹتے ہو
جب بیٹھتے ہو غم بانٹتے ہو
میاں یوم ولادت ہے بم کا
آج اسی خوشی میں بم بانٹو
یہ کس نے کہا اسے بم سمجھو
اسے زخموں کا مرہم سمجھو
یہ ناشکروں کی عادت ہے
جو پاس ہو اس کو کم سمجھو
اب اس کی حفاظت کرنی ہے
اس بم کو اپنا بم سمجھو
اور یوں بھی پاگل دیوانو
اے ناشکرو اے نادانو
جس قوم کے پاس ایٹم بم ہے
اس قوم کو آخر کیا غم ہے

By سلمان حیدر

لکھاری تنقید میں ایک اردو ایڈیٹر کے طور پر کام کر رہے ہیں۔ وہ یونیورسٹی آف ٹیکساس اور آسٹن میں وزٹنگ اسکالر اور ڈان اردو میں بلاگ نویس ہیں۔ انہیں تھئیٹر، ڈراما اور ثقافت سے گہرا شغف ہے۔

One reply on “آج اسی خوشی میں بم بانٹو”

Uff the sarcasm that dripped from the last two lines was thicker than coagulated blood. Thanks for sharing 🙂

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *