Categories
شاعری

فرات میں پھینکی ہوئی پیاس

سدرہ سحر عمران: ہم حسینؓ کے نام کی پرچیا ں
ان آ نکھوں میں ڈال آ ئیں گے
جن کی ویرانی سے زمین اندھی ہوتی جا رہی ہے

[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

فرات میں پھینکی ہوئی پیاس

[/vc_column_text][vc_column_text]

خشک ٹہنیوں پہ سبز موسم طلوع ہو سکتا ہے
اس زندگی کی آ خری لگام کھینچتے تک
جس کی ہنہناہٹ میں سمندر خود کشی کے بارے میں سو چا کرتا تھا
لوگ ہمارے دریا اپنی مٹھیوں سے پھسلنے نہیں دیتے
ہم حسینؓ کے نام کی پرچیا ں
ان آ نکھوں میں ڈال آ ئیں گے
جن کی ویرانی سے زمین اندھی ہوتی جا رہی ہے
جب پیاس بدن کی کھونٹیو ں سے اتار لی جائے گی
ایک نیا جہنم ہمیں خوش آمدید کہے گا
اور ۔۔۔۔ہم
پانی ذخیرہ کرنے کے جرم میں
خدا کی ساری بارشیں خود پر حرام کر لیں گے

[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]

By سدرہ سحر عمران

سدرہ سحر عمران اردو میں ماسٹرز ڈگری یافتہ ہیں۔ وہ معاصر اردو نثری نظم کے حلقوں میں ایک نمایاں نام ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *