Categories
شاعری

کسی دن چلیں گے کراچی

نصیر احمد ناصر: کسی دن چلیں گے
کراچی
سمندر میں آنکھیں بہا کر
اُسے دیکھنے کی تمنا کریں گے

[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

کسی دن چلیں گے کراچی

[/vc_column_text][vc_column_text]

کسی دن چلیں گے
کراچی
سمندر میں آنکھیں بہا کر
اُسے دیکھنے کی تمنا کریں گے
جو بچپن میں گھر سے چلا تھا
کہ شپ یارڈ دیکھوں گا
بحری جہازوں میں دنیا کے چکر لگاؤں گا
پیسے بناؤں گا
لیکن فلیٹوں، پلازوں کی دنیا میں
بجری اٹھاتے اٹھاتے
کسی ریت کے ڈھیر میں کھو گیا ہے ۔۔۔۔۔۔۔
کسی دن چلیں گے
سمندر کنارے
اُسے پھینکنے کے لیے
شہر کے زیرِ تعمیر سارے مکانوں کا کچرا
مِرے دل میں بھرتا چلا جا رہا ہے!

Image: Hanif Shehzad
[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]

By نصیر احمد ناصر

نصیر احمد ناصر پاکستانی اردو شاعری کا نمایاں اور رحجان ساز نام ہے۔ آپ کی شاعری دنیا کی مختلف زبانوں میں ترجمہ وہ چکی ہے۔ آپ 'تسطیر' کے نام سے ایک ادبی جریدہ بھی نکالتے رہے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *