Categories
شاعری

وہ خوشبو بدن تھی

سوئپنل تیواری: تبھی سے تعاقب میں ہوں تتلیوں کے
کئے جا رہا ہوں انہیں جمع ہر دم
کہ اک روز ان سے دوبارہ میں تخلیق اس کو کروں گا
جو خوشبو بدن تھی
وہ خوشبو بدن تھی
وہ خوشبو بدن تھی
مگر خود میں سمٹی سی اک عمر تک یوں ہی بیٹھی رہی
بس اک لمس کی منتظر
اسے ایک شب جوں ہی میں نے چھوا اس سے تتلی اڑی
پھر اک اور اک اور تتلی اڑی، دیر تک تتلیاں یوں ہی اڑتی رہیں
چھانٹی تتلیاں جب کہیں بھی نہ تھی وہ
تبھی سے تعاقب میں ہوں تتلیوں کے
کئے جا رہا ہوں انہیں جمع ہر دم
کہ اک روز ان سے دوبارہ میں تخلیق اس کو کروں گا
جو خوشبو بدن تھی
۔۔۔۔وہ خوشبو بدن تھی

Image: Duy Huynh

By سؤپنِل تیواری

سوئپنل تیواری ہندوستان کی ریاست اترپردیش کے شہر غازی پور میں 1984 میں پیدا ہوئے اور فی الحال ممبئی میں اسکرپٹ رائٹنگ اور نغمہ نگاری کا کام کررہے ہیں، وہ اردو اور ہندی دونوں زبانوں سے بخوبی واقف ہیں۔ وہ ہندی کی نئی فکشن نگار نسل سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان کی کہانیاں ہندی رسالوں میں شائع ہوتی رہتی ہیں۔ان کی مندرجہ ذیل کہانی ہندوستان میں غریب طبقے کی جد و جہد اور زندگی سے اس کے ایک لاحاصل لیکن اٹوٹ رشتے کو اجاگر کرتی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *