Categories
شاعری

لکھتے رہو

ابرار احمد: تو پھر لکھتے رہو
بیگار میں
بیکار میں لکھتے رہو
کیا فرق پڑتا ہے
لکھتے رہو
جو سر میں بھر گئے ہیں
انگلیوں میں سرسراتے، آنکھ میں کانٹے اگاتے ہیں
انہی لفظوں سے لکھ دیکھو
بیاں ممکن نہیں ہے
اس کا، جو تم جھیلتے ہو
کہ پہلی آنکھ کھل جانے سے
لمبی تان کر سونے کا عرصہ
بوجھ ہوتا ہے
سو کندھے ٹوٹتے، ٹخنے ترختے ہیں
دکھن ہوتی ہے
خالی پن میں گدلی گونج چکراتی ہے
برتن ٹوٹتے بجتے ہیں
بجتے ٹوٹتے رہتے ہیں
آنگن میں، رسوئی میں

کوئی صورت بدلتی دھند سی ہے
گھاس کے تختوں پہ
کیچڑ سے بھری راہوں میں
چکنے فرش پر
دن کی سفیدی میں
محبت سے لدے دل میں
سنہری خواب کے لہراتے اندر میں۔۔۔

تمھاری ہی طرح کے لوگ
بالوں سے پکڑ کر کھینچتے ہیں ۔۔۔۔ راستوں پر
بے حیائی سے
بہت تذلیل کرتے ہیں
کوئی ملبوس ہو، کوئی قرینہ ہو
ادھڑ جاتا ہے، آخر کو —–

کناروں پر ہے خاموشی
گھنی تاریکیاں ہیں
کیا کرن کوئی تمہاری ہے؟
کوئی آنسو، کوئی تارا
تمہیں رستہ دکھائے گا؟
کوئی سورج ، تمھارے نام سے چمکے گا آخر کو؟

حقیقت تھی ۔۔۔۔ سوال اولیں
اور بس ——

اور اس کے بعد میں کیا ہے
فقط خفت ہے، ننگی بے حیائی ہے
ڈھٹائی ہے —
جیے جاؤ ندامت میں
مگر لکھتے رہو
دیوار سے سر مار کر —
کہ عظمت خبط ہے
سب واہمہ ہے
یہ لہو کی گنگناہٹ بھی
کہ دانائی بھی اک بکواس ہے
آواز بھی، چپ بھی
یہاں ہونا، نہ ہونا بھی
وہی قصہ پرانا ہے
تو پھر لکھتے رہو
بیگار میں
بیکار میں لکھتے رہو
کیا فرق پڑتا ہے !

By ابرار احمد

ابرار احمد 1980ء سے شعر کہہ رہے ہیں۔ ان کی شاعری کے دو مجموعے شائع ہو چکے ہیں۔ ایک نظموں کا مجموعہ "آخری دن سے پہلے" (1997)، اور دوسرا غزلوں کا مجموعہ "غفلت کے برابر" (2007)۔ ان کی شاعری میں وجودی کرب، زندگی کی لایعنیت، فریب کی پردہ کشائی اور نقل مکانی کے موضوعات کو چھیڑتی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *