یہ محبوب کی یاد میں کہی گئی ایک مسلسل غزل ہے. اس میں تھوڑی ڈھکی چھپی عریانی بھی ہے، غزل کی اصل روایت سے جو کٹی ہوئی نہیں، یہاں اصل سے مراد لکھنوی دہلوی نہیں بلکہ اوور آل عربی، عجمی اور ہندی ہے، ہندی جس میں سندھ پنجاب خیبر بھی ویسے ہی شامل ہیں جیسے یو پی اور دکن اور اور بنگال سب!
لیکن ، اور اس لیکن ہر زرا ڈرتا ہوا سا زور بھی ہے، گزشتہ صدی کی متشدد منافقت نے تاریخ اور جغرافیہ کو ری رائٹ کرتے کرتے خود ثقافت اور تمدن کو بھی ری رائٹ کرنا شروع کر رکھا ہے۔ تو ایسے میں دیگر سب طبقوں کی طرح شعرا کے ہاں بھی ایسے جعلی صوفی اور سوڈو مذہبی اور فیک فلسفی مقبول مشہور ہو رہے اور کیے جا رہے ہیں جو خود جین زی کو جین ایکس بنا رہے ہیں اور جین وائے والے داد کے ڈونگرے برسا رہے ہیں ، حالانکہ برسانے ڈونگے اور چمٹے چاہئیے تھے۔
یہ شاعری جو میں یعنی کوئی بھی شاعر تو تب سے کر رہا ہے جب سے دل اور دنیا بنے ہیں زبان اور بیان کے سانچے پہلے خواب و خیال میں ڈھلے اور ہھر لوح و قلم پر اترے ہیں۔۔ پھر بھی یہ ہر گز کوئی ٹیبو توڑتی شدید تحریر یا انقلاب برپا فرماتی حدید تقریر نہیں۔ نہ اس غزل کو کسی ما بعدی ما قبلی قسم کا لقوہ لاحق ہے نہ ہی کوئی اشراف یائی امپورٹ ایکسپورٹ شدہ چدہ نالج کا فالج۔ یہ تو گویا گئے زمانوں کی نئے زمانوں والی بات ہے۔ اصل میں اس غریب کو کوئی دعویٰ سرے سے ہے ہی نہیں ، بس یہ خود ہے اور کافی ہے اور شافی ہے۔
ادریس بابر
.….….….…
بارش کے ہر قطرے میں یاد آتا رہا
آج وہ لمحے لمحے میں یاد آتا رہا
وہ جو میرا دل تھا، میری دنیا تھا
آج تو ذرے ذرے میں یاد آتا رہا
میں ٹھیرا تو میری منزل ٹھیرا وہ
چلنے لگا تو رستے میں یاد آتا رہا
اُس کی آنکھیں ایسا ایک کھُلا چیلینج تھیں
زیست کے بند کٹہرے میں یاد آتا رہا
انگلیاں اُس کے بالوں کو مِس کرتی رہیں
اُس کا کِس ہر قصے میں یاد آتا رہا
اُس کا ڈرتے ڈرتے پہلا سگرٹ پینا
ہر کش میں ہر سُوٹے میں یاد آتا رہا
اُس کا چائے بنا کر دینا، آپ نہ پینا
کبھی کبھی تو غصے سے یاد آتا رہا
گیسو شام اترنے پر اکساتے رہے
چہرا دھوپ نکلنے پہ یاد آتا رہا
پہلے پہل دو چار ہتھیلیوں کا ہونا
سُوپ کے گرم پیالے سے یاد آتا رہا
بیسیوں انگلیوں کا آپس میں رچ بس جانا
گلیوں بھرے محلے سے یاد آتا رہا
جیسے اُس کے لب وَا ، اَن وا ہوتے تھے
کلی گلاب کی کھلنے سے یاد آتا ریا
اُس کی کچی زبان کا کھٹا میٹھا لمس
سُندر خانی خوشے سے یاد آتا رہا
کیسے اُس نے شرٹ اتار کے پھینکی، کیسے!
سینہ ملا تھا سینے سے، یاد آتا رہا
بیلٹ اُس نے کھولی یا مل کے توڑی تھی
آج بھی ایک اچنبھے سے یاد آتا رہا
اُس نے کونسے رنگ کا انڈر وئیر پہنا تھا
آج دھنک کے جھونکے سے یاد آتا رہا
اُس کے شانے اُس کی ران اور کان کا لمس
آم اور سیب اور کیلے سے یاد آتا رہا
اُس کا چیخ کو میرے گال کی ڈھال پہ روکنا
مزے سے اور پچھتاوے سے یاد آتا رہا
لطف کے مارے دانت جہاں تہاں گاڑے تھے
صبح کو دفتر جاتے ہوئے یاد آتا رہا
سارے اُس نے خزانوں کے منہ کھول دیے تھے
پھر کیا ہوا، دھڑلے سے یاد آتا رہا
وہ انعام کا مظہر، یقین کا جانِ جاناں
تاریخ ادب کی پڑھتے ہوئے یاد آتا رہا
میر کی جرات کہاں جہاں ہم چومے چاٹے
ہونٹ نہیں تھے شعلے تھے یاد آتا رہا
کتنا حسین تھا، بالکل الف لیلہ کا سین تھا
ہر ناول افسانے میں یاد آتا رہا
جس پہ ساتھ ہم ہاتھوں ہاتھ نہائے تھے
وہ چوکا ہر چھکے پہ یاد آتا رہا
پیڈل بوٹ میں پاؤں مار رہے تھے دونوں
اس دوران پسینے سے یاد آتا رہا
یہ بھی نہیں کہ ہر ہر منٹ ہر ہر سیکنڈ میں
ہر دن ہفتے مہینے میں یاد آتا رہا
میں نے اُسے بھلانے کی کتنی کوشش کی
وہ چالاک جو دھوکے سے یاد آتا رہا
اُس کے ساتھ سدا خوش رہ سکتا تھا میں
لیکن ۔۔ وقت گزرنے پہ یاد آتا رہا
میں نے کیسے عمر گنوا دی اُس کے بغیر
ہائے! ہائے ہائے سے یاد آتا رہا
آخر وہ کیا چیز تھی، وہ کیا چیز تھا بابر
ہر لڑکی ہر لڑکے میں یاد آتا رہا
بابر اُس سولہ سالہ کا پہلا بوسہ
زیست کے آخری لمحے میں یاد آتا رہا
بابر کیا وہ مجھ سے علاحدہ کوئی شخص تھا
رات مجھے جو نشے میں یاد آتا رہا

