1.
وہ مجھ سے ہمیشہ تیس روپے زیادہ لیتا ہے
وہ مجھے نظر انداز کر دیتے ہیں
جب وہ سڑک پار کرنے کے منتظر کھمبوں پر سوکھتی تاروں پر ہر روز بیٹھتے ہیں
میرے پھینکے ہوئے سگریٹ
میرے جوتوں سے نفرت کرتے ہیں
وہ اس روز میرا نام نہیں بھولتا
جس روز میں دفتر دیر سے پہنچتا ہوں
یا جب پرنٹر میری کاپی کے سب لفظ بدل دیتا یے
اور پھر میرے ای میل ہر شام جواب نہ ملنے پر گھر لوٹ جاتے ہیں
شام ڈھلنے تک میرا دروازہ گلی کا سب گندہ پانی اپنی طرف کھینچتا رہتا ہے
میرے گھر آنے تک
تم مسکرانے کی عادت سے مجبور رہتی ہو
.…..
2.
یہ ہے ہمارا نیا ڈیٹرجنٹ
جو کھینچ نکالے وہ سب میل
جو آپ کے کالروں اور کفوں نے اگلا ہے
اس ڈیل میں ہم نے
شام دیر گئے گھر آنے کے بدلے
پچیس فیصد رعایت دی ہے
ٹوکن نکل آنے پر
آپ چاہیں تو بچے پیدا کرنے والوں کی قطار میں قیامت تک کھڑے رہنے کی بجائے
آسان قسطوں میں اپنا ڈی این اے کسی پر بھی
مسلط کرسکتے ہیں
ڈبے پر دی ہدایات کے مطابق
اپنا نطفہ خود بدل سکتے ہیں
پندرہ دن کے اندر اندر
مرنے کے بعد
سچ مچ مر سکتے ہیں
.…..
3.
موت، محبت اور شاعری نے
تمہارا دودھ پیا ہے
میرا نطفہ اگر اندھا نہیں ہوتا تو تم
کبھی بھی ماں نہیں بن پاتی
میرا ہاتھ اگر لکھنا نہیں جانتا تو تم
کبھی بھی کسی بھی زبان میں دودھ نہ پلا سکتی
میرا چہرہ اگر اتنا بدنما نہ ہوتا تو تم
کبھی مجھ سے محبت نہیں کرتی
.…..
4.
اگر تم اک خواب چیر کر دیکھو
اور ابلتا خون جمع کر لو
اور ان دیکھے پرندوں کے پنجوں کو ڈبو کر اس میں
تین راتوں تک کچھ نہیں کھاؤ پیو
تو ہو سکتا ہے تم
پھر مجھ سے محبت کرنے لگو
.…..
5.
خود چل کر جا سکتا ہوں تھانے تک
اس صبح جب تم خون میں لت پت ملو گی
تم شاید چولہے کے پاس کھڑی ہو گی
یا ابھی ابھی نہا کر نکلی ہو گی
تم نظر انداز کر دو گی کھڑکی سے جھانکتے شہر کو
تم سمیٹ ڈالو گی رات بھر کی کروٹوں کو
تمہارے تولیہ تمہاری نا آسودگی جذب کر لے گا
میں اپنا چہرہ اپنے ہاتھوں سے کھرچ لوں گا
میں ڈھونڈ سکتا ہوں وہ چھری
جو باآسانی نیند کی زرہ کاٹ سکتی ہے
میں اندھیرے میں بھی لُوٹ سکتا ہوں
تمہاری سانسوں کو ویران راستوں پر آتے جاتے
میں کبھی بھی کسی بھی دن گھر جلدی آ سکتا ہوں
میں کبھی بھی کہیں بھی تم سے نفرت کر سکتا ہوں

