Laaltain

وحشت کا سایہ (عظمیٰ طور)

18 مئی، 2020

وحشت کا سایہ

میں ننھے بچوں کے ماتھے نہیں چومتی
کہیں میری وحشت ان میں منتقل نہ ہو جائے
میں ہاتھوں سے کرنے والے کاموں سے پہلے سہ بار ہاتھ دھوتی ہوں اپنی پوریں رگڑتی ہوں
میری وحشت کہیں کسی کے اندر منتقل نہ ہو جائے
میں زور زور سے قہقہے لگانا چھوڑ چکی ہوں
کہیں اس قہقہے میں دبی چیخ ہوا میں رہ جائے
اور کسی کو چھو جائے اور وہ اداس ہو جائے
میں چلتے ہوئے قدم تیزی سے اٹھاتی ہوں
کہیں میری وحشتوں کا کوئی سایہ زمین پر پڑا رہ جائے
اور کسی کے پاؤں پڑ جائے
میری وحشتیں میری غیرت ہیں
میں عظیم اداسیوں میں گھلا ایک وحشت ذدہ گمنام سایہ ہوں
مجھے چاہ اور آہ کی طلب نہیں _

One Response

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

One Response

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *