ٹہنیوں کے ہاتھ (کلام: ثروت حسین، انتخاب: عدنان بشیر)

زمین بیٹھتی جاتی ہے اور اک حصہ
جہاں پہ پاؤں ہیں میرے وہاں سے اونچا ہے
واپسی

محمد عباس: میں اوپر گیا تو اس نے گائوں کی طرف سے آنے والی ایک پگڈنڈی کی طرف اشارہ کیا۔ دور باجرے کے دو کھیتوں کے درمیان کی اونچی منڈیر پر ایک بچی کھڑی ہماری طرف اشارہ کر رہی تھی۔
ذوالفقار عادِل کی اُردُو غزل کے اِنفرادی خدوخال

ازورشیرازی: ذوالفقار عادل کی غزل کا موضوعاتی وجود رواں صدی کے سماجی رویوں ،نفسیاتی عوامل،وجودی محرکات،طبیعاتی وحیاتیاتی مسائل اور بے یقینی و لایعنیت کے خمیر سے گندھا ہوا ہے۔
کولاج؛ ادبی ریکٹر سکیل پر نیا ارتعاش

حارث بلال: کولاج کا قیام عمل میں آنا ایک ادبی سنگ میل ہے جس نے یکسر فضا بدل دی ہے جس نے نوجوان پرندوں کی ادبی پرواز سے جُوا کھیلنے والے روایت پسند ٹھیکیدار “ماشٹروں“ کو انگشتِ شہادت کے ساتھ والی انگشت کھڑی کر کے دکھا دی
