محمود درویش کی نظمیں (تخلیقی ترجمہ: ادریس بابر)

میں نہ سہی تم تو ہو گے نا
یہی تو خواب کا بہترین حصہ ہے
زیتون کے جھنڈ سے ابھرتی آواز

محمود درویش:میں کووں سے کہتا ہوں، مجھے ٹکڑے ٹکڑے مت کرو
شاید میں ایک بار گھر لوٹوں
شاید آسمان مینہ برسائے
جو شاید
ان لکڑیوں کو ٹھنڈا کر دے
شاید میں ایک بار گھر لوٹوں
شاید آسمان مینہ برسائے
جو شاید
ان لکڑیوں کو ٹھنڈا کر دے
زمین ہم پر تنگ ہوتی جا رہی ہے
زمین ہم پر تنگ ہوتی جا رہی ہے
ہمیں دھکیل رہی ہے ایسی گلیوں میں
جہاں دیوارسے دیوار لگتی ہے
سو گذرنے کا یہی اک رستہ ہے
کہ ہم اپنے اعضا کاٹ کر پھینک دیں
شناخت نامہ
لکھو
میں عربی ہوں
چوری کر لیے ہیں تم نے میرے اجداد کےباغات
میں عربی ہوں
چوری کر لیے ہیں تم نے میرے اجداد کےباغات