پر اس جہان سے بھی ہے بڑا ملالِ حسین

اسی کے خوں سے زمیں کو نئی حیات ملی
اسی کے زخم سے عالم کی ممکنات تمام
صالح شاہ کا امام باڑا

میں نہ جانے کیوں اب بھی تبدیل نہیں ہو پایا، اور ہر نویں محرم کو میرا دل صالح شاہ کا امام باڑا بن جاتا ہے۔
کالی ووڈ عشرے

ادریس بابر: اب جو تمہارے نام پہ چیختی پیٹی روتی بستی ہے
عام پڑھی لکھی جہالت نہیں، خالص نسل پرستی ہے
ہم خدا کا اگلا سوال سننا چاہتے ہیں

سدرہ سحر عمران: جب آسمان سرخ بادلوں کے دل سے
ایک نہر نکالے گا
وہ آنسو پھر سے کربلائی نظموں کا حصہ بن جائیں گے
جنہیں دسویں رات کے کنارے
موت کی نیند سلا دیا گیا تھا
ایک نہر نکالے گا
وہ آنسو پھر سے کربلائی نظموں کا حصہ بن جائیں گے
جنہیں دسویں رات کے کنارے
موت کی نیند سلا دیا گیا تھا
سبیل سے بندوق تک

ہم محلے کے سارے بچے ایک سفید چادر لے کر سارے محلے میں ننگے پاوں پھرتے اوردس محرم کو اہل تشیع کے جلوس کے لیے سبیل لگانے اور میٹھے چاولوں کی دیگ بنانے کے لیے چندہ جمع کرتے۔ قریب قریب ہر محلے میں اسی طرح کا اہتمام نظر آتا۔ مگر اسی زمانے میں ایک برس ہمیں یہ کہہ کر محرم میں باہر نکلنے سے منع کر دیا گیا کہ ان دنوں میں باہر نکلنا خطرناک ہے۔