Laaltain

کوہ ققنس کے عجوبے: لیو، پری پیکر، چہار چشم اور میں (تالیف حیدر)

Dai Sei­ji کے ناول “Balzac and the Lit­tle Chi­nese Seamstress“کا تجزیاتی مطالعہ مترجم : عاصم بخشی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بالزاک اور پری پیکر چینی درزن، یقیناً یہ نام کسی بھی فکشن پڑھنے والے کو اس ناول کی جانب کھینچنے کے لیے کافی ہے،کیوں کہ کسی چینی پری پیکر درزن اور ایک مشہور فرانسسی ناول نگار کے درمیان […]

بکر بیتی: صحرا کی داستان غم

بن یامین کے ناول Goat Daysکاتجزیاتی مطالعہ تمہید: اگر آپ نے بن یامین کا ناول Goat Daysنہیں پڑھا ہے، تو پڑھ لیجیے، اصل متن ملیالم میں ہے، مگر انگریزی اور اردو دونوں زبانوں میں اس کاترجمہ موجود ہے۔ آج کے شمارہ نمبر 101 میں اس کا اردو ترجمہ موجود ہے، عاصم بخشی نے نہایت صاف […]

تاثیر کا متن خانہ (تالیف حیدر)

“اتالو کالوینو” کی تحریر “A King Lis­tens” کا طلسم کدہ“بادشاہ سنتا ہے”،“عاصم بخشی“کی زبان میں آج شمارہ نمبر:101 میں نشے میں ہوں: میں کہانیوں کو تلاش کرتا ہوں ، انہیں پڑھتا ہوں ، ان میں کھو جاتا ہوں اور حسن اتفاق یہ ہے کہ پھر اس دنیا میں واپس لوٹ آتا ہوں جہاں کہانیوں کا […]

بادشاہ سنتا ہے

اتالو کلوینو: اگر یہ تمام آوازیں ایک باربط تسلسل سے، برابر وقفوں کے بعد سنائی دیتی رہیں تو تمہیں یقین رکھنا چاہئے کہ تمہارے اقتدار کو کوئی خطرہ نہیں، کم از کم اس لمحے، اس گھنٹے اور اس دن۔

ایک ندیدے فیکٹری مزدور کی آخری نظم

عاصم بخشی: یہ کریہہ الخصال،
مکروہ نظم،
میرے نحیف و خستہ گماں کی باچھوں سے زہر بن کے ٹپک رہی ہے
مجھے اب اک کاسنی قبائے حقیقتِ نم سے
آخری بار ڈھک رہی ہے

خشک نمی

عاصم بخشی: تیرے آنے میں ابھی وقت ہے اے راحتِ جاں
سینۂ خشک پہ لازم ہے کہ ایماں رکھے
تو جب آئے گی،
گھٹا چھائے گی،
بارش ہو گی

اگر یہ انسان ہے (انتخاب)

پریمو لیوی: تمام صحت مند قیدی (ماسوائے کچھ ایسے مصلحت اندیشوں کے جو آخری لمحے میں بے لباس ہو کر ہسپتال کے بستروں میں چھپ گئے) 18جنوری 1945 کی رات کے دوران کوچ کر گئے۔ مختلف کیمپوں سے تعلق رکھنے والے یہ کم و بیش بیس ہزار افراد تو ضرور ہوں گے۔انخلاء کی پیش قدمی میں یہ تقریباً مکمل طور طور پر غائب ہو گئے۔ البرٹو ان میں ہی تھا۔شاید کسی دن کوئی ان کی داستان رقم کرے۔

ہمیشہ بدمست رہو

عاصم بخشی:ہمیشہ بدمست رہو
اس کے علاوہ اور ہے ہی کیا
واحد راستہ کہ
یہ ہیبت ناک کوہِ زماں کاندھوں کو چٹخ نہ دے،
تمہیں زمین پر چت نہ کر دے

Insomnia

عاصم بخشی:سوچتا ہوں کہ بھلا کیسے میں سو پاؤں گا اب!
روزنِ دید سے کترا کے گزر جائیں گے
آنکھ لگتے ہی مرے خواب بکھر جائیں گے

نارسائی کی دسترس

زمین سے آسمان تک کی مسافتوں کی کسے خبر ہے؟
رسائی ہو جائے تو غنیمت
نہ ہو سکے تو
یہ نارسائی بھی اپنی نظروں میں معتبر ہے

عرفان

اور وہیں کہیں مالک
اس سوال چہرے پر
ان خیال آنکھوں میں
میں نے تجھ کو دیکھا تھا
تو بھی سوچتا ہو گا
کتنا خوبصورت تھا
یہ جو ایک منظر تھا

یین یانگ

ایک ہی
نقطۂ امکاں میں بسے
حرف سے
دو نام
ابھرتے ہیں

اونگھ

عشق وہ سرحدِ افلاکِ تمنا پہ کھڑا
طائرِ کوتاہ
جو پھیلائے اگر پنکھ
زمانوں میں سما جائے
مگر ڈرتا ہے