اکیلا علمبردار قہقہاتا ہوا (سعد منیر)

نہیں نہیں ابھی تو جنگ جاری ہے ساری فوج تمہاری ہے پوری دنیا تمہاری حوصلہ سازی ہے باقی ایک ٹانگ میری بھی باقی ہے میرے تالو کو زبان لگ جاتی ہے میرا حلق لنگڑاتا ہوا لفظ نکال لاتا ہے تم پر خدا کی عنایت ہے میں رجیم کا شہنشاہ ہوں تم ستم شاہ گناہ سے […]
کفارہ

سعد منیر: ایک شور ہے
ہمارے درمیان
چپ چاپ بیٹھا ہوا
جیسے
کسی کائنات کا وقت ہو
چورن

سعد منیر: خالقِ سانسِ اول
گوشت کی اماں پتھر بزرگ
جیسے کوئی جیم کھڑا ہے
اپنے باغی نقطہ کو
محبّت سے گھیرے میں لے کر
بڑے دشمن کی دھوپ

سعد منیر: قسم ہے ستاروں کو جوڑنے والے کی
بڑا دشمن
دھوپ لگی مٹی ہوتا ہے
بڑا دشمن
دھوپ لگی مٹی ہوتا ہے
بارہ سال کی ماں

سعد منیر: دنیا میں دو لوگ ہیں
ہندسے
اور
نظمیں
ہندسے
اور
نظمیں
جب میں ہارا تھا

سعد منیر: یہ میرے کیڑے بننے سے ہزاروں سال پہلے کی بات ہے
جب مجھے یقین تھا
تم خلائی مخلوق ہو
جب مجھے یقین تھا
تم خلائی مخلوق ہو
گندی روح روتی رہے گی؟

سعد منیر: ہے کوئی کالی روح کا سفید جسم؟
جس کی آواز میں
گھنٹی بج سکتی ہے
جس کی آواز میں
گھنٹی بج سکتی ہے
بکھراؤ کا مرکز

سعد منیر: چیخوں سے بنا آدمی
اپنی شرمگاہوں کی دیواروں سے لپٹا ہوا
اپنے مرکز میں بکھرا ہوا
کہتا ہے کہ
کائنات ایک سولہ سال کی لڑکی ہے
اپنی شرمگاہوں کی دیواروں سے لپٹا ہوا
اپنے مرکز میں بکھرا ہوا
کہتا ہے کہ
کائنات ایک سولہ سال کی لڑکی ہے
چلو کوئی بات نہیں

میں سکوت کے آخری چند لفظ کی استعارہ آواز میں
ٹوٹ گئی ہچکی کا بدن ہوں
میں خدا کی سوچ کا وزن ہوں
یہ دنیا، یہ طوفانِ نوح میں گھری ہوئی مٹی
اور اس مٹی میں ایک اکیلا تنکا
سینہ پھاڑ کر کہتا ہے
میرے اعصاب ہیں ایک ایک ذرے کے جذبات
میں ستاروں کے حلق میں اٹھتی جلن ہوں
ٹوٹ گئی ہچکی کا بدن ہوں
میں خدا کی سوچ کا وزن ہوں
یہ دنیا، یہ طوفانِ نوح میں گھری ہوئی مٹی
اور اس مٹی میں ایک اکیلا تنکا
سینہ پھاڑ کر کہتا ہے
میرے اعصاب ہیں ایک ایک ذرے کے جذبات
میں ستاروں کے حلق میں اٹھتی جلن ہوں
سرمئی شام میں گھٹی چیخیں

میں نے سنا ہے
ایک شام ہے سرمئی سی سبز قدم
جو آتی جاتی رہتی ہے
اس شام نے مستقل
مجھے دیوار چنا ہے
ایک شام ہے سرمئی سی سبز قدم
جو آتی جاتی رہتی ہے
اس شام نے مستقل
مجھے دیوار چنا ہے
اس بڈھے کا وائرس

راوی کے کنارے
لاہور نام کا
ایک پاگل بیٹھا
اپنی منحوس رگوں میں
شہریلا انجکشن لگاتا ہے
اور دم بخود
لاہور نام کا
ایک پاگل بیٹھا
اپنی منحوس رگوں میں
شہریلا انجکشن لگاتا ہے
اور دم بخود
خدا یہاں تو نہیں ہے

جسم سجدے تان کر لیٹا ہے
مگر
خدا یہاں تو نہیں ہے
مگر
خدا یہاں تو نہیں ہے
موم بتی سے معاشقہ، اندھیروں کے بغیر

میں کیسے سمجھاؤں کہ کبھی
دیکھنے کے لیے روشنی بجھانی پڑتی ہے
عالمِ دید
منظروں کے دل
اندھیرے کے سینے پر بلکتے ہیں
دیکھنے کے لیے روشنی بجھانی پڑتی ہے
عالمِ دید
منظروں کے دل
اندھیرے کے سینے پر بلکتے ہیں
تمہاری گھٹن، تمہارے اندھیرے کے نام

کائنات کی بستی میں لائٹ گئی ہوی ہے
ہم ایک دوسرے کو
آوازیں پہچان کر بلا رہے ہیں
خیریت معلوم کر رہے ہیں
زندگی
خوفناک حد تک
ڈری ہوئی ہے
ہم ایک دوسرے کو
آوازیں پہچان کر بلا رہے ہیں
خیریت معلوم کر رہے ہیں
زندگی
خوفناک حد تک
ڈری ہوئی ہے
انصاف کی بات کرو بھائی

میں اپنی نظموں کی کلائیاں کاٹ کر
ان میں صمد بانڈ بھر دیتا ہوں
یہ ہواؤں میں سر مار کر لہولہان ہوجاتی ہیں
ان میں صمد بانڈ بھر دیتا ہوں
یہ ہواؤں میں سر مار کر لہولہان ہوجاتی ہیں