Laaltain

بندہ بھائی کا منٹو

بندہ بھائی!
ایسا کتنی دیر چلے گا؟
ہر بے حد کی حد ہوتی ہے
دیکھنا اک دن آ جائے گا
پیپرویٹ کے نیچے رکھے دستاویزی مے خانوں سے
باہر کی دنیا کے من میں پیر رکھے گا

کم بخت منٹو کے کم بخت چاہنے والے

اسے “اوپر نیچے اور درمیان” جو بھی نظر آتا وہی افسانوی سانچے میں ڈال کر لوگوں کے سامنے رکھ دیتا تاکہ وہ یہ سمجھا سکے کہ واقعی معاشرتی برائیوں کو کپڑے پہنانا منٹو یا کسی بھی لکھاری کا نہیں بلکہ ان درزیوں کا کام ہے جنہیں “کالی شلواریں” سینی نہیں آتیں۔

چھوٹی سی دنیا، ادبی دنیا ڈاٹ کام

اس وقت رات کے سوا گیارہ بجے ہیں، میں اس کوشش میں ہوں کہ کوئی اچھی تحریر، کسی تخلیق کار کا ناول، شعری مجموعہ یا پھر کوئی افسانہ ادبی دنیا پر چڑھا سکوں، یا پھر کوئی کارآمدتنقیدی و تحقیقی مضمون۔